حد پار ہو گئی ہے

اسرائیلی حکام اور نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے جرائم

A Palestinian boy runs near Israel’s separation barrier in the city of Qalqilya in the Israeli-occupied West Bank. The barrier entirely encircles the city, which is home to more than 55,000 Palestinians. © 2018 AFP/Getty Images

حد پار ہو گئی ہے: اسرائیلی حکام اور نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے جرائم

خلاصہ

 بحیرہ روم اور دریائے اردن کے بیچ والے علاقے میں لگ بھگ اڑسٹھ لاکھ یہودی اسرائیلی اور اؚتنی ہی تعداد میں فلسطینی آباد ہیں۔ یہ علاقہ اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقے (او پی ٹی) پر مشتمل ہے۔ مؤخرالذکر میں مغربی کنارہ، بشمول یروشلم اور غزہ کی پٹی شامل ہے۔ زیادہ تر علاقے میں اسرائیل واحد حکمران اتھارٹی ہے، جبکہ بقیہ علاقے میں فلسطینیوں کو محدود اختیارات کی حامل جکومتؚ خود اختیاری حاصل ہے مگر وہاں بھی حقیقی طاقت اسرائيل کے پاس ہی ہے۔ ان تمام علاقوں میں اور زندگی کے زيادہ تر شعبوں میں اسرائیلی حکام نے یہودی اسرائیلیوں کو خصوصی رتبہ دے رکھا ہے جبکہ فلسطینیوں کے خلاف امتیاز برت رہے ہیں۔ قوانین، پالیسیوں اور  اہم اسرائیلی عہدیداروں کے بیانات نے واضح کر دیا ہے کہ آبادی میں ردوبدل، سیاسی طاقت، اور اراضی پر یہودی اسرائیلیوں کے تسلّط کے تحفظ کو عرصہ طویل سے حکومتی پالیسی کے لیے رہنماء اصول کی حیثیت حاصل ہے۔ ان ہدف کے حصول کے لیے، حکام نے فلسطینیوں کو اؙن کی شناخت کی وجہ سے بےدخل کیا، محصور کیا، زبردستی الگ تھلگ کیا اور اپنا محکوم بنایا۔ ریاستی ظلم کی شدّت مختلف رہی ہے۔ کچھ علاقوں میں، جیسا کہ اس رپورٹ میں بیان ہے، یہ محرومیاں اتنی شدید ہیں کہ وہ نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے زؙمرے میں آتی ہیں اور انسانیت کے خلاف جرم کی تعریف پر پورا اترتی ہیں۔

 اؚن عام مفروضات کہ یہ قبضہ عارضی ہے، یہ کہ ''امن عمل'' جلد ہی اسرائیلی مظالم کا خاتمہ کر دے گا، یہ کہ مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کو اپنی زندگی پر بامعنی کنٹرول حاصل ہے، اور یہ کہ اسرائیل اپنی سرحدوں کے اندر ایک منصفانہ جمہوریت ہے، نے فلسطینیوں پر اسرائیل کے انتہائی سخت امتیازی حکمرانی کی حقیقت کو چھپایا ہوا ہے۔ اسرائیل نے فلسطینی آبادی کے کچھ حصے پر اپنی 73 سالہ طویل مدت سے ماسوائے چھ مہینوں کے، فوجی راج قائم کر رکھا ہے۔ اس نے اسرائیل کے اندر فلسطینیوں کی غالب اکثریت پر یہ نظام 1948 سے 1966 تک نافذ کیے رکھا۔ 1967 سے اب تک، اس نے مشرقی یروشلم کے علاوہ او پی ٹی کے دیگر علاقوں میں مقیم فلسطینیوں پر فوجی نظام لاگو کر رکھا ہے۔ جبکہ اؚس کے بالکل برعکس، اسرائیل اپنے قیام سے ہی یہودی اسرائیلیوں پر اور 1967 میں قبضے کے آغاز سے او پی ٹی میں آباد یہودیوں پر اپنے حقوق کے حامل دیوانی قانون کے تحت نظامؚ حکومت چلا رہا ہے۔

گذشتہ 54 برسوں سے، اسرائیلی حکام یہودی اسرائیلیوں کو او پی ٹی میں آباد کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور جہاں تک شہریتی حقوق، اراضی تک رسائی، سفر، تعمیر، اور قریبی رشتہ داروں کی جائے رہائیش کے حقوق کا تعلق ہے تو اسرائیلی حکام نے قانون کے ذریعے اؙنہیں وہاں مقیم فلسطینیوں کے مقابلے میں فوقیت دی ہے۔ فلسطینیوں کو او پی ٹی میں محدود طاقت کی حامل حکومتؚ خود اختیاری کا حق حاصل ہے مگر سرحدوں، فضائی حدود، لوگوں و اشیاء کی نقل و حمل، سلامتی اور آبادی کے اندراج پر حقیقی کنٹرول اسرائیل کے پاس ہے، قانونی مرتبے اور شناختی کارڈز کے حصول کی اہلیت کا تعین آبادی کے اندراج کی فہرست سے ہوتا ہے جو اسرائیل کے کنٹرول میں ہے۔

کئی اسرائیلی عہدیداروں نے اس تسلط کو دوام دینے کے ارادے کا واضح اظہار کیا ہے اور عشروں پر محیط ''امن عمل'' کے دوران آبادکاری کی توسیع سمیت دیگر اقدامات سے اپنے اؚس ارادے پر عملدرآمد بھی کیا ہے۔ مغربی کنارے کے اضافی حصوں کا یکطرفہ الحاق ، جسے وزیرؚاعظم نتن یاہو نے برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا، منظّم اسرائیلی تسلّط اور جبر کی حقیقت کو باضابطہ شکل دے گا۔ تسلط اور ریاستی جبر جو طویل عرصہ سے جاری ہے یہ حقیقت تبدیل نہیں کر سکا کہ تمام مغربی کنارہ قبضے کے عالمی قانون کی رؙو سے ایک مقبوضہ علاقہ ہے بشمول مشرقی یروشلم کے جس کا اسرائیل نے 1967 میں یکطرفہ الحاق کیا تھا۔  

عالمی فوجداری قانون نے منظم امتیاز اور استبداد جیسے حالات کے لیے انسانیت کے خلاف دو جرائم متعارف کیے ہیں: نسلی امتیاز اور ریاستی جبر۔ انسانیت کے خلاف جرائم عالمی قانون کی نظر میں سب سے گھناؤنے جرائم کی فہرست میں شامل ہیں۔

گذشتہ کچھ برسوں  کے دوران میں عالمی برادری نے نسلی امتیاز کی اصطلاح کو اس کے اصلی جنوبی افریقی تناظر سے الگ کر کے، اس کے ارتکاب پر عالمگیر قانونی ممانعت عائد کی ہے اور اسے نسلی امتیاز کے جرم کی ممانعت و سزا کے عالمی کنونشن 1973 (نسلی امتیاز کنونشن) اور عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے قانونؚ روم 1998 میں دی گئی تعریفات کی روشنی میں انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔

ریاستی جبرکا جرم جو انسانیت کے خلاف جرم ہے اور قانونؚ روم کی رؙو سے نسلی، لسانی یا دیگر وجوہ کی بنا پر بنیادی حقوق کی دانستہ اور سنگین پامالی ہے،  جنگؚ عظیم دوئم کے بعد ہونے والی عدالتی سماعتوں کے نتیجے میں متعارف ہوا۔ یہ جرم سنگین ترین عالمی جرائم کی صف میں شمار ہوتا ہے اور نسلی امتیاز کے جرم جتنا ہی گھناؤنا ہے۔

مملکتؚ فلسطین قانونؚ روم اور نسلی امتیاز معاہدے کی فریق ہے۔ فروری 2021 میں آئی سی سی نے کہا کہ مشرقی یروشلم سمیت او پی ٹی کے کسی بھی علاقے میں سرزد ہونے والے سنگین عالمی جرائم اؚس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اؚن جرائم میں علاقے میں نسلی امتیاز یا ریاستی جبر جیسے خلافؚ انسانیت جرائم بھی شامل ہیں۔ مارچ 2021 میں، آئی سی سی کے پراسیکیوٹر دفتر نے فلسطین میں صورتحال کی باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

نسلی امتیاز کی اصطلاح اسرائیل اور او پی ٹی کے تناظر میں کافی زیادہ استعمال ہو رہی ہے، مگر عام طور پر وضاحتی یا موازناتی، غیرقانونی انداز میں، اور زیادہ تر اس تنبیہ کے لیے کہ صورتحال غلط سمت کی طرف جاری رہی ہے۔ خاص طور پر، اسرائیلی، فلسطینی، امریکی، اور یورپی عہدیداروں، ذرائع ابلاغ سے وابستہ معروف تبصرہ نگاروں اور دیگر نے زور دے کر کہا ہے کہ فلسطینیوں کے حوالے سے اسرائیلی پالیسیاں اور کاروائیاں اؚسی ڈگر پر جاری رہیں تو کم از کم مغربی کنارے میں صورتحال نسلی امتیاز کے مترادف ہو جائے گی۔ [1]0F0F0F0F0F بعض کا دعویٰ ہے کہ موجودہ صورتحال کو نسلی امتیاز قرار دیا جا سکتا ہے۔ [2]1F1F1F1F1F البتہ، بعض نے نسلی امتیاز یا ریاستی جبر کے عالمی جرائم کی بنیاد پر مفصّل تجزیہ کیا ہے۔ [3]2F2F2F2F2F

اس رپورٹ میں ہیومن رائٹس واچ نے جائزہ لیا ہے کہ اسرائیلی حکام کے زیرؚ کنٹرول بعض علاقوں میں کس حد تک حد پہلے ہی پار ہو چکی ہے۔

نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کی تعریفیں

ادارہ جاتی امتیاز کی ممانعت، خاص طور پر نسل، یا لسانی شناخت کی وجوہ پر،عالمی قانون کا بنیادی اصول ہے۔ زیادہ تر ریاستیں اس اؘمر پر متفق ہیں کہ  اس طرح کے امتیاز کی بدترین اشکال مثال کے طور پر ریاستی جبر اور نسلی امتیاز انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں، اور آئی سی سی کو ایسے جرائم کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا اختیار ہے بشرطیکہ ملکی حکام ان پر کاروائی کرنے کے قابل نہ ہوں یا کاروائی کے لیے آمادہ نہ ہوں۔ انسانیت کے خلاف جرائم ایسے مخصوص مجرمانہ افعال پر مشتمل ہوتے ہیں جو ایک ریاست یا ادارے کی پالیسی کے طور پر کسی عام شہری آبادی پر ایک وسیع تر منظّم حملے کا حصّہ ہوتے ہیں۔

نسلی امتیاز کے کنونشن کے مطابق، ''انسانیت کے خلاف جرم نسلی امتیاز  سے مراد’ لوگوں کے کسی ایک نسلی گروہ کی طرف  سے لوگوں کے کسی دوسرے نسلی گروہ کے خلاف ایسے افعال کا ارتکاب ہے جن کا مقصد اؙس گروہ کو دبانا اور اس پر اپنا تسلط قائم رکھنا ہے۔'' آئی سی سی کے قانونؚ روم نے بھی اس سے ملتی جلتی تعریف اختیار کی ہے: ''غیرانسانی افعال۔ ۔ ۔ جو کسی ایک نسلی گروہ کی جانب سے کسی دوسرے نسلی گروہ یا گروہوں پر تسلط قائم کرنے کی غرض سے ادارہ جاتی سطح پر منظّم جبر کی صورت میں انجام دیے جائیں۔'' قانونؚ روم نے  کی اؚس سے زيادہ نہیں بتایا کہ کون سا فعل ''ادارہ جاتی جبر'' کے زمرے میں آے گا۔

نسلی امتیاز کے کنونشن اور قانونؚ روم کے تحت نسلی امتیاز کا جرم تین بنیادی عناصر پر مشتمل ہے: کسی ایک نسلی گروہ کی دوسرے نسلی گروہ پر غلبہ پانے کی نیّت؛ کسی ایک نسلی گروہ کا دوسرے نسلی گروہ پر منظم جبر؛ اور اؙن پالیسیوں کے اطلاق کے لیے وسیع پیمانے یا منظم بنیادوں پر ایک یا ایک سے زائد غیرانسانی افعال کا ارتکاب۔

کنونشن یا قانونؚ روم میں تعریف شدہ غیرانسانی افعال میں ''جبری بےدخلی،'' اراضی پر قبضہ،'' الگ تھلگ علاقوں اور بستیوں کی تعمیر''، اور اپنا ملک چھوڑنے اور واپس آنے کے حق (اور) شہریت کے حق'' سے انکار  شامل ہے 

قانونؚ روم کی رࣳو سے، انسانیت کے خلاف جرم ریاستی جبر سے مراد ''نسلی، قومی یا لسانی شناخت سمیت دیگر وجوہ کی بنا پر، عالمی قانون کے برخلاف، کسی گروہ یا جماعت  کی شناخت کی وجہ سے اؙس کے انسانی حقوق کی دیدہ و دانستہ اور سنگین پامالی کا ارتکاب ہے۔ رواجی عالمی قانون کی رو سے ریاستی جبر دو بنیادی عناصر پر مشتمل ہے: (1) وسیع تر پیمانے یا منظّم انداز میں بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی، اور (2) امتیازی سلوک کی نیّت کے ساتھ 

 چند ایک عدالتوں نے ریاستی جبر کے جرائم کی سماعت کی ہے مگر نسلی امتیاز کے جرم کی سماعت کسی عدالت نے نہیں کی جس کے باعث ہمیں ان جرائم کی تعریفات میں مذکور بنیادی اصطلاحات کے مفاہیم کے متعلق عدالتی نظائر دستیاب نہیں ہیں۔ جیسا کہ رپورٹ میں بیان ہے، عالمی فوجداری عدالتوں نے گذشتہ دو عشروں کے دوران گروہ کی شناخت کا جائزہ مقامی کرداروں کے تناظر و ساخت کی بنیاد پر لیا ہے جبکہ ماضی میں اؚس مقصد کے لیے موروثی جسمانی خدوخال کو سامنے رکھا جاتا تھا۔ نسلی امتیاز کی تمام اشکال کے خاتمے کے کنونشن (آئی سی ای آر ڈی) سمیت انسانی حقوق کے عالمی قانون میں نسلی اور لسانی امتیاز کی کافی کھؙلی تشریح کی گئی ہے اور دیگر اقسام کے علاوہ نسبی، قومی یا لسانی پس منظر کو بھی اؚس میں شامل کیا گیا ہے

فلسطینیوں کے حوالے سے اسرائیلی پالیسیوں پر اطلاق

اؚس وقت اسرائیل اور او پی ٹی میں دو بنیادی گروہ مقیم ہیں: یہودی اسرائیلی اورفلسطینی۔ ایک بنیادی مقتدرؚ اعلیٰ، اسرائیلی حکومت اؙن پر حکمرانی کر رہی ہے۔

تسلّط برقرار رکھنے کی نیّت

اسرائیلی حکومت کا ایک اعلانیہ مقصد پورے اسرائیل اور او پی ٹی میں یہودی اسرائیلیوں کا تسلّط یقینی بنانا ہے۔ کنیسٹ نے 2018 میں آئینی درجہ رکھنے والا ایک قانون منظور کیا جس میں اسرائیل کو ''یہودی عوام کی قومی ریاست'' قرار دیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ اس علاقے کی حدود میں، حقؚ خودارادیت ''یہودی عوام کے لیے انفرادیت کا حامل ہے''، اور ''یہودی آبادکاری'' کو قومی اصول کا درجہ بھی دیا گیا۔ یہودی اسرائیلیوں کے غلبے کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیلی حکام نے ایسی پالیسیاں اختیار کی ہیں جن کے متعلق خود اؙنہوں نے کھلے عام کہا کہ اؚن کا مقصد فلسطینیوں کی آبادی میں اضافے کے ''خطرے'' سے نبٹنا ہے۔ فلسطینیوں کی آبادی اور سیاسی طاقت پر قدغنیں، رائے دہی کا حق صرف اؙن فلسطینیوں تک محدود کرنا جو 1948 سے  جون 1967 تک والی اسرائیلی سرحدوں کے اندر رہتے ہیں، اور او پی ٹی سے اسرائیل تک اور کسی اور مقام سے اسرائیل اور اوپی ٹی تک سفر کرنے کے فلسطینیوں کے حق پر پابندیاں اؚن پالیسیوں کا حصّہ ہیں۔ یہودی غلبے کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے دیگر اقدامات میں وہ ریاستی پالیسی شامل ہے جس کا مقصد مغربی کنارے اور غزہ مقیم فلسطینیوں کو ایک دوسرے ''جدا'' رکھنا ہے۔ اس پالیسی کی اصل غرض و غایت او پی ٹی میں لوگوں اور اشیاء کی نقل و حمل میں رکاوٹ پیدا کرنا، نیز اسرائیل کے علاقوں گلییلی اور نیگیو اور یروشلم سمیت ایسے علاقوں کو ''یہودی'' بنانا ہے جہاں فلسطینیوں کی اچھی خاصی تعداد آباد ہے۔ اؚس پالیسی جس کا مقصد زمین پر یہودی اسرائیلیوں کے تسلط کو بڑھانا ہے، کی بدولت اسرائیل کے بڑے یہودی اکثریتی شہروں کے باہر رہنے والے فلسطینی گنجان آباد، کم سہولیات والے مراکز تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور ان کے حقؚ اراضی و رہائیش پر پابندیاں عائد ہیں، جبکہ قریبی یہودی بستیوں کی ترقی و افزائش میں اضافہ ہو رہا ہے۔

منظم ریاستی جبر اور ادارہ جاتی امتیاز

تسلّط کا ہدف حاصل کرنے کے لیے، اسرائیلی حکومت ادارہ جاتی سطح پر فلسطینیوں کے ساتھ امتیاز برت رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت کے طے کردہ مختلف ضوابط کی وجہ سے  اؚس امتیاز کی شدت اسرائیل،، اور او پی ٹی کے مختلف علاقوں میں مختلف ہے۔ امتیاز کی سب سے بدترین شکل کا مظاہرہ اؚس وقت او پی ٹی میں ہو رہا ہے۔ 

 او پی ٹی جسے اسرائیل مغربی کنارے اور غزہ پر مشتمل ایک ہی علاقہ قرار دیتا ہے، میں اسرائیلی حکام فلسطینیوں ک ساتھ یہودی اسرائیلیوں کے مقابلے میں الگ اور غیرمساوی سلوک کر رہے ہیں۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں، اسرائیل نے فلسطیینوں کو ظالمانہ فوجی قانون اور ایک دوسرے سے علیحدگی کے اصول کے ماتحت رکھا ہوا ہے۔ وہاں زیادہ تر فلسطینیوں کو یہودی بستیوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ محصور شدہ غزہ کی پٹی میں، اسرائیل نے عمومی بندش لاگو کر رکھی ہے، اور لوگوں و اشیاء کی نقل و حمل بہت زیادہ محدود کر دی گئی ہے۔ ان پالیسیوں کے منفی اثرات کے ازالے کے لیے کی غزہ کے دوسرے ہمسائے مصر نے کوئی بامعنی اقدام نہیں اٹھایا۔ ملحق شدہ یروشلم میں، جو اسرائیل کی نظر میں اس کا مقتدر علاقہ ہے مگر عالمی قانون کے تحت مقبوضہ علاقہ ہے، اسرائیل نے وہاں مقیم لاکھوں فلسطینیوں کی غالب اکثریت کو ایسا قانونی رتبہ دے رکھا ہے جس نے ان کے حقؚ رہائش کو شدید متاثر کیا ہے۔ وہاں ان کے یہ حقوق دیگر عوامل کے علاوہ، شہر کے ساتھ فرد کے روابط کے ساتھ مشروط ہیں۔ اس سطح کا امتیاز منظم ریاستی جبر کے مترادف ہے۔

 اسرائیل جسے اقوام کی بڑی اکثریت 1967 سے قبل والی حدود پر مشتمل علاقہ سمجھتی ہے، میں شہریت اور قومیت کا دو اقسام کا نظام رائج ہے جس کے باعث قانون کی رو سے فلسطینی شہریوں کو یہودی شہریوں سے کمتر حیثیت حاصل ہے۔ اگرچہ، اسرائيل میں فلسطینیوں کو، او پی ٹی میں رہنے والوں کے برعکس، اسرائیلی انتخابات میں رائے دہی اور انتخابات لڑنے کا حق حاصل ہے مگر یہ حقوق انہیں اؙس ادارہ جاتی امتیازی سلوک سے تحفظ دینے میں مدد نہیں دے پا رہا جو اؙنہیں اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں جھیلنا پڑ رہا ہے۔ اس امتیازی سلوک میں ان کی ضبط شدہ زمینوں تک رسائی پر وسیع تر پابندیاں، گھروں کی مسماری اور خاندان کے دوبارہ ملاپ پر پابندی شامل ہے۔

فلسطینی آبادی کا بکھیر، جو کہ نقل و حرکت اور جائے رہائش پر پابندیوں کے ذریعے ایک لحاظ سے دانستہ طور پر کیا گیا اقدام ہے، نے تسلط کے ہدف کو تقویت دی ہے اور اس حقیقت کو چھپایا ہے کہ اصل میں یہ وہی اسرائیلی حکومت ہے جو مختلف علاقوں میں مختلف شدت کے ساتھ،ایک ہی یہودی اسرائیلی گروہ کے فائدے کی خاطر ایک ہی فلسطینی گروہ پر جبر کر رہی ہے۔

