Students hold placards as they shout slogans to condemn a U.S. drone attack, in the North Waziristan tribal region, during a protest in Peshawar March 19, 2011.

© 2011 Reuters

(نیویارک، 23جنوری، 2012) –ہیومن رائٹس واچ(Human Rights Watch)نے آج اپنی عالمی رپورٹ(World Report)برائے 2012میں کہا کہ پاکستان کی نوآموز جمہوری حکومت نے ملٹری کے بڑھتے دباؤ کے تحت انتہا پسند گروپوں سے سمجھوتے کیے، فوج کی بدسلوکیوں اور بدعنوانیوں کو نظرانداز کیا، اور ان لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرانے میں ناکام رہی جو 2011میں ان بدسلوکیوں کے لیے ذمہ دار تھے۔ٹارگٹ کلنگز اور طالبان اور مخصوص فرقے اور قوم سے متعلق جنگجو گروپوں کے ذریعہ ‏شہریوں پر حملے، ساتھ ہی صحافیوں کے قتل اس سال کے دوران عام رہے۔

طالبان اور اس کی ملحق جماعتوں کے ذریعہ خودکش بمباری کے سبب پورے ملک میں سلامتی کی صورتحال ڈرامائی طور پر کافی خراب رہی ہے، جس میں شہریوں اور عوامی مقامات، بشمول بازاروں اور مذہبی جلوسوں کو نشانہ بنایا گیا۔بلوچستان کے جنوب مغربی صوبے میں ٹارگٹ کلنگ میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے، جبکہ کراچی(Karachi) میں سیاسی تشدد کے واقعات میں 800لوگوں کی جان گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے ذمہ دار مشتبہ افراد اور فوج کے مخالفین کی گمشدگیوں کے معاملات کو حل کرنے کی بس واجبی سی کوششیں کیں۔

ہیومن رائٹس واچ (Human Rights Watch)کے ایشیا کے ڈائرکٹر براڈ ایڈمس (Brad Adams)کہتے ہیں کہ "گزرا ہوا سال پاکستان میں حقوق انسانی کے لیے تباہ کن رہا ہے"۔"سیکڑوں شہری، مذہبی رواداری کے حامیوں کو قتل کردیا گیا اور جمہوری اداروں میں ملٹری کی گھس پیٹھ رہی۔کراچی(Karachi) سے کوئٹہ(Quetta) تک، پاکستان فوج کے ذریعہ جمہوریت چلانے والی صورتحال میں گرفتار ہے۔"

اپنی عالمی رپورٹ (World Report)2012میں، ہیومن رائٹس واچ (Human Rights Watch)نے 90سے زیادہ ممالک میں گزشتہ سال کے دوران حقوق انسانی کی پیشرفت کا جائزہ لیا، جس میں عرب دنیا میں مقبول بغاوتیں بھی شامل رہیں جس کے بارے میں بہت کم لوگوں نے سوچا تھا۔ ہیومن رائٹس واچ (Human Rights Watch)نے عالمی رپورٹ
 (World Report)میں کہا کہچونکہ جارح قوتیں "عرب بیداری" کی مخالفت کررہی ہیں لہذا بین الاقوامی برادری پر اس خطے میں حقوق کا احترام کرنے والی جمہوریتوں کے قیام میں مدد کرنے کی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ، پاکستان میں، قانون کی آڑ میں مذہبی اقلیتوں اور دیگر مظلوم گروپوں کو ہراساں کرنے اور ان کے ساتھ امتیاز برتنے کے معاملات 2011میں اپنی انتہا کو پہنچ گئے۔ عقیدے اور اظہار بیان کی آزادی زبردست خوف کے سایہ تلے آگئی کیونکہ اسلام پسند جنگجو گروپوں نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر (Salmaan Taseer)اور وفاقی اقلیتوں کے وزیر شہباز بھٹی (Shahbaz Bhatti)کو اس وجہ سے قتل کرڈالا کہ انہوں نے اکثر و بیشتر بیجا طور پر استعمال کیے جانے والے ملک کے ملحدانہ قوانین میں ترمیم کرنے کی عوامی طور پر تائید کی۔حکومت واضح طور پر لوگوں کو انتہا پسندوں کے خوف سے تحفظ دینے یا انتہا پسندوں کو ذمہ دار قراردینے میں ناکام رہی۔تاثیر (Taseer)کے اقبالی قاتل، ممتاز قادری
 (Mumtaz Qadri)کو قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا، لیکن اس کی سماعت کرنے والے جج کو درمیان میں ہی اپنی سلامتی کے خوف سے ملک چھوڑنا پڑا۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ، انتہا پسند گروپوں نے حکومت کے منفی رویے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اقلیتوں کو خوفزدہ کیا اور انہیں توہین مذہب کے الزامات اور مقدمات میں پھنسایا۔مذہبی اقلیتوں، مسلمان، بچے، اور ذہنی طور پر معذور افراد کو بھی توہین مذہب کے قانون کے تحت ملزم بنایا گیا، جس سے بین الاقوامی قانون کے تحت ضمیر اور مذہب کی آزادی کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔

ایڈمس (Adams)کہتے ہیں کہ"حکومت کے ذریعہ تاثیر (Taseer)اور بھٹی (Bhatti)کا قتل کرنے والے انتہا پسند گروپوں کی پشت پناہی سے توہین مذہب کے الزامات کی باڑھ آگئی اور جن لوگوں نے توہین مذہب کے قانون پر سوال اٹھایا ان کے لئے واقعی خوف کا ماحول پیدا ہوگیا۔""پاکستانی حکومت کو انتہا پسندوں کے سامنے کھڑے ہونے اور تشدد اور جارحیت کے لیے ذمہ دار لوگوں سے مواخذہ کرنے کی ہمت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔"

صحافی حضرات، خاص طور پر جو لوگ انسداد دہشت گردی کی بات کرتے ہیں یا جن کے بارے میں یہ محسوس ہوتا ہےکہ وہ فوج کے خلاف عوام کے حامی ہیں، انہیں دھمکیوں کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ اس سال کے دوران پاکستان میں کم از کم دس صحافی ہلاک ہوئے۔فوجی، اور جنگجو گروپوں کے بارے میں خبر دینے کے سلسلے میں میڈیا پر ایک خوف کی فضا مسلط کردی گئی ہے، جس کے نتیجے میں صحافیوں کے ذریعہ انسداد دہشت گردی کے آپریشنز میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی رپورٹیں شاذ ہی دی جاتی ہیں۔طالبان اور دیگر مسلح جماعتیں مسلسل میڈیا کے ذرائع کو ان کے کوریج پر دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔

ہانگ کانگ میں واقع ایشیا ٹائمز آن لائن اور اطالوی خبر رساں ایجنسی اڈنکرونوس انٹرنیشنل (Adnkronos International)کے نامہ نگار سلیم شہزاد (Saleeem Shahzad)29مئی کی شام کو مرکزی اسلام آباد سے غائب ہوگئے۔ شہزاد کو فوج کی خوفناک ISIایجنسی کی جانب سے بار بار اور بلا واسطہ دھمکیاں ملی تھیں۔شہزاد(Shahzad)کی لاش جس پراذیت رسانی کے واضح نشانات موجود تھے، دو دن کے بعد اسلام آباد سے 130کلومیٹر دور جنوب مشرق میں، منڈی(Mandi) بہاؤ الدین
(Bahauddin)  کے قریب دریافت ہوئی تھی۔

قتل کی وجہ سے ایک بین الاقوامی اور ملکی اضطراب پیدا ہونے کے بعد، ISIکے ملوث ہونے کے الزامات کی چھان بین کرنے کے لیے چند دنوں کے اندر ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ اگست میں ہیومن رائٹس واچ نے کمیشن کے سامنے بیان دیا۔کمیشن نے جنوری 2012میں اپنے اخذ کردہ نتائج جاری کئے لیکن یہ سازشی عناصر کی شناخت کرنے یا مکمل طور پر ISIکے کردار کی تفتیش میں ناکام رہی، جو آج بھی شبہ کا مرکز ہے۔

 مبینہ مخالفین، بشمول صحافیوں پر جبر، ان کے اغوا، ٹارچرکرنے میںISIاور فوج کے ملوث ہونے کے وسیع تر الزامات کے باوجود کبھی کسی فوجی افسر کو ان بدسلوکیوں اور بدعنوانیوں کے لیے مورد الزام نہیں ٹھہرایا گیا۔

ایڈمس (Adams)نے کہا کہ "جب تک شہزاد(Shahzad) کے قاتلوں کی شناخت نہیں ہوتی اور انہیں اس کی سزا نہیں ملتی، پاکستان میں میڈیا کی آزادی اور زیادہ انحطاط کا شکار ہوتی رہے گی کیونکہ صحافی اپنی زندگی کو نقصان پہنچنے کے خوف کے تحت کام کررہے ہیں۔""حکومت کو مقدمہ شروع ہونے پر ملزمین کو ماخوذ کرنے کی ضرورت ہے، جن میں ISIبھی شامل ہے۔"