غیرانسانی افعال اور بنیادی حقوق کی دیگر خلاف ورزیاں

 ان پالیسیوں کے حصول کی خاطر اسرائیلی حکام نے او پی ٹی میں کئی غیرانسانی افعال کیے۔ ان میں وہاں مقیم 57 لاکھ فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر شدید پابندیاں؛ ان کی زيادہ تر زمین کی ضبطی؛ انتہائی کٹھن حالات کا اطلاق بشمول مغربی غزہ کے کئی علاقوں میں تعمیرات کے اجازت نامے دینے سے انکار جس سے ہزاروں فلسطینی ان حالات میں اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے جنہیں جبری بےدخلی کہا جا سکتا ہے؛ لاکھوں فلسطینیوں اور ان کے رشتہ داروں کو جائے رہائش کے حقوق سے انکار، زیادہ تر باہر رہنے کی وجہ سے جب 1967 میں قبضہ شروع ہوا تھا، یا یا قبضہ کے ابتدائی چند عشروں کے دوران لمبے عرصہ تک باہر رہنے کی وجہ سے یا گذشتہ دو عشروں سے خاندانوں کے دوبارہ ملاپ پر حقیقی معنوں میں پابندی کی بدولت؛ اور بنیادی شہریتی حقوق کا تعطل مثال کے طور پر اجتماع اور انجمن سازی کی آزآدی، فلسطینیوں کو ان معاملات میں آواز اٹھانے کا موقع دینے سے انکار جو اؙن کی روزمرہ زندگی اور مستقبل پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ان میں سے کئی زیادتیوں بشمول تعمیراتی اجازت ناموں سے انکار، حقؚ رہائیش کی بڑے پیمانے پر منسوخیوں یا ان پر پابندیوں، اور زمین کی بڑے پیمانے پر ضبطیوں کو سلامتی کے نام پر کسی طور بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دیگر جیسے کہ نقل و حرکت اور شہریتی حقوق پر پابندیوں کی شدت سلامتی کے تحفظات اور حقوق کی پامالیوں کی شدت کے درمیان مناسب توازن کی شرط پورا کرنے میں ناکام ہیں۔

اسرائیلی ریاست کے قیام سے، حکومت ریاست کے 1967 سے پہلے والی حدود کے اندر مقیم فلسطینیوں کے ساتھ بھی امتیاز برت رہی اور ان کے حقوق پامال کر رہی ہے۔ اس حوالے سے دیگر زیادتیوں کے علاوہ، حکومت نے  فلسطینیوں کو لاکھوں دونمز ( ایک ہزار دونم ایک سو ہیکٹر، لگ بھگ دو سو پچاس ایکٹر یا ایک مربع کلومیٹر کے برابر ہے) اراضی تک رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے جو اؙن سے چھینی گئی تھی۔ نیگیو کے علاقے میں، ان پالیسیوں کی بدولت لاکھوں فلسطینی اؙن بستیوں میں قانون کے مطابق زندگی گزارنے سے قاصر ہیں جہاں وہ رہتے تھے۔ اؚس کے ساتھ ساتھ، اسرائیل نے اؙن 700,000 فلسطینیوں اور ان کی اولاد کو اسرائیل یا او پی ٹی واپس پلٹنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے جو 1948 میں اپنا علاقہ چھوڑ گئے تھے یا وہاں سے نکال دیے گئے تھے، اور قانونی جائے رہائش پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے جس کی وجہ سے فلسطینی شادی شدہ جوڑے اور ان کے خاندان ایک ساتھ رہنے سے محروم ہیں۔

رپورٹ کے حقائق

 اؚس رپورٹ میں او پی ٹی اور اسرائیل میں مقیم فلسطینیوں کے لیے اسرائیل کی پالیسیوں اور اقدامات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ روا سلوک کا اؙنہی علاقوں میں مقیم یہودی اسرائیلیوں کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے۔ یہ انسانی حقوق کے عالمی قانون اور جنگی قانون کی ہر قسم کی خلاف ورزیوں کی مکمل تحقیق نہیں ہے۔ اس کے بجائے، اس میں اسرائیلی حکومت کے اؙن بڑے اقدامات اور پالیسیوں پر کا جائزہ لیا گیا ہے جو فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کا سبب بن رہی ہیں اور جن کا مقصد یہودی اسرائیلیوں کے تسلط کو یقینی بنانا ہے۔ اور اس رپورٹ میں اسرائیلی حکومت کی ان مذکورہ پالیسیوں و اقدامات کو نسلی امتیاز اور ریاستی جبر جیسے انسانیت کے خلاف جرائم کی تعریفوں کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔

یہ رپورٹ ہیومن رائٹس واچ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کی برسوں پر محیط تحقیق اور دستاویزسازی بشمول رپورٹ کے لیے کیے گئے فیلڈ ورک پر مبنی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیلی قوانین، حکومتی منصوبہ بندی کی دستاویزات، عہدیداروں کے بیانات اور اراضی کی دستاویزات پر بھی نظر دوڑائی تھی۔ پھر ان شہادتی دستاویزات کا نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے جرائم کے لیے طےشدہ قانونی اصولوں کی تناظر میں جائزہ لیا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ نے جولائی 2020 میں وزیرؚاعظم نتن یاہو کو بھی لکھا تھا اور رپورٹ میں بیان معاملات پر حکومتی نقطہ نظر مانگا تھا مگر اس اشاعت کے جاری ہونے تک اؙنہوں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

رپورٹ نے نسلی امتیاز کے حوالے سے اسرائیل کا جنوبی افریقہ کے ساتھ موازنہ نہیں کیا، نہ ہی یہ تعین کیا ہے کہ اسرائیل ایک ''نسلی امتیاز کی حامل ریاست'' ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جس کی عالمی قانون میں ہمیں تعریف نہیں ملتی۔ اس کی بجائے۔ رپورٹ میں یہ دیکھا گیا ہے کہ آیا آجکل بعض علاقوں میں اسرائیلی حکام کے مخصوص اقدامات اور پالیسیاں عالمی قانون کے تجت نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے مترادف ہیں کہ نہیں۔

 رپورٹ کے تینوں مرکزی ابواب میں فلسطینیوں پر اسرائیل کی حکمرانی کا احاطہ کیا گیا ہے: اس کی حکمرانی اور امتیازی سلوک کے پہلو، اور پھر نتیجتاً اسرائیل اور او پی ٹی پر نظر دوڑاتے ہوئے، انسانی حقوق کی مخصوص خلاف ورزياں جن کی یہ مرتکب ہوئی ہے، اور ایسی پالیسیوں کے پس پردہ عزائم کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ یہ کام جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے، نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے جرائم کے بنیادی عناصر کو مدؚنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے ان علاقوں میں اسرائیلی حکمرانی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے اور اؙن دو مختلف قانونی نظاموں کو پیشؚ نظر رکھا گیا  جو او پی ٹی اور اسرائیل پر لاگو ہیں۔ او پی ٹی اور اسرائیل قانونی لحاظ سے تسلیم شدہ دو علیحدہ خطّے ہیں۔ ہر ایک کا عالمی قانون کی رؙو سے مختلف درجہ ہے۔ اگرچہ ان دونوں خطّوں کے ذیلی علاقوں کے اہم حقائق میں پائے جانے والے فرق کو بیان کیا گیا ہے مگر یہ رپورٹ ذیلی علاقوں کا علیحدہ طور پر کوئی تجزیہ پیش نہیں کرتی۔

 اس تحقیق کی بنیاد پر، ہیومن رائٹس واچ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اسرائیلی حکومت پورے اسرائیل اور او پی ٹی میں فلسطینیوں پر یہودی اسرائیلیوں کے تسلط کو برقرار رکھنے کی خواہاں ہے۔ او پی پی بشمول مشرقی یروشلم میں، یہ خواہش فلسطینیوں پر منظم جبر اور ان کے خلاف غیرانسانی افعال کے ساتھ جڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ جب یہ تینوں عناصر یکجا ہو جائيں تو پھر یہ نسلی امتیاز کا جرم قرار پاتے ہیں۔

 اسرائیلی اہلکار ریاستی جبر جو کہ انسانیت کے خلاف جرم ہے کے مرتکب بھی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی سلوک کے پیچھے اسرائیل کی بدنیتی اور او پی ٹی میں سنگین مظالم جن میں نجی زمینوں کی وسیع پیمانے پر ضبطی، کئی علاقوں میں تعمیرات یا رہائش پر عملی اعتبار سے پابندی، حقؚ رہائیش کی بڑے پیمانے پر پامالی اور نقل و حرکت کی آزادی اور بنیادی شہریتی حقوق پر دہائیوں سے عائد وسیع تر قدغنوں جیسے مظالم اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسرائیلی حکام فلسطینیوں کے خلاف ریاستی جبر کے جرم میں ملوث ہیں۔ حکام کی یہ پالیساں اور اقدامات سوچے سمجھے منصوبے اور انتہائی سفاکانہ طریقے سے لاکھوں فلسطینیوں کو اؙن کے بنیادی حقوق سے محروم کررہی ہیں۔ انہیں ان کی فلسطینی شناخت کی وجہ سے بہت بڑے پیمانے پر انتہائی منظم انداز میں جن بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے ان میں حقؚ رہائش، نجی املاک، زمین، سہولیات اور وسائل تک رسائی کے حقوق بھی شامل ہیں۔

یہودی اسرائیلیوں کے لیے زیادہ زمین کا حصول اور فلسطینیوں کی آبادی کم رکھنے کی خواہش

اسرائیلی پالیسی اسرائیل اور او پی ٹی کے بعض علاقوں یہودیوں کی آبادی اور ان کی بستیوں کے لیے دستیاب زمین میں زيادہ سے زیادہ اضافے کی خواہاں ہے۔ بیک وقت، وہاں فلسطینیوں کے حقؚ رہائش کو محدود کر کے فلسطینی آبادی اور ان کے لیے دستیاب زمین میں کمی کرنا چاہتی ہے۔ اگرچہ جبر کی زیادہ بدترین صورت او پی ٹی میں نظر آتی ہے، مگر اسرائیل کے اندر بھی اسی طرح کی پالیسیوں کے قدرے کم ظالمانہ پہلو جا سکتے ہیں۔

مغربی کنارے میں حکام نے فلسطینیوں کی 20 لاکھ دونم سے زائد زمین ضبط کی ہے۔ یہ مغربی کنارے کا ایک تہائی رقبہ بنتا ہے اور اس میں لاکھوں دونم ایسی زمین بھی ہے جس پر حکام نے فلسطینیوں کی ملکیت تسلیم کی تھی ۔ ایک عام حربہ جو وہ استعمال کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ علاقے کو ''ریاستی اراضی'' قرار دیتے ہیں۔ ایسی اراضی کو بھی جو فلسطینیوں کی نجی ملکیت میں ہوتی ہے۔ اسرائیلی تنظیم اب امن (Peace Now) نے اندازہ لگایا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے لگ بھگ 14 لاکھ دونم اراضی، مغربی کنارے کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ریاستی اراضی قرار دے دیا ہے۔ تنظیم کو یہ بھ معلوم ہوا ہے کہ یہودی آبادکاری کے لیے استعمال ہونے والی اراضی کے 30 فیصد کے بارے میں اسرائیلی حکومت نے اعتراف کیا تھا کہ وہ فلسطینیوں کی زیرؚملکیت تھی۔ سرکاری کوائف کے مطابق ،مغربی کنارے میں 675,000 دونم سے زائد اراضی جو اسرائیلی حکام نے تیسرے فریق کے استعمال کے لیے مختص کی تھی، کا 99  فیصد سے زائد حصہ اسرائیلی شہری استعمال کریں گے۔ بتسیلم (B’Tselem) کے مطابق، آبادکاری کے لیے اراضی پر قبضوں اور ڈھانچے کی تعمیرجس کا بنیادی طور پر آبادکاروں کو سہولیات بہم پہنچانا ہے، نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو ''165 'علاقائی جزیروں''' میں محصور کر دیا ہے جو ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے علاقہ سی جو کہ مغربی کنارے کا لگ بھگ 60 فیصد رقبے پر مشتمل ہے اور اوسلو معاہدے نے مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں دے دیا تھا میں، اور اس کے علاوہ مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کے لیے تعمیراتی اجازت ناموں کا حصول عملی اعتبار سے ناممکن بنا دیا ہے۔ مثال کے طور پر، سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، علاقہ سی میں، 2016 سے 2018 کے دوران فلسطینیوں کی طرف سے تعمیرات کے لیے جمع کروائی درخواستوں میں سے 1.5 فیصد سے بھی کم منظور ہوئیں۔ یہ تعداد اؙسی عرصے میں مسماری کے صادر شدہ احکامات سے 100 گنا کم ہے۔ اسرائیلی حکام نے ان علاقوں میں بلااجازت تعمیرات کے جواز پر ہزاروں فلسطینیوں کی املاک مسمار کی ہیں۔ اؘب امن نامی ادارے کے مطابق، اس کے برعکس، اسرائیلی حکام نے علاقہ سی میں اسرائيلی آبادکاریوں میں 2009 سے 2020 کے دوران 23,696 سے زائد رہائیشی یونٹوں کی تعمیر شروع کی۔ قابض طاقت کی شہری آبادی کی مقبوضہ علاقے میں منتقلی چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔

 یہ پالیسیاں اسرائیلی حکومت کے دیرینہ منصوبوں سے جنم لے رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، 1980 کا دروبلز منصوبہ جس نے اس وقت مغربی کنارے میں حکومت کی آبادکاری پالیسی کے لیے رہنماء اصول کام کیا اور پہلے سے طے شدہ منصوبوں کی پیروی کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا کہ ''اقلیتی آبادی کے مراکز اور ان کے گردونواح کے درمیانی علاقے میں آبادکاری کی جائے۔''، اؚس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ایسا کرنے سے ''فلسطینیوں کے لیے علاقائی جڑت اور سیاسی اتحاد پیدا کرنا مشکل ہوجائے گا۔'' اور ''یہودیا اور سمیریا کو ہمیشہ کے لیے کنٹرول کرنے کی ہماری نیت کے متعلق ہر قسم کا شک دور ہو جائے گا۔''

یروشلم بشمول شہر کا مغربی اور مقبوضہ مشرقی حصہ، کے لیے حکومتی منصوبے کا ہدف ''شہر میں غالب یہودی اکثریت قائم کرنا'' اور آبادی میں اس طرح کا ردوبدل کرنا ہے کہ وہاں '' یہودیوں کی تعداد 70 فیصد اور عربوں کی تعداد کا 30 فیصد'' ہو جائے۔ بعد میں حکام نے اعتراف کیا کہ '' آبادی کے رجحان کے تناظر میں اس ہدف کا حصول ناممکن ہے'' تو  یہ تناسب 60 فیصد یہودی آبادی اور 40 فیصد عرب آبادی کے لحاظ سے طے کیا گیا۔ 

اسرائیلی حکومت نے اسرائیل کے اندر بھی امتیازی سلوک روا رکھتے ہوئے اراضی پر قبضے کیے ہیں۔ تاریخ دانوں کے مطابق، حکام نے مختلف طریقہ ہائے کار اپناتے ہوئے فلسطینیوں سے کم از کم ساڑے چالیس لاکھ دونم زمین ہتھیائی ہے، یہ 1948 سے پہلے فلسطینیوں کی زیرؚملکیت تمام زمین کا 65 سے 75 فیصد رقبہ بنتا ہے اور 1948 کے بعد اسرائیل ہی میں رہنے والے اور اس کی شہریت حاصل کرنے والے فلسطینیوں کی زمین کا 40 سے 60 فیصد رقبہ بنتا ہے۔ حکام نے ریاست کے ابتدائی برسوں کے دوران بےدخل فلسطینیوں کی زمین کو ''غائب باش املاک'' یا ''بند فوجی علاقے'' قرار دیا اور پھر اس پر قبضہ کر کے اسے ریاستی زمین میں بدل دیا اور وہاں یہودی بستیاں تعمیر کر دیں۔ حکام نے فلسطینی شہریوں کو ان کی ضبط شدہ زمینوں تک رسائی سے روکنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ 2003 کی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق،''املاک ہتھیانے کی کاروائیاں صاف اور واضح طور پر یہودی اکثریت کے مفاد کے لیے کی گئیں''، اور ریاستی اراضی جو اسرائیل میں تمام اراضی کا 93 فیصد رقبے پر مشتمل ہے کا حقیقی منشاء ''یہودی بستیوں'' کے مقصد کو پورا کرنا ہے۔ 1948 کے بعد سے اب تک، حکومت نے اسرائیل میں 900 سے زائد ''یہودی آبادیوں'' کی تعمیر کی اجازت دی  ہے مگر فلسطینیوں کے لیے صرف چند سرکاری قصبوں اور دیہاتوں کی منظوری دی جن کا ایک بنیادی مقصد نیگیو میں مقیم ماضی میں بےدخل ہونے والے بدوؤں کو ان قصبوں اور دیہاتوں تک محدود کرنا ہے جو حکومت نے فلسطینیوں کے لیے مختص کیے ہیں۔

اسرائیل کے اندر فلسطینی میونسپلٹیوں کے اطراف میں اراضی کی ضبطیوں اور اراضی سے متعلق دیگر امتیازی پالیسیاں کارفرما نظر آتی ہیں۔ فلسطینی فطری پھیلاؤ کے مواقع سے محروم ہیں مگر یہ مواقع یہودی میونسپلٹیوں کے باشندوں کو حاصل ہیں۔ فلسطینی شہریوں کی بڑی اکثریت جو اسرائیلی آبادی کا تقریباً 19 فیصد ہے، ان میونسپلٹیوں میں رہتی ہے، جن کا رقبہ اسرائیل کی تمام اراضی کے تین فیصد سے بھی کم ہے۔ اگرچہ اسرائیل میں فلسطینی آزادانہ سفر کر سکتے ہیں اور کچھ 'مخلوط شہروں'' جیسے کہ ہائفہ، تل ابیب- جافہ اور ایکرے میں رہتے ہیں، مگر اسرائیلی قانون کی رو سے چھوٹے قصبوں کو اختیار ہے کہ وہ قصبے کے ''سماجی و ثقافتی ماحول'' سے عدمؚ مطابقت کی بنیاد پر نئے آنے والے باشندوں کو چاہیں تو وہاں رہنے کی اجازت نہ دیں۔ ٹیکنیون اسرائیل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ہائفہ کے ایک پروفیسر کی تحقیق کے مطابق، کیبٹوزم سمیت 900 سے زائد چھوٹے قصبے ہیں جنہیں اختیار ہے کہ وہ چاہیں کسی نئے باشندے کو وہاں رہنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیں۔ ان میں سے کسی ایک قصبے میں کوئی ایک بھی فلسطینی نہیں رہتا۔

اسرائیل کے علاقے نیگیو میں، اسرائیلی حکام نے 35 فلسطینی بدؙو بستیوں کو قانونی طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے نتیجے میں وہاں کے 90,000 یا زائد باشندے اپنی ان بستیوں میں قانونی طریقے سے رہنے کے قابل نہیں جہاں وہ کئی دہائیوں سے مقیم ہیں۔ اس کے برعکس، حکام نے بدو بستیوں کو قدرے بڑے قانونی طور پر تسلیم شدہ قصبوں میں محدود کرنا چاہا ہے تاکہ بقول حکومتی منصوبوں اور عہدیداروں کے بیانات کے، یہودی بستیوں کے لیے دستیاب اراضی بڑھائی جا سکے۔ اسرائیلی قانون ان غیرتسلیم شدہ دیہاتوں میں تمام عمارتوں کو غیرقانونی تصور کرتا ہے اور حکام نے زيادہ تر کو ملکی بجلی یا پانی سپلائی کے نظام سے منسلک کرنے یا ہموار شاہراؤں یا آب نکاسی کے نظام جیسا بنیادی ڈھانچہ بھی فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ بستیاں سرکاری نقشوں پر دکھائی نہیں دیتیں، زیادہ تر میں تعلیمی مراکز نہیں ہیں، اور وہاں کے باشندے اپنے گھروں کی مسماری کے مستقل خطرے سے دوچار ہیں۔ سرکاری کوائف کے مطابق، اسرائیلی حکام نے 2013 سے 2019 کے دوران، 10,000 سے زائد بدو گھروں کو مسمار کیا۔  انہوں نے ایک غیرتسلیم شدہ گاؤں العراقیب جس نے اپنی اراضی کی ضبطی کو چیلنج کیا تھا، کو 185 بار زمین بوس کیا۔

 حکام ریاست کے ابتدائی برسوں سے سرکاری منصوبوں کی پیروی میں ان پالیسیوں کا اطلاق کر رہے ہیں۔ یہ منصوبے یہودیوں کی آبادکاری کے لیے درکار زمین کے حصول کے لیے بدؙو بستیوں کو محدود کرنے کے خواہاں ہیں۔ وزیرؚاعظم بننے سے کئی ماہ قبل دسمبر 2000 میں ایریل شیرون نے اعلان کیا کہ کہ نیگیو میں بدؙو ملک کے زمینی وسائل کھا رہے ہیں''، جو کہ ان کے بقول ''آبادی میں ردوبدل کا مظہر۔'' ہے۔ بطورؚ وزؚیراعظم شیرون نے کئی ارب ڈالر مالیت کے ایک منصوبے پر عملدرآمد کرنا چاہا جس کا مقصد واضح طور پر اسرائیل کے علاقوں نیگیو اور گلیل میں یہودی آبادی میں اضافہ کرنا تھا۔ ان علاقوں میں فلسطینیوں کی اچھی خاصی تعداد تھی۔ ان کے نائب وزیرؚاعظم شمعون پیریز نے بعد میں منصوبے کو ''یہودی عوام کے مستقبل کے لیے جنگ'' قرار دیا۔

نیگیو اور گلیل کو یہودی علاقہ بنانے کی شیرون کی کوشش غزہ سے یہودی آبادکار نکالنے کے حکومتی فیصلے کے تناظر میں سامنے آئی۔ وہاں یہودی آبادکاری ختم کرنے کے بعد، اسرائیل نے غزہ کو عملی اعتبار سے ایک ایسا عملداری علاقہ قرار دیا جس کی آبادی کو یہ اؙن یہودیوں اور فلسطینیوں سے باہر شمار کر سکتی ہے جو مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سمیت او پی ٹی کے کئی علاقوں میں مقیم ہیں جن پر اسرائیل اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اؙس وقت کے اسرائیلی عہدیداروں نے اس اقدام کے پیچھے آبادی میں ردوبدل کے مقاصد کا اعتراف کیا تھا۔ غزہ سے آبادکار نکالنے کی کاروائی کے دوران، اگست 2005 میں شیرون نے اسرائیلیوں سے خطاب میں کہا، ''غزہ کو ہمیشہ کے لیے نہیں رکھا جا سکتا۔ وہاں دس لاکھ سے زائد فلسطینی مقیم ہیں اور وہ ہر آنے والی نسل کے ساتھ اپنی تعداد دگنی کر رہے ہیں۔'' اؙسی ماہ، پیریز نے کہا، ''ہم غزہ سے آبادی سے متعلق حقائق کی وجہ سے نکل رہے ہیں۔''

اپنے آبادکار اور زمینی فوجی دستے نکالنے کے باوجود، اسرائیل اب بھی غزہ کے کئی اہم معاملات میں سب سے بڑی طاقت ہے۔ وہ دیگر ذرائع سے اپنا غلبہ قائم رکھے ہوئے ہے جس وجہ سے ایک قابض طاقت کے طور پر قانونی فرائض کی ادائیگی کا ذمہ دار ہے جیسا کہ عالمی کمیٹی برائے صلیبؚ احمر (آئی سی آر سی)، اور اقوامؚ متحدہ (یو این) کے علاوہ دیگر اداروں نے قراد دیا تھا۔ خاص طور پر، اسرائیل نے وہاں مقیم فلسطینیوں کے ایریز کراسنگ جس پر اس کا کنٹرول ہے، سے گزرنے پر پابندی عائد کی (چند ایک سخت مستثنیات کے ساتھ) اور غزہ اور مغربی کنارے کو''ایک دوسرے سے الگ رکھنے''کی پالیسی'' متعارف کی حالانکہ اسرائیل نے اوسلو معاہدے کے رؙو سے او پی ٹی کے ان دونوں علاقوں کو اجتماعی طور پر ''واحد علاقائی یونٹ'' تسلیم کر رکھا ہے۔ 2007 سےعائد عمومی سفری پابندی نے غزہ سے باہر سفر میں بہت زيادہ کمی لا‏ئی بنستاً اس سفر کے جو دو دہائیاں پہلے ہوتا تھا۔ یہ سفری پابندی انفرادی سطح پر کیے گئے سلامتی کے تجزیوں پر مبنی نہيں ہے اور سلامتی کے خدشات اور بیس لاکھ سے زائد افراد کے حقؚ سفر کی آزادی کے مابین توازن کے لازمی تقاضے کو پورا نہيں کرتی۔

حکام نے غزہ میں اشیاء کے داخلے و اخراج پر بھی سخت پابندی عائد کر رکھی ہے اور چونکہ مصر بھی اکثر اپنی سرحد بند کر دیتا ہے، جس کی وہج سے غزہ بیرونی دنیا سے حقیقی معنوں میں کٹ کر رہ گیا ہے۔ ان پابندیوں نے بنیادی سہولیات تک رسائی کو محدود کرنے اور معیشت کو برباد کرنے میں اہم کردا ادا کیا ہے، اور اس کی بدولت 80 فیصد آبادی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملنے والی امداد پر منحصر ہے۔ غزہ میں مقیم لوگ حالیہ برسوں میں 12 سے 20 گھنٹوں تک بجلی کے مرکزی نظام سے بجلی کی سپلائی کے بغیر گزارہ کرتے ہیں۔ پانی کی دستیابی بھی بہت زيادہ کم ہے؛ اقوامؚ متحدہ کے مطابق، غزہ میں 96 فیصد سے زائد پانی ''انسانی استعمال کے لیے موزوں نہیں۔''

مغربی غزہ کے اندر بھی، اسرائیلی حکام فلسطینی شناختی کارڈز رکھنے والوں کو مشرقی یروشلم، علیحدگی والی باڑوں سے پار کے مقامات اور یہودی بستیوں اور فوج کے زیرؚکنٹرول علاقوں میں داخل ہونے سے روکتے ہیں، ماسوائے اس کے کہ وہ اجازت نامے حاصل کریں جن کا حصول بہت ہی مشکل ہے۔ انہوں نے لگ بھگ 600 مستقل رکاوٹیں بھی کھڑی کی ہیں۔ یہ رکاوٹیں زیادہ تر فلسطینی بستیوں کے درمیان ہیں جن کی وجہ سے فلسطینیوں کی روزمرہ کی زندگی تکالیف کا شکار ہے۔ اس کے بالکل برعکس، اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کو مغربی کنارے کے بہت سے ایسے علاقوں میں آںے جانے کی مکمل آزادی دی ہوئی ہے جو حکام کے قطعی کنٹرول میں ہیں، نیز انہیں مغربی کنارے سے اسرائیل جانے اور اسرائیل سے مغربی کنارے آنے کی بھی پوری آزادی ہے، اؙن شاہراہوں کے ذریعے جو ان کے سفر کی آسانی کے لیے اور اسرائیلی زندگی کے ہر شعبے کو آپس میں  جوڑنے کے لیے تعمیر کی گئی ہیں۔

آبادیاتی معاملات کو اسرائیل کی غزہ اور مغربی کنارے میں علیحدگی کی پالیسی میں مرکزی مقام حاصل ہے۔ خاص طور پر، شاذونادر کیسز میں جب وہ او پی ٹی کے دونوں علاقوں کے درمیان سفر کی اجازت دیتے ہیں تو اسرائیلی حکام زیادہ تر غزہ کی طرف سفر کی اجازت دیتے ہیں اور اس طرح وہ اؙن علاقوں سے آبادی کے انخلاء کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جہاں اسرائیل یہودی بستیاں بسانے میں بہت زيادہ سرگرم ہے۔ اسرائیلی فوج کی سرکاری پالیسی کے مطابق مغربی کنارے کا باشندہ انسانی ہمدردی سے جڑے کسی بھی مقصد کے لیے (عام طور پر خاندان کے دوبارہ ملاپ کے لیے) غزہ کی پٹی میں مستقل طور پر دوبارہ آباد ہونے کی اجازت طلب کر سکتے ہیں، مگر غزہ کے باشندے ''انتہائی شاذوونادر کیسز میں''، عام طور پر خاندان کے دوبارہ ملاپ کے مقصد کی خاطر ہی مغربی کنارے میں آباد ہو سکتے ہیں۔ ان کیسز میں، حکام کو شادی شدہ جوڑوں کو غزہ میں آباد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ سرکاری کوائف سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل نے 2009 سے 2017 کے دوران غزہ کے کسی ایک بھی باشندے کو مغربی کنارے میں آباد ہونے کی اجازت نہیں دی ماسوائے اؙن مٹھی بھر افراد کے جنہوں نے عدالتؚ عظمیٰ میں پٹیشنیں دائر کی تھیں جبکہ مغربی کنارے کے درجنوں باشندوں کو اؚس شرط پر غزہ میں آباد ہونے کی اجازت دی کہ وہ تحریری عہد کریں کہ مغربی کنارے واپس نہیں آئیں گے۔

 بندش کی پالیسی کے علاوہ، اسرائیلی حکام نے غزہ میں کشیدگیوں اور مظاہروں کے دوران بلاامتیاز تشدد اور جارحیت کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ 2008 کے بعد سے، اسرائیلی فوج نے مسلح فلسطینی تنظیموں کے ساتھ تصادم کے تناظر میں غزہ میں بڑے پیمانے پر تین جارحانہ کاروائیاں کی ہیں۔ جیسا کہ رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے، ان جارحانہ کاروائیوں میں شہریوں اور شہریوں سے وابستہ انفراسٹرکچر پر بظاہر دانستہ حملے بھی شامل ہیں جن میں 2,000 سے زائد شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی افواج فلسطینی مظاہرین اور دیگر افراد پر باقاعدگی کے ساتھ گولیاں چلاتی ہیں جب وہ غزہ اور اسرائیل کو الگ کرنے والی باڑ کی طرف آتے ہیں۔ یہ گولیاں اؙس وقت بھی چلائی جاتی ہیں جب اؙن کی وہاں موجودگی سے زندگی کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ صرف 2018 اور 2019 میں ایسے واقعات میں 214 مظاہرین کی زندگی ضائع ہوئی اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ ان کاروائیوں کے پیچھے کئی دہائیوں سے استعمال کی جانے والی بےجا اور غیرضروری طاقت ہے جو مظاہروں اور بدامنی کو ختم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور اور شہریوں کی بڑی تعداد اس کی بھینٹ چڑھتی ہے۔ کئی برسوں سے ایسے واقعات تواتر سے پیش آنے کے باوجود، اسرائیلی حکام قانون کے نفاذ کے ایسے طریقہ ہائے کار تخلیق نہیں کر سکے جو انسانی جقوق کی عالمی اقدار سے ہم آہنگ ہوں۔

حقؚ رہائش اور قومیت پر امتیازی قدغنیں

فلسطینیوں کو او پی ٹی اور اسرائیل میں اپنے حقؚ رہائش اور قومیت کے حقوق پر امتیازی قدغنوں کا سامنا ہے۔ اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے اور غزہ میں آبادی کے اندراج کی فہرست پر اپنے کنٹرول کی وجہ سے سینکڑوں فلسطینیوں کو رہائش کا حق دینے سے انکار کیا ہے۔ یہ اؙن فلسطینیوں کی فہرست ہے جو اسرائيلی حکام کی نظر میں قانونی حیثیت پانے اور شناختی کارڈز کے حصول کے اہل ہیں۔ اسرائیلی حکام نے کم از کم 270,000 فلسطینیوں کے اندراج سے انکار کر دیا جو 1967 میں قبضے کی ابتدا کے وقت مغربی کنارے اور غزہ سے باہر رہائش پذیر تھے اور لگ بھگ 250,000 کی جائے رہائش منسوخ کر دی۔ اؙن میں سے زيادہ تر کی جائے رہائش اس وجہ سے منسوخ کی گئی کہ وہ 1967 سے 1994 کے دوران طویل عرصہ تک بیرونؚ ملک رہے تھے۔ سال 2000 کے بعد سے، اسرائیلی حکام نے خاندانوں کے دوبارہ ملاپ کی کئی درخواستوں یا مغربی کنارے اور غزہ میں پتہ کی تبدیلی کی متعدد فلسطینی درخواستوں پر غور کرنے سے انکار کیا ہے۔ درخواستوں پر عملدرآمد کے تعطل کی وجہ سے وہ فلسطینی اپنے شریکؚ حیات یا رشتہ داروں کو قانونی حیثیت دلوانے سے محروم ہیں جن کا پہلے سے اندراج نہیں ہے اور اسرائیلی فوج کے مطابق، غزہ کے اؙن ہزاروں باشندوں کی مغربی غزہ میں موجودگی غیرقانونی ہے جو عارضی اجازت ناموں پر آئے اور پھر یہیں مقیم ہو گئے کیونکہ عملی طور پر وہ اپنے پتے تبدیل نہیں کروا سکتے اور مغربی کنارے کے رہائشی کے طور پر اپنا پتہ درج کروانے سے قاصر ہیں۔ ان پابندیوں نے مغربی غزہ میں فلسطینی آبادی کو بہت زیادہ محدود کر دیا ہے۔

حکام ان غیررجسٹرڈ  فلسطینیوں کو مغربی کنارے میں داخل نہیں ہونے دیتے جو مغربی کنارے میں رہتے تھے مگر عارضی طور پر (پڑھائی، روزگار، شادی، یا ديگر وجوہ کی بنا پر) کہیں اور چلے گئے، اور اس کے علاوہ ان کے غیررجسٹرڈ شریکؚ حیات اور دیگر اہلؚ خانہ کو بھی مغربی کنارے میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے۔

اسرائیل نے 1967 میں مشرقی یروشلم کا الحاق کیا تو اؙن فلسطینیوں پر قانونؚ داخلہ 1952 کا اطلاق کیا جو وہاں رہتے تھے اور اؙنہیں ''مستقل باشندے'' کا درجہ دیا۔ اسرائیل منتقل ہونے والے غیریہودی غیرملکیوں کو بھی یہی درجہ دیا گیا تھا۔ تاہم وزارتؚ داخلہ نے 1967 کے بعد سے اب تک کم از کم 14,701 فلسطینیوں کی یہ حیثیت منسوخ کر دی ہے۔ زیادہ تر کی اس وجہ سے کہ وہ شہر میں ''زندگی کی مرکزی وابستگی''، ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسرائیلی شہریت کا راستہ موجود ہے، مگر بہت کم اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور جنہوں نے حالیہ برسوں میں اس راستے کا انتخاب کیا ان میں سے زیادہ تر کو شہریت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کے برعکس، یروشلم میں یہودی اسرائیلی، بشمول وہ جو مشرقی یروشلم میں رہتے ہیں، شہری ہیں جنہیں اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے شہر کے ساتھ کسی قسم کا تعلق ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

 اسرائیل کے اندر، اسرائیل  کی آزادی کے اعلامیے نے تمام باشندوں میں ''مکمل مساوات'' کی تصدیق کی، مگر شہریت کا دو طرح کا نظام اس اعلامیے کے برخلاف ہے اور عملی اعتبار سے یہودی اور فلسطینیوں کو مختلف اور غیرمساوی تصور کرتا ہے۔ اسرائیل کے قانونؚ شہریت 1952 میں یہودیوں کو خودبخود شہریت کا حقدار بنانے کے لیے ایک الگ طریقہ کار دیا گیا ہے۔ اس قانون نے قانونؚ واپسی سے جنم لیا ہے جو دیگر ممالک کے یہودی شہریوں کو اسرائیل میں آباد ہونے کا حق فراہم کرتا ہے۔ اس کے برعکس، فلسطینیوں کے لیے شہریت لینے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ وہ 1948 سے پہلے اس علاقے میں رہتے تھے جو اسرائیل بن چکا ہے، 1952 سے ان کا نام آبادی والی فہرست میں درج ہے، وہ مستقل طور پر اسرائیل میں مقیم ہیں یا 1948 سے 1952 کے عرصہ کے دوران اسرائیل میں قانونی طریقے سے داخال ہوئے تھے۔ حکام نے یہ زبان 700,000 سے زائد فلسطینیوں کو جائے رہائش سے محروم کرنے کے لیے استعمال کی ہے جو 1948 میں فرار ہو گئے تھے یا نکال دیے گئے تھے اور ان کی اولاد کو بھی جن کی تعداد آج 57 لاکھ سے زائد ہے۔ اس قانون نے ایسی حقیقت کو جنم دیا ہے جس کے مطابق کسی بھی ملک کا کوئی دوسرا شہری جو کبھی بھی اسرائیل نہ آیا ہو وہاں جا سکتا ہے اور اسے خودبخود شہریت مل جائے گی مگر اپنے گھر سے نکالا گیا فلسطینی اور کسی قریبی ملک کے پناہ گزین خیمے میں 70 برسوں سے گلنے سڑنے والا فلسطینی شہریت حاصل نہیں کر سکتا۔

قانونؚ شہریت 1952 وطن گیری (naturalization) کی بنیاد پر شہریت دینے کی اجازت بھی دیتا ہے۔ البتہ، 2003 میں کنیسٹ نے قانونؚ شہریت و اسرائیل میں داخلہ (عارضی حکمنامہ) منظور کیا جو مغربی کنارے اور غزہ سے تعلق رکھنے والے ایسے فلسطینیوں کو شہریت یا طویل المدتی قانونی حیثیت دینے کی ممانعت کرتا ہے جو اسرائیلی شہریوں یا باشندوں سے شادی کرتے ہیں۔ یہ قانون جو اپنی ابتدا سے ہر سال توسیع اور اسرائیلی عدالتؚ عظمیٰ کی منظوری حاصل کرتا آ رہا ہے، چند ایک مستثنیات کے ساتھ، اسرائیل کے اؙن یہودی اور فلسطینی شہریوں کو اسرائیل میں اپنے شریک حیاتؚ کے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دیتا جو کسی فلسطینی کے ساتھ شادی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ پابندی جو صرف اور صرف اؚس امر پر مبنی ہے کہ شریکؚ حیات کا تعلق مغربی کنارے یا غزہ سے ہے، اؙس وقت لاگو نہیں ہوتی جب اسرائیلی غیرملکی قومیتوں کے حامل غیریہودی افراد کو اپنا شریکؚ حیات بناتے ہیں۔ وہ فوری طور پر قانونی حیثیت لے سکتے ہیں اور کئی برسوں کے بعد شہریت کی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔

 2005 میں قانون کی تجدید کے موقع پر تبصرہ کرتے ہوئے، اؙس وقت کے وزیرؚاعظم ایریل شیرون نے کہا: ''اب سلامتی کے دلائل کے پیچھے چھپنے کی ضرورت نہیں۔ اب یہودی ریاست کے وجود کی ضرورت ہے۔'' بنجمن نتن یاہو، جو اؙس وقت وزیرؚ خزانہ تھے نے کہا: ''فلسطینیوں کے لیے شہریت کا حصول آسان بنانے کی بجائے، ہمیں اسے اور زیادہ مشکل بنانا چاہیے تاکہ اسرائیل کی سلامتی اور اسرائیل میں یہودی اکثریت کو یقینی بنایا جا سکے۔'' مارچ 2019 میں، اؚس مرتبہ بطورؚ وزیرؚاعظم، نتن یاہو نے اعلان کیا،''اسرائیل اپنے تمام شہریوں کی ریاست نہیں''، بلکہ اس کی بجائے ''یہودی عوام اور صرف اؙن کی قومی ریاست ہے۔''

 انسانی حقوق کا عالمی قانون حکومتوں کو اپنی امیگریشن پالیسیاں تشکیل دینے میں اچھی خاصی آزادی فراہم کرتا ہے۔ عالمی قانون میں ایسا کچھ بھی نہیں جو اسرائیل کو یہودی امیگریشن کے فروغ سے روکتا ہو۔ یہودی اسرائیلی جن میں سے بیشتر دنیا کے مختلف حصوں میں یہودیت مخالف ریاستی جبر سے بچنے کے لیے لازمی فلسطین یا بعدازاں اسرائیل میں منتقل ہوئے، اپنی سلامتی اور بنیادی حقوق کی حفاظت کے مستحق ہیں۔ البتہ، یہ آزادی ریاست کو ان لوگوں کے ساتھ امتیاز برتنے کا حق نہیں دیتی جو پہلے سے ملک میں رہ رہے ہیں۔ ریاست ان کے خاندان کے دوبارہ ملاپ کے حقوق کا احترام کرنے کی پابند بھی ہے، اور نہ ہی ان لوگوں کے خلاف امتیاز برتا جا سکتا ہے جن کے پاس ملک واپس پلٹنے کا حق ہے۔ فلسطینی اپنی سلامتی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے مستحق بھی ہیں۔

اسرائیلی اپنی پالیسیوں اور اقدامات کا کیا جواز پیش کرتے ہیں؟

اسرائیلی حکام اس رپورٹ میں بیان اپنی کئی پالیسیوں کو اسرائیلیوں پر فلسطینیوں کے تشدد کا ردؚعمل قرار دیتے ہیں۔ تاہم، کئی پالیسیوں مثال کے طور پر علاقہ سی، یروشلم اور اسرائیل میں نیگیو میں تعمیرات کے اجازت ناموں سے انکار، یروشلم کے باشندوں کے حقؚ رہائش کی منسوخی، نجی املاک کی ضبطی اور ریاستی زمینیوں کی امتیازی تخصیص کو سلامتی کے نام پر باجواز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ديگر بشمول قانونؚ شہریت و اسرائیل میں داخلہ، او پی ٹی کی آبادی کے اندارج کے تعطل کو سلامتی کے بہانے آبادی میں ردوبدل کے اہداف حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی حکام کے اسرائیل اور او پی ٹی میں سلامتی سے متعلق جائز تحفظات ہو سکتے ہیں۔ البتہ، جو پابندیاں نقل و حمل کی آزآدی جیسے انسانی حقوق اور سلامتی کے جائز تحفظات میں توازن پیدا نہیں کرتیں، وہ عالمی قانون کے تقاضوں کے برخلاف ہوتی ہیں۔ انسانی حقوق اور سلامتی کے جائز تحفظات میں توازن پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انفرادی سطح پر سلامتی کا جائزہ لیا جائے ناکہ غزہ کی پوری آبادی کو ہی، چند شاذونادر مستثنیات کے ساتھ، باہر نکلنے سے ممنوع قرار دے دیا جائے۔ حتیٰ کہ کسی خاص پالیسی کے پیچھے سلامتی کا پہلو شامل ہو بھی تو پھر بھی اسرائیل کو تمام انسانی حقوق روندنے کی قطعی آزادی نہیں مل جاتی۔ سلامتی کے جائز تحفظات نسلی امتیاز کے زمرے میں آنے والی پالیسیوں کا حصہ ہو سکتے ہیں، بالکل اسی طرح جس یہ ایک ایسی پالیسی کا حصہ ہو سکتے ہیں جو بےجا طاقت کے استعمال اور ایذارسانی کی اجازت دیتی ہو۔