ہیومن رائٹس واچ نے بتایا کہ، اس سال کے دوران کراچی کے جنوبی بندرگاہ والے حصے میں سب سے زیادہ تشدد کے واقعات ہوئے، جس میں 800لوگوں کی جان گئی۔یہ ہلاکتیں مسلح گروپوں کے ذریعہ ہوئیں جنہیں اس شہر میں موجود سبھیسیاسی جماعتوں کی سرپرستی حاصل ہے۔متحدہ قومی موومنٹ (MQM)، کراچی کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو، جس کے پاس زبردست مسلح کیڈر ہے اور جو حقوق انسانی کی خلاف ورزی اور سیاسی تشدد کی ایک باقاعدہ دستاویز بند تاریخ کی حامل ہے، وسیع پیمانے پر اہدافی ہلاکتوں کا ارتکاب کرنے والے ایک بڑے مجرم کی حثیت سے دیکھا گیا۔عوامی نیشنل پارٹی اورحکمراں پاکستان پیوپلز پارٹی کی پشت پناہی والی امن کمیٹی نے MQMکے کارکنان کو ہلاک کیا۔

2011میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان رشتوں میں کافی گراوٹ آئی، جو طویل عرصے سے پاکستان کا سب سے اہم اتحادی اور اسے انسانی اور فوجی دونوں طرح کی مدد دینے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے۔سیاسی بحران کو ہوا دینے والے عوامل میں CIAکے ٹھیکیدار کے ذریعہ لاہور کے ٹریفک جنکشن پر دو لوگوں کا قتل؛ پاکستان کو 800ملین امریکی ڈالر کی فوجی مدد کا رک جانا؛ پاکستان کا مبینہ طور پر "حقانی نیٹ ورک" کے جنگجوؤں کو تعاون کرنا جسے امریکی اہلکاروں نے افغانستان میں امریکی سفارت خانے اور ناٹو کے فوجیوں پر حملے کا ملزم قرار دیا ہے؛ اور پاکستان کے ذریعہ مبینہ طور پر اسامہ بن لادن (Osama bin Laden)کو پناہ دینا اور امریکہ کے ذریعہ اس کا قتل؛ اور 26نومبر کو افغان سرحد پر ناٹو افواج کے ذریعہ فوجی کارروائی کے دوران 24پاکستانی فوجیوں کا قتل شامل ہے۔

امریکہ نے افغانستان سے لگے پاکستانی سرحد کے قریب 2011کے دوران القائدہ اور طالبان کے مشتبہ ممبران پر 75ہوائی ڈرون حملے کئے۔ دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں کافی تعداد میں شہریوں کی اموات ہوئیں، لیکن جنگی علاقوں میں رسائی نہ ہوپانے کے سبب اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

ایڈمس (Adams)نے بتایا کہ "CIAکے ڈرون حملوں میں پاکستان میں جن لوگوں کی اموات ہوئیں اور جن حالات میں ہوئیں اس کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں"۔"چونکہ امریکہ CIAکے ذریعہ ڈرون حملوں کی سرکاری طور پریہ کہتے ہوئے ذمہ داری لینے سے انکار کرتا رہا ہے، کہ ایجنسی ٹارگٹ کلنگز نہیں کرتی ہے۔"

نومبر میں، امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی (Husain Haqqani)کو پاکستانی فوج نے اس الزام کے بعد اپنا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کردیا کہ انہوں نے امریکہ کے سینئر فوجی افسران کو ایک خفیہ میمو دیا تھا جس میں قومی سلامتی کی پالیسی پر پاکستانی عوام کے اختیار کی حمایت طلب کی گئی تھی۔اب حقانی(Haqqani)کو پاکستان سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے اور انہوں نے اعلانیہ طور پر اپنی زندگی کو خطرہ درپیش ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ان کی وکیل، حقوق انسانی کی مشہورحامی اوریو این کے حقوق انسانی کی سابق سفیر اسماء جہانگیر (Asma Jahangir)نے بھی اسی خدشے کا اظہار کیا ہے اور حقانی (Haqqani)کے خلاف قانونی کارروائی میں مناسب طریق کار کی کمی کے بارے میں شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

ایڈمس (Adams)نےکہا کہ "فوج نے رفتہ رفتہ ان سرکاری اداروں پر قبضہ کرلیا ہے جو پاکستانی عوام کے حقوق کی علمبردار ہیں"۔"اب سرکاری افسران کسی کلیدی یا اہم معاملے پر فوج کی مخالفت کرتے ہوئے ڈرتے ہیں، جس سے حکومت کے لیے فوج کے ذریعہ ماضی اور حال میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے معاملات سے نمٹنا دشوار تر ہوتا جارہا ہے۔"