عہدیدار بعض اوقات دعویٰ کرتے ہیں کہ او پی ٹی میں کیے گئے اقدامات عارضی ہیں اور امن کے معاہدے کی صورت میں منسوخ کر دیے جائیں گے۔ سابق وزیرؚاعظم لیوی ایشکول کے 1967 کے اس اعلان کہ ''مجھے صرف ایک نیم آزاد علاقہ (فلسطینیوں کے لیے) نظر آتا ہے، کیونکہ سلامتی اور زمین اسرائیلی ہاتھوں میں ہے،'' سے لے کر  جولائی 2019 میں لیکوڈ پارٹی کے نتن یاہو کے اس بیان تک کہ ''اسرائیلی فوج اور سیکیورٹی فورسز اردن (دریا) تک پورے علاقے پر اپنی حکمرانی جاری رکھیں گی،'' کئی ریاستی عہدیداروں نے اپنا یہ ارادہ واضح کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے پر ہمیشہ کے لیے اپنی گرفت برقرار رکھیں گے، قطع نظر اس کے کہ فلسطینیوں پر حکمرانی کے لیے کیا انتظامات طے پاتے ہیں۔ ان کے اقدامات اور پالیسیاں اس گمان کو بھی زائل کرتی ہیں کہ اسرائیلی حکام قبضے کو عارضی سمجھتے ہیں۔ ان اقدامات اور پالیسیوں میں زمین کی ضبطی، علیحدگی کی باڑ کی اس انداز میں تعمیر کہ یہ یہودی آبادکاریوں کی متوقع افزائش میں مدد دے، نکاسیؚ آب کے نظام، اطلاعات و نشریات کے نظام، بجلی کے گرڈ، پانی کی فراہمی کے ڈھانچے اور شاہراہوں کے جال کا اسرائیل کے ساتھ باربط تعلق، مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی بجائے صرف اسرائیلی آبادکاروں پر لاگو ہونے والے قوانین شامل ہیں۔ یہ امکان کہ مستقبل میں کوئی اسرائیلی رہنما فلسطینیوں کے ساتھ اس طرح کا کوئی معاہدہ کر سکتا ہے جس سے امتیازی نظام ختم ہو جائے اور منظم ریاستی جبر اپنے انجام کو پہنچ جائے گا موجودہ عہدیداروں کی موجودہ نظام برقرار رکھنے کی نیت کی نفی نہيں کر سکتا نہ ہی نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کی موجودہ حقیقت کو جھٹلا سکتا ہے۔

سفارشات کا خلاصہ

اسرائیلی حکومت کو ہر قسم کے منظم تسلّط اور ریاستی جبر کی پالیسی کو ترک کرنا ہو گا جس کی وجہ سے یہودی اسرائیلیوں کو ترجیحی مرتبہ حاصل ہے اور فلسطینیوں کو  منصوبہ بند ظلم کا سامنا ہے، اور فلسطینیوں پر مظالم کا سلسلہ بند کرنا ہو گا۔ خاص طور پر، حکام کو شہریت، اور حقؚ رہائش ، شہریتی حقوق، نقل و حمل کی آزادی، زمین و وسائل کی تخصیص، پانی، بجلی، اور دیگر سہولیات تک رسائی اور تعمیراتی اجازت ناموں کی منظوری جیسے معاملات میں امتیازی پالیسیاں و اقدامات ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ حقائق کہ نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے، اسرائیلی قبضے کی حقیقت کو تبدیل نہیں کرتے یا ان فرائض کو ختم نہیں کرتے جو  قبضے کے قانون کے تحت اسرائیل پر عائد ، بالکل اس طرح جس طرح کہ انسانیت کے خلاف دیگر جرائم یا جنگی جرائم کے ارتکاب کے حقائق کی صورت میں ان فرائض کو نہیں جھٹلایا جا سکتا۔ چنانچہ، اسرائیلی حکام مغربی کنارے اور غزہ میں بستیوں کی تعمیرات کا سلسلہ بند کریں اور موجودہ بستیاں گرائيں یا پھر دوسری صورت میں فلسطینیوں کے انسانی حقوق کا احترام کرنا چاہیے، اور انہیں وہی حقوق فراہم کریں جو انہوں نے اسرائیلی شہریوں کو فراہم کر رکھے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں وہ تمام حفاظتیں بہم پہچائیں جن کے وہ جنگی قوانین کے تحت مستحق ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کو اسرائیلی فوج کے ساتھ سلامتی میں تعاون کی ان تمام صورتوں کو ختم کر دینا چاہیے جن سے نسلی امتیاز اور جبر جیسے انسانیت کے خلاف جرائم میں مدد مل رہی ہے۔

انسانیت کے خلاف جرائم کے حقائق کی بدولت عالمی برادری کو اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ جو فلسطینیوں پر منظم جبر ختم کروانے کے لیے اسرائیلی حکومت پر  دباؤ ڈالنے میں پہلے ہی ناکام ثابت ہو چکا ہے، نے حالیہ برسوں کے دوران کچھ معاملات میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی حمایت کی ہے۔ مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر کے معاملے میں امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی حمایت اس کی ایک اہم مثال ہے۔ کئی یورپی ریاستوں اور دیگر ممالک نے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر رکھے ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ پی اے کی استعداد بڑھا کر اور او پی ٹی میں اسرائیل کے سنگین مظالم سے خود کو دور رکھ کر اور بعض اوقات ان کی تنقید کر کے ''امن عمل'' کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ حکمتؚ عملی جو وہاں فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے امتیازی سلوک اور جبر کی گہری جڑوں سے چشم پوشی کر رہی ہے، یہ گمان کر کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظرانداز کر رہی ہے کہ یہ خلاف ورزياں قبضے کی علامتیں ہیں جنہیں ''امن عمل'' بہت جلد دور کر دے گا۔ اس سوچ کی وجہ سے ریاستیں اس نوعیت کے محاسبے کی مزاحمت کرتی ہیں جس کی یہ سنگین صورتحال متقاضی ہے، اور یوں نسلی امتیاز کو اور زيادہ پھیلاؤ اور استحکام ملتا ہے۔ 54 برسوں کے بعد، ریاستوں کو چاہیے کہ وہ صورتحال کا اس انداز سے جائزہ لینا چھوڑ دیں کہ امن عمل شروع ہو گیا تو پھر کیا ہو گا بلکہ وہ طویل عرصہ سے موجود زمینی حقائق پر توجہ دیں جو بدلتے دکھائی نہیں دے رہے۔ 

عالمی سطح پر، نیز اسرائیل اور او پی ٹی کی سرحدوں سے باہر ملکی عدالتوں میں عالمگیر دائرہ اختیار کے اصول کے تحت ، انسانیت کے خلاف جرائم پر انفرادی مجرمانہ ذمہ داری کا اصول لاگو کیا جا سکتا ہے۔

 چونکہ اسرائیلی حکام انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ ترک کرنے میں کئی دہائیوں سے ناکام ثابت ہو رہے ہیں، لہذا عالمی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر دفتر کو تحقیقات کرنی چاہییں اور انسانیت کے خلاف جرائم جیسے کہ نسلی امتیاز اور ریاستی جبر میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کاروائی کرنی چاہیے۔ آئی سی سی کو اس معاملے پر اختیار حاصل ہے، اور پراسیکیوٹر نے او پی ٹی میں سنگین جرائم کی تحقیقات کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، تمام حکومتوں کو چاہیے کہ وہ عالمگیر دائرہ اختیار کے اصول کے تحت اور اپنے ملکی قوانین کی مطابقت میں تحقیقات کریں اور ان افراد کے خلاف مقدمے چلائیں جن کے اؚن جرائم میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہيں تاکہ مجرموں کو جواہدہ ٹھہرایا جا سکے۔

ہیومن رائٹس واچ مقتدر ریاستوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوجداری کاروائی کے علاوہ اقوامؚ متحدہ کے ذریعے ایک عالمی انکوائری کمیشن قائم کریں جو او پی ٹی اور اسرائیل میں گروہی شناخت کی بنیاد پر منصوبہ بند امتیاز اور ریاستی جبر کی تحقیقات کرے۔ انکوائری کمیشن کے پاس حقائق کے تعین اور تجزیے، سنگین جرائم  بشمول نسلی امتیازاور جبر میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ، انکوائی کمیشن کے پاس جرائم سے متعلقہ شہادت اکٹھی اور محفوظ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے تاکہ قابلؚ بھروسہ عدالتی فورم مستقبل میں اسے استعمال کر سکیں۔

ریاستوں کو اقوامؚ متحدہ کے ذریعے ایک عالمی نمائندے کی نشست بھی تخلیق کرنے چاہیے جو دنیا بھر میں ریاستی جبر اور نسلی امتیاز کے خلاف عالمی برادری کو متحرک کرنے کا کردار ادا کر سکے۔

ریاستوں کو اسرائیل کی نسلی امتیاز اور جبر کی پالیسیوں پر اظہارؚ تشویش کرنا چاہیے۔ انہیں اسرائیل کے ساتھ اپنے معاہدات، تعاون کے منصوبوں اور ہر قسم کی تجارت و تعلقات کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ ان میں سے کونسی سرگرمیاں جرائم کے ارتکاب میں براہ راست کردار ادا کر رہیں ہیں، انسانی حقوق کو متاثر کر رہی ہیں، اور جہاں ایسا ممکن نہ ہو، ایسی سرگرمیاں اور فنڈنگ ختم کی جائے جو اؚن سنگین جرائم کی معاون پائی جائیں۔

کاروباری حلقوں کے لیے اس رپورٹ کے حقائق کے اثرات پچیدہ ہیں ہونے کے ساتھ ساتھ رپورٹ کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ کاروباری حلقوں کو کم از کم یہ ضرور کرنا چاہیے کہ وہ ایسی سرگرمیاں ختم کر دیں جو نسلی امتیاز اور جبر کے جرائم کے ارتکاب میں معاون ہیں۔ کمپنیوں کو جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ان کی مصنوعات اور خدمات نسلی امتیاز اور جبری کے جرائم کے ارتکاب میں مددگار تو ثابت نہیں ہو رہیں، جیسے کہ فلسطینی گھروں کی غیرقانونی مسماری میں استعمال ہونے والے آلات۔ اور کاروبار و انسانی حقوق پر اقوامؚ متحدہ کے رہنماء اصولوں کی روشنی میں ایسی مصنوعات اور خدمات کی فراہمی روک دینی چاہیے جن کا ایسے مقاصد کے لیے استعمال ہونے کا خدشہ ہے۔۔  

ریاستیں دیگر ضروری کاروائیوں کے ساتھ ساتھ انفرادی پابندیوں کی پالیسی اپناتے ہوئے ان جرائم میں ملوث ریاستی عہدیداروں پر سفری پابندیاں لگائیں اور ان کے اثاثے ضبط کریں، اور اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت اور فوجی و سیکیورٹی مدد کو اؚس شرط کے ساتھ مشروط کر دیں کہ اسرائیلی حکام اپنے ان جرائم کو ترک کرنے کے لیے ٹھوس اور قابلؚ تصدیق اقدامات اٹھائیں گے۔

عالمی برادری صاف دکھائی دینے والے زمینی حقائق سے عرصہ طویل سے کنارہ کش رہنے اور آنکھیں چرانے کی روش اپنائے ہوئے ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگ غزہ میں کھلے آسمان والی جیل میں، مغربی غزہ میں شہریتی حقوق کے بغیر، اسرائیل میں قانون کے اعتبار سے کمتر درجے کے ساتھ، اور ہمسایہ ممالک میں اپنے والدین اور اؘجداد کی طرح زندگی بھر کے مہاجر کی حیثیت سے جنم لے رہے ہیں، محض اس وہ سے کہ وہ فلسطینی ہیں، یہودی نہیں۔ اسرائیل اور او پی ٹی میں مقیم تمام افراد کی آزادی، مساوات، اور وقار کا حامل مستقبل اؙس وقت تک دھندلا رہے گا جب تک فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات ختم نہیں ہو جاتے۔

مفصّل سفارشات

ہیومن رائٹس واچ کی ان سفارشات کا ماخذ یہ حقیقت ہے کہ اسرائیلی حکام نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کا مرتکب ہو کر انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کو معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی حکومت اپنے زیرؚکنٹرول تمام علاقے میں فلسطینیوں پر یہودی اسرائیلیوں کا تسلّط برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ او پی ٹی بشمول مشرقی یروشلم، میں فلسطینیوں کے خلاف منظم جبر اور غیرانسانی کاروائیاں بھی اس ارادے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ اور یہ تینوں عناصر یکجا ہو جائيں تو پھر اؚس صورتحال کو نسلی امتیاز قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی حکام فلسطینیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے ارادے اور او پی ٹی میں سنگین مظالم کا ارتکاب کرنے کے باعث نسلی تفریق کا مرتکب ہو رہے ہیں جو کہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

اسرائیلی ریاست سے مطالبہ ہے کہ وہ:

 یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع بند کرے، موجودہ بستیاں مسمار کرے، مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم کی بستیوں میں آباد اسرائیلی شہریوں کو واپس اسرائیل کی اؙن حدود میں آباد کرے جنہیں عالمی قانون کی سند حاصل ہے۔

 قانونؚ روم کی توثیق کرے اور انسانیت کے خلاف جرائم بشمول ریاستی جبر اور نسلی امتیاز کے قانون کو اپنے ملکی فوجداری قانون کا حصہ بنائے تاکہ ان جرائم کی تحقیقات اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کاروائی ہو سکے

  • ریاستی جبر اور اور امتیاز کی ایسی تمام اقسام کا سلسلہ بند کرے جن کی وجہ سے  یہودی اسرائیلیوں کو فلسطینیوں پر فوقیت حاصل ہے، اور یہودی اسرائیلیوں کے غلبے کو یقینی بنانے کے لیے فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہیں، اور فلسطینیوں پر جبرواستبداد کا رجحان ختم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے شہریت، اور قومیت کے طریقہ ہائے کار، شہریتی حقوق کے تحفظ، نقل و حمل کی آزادی، زمین و وسائل کی تخصیص، پانی، بجلی، اور دیگر سہولیات تک رسائی اور تعمیرات کے اجازت ناموں کی منظوری جیسے معاملات میں امتیازی پالیسیاں اور کاروائیوں کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔
  •   فلسطینیوں بشمول اؙن کے جو او پی ٹی میں مقیم ہیں، کے انسانی حقوق کا مکمل تحفظ کرے ، نیز او پی ٹی میں مقیم فلسطینیوں کی ان حفاظتوں کو یقینی بنائے جو اؙنہیں جنگی قوانین کے تحت حاصل ہیں۔
  • غزہ میں آنے جانے پر عمومی پابندی ختم کرے اور غزہ میں آمدورفت، خاص طور پر غزہ اور مغربی کنارے کے بیچ آمدورفت کی آزادی کو یقینی بنائے۔ اس حوالے سے، زيادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ سلامتی کے مقاصد کو مدؚنظر رکھتے ہوئے لوگوں کے معائنے اور تلاشی کا بندوبست یقینی بنایا جائے۔
  • مغربی کنارے اور غزہ کے فلسطینیوں کو مشرقی یروشلم جانے کی کھلی اجازت دے۔ اس حوالے سے، زيادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ سلامتی کے مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں کے معائنے اور تلاشی کا بندوبست کر دیا جائے۔
  • تعمیرات کی منصوبہ بندی اور اجازت ناموں کے قوانین و ضوابط میں امتیازی پالیسی کا خاتمہ  کرے۔ ان امتیازی قوانین و ضوابط کے تحت فلسطینیوں کو اجازت نامے دینے سے بے جا طور پر انکار کر دیا جاتا اور ان کی تعمیرات گرانے کے احکامات جاری کر دیے جاتے ہیں۔
  • فلسطینیوں کو زمین، رہائش اور ضروری سہولیات کی منصفانہ فراہمی یقینی بنائے۔
  • علیحدگی باڑ کے حصوں کو مسمار کرے جو گرین لائن کی بجائے او پی ٹی کے اندر تعمیر کیے گئے ہیں۔
  • مساوات کے اصول اور انسانی حقوق کے عالمی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے ذیل سمیت دیگر امتیازی قوانین اور قانونی دفعات ختم کرے:
    • قانونؚ شہریت اور اسرائیلی میں داخلہ (عارضی حکمنامہ) 2003 جو اسرائیلی شہریوں اور باشندوں کو اپنے غیراسرائیلی شریک ؚحیات کے لیے قانونی درجہ حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے تاہم اگر شریکؚ حیات مغربی کنارے اور غزہ سے تعلق رکھتا/رکھتی ہے تو اؙس صورت میں، چند ایک مستثنیات کے ساتھ، اؙنہیں یہ اجازت نہيں دیتا۔
    • ایڈمیشن کمیشنز لاء 2011 کی دفعات اسرائیل کے چھوٹے قصبوں کے باشندوں کو باہر سے آنے والے ممنکہ رہائشیوں کے ساتھ ان کی نسل، لسانی شناخت اور قومی پس منظر کی بنیاد پر امتیاز برتنے کی اجازت دیتی ہیں۔
    • بنیادی قانون کی دفعات: اسرائیل یہودی عوام کی قومی ریاست۔ یہ دفعہ حقؚ خودارادیت اور حقؚ رہائش کے حوالے سے یہودیوں اور غیریہودیوں کے مابین امتیاز برتتی ہے۔
  • مشرقی یروشلم، مغربی کنارے، غزہ کی پٹی کے فلسطینیوں اور اؙن کے اہلؚ خانہ کے حقؚ رہائشی پر بے جا پابندیاں ہٹائے۔ اس حوالے سے مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کی جائے رہائش کی منسوخی کا رجحان ترک کیا جائے، مغربی کنارے اور غزہ میں خاندانوں کے دوبارہ ملاپ پر سال 2000 سے عائد پابندی ختم کی جائے اور فلسطینیوں کو او پی ٹی کے دیگر حصوں میں آباد ہونے کی اجازت دی جائے اور ان کا پتہ درج کیا جائے۔
  • اؙن فلسطینیوں اور اؙن کی اولاد کے حق کو منظوری و عزت بخشی جائے جو 1948 میں اپنے گھربار چھوڑ گئے تھے یا جنہیں اپنے گھر بار سے نکال دیا گیا تھا، انہیں اسرائیل میں داخل ہونے اور ان علاقوں میں رہنے کا حق دیا جائے جہاں وہ یا اؙن کے خاندان رہتے تھے۔ ہیومن رائٹس واچ نے ایک الگ پالیسی دستاویز میں اس معاملے کو بیان کیا ہے جس میں اؙن مقامات پر یا او پی ٹی میں اور دیگر مقامات پر نوآبادکاری کے طریقہ ہائے کار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ 866F865F865F865F865F[4]
  • اقوامؚ متحدہ کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ تعاون کرے اور ان کی سفارشات پر توجہ دے۔

فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن سے مطالبہ ہے کہ وہ:

 ایڈووکیسی کی ایسی حکمتؚ عملی اپنائے جس کا مرکزی نقطہ فلسطینیوں کے انسانی حقوق کا مکمل تحفظ ہو، نہ کہ ایسا نقطہ جو کوئی خاص سیاسی نتیجہ نکلنے تک انسانی حقوق کے تحفظ کو مؤخر کرنے پر زور دے۔

فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ ہے کہ وہ:

  • اسرائیلی فوج کے ساتھ سلامتی سے متعلق ہر قسم کا تعاون ختم کرے جس سے او پی ٹی میں نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے جرائم میں مدد مل رہی ہو۔
  • نسلی امتیاز اور ریاستی جبر سمیت انسانیت کے خلاف جرائم کو ملکی فوجداری قانون کا حصہ بنائے۔

عالمی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر دفتر سے

 ایسے افراد کے متعلق تحقیقات کرے ان کے خلاف قانونی کاروائی کرے جن کے نسلی امتیاز اور جبر جیسے انسانیت کے خلاف جرم میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ہیں۔

اقوامؚ متحدہ کے اراکین سے

 اقوامؚ متحدہ کے ذریعے ایک عالمی انکوائری کمیشن قائم کریں جو او پی ٹی اور اسرائیل میں گروہی شناخت کی بنیاد پر منصوبہ بند امتیاز اور ریاستی جبر کی تحقیقات کرے۔ انکوائری کمیشن کے پاس حقائق کے تعین اور تجزیے، سنگین جرائم  بشمول نسلی امتیازاور ریاستی جبر میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے کا اختیار ہونا چاہیے تاکہ مجرموں کو جواہدہ ٹھہرایا جا سکے، اور اس کے ساتھ جرائم سے متعلقہ شہادت اکٹھی اور محفوظ کرنے کا اختیار ہو تاکہ مستقبل میں اسے قابلؚ بھروسہ عدالتی فورم استعمال کر سکیں۔ انکوائری کا دائرہ اختیار اتنا وسیع ہونا چاہیے کہ دیگر عناصر بشمول کمپنیوں اور دیگر ریاستو ں کے عہدیداروں کے کردار کو بھی دیکھا جا سکے۔

  • عالمی انکوائری کمیشن کے اخذشدہ حقائق کے جائزے اورکمیشن کی سفارشات کی پاسداری پر مستقل نظر رکھنے اور مزید ضروری کاروائی تجویز کرنے کے لیے اقوامؚ متحدہ کی رکن ریاستوں کی نمائندہ کمیٹی تشکیل دیں۔
  • اقوامؚ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اؚس معاملے پر تعطل کے پیشؚ نظر، یا سفارش پیش کریں کہ ریاستیں اور بین الریاستی اتحاد دیگر ضروری کاروائیوں کے ساتھ ساتھ انفرادی پابندیوں کی پالیسی اپناتے ہوئے نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے جرائم میں ملوث ریاستی عہدیداروں پر سفری پابندیاں لگائیں اور ان کے اثاثے ضبط کریں، اور اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت اور فوجی و سیکیورٹی مدد کو اؚس شرط کے ساتھ مشروط کریں کہ اسرائیلی حکام فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے جرائم کو ترک کرنے کے لیے ٹھوس اور قابلؚ تصدیق اقدامات اٹھائیں گے۔  اسرائیل کے ساتھ اپنے معاہدات، تعاون کے منصوبوں اور ہر قسم کی تجارت و تعلقات کا بغور جائزہ لیں تاکہ پتہ چل سکے کہ ان میں سے کونسی سرگرمیاں جرائم کے ارتکاب میں براہ راست کردار ادا کر رہیں ہیں، انسانی حقوق کو متاثر کر رہی ہیں، اور جہاں ایسا ممکن نہ ہو، ایسی سرگرمیاں اور فنڈنگ ختم کی جائے جو اؚن سنگین جرائم کی معاون پائی جائیں۔
  • اقوامؚ متحدہ کے ذریعے ایک عالمی نمائندہ کی نشست قائم کریں جو دنیا بھر میں ریاستی جبر اور نسلی امتیاز کے خلاف عالمی برادری کی کاروائی کو متحرک کرنے کے لیے ریاستی جبر اور نسلی امتیاز کے جرائم کی تحقیقات کریں۔
  • جب عالمی نمائندہ کا چناؤ ہو جائے تو پھر اقوامؚ متحدہ کی سلامتی کونسل کو سفارش کرے کہ وہ مشرقؚ وسطیٰ کی صورتحال پر ہونے والے سہ ماہی اجلاسوں میں مدعو کرے۔

سب ریاستوں سے مطالبہ ہے کہ وہ:

 اسرائیل کی نسلی امتیاز اور جبر کی پالیسیوں پر اظہارؚ تشویش کریں۔

 اسرائیل کے ساتھ اپنے معاہدات، تعاون کے منصوبوں اور ہر قسم کی تجارت و تعلقات کا بغور جائزہ لیں تاکہ پتہ چل سکے کہ ان میں سے کونسی سرگرمیاں جرائم کے ارتکاب میں براہ راست کردار ادا کر رہیں ہیں، انسانی حقوق کو متاثر کر رہی ہیں، اور جہاں ایسا ممکن نہ ہو، ایسی سرگرمیاں اور فنڈنگ ختم کی جائے جو اؚن سنگین جرائم کی معاون پائی جائیں۔

 سنگین عالم جرائم بشمول نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے جرم میں ملوث عہدیداروں اور اداروں کے خلاف دیگر ضروری کاروائیوں کے ساتھ ساتھ اؙن پر سفری پابندیاں لگائیں اور ان کے اثاثے ضبط کریں۔

 اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت اور فوجی و سیکیورٹی مدد کو اؚس شرط کے ساتھ مشروط کریں کہ اسرائیلی حکام نسلی امتیاز اور ریاست جبر کے جرائم کو ترک کرنے کے لیے ٹھوس اور قابلؚ تصدیق اقدامات اٹھائیں گے۔

 نسلی امتیاز اور ریاستی جبر سمیت انسانیت کے خلاف جرائم کو ملکی فوجداری قانون کا حصہ بنائے تاکہ ان میں ملوث افراد کے متعلق تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی ہو سکے۔

 عالمگیر دائرہ اختیار کے اصول کے تحت اور اپنے ملکی قوانین کی مطابقت میں تحقیقات کریں اور ان افراد کے خلاف مقدمے چلائیں جن کے ریاستی جبر اور نسلی امتیاز کے جرائم میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہوں

 مطبوعات، رپورٹس اور پالیسی دستاویزات شا‏ئع کریں جن میں اسرائیل سے یہ مطالبات بھی ہوں کہ وہ مقبوضہ علاقے میں فلسطینیوں کو کم از کم وہ شہریتی حقوق ضرور دے جو اس نے اپنے شہریوں کو دے رکھے ہیں، اور اس بنیاد پر اسرائیل کے رویے کا جائزہ بھی لیں، جیسا کہ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک الگ رپورٹ ان معاملات کو اجاگر کیا ہے۔ 867F866F866F866F866F[5]

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر سے مطالبہ ہے کہ وہ:

  • اسرائیلی حکام کی جانب سے نسلی امتیاز اور جبر کے جرائم کے ارتکاب پر اظہارؚ تشویش کریں۔

امریکہ محکمہ ہائے ریاست، دفاع اور خزانہ سے مطالبہ ہے کہ وہ:

  • اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت اور فوجی و سیکیورٹی مدد کو اؚس شرط کے ساتھ مشروط کریں کہ اسرائیلی حکام نسلی امتیاز اور ریاست جبر کے جرائم کو ترک کرنے کے لیے ٹھوس اور قابلؚ تصدیق اقدامات اٹھائیں گے ۔
  • یہ چھان بین کرے کہ امریکی ساختہ ہتھیار اور/یا آلات، یا امریکی فنڈز سے خریدے گئے اسرائیلی ہتھیار اور/یا آلات کہیں نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے جرائم یا عالمی انسانی حقوق یا جنگی قانون کی خلاف ورزی میں معاون تو ثابت نہیں ہو رہے، اور اس چھان بین کی رپورٹ جاری کرے۔ کب کبھی مستقبل میں مزید فنڈز دیے جائیں تو پھر غیرملکی امداد قانون 1961، 22، یو ایس سی 2378ڈی اور سیکشن 360، عنوان 10، یوایس کوڈ(لیہی قوانین) کی پاسداری کرتے ہوئے یقینی بنائے کہ ان یونٹوں کو فنڈز نہ ملیں کے جن انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے متعلق ٹھوس معلومات ہوں
  • گلوبل میگنٹسکی اکاؤنٹبلٹی ایکٹ 2016، انتظامی حکمنامہ 13818، اور محمکہ ریاست، غیرملکی کاروائیاں، اور متعلقہ پروگرامز تصرفات ایکٹ 2109 کے سیکشن 7031(ج) کی رو سے، اسرائیلی عہدیداروں پر ویزا پابندیاں لگائے اور ان کے اثاثے ضبط کرے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں بشمول نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے جرائم میں ملوث ہیں۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی کانگریس سے مطالبہ ہے کہ وہ:

  • اسرائیلی حکام کی جانب سے نسلی امتیاز اور جبر کے جرائم کے ارتکاب پر اظہارؚ تشویش کرے۔
  • اگر امریکی انتظامیہ اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت اور فوجی و سیکیورٹی مدد کو اؚس شرط کے ساتھ مشروط کرنے میں ناکام رہے کہ اسرائیلی حکام نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے جرائم کو ترک کرنے کے لیے ٹھوس اور قابلؚ تصدیق اقدامات اٹھائیں گے۔ تو پھر کانگریس کے اس حوالے سے مناسب قانون سازی کرنی چاہیے۔
  • حکومتی جواہدہی دفتر (جی اے او) سے اس بارے رپورٹ دینے کی درخواست کرے کہ اسرائیل کو امریکی امداد بشمول فنڈز، ہتھیار، اور آلات نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے جرائم میں کس طرح مددگار ثابت ہو رہے ہیں؛ درخواست کرے کہ جی اے او اپنی رپورٹ میں  یہ تحقیقات بھی شامل کرے کہ محکمہ ریاست اور دفاع اسرائیلی انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالے سے فوجی یونٹوں پر کس حد تک نظر رکھ سکتے ہیں۔
  • یقینی بنائے کہ محمکہ ریاست اور دفاع میں لیہی قوانین کی پاسداری پر ماور تمام دفاتر کے پاس مناسب فنڈنگ اور عملہ ہو۔

یورپی یونین اور اس کی رکن ریاستوں سے مطالبہ ہے کہ وہ:

  • اسرائیلی حکام کی جانب سے نسلی امتیاز اور جبر کے جرائم کے ارتکاب پر اظہارؚ تشویش کریں۔
  • نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے اخذشدہ حقائق کے ای او اور رؙکن ریاستوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر پڑنے والے اثرات کے متعلق مفصل چھان بین کرے۔ خاص طور پر، قانونی نتائج ای یو کے تحت اور نیز، ای یو، رکن ریاستوں اور ای یو میں واقع نجی کاروباری حلقوں پر عالمی قانون کے تحت اور فرائض کی نشاندہی کی جائے، اور مناسب اقدامات تجویز کیے جائيں، اور چھان بین کی رپورٹ کو عوام کے سامنے لایا جائے۔
  • انہیں اسرائیل کے ساتھ اپنے معاہدات، تعاون کے منصوبوں اور ہر قسم کی تجارت و تعلقات کا بغور جائزہ لیں تاکہ پتہ چل سکے کہ ان میں سے کونسی سرگرمیاں جرائم کے ارتکاب میں براہ راست کردار ادا کر رہیں ہیں، انسانی حقوق کو متاثر کر رہی ہیں، اور جہاں ایسا ممکن نہ ہو، ایسی سرگرمیاں اور فنڈنگ ختم کریں جو اؚن سنگین جرائم کی معاون پائی جائیں۔
  •  سنگین عالمی جرائم بشمول نسلی امتیاز اور ریاستی جبر کے ارتکاب کا سلسلہ جاری رکھنے کے کام میں ملوث افراد اور اداروں کے پر مخصوص پابندیاں لگائیں۔

  • اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت اور فوجی و سیکیورٹی مدد کو اؚس شرط کے ساتھ مشروط کریں کہ اسرائیلی حکام اپنے اؚن جرائم کو ترک کرنے کے لیے ٹھوس اور قابلؚ تصدیق اقدامات اٹھائیں گے۔
  • اقوامؚ متحدہ کے ذریعے ایک عالمی انکوائری کمیشن کے قیام کی حمایت کریں جو او پی ٹی اور اسرائیل میں گروہی شناخت کی بنیاد پر منصوبہ بند امتیاز اور ریاسی جبر کی تحقیقات کرے۔
  •  اقوامؚ متحدہ کے ذریعے ایک عالمی نمائندہ کی نشست کی تشکیل کی حمایت کریں جو دنیا بھر میں ریاستی جبر اور نسلی امتیاز کے خلاف عالمی برادری کی کاروائی کو متحرک کرنے کے لیے کردار ادا کرے۔

یورپی پارلیمان سے مطالبہ ہے کہ وہ:

  • یورپی کمیشن، یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس اور ای یو کی رکن ریاستوں سے مطالبہ کرے کہ وہ اوپر مذکور اقدامات کریں اور ای یو کے اعلیٰ نمائندگان اور کمیشن سے درخواست کرے کہ وہ آئندہ کے اقدامات کے بارے میں پارلیمان کو مطلع کریں۔

اسرائیل اور او پی ٹی میں کاروباری حلقوں سے مطالبہ ہے کہ وہ:

     کاروباری حلقوں کو کم از کم یہ ضرور کرنا چاہیے کہ وہ ایسی سرگرمیاں ختم کر دیں جو نسلی امتیاز اور جبر کے جرائم کے ارتکاب میں معاون ہیں۔

  • جائزہ لیں کہ کیا اؙن کی مصنوعات اور خدمات کہیں نسلی امتیاز اور جبری کے جرائم کے ارتکاب میں مددگار تو ثابت نہیں ہو رہیں، جیسے کہ فلسطینی گھروں کی غیرقانونی مسماری میں استعمال ہونے والے آلات۔ اور کاروبار و انسانی حقوق پر اقوامؚ متحدہ کے رہنماء اصولوں کی روشنی میں ایسی مصنوعات اور خدمات کی فراہمی روک دیں چاہیے جن کا ایسے مقاصد کے لیے استعمال ہونے کا خدشہ ہو۔۔  
 

[1]   مثال کے طور پر ملاحظہ کریں''1976 کے انٹرویو میں، رابن نے آبادکاری کے حامیوں کو 'سرطان' سے مشابہ قرار دیا، 'نسلی امتیاز' کی تنبیہ کی''، ٹائمز آف اسرائیل، 25 ستمبر 2015،  https://www.timesofisrael.com/in-1976-interview-rabin-likens-settlements-to-cancer-warns-of-apartheid/  ( 4 جون 2020 کو رسائی ہوئی)؛ ''ایہود باراک نے نسلی امتیاز کی باڑ توڑ دی،''، دی اکانومسٹ، فروری 15 2010، https://www.economist.com/democracy-in-america/2010/02/15/ehud-barak-breaks-the-apartheid-barrier ( 4 جون 2020 کو رسائی ہوئی)؛ روری میکارتھی، ''اگر ریاستی حل ناکام ہوتا ہے تو اسرائیل کو نسلی امتیاز کی طرح کی جدوجہد کا خطرہ درپیش ہو سکتا ہے، اولمرٹ نے کہا''، دی گارڈين، نوبمر 30 2007، https://www.theguardian.com/world/2007/nov/30/srael ( 4 جون 2020 کو رسائی ہوئی)؛ زیہاوا گیلن (@zehavagalon) 18 اپریل 2021، ٹویٹر، https://twitter.com/zehavagalon/status/1251391524157435904?lang=en، (13 جولائی 2020 کو رسائی ہوئی؛ عباس نے یواین کو کہا کہ وہ اسرائیل کے 'نسلی امتیاز' کے خاتمے کی ذمہ دار ہے۔'' ٹائمز آف اسرائیل، 20 ستمبر 2017، https://www.timesofisrael.com/abbas-tells-un-its-responsible-for-ending-israeli-apartheid/  (5 جولائی 2020 کو رسائی ہوئی)؛ جمی کارٹر، ''اسرائیل، فلسطین، امن اور نسلی امتیاز،'' دی گارڈین، 12 دسمبر 2006، https://www.theguardian.com/commentisfree/2006/dec/12/israel.politicsphilosophyandsociety  (4 جون 2020 کو رسائی ہوئی؛ پیٹر بیمونٹ، ''امن مذاکرت ناکام ہوئے تو اسرائیل نسلی امتیاز والی ریاست بن سکتک ہے، جان کیری نے کہا، دی گارڈين، 29 اپریل، 2014، https://www.theguardian.com/world/2014/apr/28/israel-apartheid-state-peace-talks-john-kerry  (4 جون 2020 کو رسائی ہوئی)؛ ''بنیامین نتن یاہو: جدید عوامی مقبولیت کی حکایت،'' دی اکانومٹ، 30 مارچ، 2019، https://www.economist.com/leaders/2019/03/30/binyamin-netanyahu-a-parable-of-modern-populism?frsc=dg%7Ce  (4 جون 2020 کو رسائی ہوئی)؛ ادارتی بورڈ، ''محترم نتن یاہو کا اگلا امتحان، ''نیویارک ٹائمز، 10 اپریل، 2019، https://www.nytimes.com/2019/04/10/opinion/editorials/israel-election-netanyahu-trump.html?smid=nytcore-ios-share  (4 جون 2020 کو رسائی ہوئی)؛ احشان تھرور، ''نتن یاہو کو جیت کا راستہ نظر آرہا ہے، ناقدین کو نسلی امتیاز کا،'' واشنگٹن پوسٹ، 8 اپریل، 2019، https://www.washingtonpost.com/world/2019/04/08/netanyahu-sees-path-victory-critics-see-apartheid/?noredirect=on&utm_term=.5de80e23a864  (4 جون 2020 کو رسائی ہوئیں)؛ شہری انتظامیہ نے آبادکاری یونٹوں کے ساتھ پیش قدمی کی ہے،''اب امن کی پریس ریلیز، 6 جنوری، 2020، https://peacenow.org.il/en/civil-administration-advances-1936-settlement-units  (4 جون 2020 کو رسائی ہوئی)؛ ''اسرائیلی- فلسطینی کشیدگی کے تصفیے کے امریکی منصوبے کے بارے میں شدید فکر،'' دی گارڈین۔ 7 فروری، 2020، , https://www.theguardian.com/world/2020/feb/27/grave-concern-about-us-plan-to-resolve-israel-palestine-conflict  (4 جون 2020 کو رسائی ہوئی)؛ ٹرمپ کے منصوبے نے مغربی ‏غزہ میں نسلی امتیاز کے نظام کو معمول کا درجہ دیا ہے، الحاق اور اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی جبری بےدخلی کا تقاضا کیا ہے،'' ادلہ پریس ریلیز، 30 جنوری، 2020، https://www.adalah.org/en/content/view/9900  (4 جون، 2020 کو رسائی ہوئی)؛ ڈینیل سوکاچ، '' الحاق پر مضبوط جمہوری ردعمل،'' نیا اسرائیلی فنڈ بلاگ، 30 جنوری، 2020، https://www.nif.org/blog/we-are-the-democratic-pushback-to-annexation/  (4 جون، 2020 کو رسائی ہوئی)؛ گادی تاؤب، ''نتائج آ گئے، امن کھو گیا،'' نیویارک ٹائمز، 20 جنوری، 2003، https://www.nytimes.com/2003/01/29/opinion/the-results-are-in-and-peace-lost.html  (4جون 2020 کو رسائی ہوئی)؛ تھامس لی فریڈمین، ''کیمپس منافقت،'' نیویارک ٹائمز، 16 اکتوبر، 2002)، https://www.nytimes.com/2002/10/16/opinion/campus-hypocrisy.html  (4 جون، 2020 کو رسائی ہوئی)۔     

[2]   مثال کے طور پر ملاحظہ کریں، نتھن تھرال، ''الگ نظاموں کا مغالطہ،'' لندن ریویو آف بکس، والیم 43، نمبر 2، جنوری 21، 20121۔ https://lrb.co.uk/the-paper/v43/n02/nathan-thrall/the-separate-regimes-delusion ( 19 جنوری 2021 کو رسائی ہوئی)؛ دریائے اردن سے بحیرہ روم تک یہودی بالادستی کا نظام: یہ نسلی امتیاز ہے،'' بتسلیم، 12 جنوری 2021، https://www.btselem.org/publications/fulltext/202101_this_is_apartheid  ( 19 جنوری 2021 کو رسائی ہوئی)

[3]  جنہوں نے ایسا کیا ان میں شامل ہیں، ای ایس سی ڈبلیو اے نے فلسطینیی عوام کے ساتھ اسرائیلی سلوک اور نسلی امتیاز کے سوال پر رپورٹ جاری کی،'' یواین معاشی و سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا (ای ایس سی ڈبلیو اے) پریس ریلیز، 15 مارچ 2017، https://www.unescwa.org/news/escwa-launches-report-israeli-practices-towards-palestinian-people-and-question-apartheid  (4 جون 2020 کو رسائی ہوئی) (رپورٹ اب آن لائن دستیاب نہیں ہے؛ نقل ایچ آر ڈبلیو کے پاس ہے)؛ فلسطین، علاقائی و عالمی گروہوں نے نسلی امتیاز کے خاتمے کی یواین کمیٹی کو اسرائیلی نسلی امتیاز پر رپورٹ جمع کروائی ہے،'' الحق پریس ریلیز، 12 نومبر، 2019، https://www.alhaq.org/advocacy/16183.html  (19 جنوری، 2021)؛ ییش دین، ''مغربی کنارے پر قبضہ اور نسلی امتیاز کا جرم: قانونی رائے، ''9 جولائی، 2020، https://www.yesh-din.org/en/the-occupation-of-the-west-bank-and-the-crime-of-apartheid-legal-opinion/  (12 اگست، 2020 کو رسائی ہوئی)     

[4]   واپسی کے حق پر ہیومن رائٹس واچ کی پالیسی

[5]  ہیومن رائٹس واچ، شہریتی حقوق کے بغیر پیدا ہونے والے

 

 

[1] See, for example, “In 1976 interview, Rabin likens settler ideologues to ‘cancer,’ warns of ‘apartheid’,” Times of Israel, September 25, 2015, https://www.timesofisrael.com/in-1976-interview-rabin-likens-settlements-to-cancer-warns-of-apartheid/ (accessed June 4, 2020); M.S., “Ehud Barak breaks the apartheid barrier,” The Economist, February 15, 2010, https://www.economist.com/democracy-in-america/2010/02/15/ehud-barak-breaks-the-apartheid-barrier (accessed June 4, 2020); Rory McCarthy, “Israel Risks Apartheid-like Struggle If Two-state Solution Fails, Says Olmert,” The Guardian, November 30, 2007, https://www.theguardian.com/world/2007/nov/30/israel (accessed June 4, 2020); Zehava Galon (@zehavagalon), April 18, 2021, Twitter, https://twitter.com/zehavagalon/status/1251391524157435904?lang=en, (accessed July 13, 2020); “Abbas tells UN it’s responsible for ending Israeli ‘apartheid,’” Times of Israel, September 20, 2017, https://www.timesofisrael.com/abbas-tells-un-its-responsible-for-ending-israeli-apartheid/ (accessed July 5, 2020); Jimmy Carter, “Israel, Palestine, Peace and Apartheid,” The Guardian, December 12, 2006, https://www.theguardian.com/commentisfree/2006/dec/12/israel.politicsphilosophyandsociety (accessed June 4, 2020); Peter Beaumont, “Israel Risks Becoming Apartheid State If Peace Talks Fail, Says John Kerry,” The Guardian, April 29, 2014, https://www.theguardian.com/world/2014/apr/28/israel-apartheid-state-peace-talks-john-kerry (accessed June 4, 2020); Alon Liel, “Trump’s Plan for Palestine Looks a Lot Like Apartheid,”Foreign Policy, February 27, 2020, https://foreignpolicy.com/2020/02/27/trumps-plan-for-palestine-looks-a-lot-like-apartheid/ (accessed June 4, 2020); “Binyamin Netanyahu: A Parable of Modern Populism,” The Economist, March 30, 2019, https://www.economist.com/leaders/2019/03/30/binyamin-netanyahu-a-parable-of-modern-populism?frsc=dg%7Ce (accessed June 4, 2020); Editorial Board, “Mr. Netanyahu’s Next Test, New York Times, April 10, 2019, https://www.nytimes.com/2019/04/10/opinion/editorials/israel-election-netanyahu-trump.html?smid=nytcore-ios-share (accessed June 4, 2020); Ishaan Tharoor, “Netanyahu Sees a Path to Victory. Critics See Apartheid,” Washington Post, April 8, 2019, https://www.washingtonpost.com/world/2019/04/08/netanyahu-sees-path-victory-critics-see-apartheid/?noredirect=on&utm_term=.5de80e23a864 (accessed June 4, 2020); “Civil Administration Advances 1,936 Settlement Units,” Peace Now press release, January 6, 2020, https://peacenow.org.il/en/civil-administration-advances-1936-settlement-units (accessed June 4, 2020); “Grave Concern About US Plan to Resolve Israel-Palestine Conflict,” The Guardian, February 27, 2020, https://www.theguardian.com/world/2020/feb/27/grave-concern-about-us-plan-to-resolve-israel-palestine-conflict (accessed June 4, 2020); “Trump Plan Normalizes Israel's Apartheid Regime in West Bank, Calls for Annexation and Forced Transfer of 260,000 Palestinian Citizens of Israel,” Adalah press release, January 30, 2020, https://www.adalah.org/en/content/view/9900 (accessed June 4, 2020); Daniel Sokatch, “The Democratic Pushback to Annexation,” New Israel Fund blog, January 30, 2020, https://www.nif.org/blog/we-are-the-democratic-pushback-to-annexation/ (accessed June 4, 2020); Gadi Taub, “The Results Are In, and Peace Lost,” New York Times, January 29, 2003, https://www.nytimes.com/2003/01/29/opinion/the-results-are-in-and-peace-lost.html (accessed June 4, 2020); Thomas L. Friedman, “Campus Hypocrisy,” New York Times, October 16, 2002, https://www.nytimes.com/2002/10/16/opinion/campus-hypocrisy.html (accessed June 4, 2020).

[2] See, for example, Nathan Thrall, “The Separate Regimes Delusion,” London Review of Books, Vol. 43, No. 2, January 21, 2021, https://lrb.co.uk/the-paper/v43/n02/nathan-thrall/the-separate-regimes-delusion (accessed January 19, 2021); “A Regime of Jewish Supremacy from the Jordan River to the Mediterranean Sea: This is Apartheid,” B’Tselem, January 12, 2021, https://www.btselem.org/publications/fulltext/202101_this_is_apartheid (accessed January 19, 2021).

[3] Those who have done so include, “ESCWA Launches Report on Israeli Practices Towards the Palestinian People and the Question of Apartheid,” UN Economic and Social Commission for Western Asia (ESCWA) press release, March 15, 2017, https://www.unescwa.org/news/escwa-launches-report-israeli-practices-towards-palestinian-people-and-question-apartheid (accessed June 4, 2020) (Report no longer available online; copy on file with HRW); “Palestinian, Regional and International Groups Submit Report on Israeli Apartheid to UN Committee on the Elimination of Racial Discrimination,” Al-Haq press release, November 12, 2019, https://www.alhaq.org/advocacy/16183.html (accessed January 19, 2021); Yesh Din, “The Occupation of the West Bank and the Crime of Apartheid: Legal Opinion,” July 9, 2020, https://www.yesh-din.org/en/the-occupation-of-the-west-bank-and-the-crime-of-apartheid-legal-opinion/ (accessed August 12, 2020).

 

[4] Human Rights Watch, Two Authorities, One Way, Zero Dissent (New York: Human Rights Watch, 2018), https://www.hrw.org/report/2018/10/23/two-authorities-one-way-zero-dissent/arbitrary-arrest-and-torture-under; “Gaza: Unlawful Attacks in May Fighting,” Human Rights Watch news release, June 12, 2019, https://www.hrw.org/news/2019/06/12/gaza-unlawful-attacks-may-fighting.

 

[5] Zochrot, “Mapping the Destruction,” Eitan Bronstein Aparicio, March 2013, https://zochrot.org/en/article/54783 (accessed May 7, 2020); Zochrot, “al-Nakba,” https://zochrot.org/en/contentAccordion/nakba (accessed May 7, 2020); “Palestine Refugees,” United Nations Relief and Works Agency for Palestine Refugees in the Near East (UNRWA), https://www.unrwa.org/palestine-refugees (accessed May 7, 2020).

[6] Nimer Sultany, “The Legal Structures of Subordination: The Palestinian Minority and Israeli Law,” December 2013, available at https://ssrn.com/abstract=2365177 (accessed September 17, 2020), pp. 202, 223, later published in Israel and Its Palestinian Citizens: Ethnic Privileges in the Jewish State, eds. Nadim N. Rouhana and Sahar S. Huneidi (Cambridge University Press, 2016); Adam Raz, “When Israel Placed Arabs in Ghettos Fenced by Barbed Wire,” Haaretz, May 27, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-when-israel-placed-arabs-in-ghettos-fenced-by-barbed-wire-1.8877340 (accessed June 1, 2020); Adam Raz, “How Israel Tormented Arabs in Its First Decades – and Tried to Cover it Up,” Haaretz, January 9, 2021, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium.HIGHLIGHT.MAGAZINE-how-israel-tormented-arabs-in-its-first-decades-and-tried-to-cover-it-up-1.9433728  (accessed January 12, 2021).

[7] Geneva Convention relative to the Protection of Civilian Persons in Time of War (Fourth Geneva Convention), adopted August 12, 1949, 75 U.N.T.S. 287, entered into force October 21, 1950, art. 49.6; Rome Statute of the International Criminal Court (Rome Statute), A/CONF.183/9, July 17, 1998, entered into force July 1, 2002, https://www.icc-cpi.int/resource-library/documents/rs-eng.pdf arts. 8(2)(b)(viii) and 8(2)(a)(vii).

[8] The Israeli-Palestinian Interim Agreement (Oslo II), September 28, 1995, http://www.acpr.org.il/publications/books/44-Zero-isr-pal-interim-agreement.pdf (accessed January 30, 2020), preamble; The Israeli-Palestinian Interim Agreement (Oslo I), September 13, 1993, http://www.acpr.org.il/publications/books/43-Zero-oslo-accord.pdf (accessed January 30, 2020).

[9] Oslo II. A separate arrangement governs dynamics within the West Bank city of Hebron.

[10] For more information, refer to Human Rights Watch, Internal Fight: Palestinian Abuses in Gaza and the West Bank (New York: Human Rights Watch, 2008), https://www.hrw.org/report/2008/07/29/internal-fight/palestinian-abuses-gaza-and-west-bank.

[11] United States Government, White House, “Peace to Prosperity,” January 2020, https://trumpwhitehouse.archives.gov/wp-content/uploads/2020/01/Peace-to-Prosperity-0120.pdf (accessed March 17, 2021); Nathan Thrall, “Trump’s Middle East Peace Plan Exposes the Ugly Truth,” New York Times, January 29, 2020, https://www.nytimes.com/2020/01/29/opinion/trump-peace-plan.html (accessed May 7, 2020).

[12] See, for example, Lisa Lambert, “U.S. Rejects U.N. Database of Companies in Israeli-controlled Territories: Pompeo,” Reuters, February 13, 2020, https://reut.rs/2WCdUvw (accessed May 7, 2020).

[13] See Sari Bashi (Human Rights Watch), “Don’t Count States, Respect Rights in Israel/Palestine,” commentary, World Policy Institute, March 1, 2017, https://www.hrw.org/news/2017/03/01/dont-count-states-respect-rights-israel/palestine.

[14] Noa Landau, Jack Khoury, and Chaim Levinson, “Gantz Vows to Annex Jordan Valley; Netanyahu Wants Sovereignty 'Without Exception,’” Haaretz, January 21, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/elections/.premium-gantz-calls-for-jordan-valley-annexation-hopes-trump-releases-peace-plan-soon-1.8432081 (accessed June 1, 2020).

[15] Oliver Holmes, “Netanyahu Takes Office in Deal that Could See West Bank Annexation,” The Guardian, May 17, 2020, https://www.theguardian.com/world/2020/may/17/netanyahu-takes-office-in-deal-that-could-see-west-bank-annexation (accessed August 15, 2020).

[16] “Netanyahu Says West Bank Annexation Plans Still ‘On the Table,’” Al Jazeera English, August 13, 2020, https://www.aljazeera.com/news/2020/08/netanyahu-west-bank-annexation-plans-table-200813183431066.html (accessed September 17, 2020); Benjamin Netanyahu (@netanyahu), August 13, 2020, Twitter, https://twitter.com/netanyahu/status/1293967614113447936?lang=he (accessed December 24, 2020).

[17] “Surplus Spending on Settlements Tops NIS 1 Billion,” Peace Now press release, December 3, 2019, https://peacenow.org.il/en/surplus-spending-on-settlements-tops-nis-1-billion (accessed June 13, 2020); Chaim Levinson and Jonathan Lis, “After Year of Deadlock and Days of Delays, Knesset Swears in New Israeli Government,” Haaretz, May 17, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/elections/.premium-israel-s-biggest-government-set-to-be-sworn-in-this-is-what-it-would-look-like-1.8845810 (accessed June 13, 2020).

[18] See, for example, Law for the Regulation of Settlement in Judea and Samaria; The Israeli Supreme Court struck down the law in June 2020, but not based on fact that it legislates activities in the West Bank. Also see Hagar Shezaf, “Israel’s High Court Strikes Down West Bank Land-grab Law as ‘Unconstitutional,’” Haaretz, June 9, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israel-s-high-court-strikes-down-west-bank-land-grab-law-as-unconstitutional-1.8908929 (accessed June 10, 2020). Also see, Knesset, “Foreign Affairs and Defense Committee,” https://www.knesset.gov.il/committees/eng/committee_eng.asp?c_id=4 (accessed June 13, 2020). The Foreign Affairs and Defense Committee includes a “Subcommittee for Civil and Security Issues in Judea and Samaria,” a reference to the West Bank.

[19] For cases relating to issues in the West Bank and Gaza, see, for example, Yesh Din et al. v. IDF Chief of Staff, High Court of Justice (HCJ) 3003/18, 3250/18 (2018), available at https://supremedecisions.court.gov.il/Home/Download?path=EnglishVerdicts%5C18%5C030%5C030%5Ck08&fileName=18030030.K08&type=4 (accessed June 10, 2020); B’Tselem, HCJ Ruling on Khan al-Ahmar (unofficial translation), 3287/16 (2018), https://www.btselem.org/sites/default/files/2018-06/20180524_hcj_ruling_3287_16_khan_al_ahmar_eng.pdf (accessed June 10, 2020).

[20] Peace Now, “KKL-JNF and Its Role in Settlement Expansion,” April 2020,

https://peacenow.org.il/en/settler-national-fund-keren-kayemeth-leisraels-acquisition-of-west-bank-land (accessed June 10, 2020); Peace Now, “Unraveling the Mechanism Behind Illegal Outposts," report excerpt, January 2017, http://peacenow.org.il/wp-content/uploads/2018/06/The_Combina_Settlement_Division_chapter_ENG.pdf (accessed June 10, 2020). See Intent to Maintain Domination section.

[21] Antonio Cassese and Paola Gaeta, Cassese's International Criminal Law (2nd edition, Oxford University Press; 2008), pp. 101, 104.

[22] Rome Statute, art. 7(1).

[23] The International Criminal Tribunal for Rwanda (ICTR) defined widespread” as “massive, frequent, large scale action, carried out collectively with considerable seriousness and directed against a multiplicity of victims,” see Prosecutor v. Akayesu, ICTR, Case No. ICTR-96-4-T, Judgement (Trial Chamber I), September 2, 1998, https://unictr.irmct.org/sites/unictr.org/files/case-documents/ictr-96-4/trial-judgements/en/980902.pdf, para. 579; Also see Prosecutor v. Kordic and Cerkez, International Criminal Tribunal for the former Yugoslavia (ICTY), Case No. IT-92-14/2, Judgement (Trial Chamber III), February 26, 2001, para. 179; Prosecutor v. Kayishema and Ruzindana, ICTR, Case No. ICTR-95-1-T, Judgement (Trial Chamber II), May 21, 1999, para. 123.

[24] Prosecutor v. Dusko Tadic, ICTY, Case No. IT-94-1-T, Opinion and Judgement (Trial Chamber), May 7, 1997, para. 648. In Prosecutor v. Kunarac, Kovac and Vukovic, the Appeals Chamber stated that “patterns of crimes – that is the non-accidental repetition of similar criminal conduct on a regular basis – are a common expression of [a] systematic occurrence.” Prosecutor v. Kunarac, Kovac and Vukovic, ICTY, Case No. IT-96-23 and IT-96-23-1A, Judgement (Appeals Chamber), June 12, 2002, para. 94.

[25] Guy Horton, “Dying Alive: A Legal Assessment of Human Rights Violations in Burma,” April 2005, available at https://www.scribd.com/document/153881707/Dying-Alive-Human-Rights-Report-by-Guy-Horton-2005 (accessed March 17, 2021), p. 201.

[26] “ICC Welcomes Palestine as a New State Party,” ICC press release, April 1, 2015, https://www.icc-cpi.int/Pages/item.aspx?name=pr1103&ln=en (accessed July 15, 2020).

[27] “Palestine Declares Acceptance of ICC jurisdiction Since 13 June 2014,” ICC press release, January 5, 2015, https://www.icc-cpi.int/Pages/item.aspx?name=pr1080&ln=en (accessed July 15, 2020).

[28] See, for example, International Committee of the Red Cross (ICRC), Customary IHL Database, “Practice Relating to Rule 88. Non-Discrimination,” Section E. Apartheid, https://ihl-databases.icrc.org/customary-ihl/eng/docs/v2_rul_rule88_sectione (accessed May 12, 2020); John Dugard and John Reynolds, “Apartheid, International Law, and the Occupied Palestinian Territory,” European Journal of International Law, Vol. 24, Issue 3 (2013), https://academic.oup.com/ejil/article/24/3/867/481600 (accessed May 12, 2020), pp. 878-880; United Nations General Assembly (UNGA), 21st session, The Policies of Apartheid of the Government of the Republic of South Africa, A/RES/2202 (XXI), December 16, 1966, https://undocs.org/en/A/RES/2202(XXI) (accessed May 12, 2020); United Nations Security Council (UNSC), Resolution 556, October 23, 1984, https://undocs.org/S/RES/556(1984) (accessed May 12, 2020).

[29] See Paul Eden, “The Practices of Apartheid as a War Crime: A Critical Analysis,” Yearbook of International Humanitarian Law, January 2015, pp. 17-18.

[30] UN, International Law Commission, “Draft Articles on Responsibility of States for Internationally Wrongful Acts,” adopted November 2001, Supplement No. 10, U.N. Doc A/56/10, https://legal.un.org/ilc/texts/instruments/english/commentaries/9_6_2001.pdf (accessed May 12, 2020), p. 112.

[31] Ibid.

[32] UN Treaty Collection, Status of Treaties, ICERD,https://treaties.un.org/pages/ViewDetails.aspx?src=TREATY&mtdsg_no=IV-2&chapter=4&clang=_en  (accessed March 29, 2021).

[33] ICERD, adopted December 21, 1965, G.A. Res. 2106 (XX), annex, 20 U.N. GAOR Supp. (No. 14) at 47, U.N. Doc. A/6014 (1966), 660 U.N.T.S. 195, entered into force January 4, 1969, https://www.ohchr.org/Documents/ProfessionalInterest/cerd.pdf (accessed May 12, 2020), art. 3.

[34] Convention on the Non-Applicability of Statutory Limitations to War Crimes and Crimes Against Humanity, adopted November 26, 1968, U.N. Doc. A/RES/2391(XXIII), entered into force November 11, 1970, https://bit.ly/3dF2y0U (accessed May 12, 2020). The State of Palestine acceded to this treaty in 2015.

[35] International Convention on the Suppression and Punishment of the Crime of Apartheid (Apartheid Convention), G.A. res. 3068 (XXVIII)), 28 U.N. GAOR Supp. (No. 30) at 75, U.N. Doc. A/9030 (1974), 1015 U.N.T.S. 243, entered into force July 18, 1976, https://bit.ly/2SYp50E (accessed May 12, 2020). The State of Palestine acceded to this convention in 2014. Emphasis added.

[36] Apartheid Convention, art. II, Emphasis added. ‘Southern Africa’ refers not only to South Africa, but also Rhodesia (now Zimbabwe), Namibia (then controlled by South Africa) and the Portuguese colonies of Mozambique and Angola.

[37] Ibid.

[38] Protocol Additional to the Geneva Conventions of 12 August 1949, and relating to the Protection of Victims of International Armed Conflicts (Protocol I), June 8, 1977, art. 85(4)(c), https://bit.ly/3dBq7aL (accessed May 12, 2020). The State of Palestine acceded to the Additional Protocol I in 2014.

[39] Rome Statute, art. (7)(2)(h), Emphasis added.

[40] Rome Statute, art. (7)(1)(d)(h)(k). Persecution defined below.

[41] For list of elements that the ICC has identified as making up the crime of apartheid, see ICC, “Elements of Crimes,” 2011, https://www.icc-cpi.int/NR/rdonlyres/336923D8-A6AD-40EC-AD7B-45BF9DE73D56/0/ElementsOfCrimesEng.pdf

[42] UN International Law Commission, “Draft Articles on Prevention and Punishment of Crimes Against Humanity,” 2019, https://legal.un.org/ilc/texts/instruments/english/draft_articles/7_7_2019.pdf (accessed July 21, 2020).

[43] Christoph Barthe, Otto Triffterer and Kai Ambos, eds., “The Rome Statute of the International Criminal Court: A Commentary,” Journal of International Criminal Justice, Volume 16, Issue 3, July 2018, 663–668, https://academic.oup.com/jicj/article-abstract/16/3/663/5113153?redirectedFrom=fulltext (accessed July 15, 2020), pp. 284-285.

[44] UNGA, “Elimination of All Forms of Racial Discrimination: Draft Convention on the Suppression and Punishment of the Crime of Apartheid,” Note of the Secretary-General, U.N. Doc. A_8768 (1972), https://digitallibrary.un.org/record/756549?ln=en (accessed May 12, 2020).

[45] Barthe, Triffterer and Ambos, “The Rome Statute of the International Criminal Court: A Commentary,” pp. 284-285.

[46] CERD, art. 1(1).

[47] See, for example, Ion Diaconu, “Definition-Summary: Racial discrimination- approaches and trends,” https://www.ohchr.org/Documents/Issues/Racism/IWG/Session8/IonDiaconu.doc (accessed March 19, 2021). In a definition of “racial discrimination” broadly reflective of CERD’s approach, a CERD member notes that ICERD “is, essentially, about groups of people discriminated against on the ground of a social stratification, of an inherited status.”

[48] Prosecutor v. Akayesu, para. 514. 

[49] Prosecutor v. Blagojevic and Jokic, Case No. IT-02-60-T, Judgment (Trial Chamber I), January 17, 2005, para. 667, https://www.icty.org/x/cases/blagojevic_jokic/tjug/en/bla-050117e.pdf (accessed May 12, 2020).

[50] Prosecutor v. Jelisic, Case No. IT-95-10, Trial Judgment, December14, 1999, para. 70, https://www.icty.org/x/cases/jelisic/tjug/en/jel-tj991214e.pdf (accessed March 27, 2021).

[51] See, for example, Michael Banton, The Idea of Race, 2019 (first published 1977), https://www.taylorfrancis.com/books/mono/10.4324/9780429311703/idea-race-michael-banton (accessed March 27, 2021).

[52] Organisation for Economic Co-operation and Development (OECD), “All Amendments to A90,” Penal Law 5737-1977, Sixth Edition, https://www.oecd.org/investment/anti-bribery/anti-briberyconvention/43289694.pdf (accessed March 20, 2021).

[53] Knesset, Basic Law: The Knesset – 1958, https://www.knesset.gov.il/laws/special/eng/basic2_eng.htm (accessed June 1, 2020).

[54] Jacob Magid, “Supreme Court Bans Extreme-right Gopstein and Marzel from Elections,” Times of Israel, August 26, 2019, https://www.timesofisrael.com/supreme-court-bans-extreme-right-gopstein-and-marzel-from-election-race/ (accessed March 20, 2021); “Israeli Court Bars ‘racist’ Candidates from September Poll,” France 24, August 26, 2019, https://www.france24.com/en/20190826-israeli-court-bars-racist-candidates-from-september-poll (accessed March 20, 2021).

[55] Israel Ministry of Foreign Affairs (MFA), Law of Return 5710-1950, July 5, 1950, https://mfa.gov.il/mfa/mfa-archive/1950-1959/pages/law%20of%20return%205710-1950.aspx (accessed June 1, 2020).

[56] Dror Liba, “Otzma Yehudit's history of racism and provocation,” Ynet News, February 21, 2019, https://www.ynetnews.com/articles/0,7340,L-5467651,00.html (accessed March 20, 2021); “AIPAC to Boycott ‘Racist and Reprehensible’ Kahanist Party Wooed by Netanyahu,” Times of Israel, February 22, 2019, https://www.timesofisrael.com/major-us-jewish-groups-slam-racist-and-reprehensible-extremist-israeli-party/ (accessed March 20, 2021).

[57] “P.M. Netanyahu Facebook video ‘Right Wing Gov't in Danger Arabs Voting in Droves,’” March 17, 2015, Haaretz video clip, YouTube, https://www.youtube.com/watch?v=ERc6hi_F9LA (accessed March 20, 2021); Chemi Shalev, “With Race-baiting Rabble-rousers Like Netanyahu, Who Needs BDS?” Haaretz, November 18, 2019, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-netanyahu-israel-bds-1.8135895 (accessed March 20, 2021); Oliver Holmes and Sufian Taha, “’He’s Using His Last Bullet’: Israeli Arabs Condemn Netanyahu Comments,” The Guardian, March 11, 2019, https://www.theguardian.com/world/2019/mar/11/hes-using-his-last-bullet-israeli-arabs-condemn-netanyahu-comments (accessed March 20, 2021); Noa Landau, “Netanyahu's Incitement Against Arabs in 2015 Proved a Big Success in Israel's 2019 Election,Haaretz, April 10, 2019, https://www.haaretz.com/israel-news/elections/.premium-netanyahu-s-incitement-against-arabs-in-2015-proved-a-big-success-in-israel-s-2019-e-1.7107278 (accessed March 20, 2021).

[58] Economic Cooperation Foundation (ECF), “Amended Palestinian National Charter (1968) – English,” January 17, 1970, https://content.ecf.org.il/files/M00477_PalestinianNationalConvenantEnglish.pdf (accessed June 13, 2020), arts. 4, 5.

[59] See Systematic Oppression and Institutional Discrimination section.

[60] UN Committee on the Elimination of Racial Discrimination, “Concluding Observations on the Combined Seventeenth to Nineteenth Reports of Israel,” CERD/C/ISR/CO/17-19, December 12, 2019, https://tbinternet.ohchr.org/Treaties/CERD/Shared%20Documents/ISR/INT_CERD_COC_ISR_40809_E.pdf (accessed June 13, 2020), p. 23.

[61] Timothy L.H. McCormack, “Crimes Against Humanity,” in Dominic McGoldrick, Peter Rowe and Eric Donnelly, eds., The Permanent International Criminal Court: Legal and Policy Issues (Oxford: Hart Publishing: 2004) pp. 198-199.

[62] Scholars have debated how broadly to define the term. See, for example, Ariel Bultz, “Redefining Apartheid in International Criminal Law,” Criminal Law Forum 24205–233 (2013), https://link.springer.com/article/10.1007/s10609-012-9193-1 (accessed May 14, 2020) arguing for a narrow interpretation, excluding non-state groups; also see Carola Lingaas, “The Crime against Humanity of Apartheid in a Post-Apartheid World,” Oslo Law Review (2015), https://www.idunn.no/oslo_law_review/2015/02/the_crime_against_humanity_of_apartheid_in_a_post-apartheid (accessed May 14, 2020) arguing for a more broad interpretation.

[63] In a 1971 advisory opinion declaring South Africa’s rule in Namibia illegal, the International Court of Justice noted its “application of the policy of apartheid” there. Advisory Opinion on the Legal Consequences for States of the Continued Presence of South Africa in Namibia, International Court of Justice (ICJ), June 21, 1971, available at: https://www.icj-cij.org/files/case-related/53/053-19710621-ADV-01-00-EN.pdf (accessed May 14, 2020), p. 63.

[64] See, for example, Miles Jackson, “Expert Opinion on the Interplay between the Legal Regime Applicable to Belligerent Occupation and the Prohibition of Apartheid under International Law,” Diakonia International Humanitarian Law Center, March 23, 2021, https://www.diakonia.se/globalassets/documents/ihl/ihl-resources-center/expert-opinions/apartheid-and-occupation---expert-opinion---miles-jackson.pdf (accessed March 27, 2021).

[65] Apartheid Convention, art. II.

[66] UN, Agreement for the Prosecution and Punishment of the Major War Criminals of the European Axis (“London Agreement”), August 8, 1945, 82 U.N.T.C. 280, available at: https://www.un.org/en/genocideprevention/documents/atrocity-crimes/Doc.2_Charter%20of%20IMT%201945.pdf (accessed May 14, 2020), art. 6(c).

[67] Rome Statute art. 7(2)(g).

[68] Rome Statute art. 7(1)(h).

[69] Ibid.

[70] Prosecutor v. Kupreskic et al. Case No. IT-95-16-T, International Criminal Tribunal for the former Yugoslavia (ICTY), January 14, 2000, available at: https://www.icty.org/x/cases/kupreskic/tjug/en/kup-tj000114e.pdf (accessed May 14, 2020), paras 580-581.

[71] Cassese and Gaeta, Cassese's International Criminal Law (2008), p. 125.

[72] Ibid. 

[73] ICC, Pre-Trial Chamber I, “Situation in the State of Palestine,” January 22, 2020, No. ICC-01/18, https://www.icc-cpi.int/CourtRecords/CR2020_00161.PDF (accessed August 16, 2020), paras. 94-96.

[74] “Statement of ICC Prosecutor, Fatou Bensouda, on the conclusion of the preliminary examination of the Situation in Palestine, and seeking a ruling on the scope of the Court’s territorial jurisdiction,” ICC press release, December 20, 2019, https://www.icc-cpi.int/Pages/item.aspx?name=20191220-otp-statement-palestine (accessed May 14, 2020).

[75] ICC, Pre-Trial Chamber I, “Situation in the State of Palestine,” February 5, 2021, No. ICC-01/18, https://www.icc-cpi.int/CourtRecords/CR2021_01165.PDF (accessed February 5, 2021); “Israel/Palestine: ICC Judges Open Door for Formal Probe,” Human Rights Watch news release, February 6, 2021, https://www.hrw.org/news/2021/02/06/israel/palestine-icc-judges-open-door-formal-probe.

[76] “Statement of ICC Prosecutor, Fatou Bensouda, respecting an investigation of the Situation in Palestine,” ICC press release, March 3, 2021, https://www.icc-cpi.int/Pages/item.aspx?name=210303-prosecutor-statement-investigation-palestine (accessed March 26, 2021).

[77] UN Treaty Collection, Status of Treaties, Rome Statute, https://treaties.un.org/Pages/ViewDetails.aspx?src=TREATY&mtdsg_no=XVIII-10&chapter=18&clang=_en (accessed July 21, 2020); Israel MFA, “Israel and the International Criminal Court,” MFA archive, June 30, 2002, https://mfa.gov.il/MFA/MFA-Archive/2002/Pages/Israel%20and%20the%20International%20Criminal%20Court.aspx (accessed July 21, 2020).

[78] Apartheid Convention arts. IV-X.

[79] Israel MFA, Nazis and Nazi Collaborators (Punishment Law) 5710-1950, August 1, 1950, available at: https://bit.ly/2Lys2kd (accessed May 14, 2020); Michael Sfard, Yesh Din legal advisor, email to Human Rights Watch, April 27, 2020. Israeli prosecutors charged and courts convicted Nazi officials Adolf Eichmann and John Demjanjuk of persecution, among other crimes. “The Trial of Adolf Eichmann – Proceedings: The 15 Charges,” Remember.org, n.d., https://remember.org/eichmann/charges (accessed August 16, 2020); Israel MFA, “The Demjanjuk Appeal,” July 29, 1993, https://mfa.gov.il/mfa/aboutisrael/state/law/pages/the%20demjanjuk%20appeal%20-%2029-jul-93.aspx (accessed August 16, 2020).

[80] Knesset, “Proclamation of Independence,” https://www.knesset.gov.il/docs/eng/megilat_eng.htm (accessed June 1, 2020).

[81] Knesset, Basic Law: The Knesset – 1958.

[82] Knesset, Basic Law: Israel - The Nation State of The Jewish People, unofficial translation, https://knesset.gov.il/laws/special/eng/BasicLawNationState.pdf (accessed June 1, 2020).

[83] Session 19 of the Joint Committee of the Knesset Committee and the Constitution, Law and Justice Committee, the 20th Knesset (16.7.2018, at 02:06), as cited in Adalah petition to Israeli Supreme Court against the Nation-State Law, HCJ 5866/18, https://www.adalah.org/uploads/uploads/Jewish_Nation_State_Law_Petition_English_Final_October_2018.pdf (accessed June 1, 2020), p. 11; also see “Joint committee approves Jewish nation-state law for first reading,” (Hebrew), Knesset press release, March 13, 2018, https://main.knesset.gov.il/News/PressReleases/pages/press13.03.18.aspx (accessed July 15, 2020).

[84] Jonathan Lis, “Knesset Council Bans Bill to Define Israel as State for All Its Citizens,” Haaretz, June 4, 2018 https://bit.ly/2Melt6S (accessed June 1, 2020).

[85] Israel Central Bureau of Statistics (CBS), “Localities (1) and Population, By District, Sub-District, Religion and Population Group,” (Hebrew and English), September 15, 2020, https://www.cbs.gov.il/he/publications/doclib/2020/2.shnatonpopulation/st02_16x.pdf (accessed January 11, 2021). The Israel CBS includes in its figures all residents of the Golan Heights and East Jerusalem, as well as Israeli settlers in the West Bank. Excluding these groups, Palestinian citizens amount to about 19 percent of the population. Including settlers and excluding only Palestinian residents of occupied East Jerusalem and Syrians in the occupied Golan Heights drops the percentage of Palestinian citizens to about 18 percent.

[86] For sourcing on population figures, see Systematic Oppression and Institutional Discrimination section.

[87] Benjamin Netanyahu, @b.netanyahu, March 10, 2019, Instagram, https://www.instagram.com/p/Bu0U2TABMNI/?utm_source=ig_embed (accessed June 1, 2020).

[88] Gideon Alon and Aluf Benn, “Netanyahu: Israel's Arabs Are the Real Demographic Threat,” Haaretz, December 18, 2003, https://www.haaretz.com/1.4802179 (accessed June 1, 2020).

[89] The Associated Press and Aluf Benn, “MKs Slam Netanyahu’s Remarks about Israeli Arabs,” Haaretz, December 17, 2003, https://www.haaretz.com/1.4789108 (accessed January 3, 2021).

Alon and Benn, “Netanyahu: Israel's Arabs Are the Real Demographic Threat,” Haaretz.

[91] David Landau, 'Maximum Jews, Minimum Palestinians,' Haaretz, n.d., https://www.haaretz.com/1.4759973 (accessed June 1, 2020).

[92] Jonathan Cook, Blood and Religion: The Unmasking of the Jewish and Democratic State (London: Pluto Press: 2006), p. 16.

[93] Benny Morris, “Camp David and After: An Exchange (1. An Interview with Ehud Barak),” The New York Review of Books, June 13, 2002, https://www.nybooks.com/articles/2002/06/13/camp-david-and-after-an-exchange-1-an-interview-wi/ (accessed June 1, 2020).

[94] Tovah Lazaroff, “Peres: Settlement Building Threatens Jewish State,” Jerusalem Post, July 10, 2012, https://www.jpost.com/Diplomacy-and-Politics/Peres-Settlement-building-threatens-Jewish-state (accessed June 1, 2020).

[95] Rhoda Ann Kanaaneh, Birthing the Nation: Strategies of Palestinian Women in Israel (California: University of California Press; 2002), p. 50.

[96] Israel MFA, Law of Return 5710-1950. The law allows the Israeli government to deny this right to Jews “engaged in an activity directed against the Jewish people” or “likely to endanger public health or the security of the state.”

[97] “UNRWA appeals for US$1.5 billion to support Palestine refugees in 2021,” UNRWA press release, February 11, 2021, https://bit.ly/37Be9NK (accessed February 23, 2021).

[98] See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section; Letter from Human Rights Watch to Prime Minister Ehud Barak, “Human Rights Watch Urges Attention to Future of Palestinian Refugees,” New York, December 21, 2000, https://www.hrw.org/news/2000/12/21/human-rights-watch-urges-attention-future-palestinian-refugees; Human Rights Watch Policy on the Right of Return, https://www.hrw.org/legacy/campaigns/israel/return/; UN, “Refugees,” https://www.un.org/en/global-issues/refugees (accessed June 1, 2020). (“Under international law and the principle of family unity, the children of refugees and their descendants are also considered refugees until a durable solution is found.  Both UNRWA and UNHCR recognize descendants as refugees on this basis, a practice that has been widely accepted by the international community, including both donors and refugee hosting countries.”).

[99] “Israel: Revoke Discriminatory Law,” Letter from Human Rights Watch to Knesset Members on renewal of "Citizenship and Entry into Israel Law,” July 19, 2004, https://www.hrw.org/news/2004/07/19/israel-revoke-discriminatory-law.

[100] Aluf Benn and Yuval Yoaz, “PM Backs Temporary Law Enforcing Tougher Citizenship Regulations,” Haaretz, April 4, 2003, https://www.haaretz.com/1.4786928?=&ts=_1583843846133 (accessed June 1, 2020).

[101] Aluf Benn, “PM Defends Tighter Immigration Laws,” Haaretz, May 23, 2005, https://www.haaretz.com/1.4845852 (accessed June 1, 2020).

[102] Yuval Yoaz, “Eiland Proposes Citizenship Limitations for Palestinians,” Haaretz, March 3, 2005, https://www.haaretz.com/1.4760697 (accessed June 1, 2020).

[103] Gideon Alon, “Cabinet Okays Limits on Citizenship for Palestinians,” Haaretz, May 16, 2005, https://www.haaretz.com/1.4685395 (accessed June 1, 2020).

[104] Batsheva Sobelman, “Israeli High Court Upholds Controversial Citizenship Law,” Los Angeles Times, January 12, 2012, https://latimesblogs.latimes.com/world_now/2012/01/israel-passes-laws-restricting-arabs-asylum-seekers.html (accessed June 1, 2020).

[105] Relly Sa'ar, “ACRI Slams Interior Min. for Human Rights Violations,” Haaretz, December 6, 2004, https://www.haaretz.com/1.4778973 (accessed June 1, 2020).

[106] Nir Hasson, “Israel Seeks to Block All East Jerusalem Family Reunification Hearings Over 'Workload',” Haaretz, May 1, 2019, https://bit.ly/3chovBP (accessed June 1, 2020).

[107] See, for example, Judy Maltz, “Israel Unveils New Incentives to Lure French Jews,” Haaretz, March 18, 2014, https://www.haaretz.com/jewish/.premium-new-incentives-for-french-olim-1.5335566 (accessed July 13, 2020); “Move to Israel,” Jewish Agency for Israel, https://www.jewishagency.org/aliyah/ (accessed July 13, 2020).

[108] See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section; Human Rights Watch, “Forget About Him, He’s Not Here,”: Israel’s Control of Palestinian Residency in the West Bank and Gaza (New York: Human Rights Watch: 2018) https://www.hrw.org/sites/default/files/reports/iopt0212webwcover.pdf; Israeli rights groups B’Tselem and HaMoked also found it “likely that political and demographic reasons dictated this policy.” B'Tselem and HaMoked, “Perpetual Limbo: Israel’s Freeze on Unification of Palestinian Families in the Occupied Territories,” June 2006, https://www.btselem.org/sites/default/files/sites/default/files2/publication/200607_perpetual_limbo_eng.pdf (accessed June 1, 2020)

[109] Ibid.

[110] “Israel: End Restrictions on Palestinian Residency,” Human Rights Watch news release, February 5, 2012, https://www.hrw.org/news/2012/02/05/israel-end-restrictions-palestinian-residency.

[111] “Israel: Cuts in Child Allowance Discriminate Against Palestinian Arab Citizens,” Human Rights Watch news release, June 6, 2002, https://www.hrw.org/news/2002/06/06/israel-cuts-child-allowance-discriminate-against-palestinian-arab.

[112] Ibid.

[113] Nehemia Shtrasler and Ruth Sinai, “Arab Birthrate Drops for First Time in Years,” Haaretz, January 24, 2005, https://www.haaretz.com/1.4711279 (accessed June 1, 2020).

[114] Ka’adan et al. v. Israel Land Administration et al., HCJ 6698/95, Judgment (Hebrew), March 8, 2000, http://www.hamoked.org.il/files/2011/4240.pdf (accessed July 14, 2020), p. 20.

[115] MK Zahava Galon - Meretz-Yahad et al. v. Attorney General et al., HCJ 466/07, 5030/07, Judgement (Hebrew), January 11, 2012, http://www.hamoked.org.il/files/2012/115060.pdf (accessed July 14, 2020); Hagai El-Ad, “Citizenship Law prefers discrimination over human rights,” +972 Magazine, January 24, 2012, https://www.972mag.com/citizenship-law-compels-us-to-protect-human-rights-from-rule-of-law/33723/ (accessed June 1, 2020).

[116]  Zochrot, “Lifta,” https://zochrot.org/en/village/49239 (accessed June 1, 2020).

[117] Gershon Rivlin and Elhanan Oren, eds., The War of Independence: Ben-Gurion’s Diary (Tel Aviv: Ministry of Defense:1986), 2010-11; Also quoted in Noura Erakat, Justice for Some (Stanford, CA: Stanford University Press: 2019) p. 48. Also quoted in Ben-Gurion, War Diary, Vol. 1, entry dated February 7, 1948, p. 210-211.

[118] Or Commission, Chapter I, “Before October Events: Background, Factors, Predicting Events and Police Readiness. Section A - Escalation processes in the Arab sector in light of the outbreak of riots,” (Hebrew), August 2003, http://uri.mitkadem.co.il/vaadat-or/vaadat-or-part1.html (accessed June 10, 2020).

[119] Israel Land Authority, “About Us,” https://land.gov.il/en/Pages/AboutUs.aspx (accessed June 1, 2020).

[120] Keren Kayemeth LeIsrael Law, 5714-1953 (1953), available at https://www.adalah.org/uploads/oldfiles/Public/files/Discriminatory-Laws-Database/English/05-Jewish-National-Fund-Law-1953.pdf (accessed June 1, 2020).

[121] Knesset, Basic Law: Israel Lands (1960), https://bit.ly/3dmvHyb (accessed June 1, 2020).

[122] Israel Land Authority, “About Us.”

[123] Adalah, “Excerpts from the Jewish National Fund’s Response to H.C. 9205/04 and H.C. 9010/04,” December 9, 2004, https://www.adalah.org/uploads/oldfiles/eng/publications/makan/hc9010.pdf (accessed June 1, 2020).

[124] The Arab Center for Alternative Planning v. Israel Land Administration (HCJ 9010/04), Adalah, et. al. v. The Israel Land Administration, et. al. (HCJ 9205/04), Jewish National Fund response (Hebrew), December 9, 2004, https://www.adalah.org/uploads/oldfiles/admin/DownLoads/SPics/7468850.pdf (accessed July 14, 2020), p. 38.

[125] See, for example, Keren Kayemeth LeIsrael- Jewish National Fund (KKL-JNF), “Jewish People Land,” https://www.kkl-jnf.org/about-kkl-jnf/kkl-jnf-id/jewish-people-land/ (accessed June 1, 2020).

[126] Amiram Barkat and Yuval Yoaz, “AG Mazuz Rules JNF Land Can Now Be Sold to Arabs,” Haaretz, January 27, 2005, https://www.haaretz.com/1.4715337 (accessed June 1, 2020); “Without Making Principal Changes, Israel Allows Arab Citizens to Bid for Jewish National Fund-Controlled Land,” Adalah press release, February 1, 2016, https://www.adalah.org/en/content/view/8777 (accessed June 1, 2020).

[127] Jack Khoury, “Israeli Arabs Face Red Tape When Leasing JNF Land,” Haaretz, December 23, 2013, https://www.haaretz.com/.premium-red-tape-for-arabs-facing-jnf-1.5302727 (accessed June 1, 2020).

[128] Kann News (@kann_news), February 16, 2021, Twitter, https://twitter.com/kann_news/status/1361540814497808385 (Hebrew), (accessed February 21, 2021).

[129] “KKL-JNF and Its Role in Settlement Expansion,” Peace Now press release, February 4, 2020, https://peacenow.org.il/en/settler-national-fund-keren-kayemeth-leisraels-acquisition-of-west-bank-land (accessed June 1, 2020).

[130] Hagar Shezaf and Hagai Amit, “Jewish National Fund Leadership Okays Plan to Expand West Bank Settlements,” Haaretz, February 17, 2021, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-jewish-national-fund-okays-plan-to-expand-west-bank-settlements-1.9538161 (accessed February 21, 2021); Jacob Magid, “KKL-JNF Board Advances Controversial $11.5 Million Purchase of West Bank Land.” Times of Israel, February 25, 2021, timesofisrael.com/kkl-jnf-board-advances-controversial-11-5-million-purchase-of-west-bank-land/ (accessed March 7, 2021).

[131] World Zionist Organization (WZO)- Jewish Agency (Status) Law, 5713-1952, available at https://www.adalah.org/uploads/oldfiles/Public/files/Discriminatory-Laws-Database/English/18-World-Zionist-Organization-Jewish-Agency-Status-Law-1952.pdf (accessed June 1, 2020).

[132] Jewish Agency for Israel, 2018 Yearly Impact, https://content.jewishagency.org/bp/#/folder/3272897/92727581 (accessed June 1, 2020); Jewish Agency for Israel, “Who we are,” https://www.jewishagency.org/who-we-are/ (accessed June 1, 2020).

[133] WZO, “Mission Statement,” https://www.wzo.org.il/Mission-Statement (accessed June 1, 2020).

[134] Settlement Watch - Peace Now, “Unraveling the Mechanism Behind Illegal Outposts,” 2017, http://peacenow.org.il/wp-content/uploads/2017/03/unraveling-the-mechanism-behind-illegal-outpots-full-report-1.pdf (accessed June 1, 2020); “Preliminary Approval for Settlement Division Bill,” Peace Now press release, June 13, 2018, https://peacenow.org.il/en/preliminary-approval-settlement-division-bill (accessed June 1, 2020).

[135] Human Rights Watch, Separate and Unequal: Israel's Discriminatory Treatment of Palestinians in the Occupied Palestinian Territories (New York: Human Rights Watch, 2010), https://www.hrw.org/sites/default/files/reports/iopt1210webwcover_0.pdf, p. 35; “Preliminary Approval for Settlement Division Bill,” Peace Now press release, June 13, 2018, https://peacenow.org.il/en/preliminary-approval-settlement-division-bill (accessed June 1, 2020).

[136] ACRI, “Information Sheet – Allocation of State Land in OPT,” https://law.acri.org.il/en/2013/04/23/info-sheet-state-land-opt/ (accessed June 1, 2020); Chaim Levinson, “Just 0.7% of land in the West Bank has been allocated to Palestinians, Israel admits,” Haaretz, March 28, 2013, https://www.haaretz.com/.premium-w-bank-jews-get-39-palestinians-1-1.5235879 (accessed June 1, 2020).

[137] WZO Settlement Division website, http://www.hityashvut.org.il/ (accessed June 1, 2020); Yotam Berger, “Israeli Settlement Agency's Activity Still Shrouded in Mystery After Yearlong Probe,” Haaretz, March 28, 2017, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-prime-minister-s-office-report-on-settlements-is-now-months-overdue-1.5454070 (accessed June 1, 2020).

[138] “Surplus Spending on Settlements Tops NIS 1 Billion,” Peace Now press release, March 12, 2019, https://peacenow.org.il/en/surplus-spending-on-settlements-tops-nis-1-billion (accessed June 1, 2020). The exchange rate for the US dollar is 3.33 NIS, as calculated on March 29, 2021.

[139] Yotam Berger, “Overstepping Authority, State Body Advances Illegal Israeli Settlement Construction in West Bank,” Haaretz, March 9, 2017, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-overstepping-authority-state-body-advances-illegal-settlement-construction-1.5446620 (accessed June 1, 2020).

[140] Sikkuy, “Development of the Negev and Galilee – For Jews Only?” Policy Paper, July 2005,

http://www.sikkuy.org.il/wp-content/uploads/2020/07/Negev-Galilee-23.08-2.pdf (accessed July 14, 2020).

[141] Israel CBS, “Arab population by Natural Region 2018,” https://www.cbs.gov.il/he/publications/doclib/2019/2.shnatonpopulation/02_06e.pdf (accessed June 1, 2020).

[142] The Ministry for the Development of the Periphery, the Negev and the Galilee, “About us” (Hebrew), http://negev-galil.gov.il/About/Pages/About2.aspx (accessed June 1, 2020).

[143] Dror Marmor, “Emergency Plan to Save the Negev and the Galilee,” (Hebrew), NRG Maariv, November 17, 2004, https://www.makorrishon.co.il/nrg/online/1/ART/822/341.html (accessed July 20, 2020).

[144] Zafrir Rinat and Haaretz correspondent, “PMO Issues Rush Order for 30 New Towns in Negev, Galilee,” Haaretz, July 20, 2003, https://www.haaretz.com/1.5347089 (accessed June 1, 2020).

[145] Sikkuy, “Development of the Negev and Galilee – For Jews Only?”

[146] Shlomo Swirski, “Current Plans for Developing the Negev: A Critical Perspective,” Adva Center, Information on Equality and Social Justice in Israel, January 2007, http://adva.org/wp-content/uploads/2014/09/AdvaNegevJanuary2007.pdf (accessed June 1, 2020).

[147]Akiva Eldar, “People and Politics / Come Settle in the Negev,” Haaretz, June 1, 2004, https://www.haaretz.com/1.4684341 (accessed June 1, 2020); “Army drive aims to boost number of Bedouin soldiers,” Times of Israel, October 15, 2019, https://www.timesofisrael.com/army-drive-aims-to-boost-number-of-bedouin-soldiers/ (accessed June 1, 2020).

[148] Ori Nir, “Peres Asking U.S. Jewry To Push Aid For Galilee,” Forward, August 5, 2005, https://forward.com/news/2500/peres-asking-us-jewry-to-push-aid-for-galilee/ (accessed June 1, 2020).

[149] Yair Sheleg, “Jewish Agency Readies Plan to Foster a Zionist Majority',” Haaretz, October 28, 2002, https://www.haaretz.com/1.5147008 (accessed June 1, 2020).

[150] Ibid.; Nimrod Bousso, “Israel to Allocate $35m to World Zionist Organization’s Settlement Division,” Haaretz, October 23, 2014, https://www.haaretz.com/.premium-what-will-wzo-do-with-nis-130m-1.5318862 (accessed June 1, 2020).

[151] Ofer Petersburg, “Jewish population in Galilee declining,” Ynet News, December 12, 2007, https://www.ynetnews.com/articles/0,7340,L-3481768,00.html (accessed June 1, 2020).

[152] Adalah, Law to Amend the Cooperative Societies Ordinance (No. 8), 5771-2011, unofficial translation, https://www.adalah.org/uploads/oldfiles/Public/files/Discriminatory-Laws-Database/English/12-Admissions-Committees-Law-2011.pdf (accessed June 10, 2020);Israel: New Laws Marginalize Palestinian Arab Citizens,” Human Rights Watch news release, March 30, 2011, https://www.hrw.org/news/2011/03/30/israel-new-laws-marginalize-palestinian-arab-citizens.

[153] One of the law's sponsors, David Rotem of the Yisrael Beiteinu (Israel Our Home) party, told the Knesset in December 2009 that such a law would allow towns to be “established by people who want to live with other Jews.” In a radio interview that month, Rotem said the law would codify screening procedures so that Jewish Israelis could “establish a place where everybody is an army veteran, a Yeshiva alumni, or something of that sort.” Another sponsor, Yisrael Hasson of the Kadima party, said in December 2010 that "the bill reflects the Knesset's commitment to work to preserve the ability to realize the Zionist dream in practice in the state of Israel" through "population dispersal” which the government had begun "thirty years ago ... [with] a string of small communities in the Galilee and Negev." He added, "realization of these goals obliged us as legislators to ensure the existence of a screening mechanism for applicants to these communities.” See Israel: New Laws Marginalize Palestinian Arab Citizens,” Human Rights Watch news release, March 30, 2011.

[154] “Transportation minister: ‘I intend to Judaize the Galilee’,” World Israel News, June 20, 2019, https://worldisraelnews.com/transportation-minister-i-intend-to-judaize-the-galilee/ (accessed June 1, 2020).

[155] Alan Rosenbaum, “Building the Galilee and Negev with KKL and JNF,” Jerusalem Post, June 17, 2019,

https://www.jpost.com/israel-news/building-the-galilee-and-negev-with-kkl-and-jnf-592719 (accessed June 1, 2020).

[156] Geremy Forman, “Military Rule, Political Manipulation, and Jewish Settlement: Israeli Mechanisms for Controlling Nazareth in the 1950s,” Journal of Israeli History, 25:2 (2006), https://www.tandfonline.com/doi/abs/10.1080/13531040600810292 (accessed June 1, 2020) p. 335-359; Sabri Jiryis, "The Land Question in Israel." MERIP Reports, no. 47 (1976): 5-26, https://www.jstor.org/stable/3011382?read-now=1&seq=15#page_scan_tab_contents (accessed June 1, 2020).

[157] Forman, “Military Rule,” p. 348.

[158] As quoted in Orna Ben-Naftali, Michael Sfard, and Hedi Viterbo, The ABC of the OPT: A Legal Lexicon of the Israeli Control over the Occupied Palestinian Territory (Cambridge University Press: 2018), https://bit.ly/2ZVvvBW (accessed June 1, 2020), p. 307.

[159] See Nazareth case study in Systematic Oppression and Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights sections. Forman, “Military Rule,” p. 348.

[160] The Koenig Report, “Top Secret: Memorandum-Proposal-Handling the Arabs of Israel,” Journal of Palestine Studies, Vol. 6, No. 1 (Autumn, 1976), https://palestina-komitee.nl/wp-content/uploads/2017/11/68-Koenig-Report-Colonization-West-Bank-Gaza-March-30-1976.pdf (accessed June 1, 2020), pp. 190-200.

[161] Jewish Telegraphic Agency (JTA) archives, “Allon Denounces Koenig Report,” September 15, 1976, https://www.jta.org/1976/09/15/archive/allon-denounces-koenig-report (accessed June 1, 2020).

[162] Ahmad Hamdi, Al-Ittihad, June 9, 1995, article on file with Human Rights Watch. The plan calls for increasing the number of Jews in the Galilee, noting that “large sections of the Galilee have a Jewish minority,” in order to solve “the problem of Arab territorial continuity.”

[163] Officials including then-Israeli army Southern Army Commander and later chief of staff Moshe Dayan, chairman of the JNF’s Land Division Yosef Weitz, and Foreign Minister and later Prime Minister Moshe Sharett. Human Rights Watch, Off the Map: Land and Housing Rights Violations in Israel’s Unrecognized Bedouin Villages (New York: Human Rights Watch: 2008), https://www.hrw.org/reports/2008/iopt0308/iopt0308webwcover.pdf, pp. 12-13; Yael Hasson and Shlomo Swirski, Invisible Citizens: Israel Government Policy Toward the Negev Bedouin (Tel Aviv: Adva Center: 2006), available at https://www.academia.edu/28809288/INVISIBLE_CITIZENS_Israel_Government_Policy_Toward_the_Negev_Bedouin (accessed June 1, 2020), p. 16.

[164] Ibid.

[165] Ariel Sharon, “Land as an Economic Tool for Developing Infrastructure and Significantly Reducing Social Gaps,” Land, December 2000, quoted in Thabet Abu-Ras, “Land Disputes in Israel: The Case of the Bedouin of the Naqab,” Adalah newsletter, Vol. 24 (April 2006), https://www.adalah.org/uploads/oldfiles/newsletter/eng/apr06/ar2.pdf (accessed June 1, 2020). See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section for more on Israeli policies in the Negev.

[166] Guy Lieberman, “Housing Minister: Spread of Arab Population Must Be Stopped,” Haaretz, July 2, 2009, https://www.haaretz.com/1.5072677 (accessed June 1, 2020).

[167] Hana Levi Julian and Yoni Kempinski, “Strengthen the Jewish Periphery,” Israel National News, December 22, 2009,

http://www.israelnationalnews.com/News/News.aspx/135143 (accessed June 1, 2020).

[168] Jerusalem Outline Plan 2000 on file with HRW.

[169] Ibid.

[170] “East Jerusalem,” B’Tselem, updated January 27, 2019, https://www.btselem.org/jerusalem (accessed June 1, 2020).

[171] Meron Benvenisti, Intimate Enemies: Jews and Arabs in a Shared Land (University of California Press: 1995), https://bit.ly/2yVZmiF (accessed June 4, 2020), p. 53. See also Meron Benvenisti, “Why Does Jerusalem No Longer exist?” (Hebrew), Haaretz, May 29, 2011, https://www.haaretz.co.il/news/education/1.1175494 (accessed June 1, 2020).

[172] Ami Pedahzur, The Triumph of Israel's Radical Right (Oxford University Press: 2008), https://bit.ly/3cxh8GQ (accessed June 1, 2020).

[173] Ibid.

[174] Ir Amim, “Displaced in Their Own City: The Impact of Israeli Policy in East Jerusalem on the Palestinian Neighborhoods of the City Beyond the Separation Barrier,” June 2015, https://www.ir-amim.org.il/sites/default/files/akurim_ENG_for%20web_0.pdf, p. 9 (accessed June 1, 2020),

[175] Bimkom – Planners for Planning Rights, “Trapped by Planning: Israeli Policy, Planning, and Development in the Palestinian Neighborhoods of East Jerusalem,” 2014, http://bimkom.org/eng/wp-content/uploads/TrappedbyPlanning.pdf (accessed June 1, 2020), p. 18.

[176] Ibid., p. 18-19.

[177] Ibid., p. 19.

[178] Quoted in B’Tselem, “A Policy of Discrimination: Land Expropriation, Planning and Building in East Jerusalem,” January 1997, https://www.btselem.org/sites/default/files/publications/199505_policy_of_discrimination_eng.pdf (accessed August 16, 2020), pp. 44-45.

[179] Ibid., p. 54.

[180] Entry into Israel Law, 5712-1952, (unofficial translation), HaMoked - Center for the Defence of the Individual, http://www.hamoked.org/files/2011/2240_eng.pdf (accessed June 1, 2020).

[181] As quoted in Bimkom, “Trapped by Planning,” p. 21.

[182] Reuven Pedatzur, “The ‘Jordanian Option,’ the Plan That Refuses to Die,” Haaretz, July 25, 2007, https://www.haaretz.com/1.4954947 (accessed June 1, 2020).

[183] Ben-Naftali, Sfard and Viterbo, The ABC of the OPT, p. 519.

[184] Yotam Berger and Noa Landau, “At West Bank Event, Netanyahu Promises No More Settlers, Arabs Will Be Evicted,” Haaretz, July 10, 2019, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-at-west-bank-event-netanyahu-promises-no-more-settlers-arabs-will-be-evicted-1.7490113 (accessed June 1, 2020).

[185] “Netanyahu Says Palestinians in Jordan Valley Won't Get Citizenship After Annexation,” Haaretz, May 28, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-netanyahu-says-palestinians-in-jordan-valley-won-t-get-citizenship-after-annexation-1.8879420 (accessed June 1, 2020).

[186] See Yigal Allon, “Israel: The Case for Defensible Borders,” Foreign Affairs, October 1976, http://www.foreignaffairs.com/articles/26601/yigal-allon/israel-the-case-for-defensible-borders (accessed July 10, 2020).

[187] Economic Cooperation Foundation (ECF), “Allon Plan - English Text,” https://ecf.org.il/media_items/532

[188] See Allon, “Israel: The Case for Defensible Borders,” Foreign Affairs.

[189] Idith Zertal and Akiva Eldar, Lords of the Land: The War for Israel's Settlements in the Occupied Territories, 1967-2007 (Nation Books, 2009), p. 287.

[190] Shaul Arieli, “Messianism Meets Reality: The Israeli Settlement Project in Judea and Samaria: Vision or Illusion, 1967-2016,” November 2017, https://www.shaularieli.com/wp-content/uploads/2019/07/messianism-meets-reality.pdf (accessed June 1, 2020).

[191] Ibid.

[192] Suleiman Taufiq Ayub et al. v. The Minister of Defense Case, HCJ 606, 610/78, quoted in Sfard, The Wall and the Gate, p. 158; Case judgement available at: http://www.hamoked.org/files/2016/3860_eng.pdf (accessed July 16, 2020), p. 9.

[193] As quoted in Yehuda Shaul, “Trump’s Middle East Peace Plan Isn’t New. It Plagiarized a 40-Year-Old Israeli Initiative,” Foreign Policy, February 11, 2020, https://foreignpolicy.com/2020/02/11/trump-middle-east-peace-plan-isnt-new-israeli-palestinian-drobles/ (accessed June 1, 2020).

[194] “Settlement in Judea and Samaria — Strategy, Policy and Plans” (Hebrew), WZO Settlement Division, September 1980, available at https://www.scribd.com/document/446583312/Drobles (accessed June 1, 2020).

[195] Government Secretariat, “Meeting minutes of the Joint Settlement Committee for the Government and the World Zionist Organization” (Hebrew), July 12, 1981, available at https://bit.ly/3gPubpK (accessed August 11, 2020); Ofer Aderet, “40-Year-Old Document Reveals Ariel Sharon’s Plan to Evict 1,000 Palestinians from Their Homes,” Haaretz, August 9, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-40-year-old-document-reveals-ariel-sharon-s-plan-to-expel-1-000-palestinians-1.9057519 (accessed August 10, 2020).

[196] Ibid.

[197] The Scarcity of Water, Emerging Legal and Policy Responses, International Environmental Law and Policy Series (Kluwer Law International: 1997), Edward H. P. Brans, Esdier J. de Haan, André Nollkaemper, and Jan Rinzema (eds.), https://bit.ly/2CvpSAI (accessed June 24, 2020) pp. 146-147; UNCTAD, “Recent Economic Developments in the Occupied Palestinian Territories,” TD/B/ll02, June 30, 1986, https://unctad.org/meetings/en/SessionalDocuments/tdbd1102_en.pdf (accessed June 24, 2020).

[198] WZO– Settlement Division, “Settlement Arrays in Judea and Samaria: Update – 1997” (Hebrew), June 1997, plan on file with Human Rights Watch.

[199] Frontline, “Israel’s Next War?” (chronology), Public Broadcasting Service (PBS), April 5, 2005, https://www.pbs.org/wgbh/pages/frontline/shows/israel/cron/ (accessed June 1, 2020). ‘Hill Aquifer’ a reference to the Western Aquifer Basin, the most productive section of the Mountain Aquifer. See Systematic Oppression section, p. 26.

[200] “Prepare the Constitutional Ground for the Application of Sovereignty,” Sovereignty  journal, Issue 1, January 2014, http://ribonut.co.il/images/Ribonut%202%20English.pdf (accessed June 1, 2020), p. 7.

[201] Oded Shalom and Elisha Ben-Kimon “The Hague Price,” (Hebrew), Ynet News, February 11, 2021, https://www.yediot.co.il/articles/0,7340,L-5885532,00.html (accessed March 23, 2021).

[202] See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section.

[203] Ibid.

[204] Israel Cabinet Decision 2077, 23 June 2002, Section B.3, as quoted in B’Tselem and Bimkom, “Under the Guise of Security: Routing the Separation Barrier to Enable the Expansion of Israeli Settlements in the West Bank,” December 2005, https://www.un.org/unispal/wp-content/uploads/2005/12/a40e88b2cb1c35b3852570ed00577efe_report.pdf (accessed June 1, 2020), p. 7, footnote 3.

[205] See, for example, Yuval Yoaz, “Justice Minister: West Bank Fence Is Future Border,” Haaretz, December 1, 2005, https://www.haaretz.com/1.4884365 (accessed June 1, 2020); Donald Macintyre, “Sharon  ‘sees wall as Israel's new border’,” The Independent, December 2, 2005, https://www.independent.co.uk/news/world/middle-east/sharon-sees-wall-as-israels-new-border-517787.html (accessed June 1, 2020).

[206] B’Tselem and Bimkom, “Under the Guise of Security.”

[207] Head of the ‘Azzun Local Council et al. v. Government of Israel et al., HCJ 2732/05, Response of the State, Section 17 as cited in B’Tselem and Bimkom, “Under the Guise of Security.”

[208] Revital Hovel, “New Laws Should Also Consider Settlers in West Bank, Says Israeli Attorney General,” Haaretz, December 31, 2017, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-new-draft-laws-must-also-consider-settlers-in-west-bank-says-israeli-ag-1.5630121 (accessed August 28, 2020); ACRI, “Direct Legislation of the 20th Knesset Imposed on the West Bank,” http://docs.wixstatic.com/ugd/01368b_13c3a58d52ad4ba9a45455985ddbf30e.pdf, p. 3. 

[209] “Annexation Legislation Database,” Yesh Din, https://www.yesh-din.org/en/legislation/ (accessed June 1, 2020).

[210] Noa Landau, Jack Khoury and Chaim Levinson, “Gantz Vows to Annex Jordan Valley; Netanyahu Wants Sovereignty ‘Without Exception’,” Haaretz, January 21, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/elections/.premium-gantz-calls-for-jordan-valley-annexation-hopes-trump-releases-peace-plan-soon-1.8432081 (accessed June 1, 2020).

[211] Israel CBS, “Localities (1) And Population, By Municipal Status And District (2),” 2004,

https://www.cbs.gov.il/he/publications/doclib/2004/2.%20shnaton%20population/st02_13.pdf (accessed June 1, 2020).

[212] In proposing settlements in the Gaza Strip, Yigal Alon, then-head of the ministerial committee on settlements, said in June 1968 that “these settlements are of supreme importance to the political future of the Gaza Strip, because the split south of Gaza City. There is great security importance in a Jewish presence in the heart of Gaza.” Doron Rosenblum, “A Brief Anthology of Blindness and Vision,” Haaretz, February 11, 2004, haaretz.com/1.4714175 (accessed June 1, 2020).

[213]  “Israeli Disengagement from Gaza,” Cable-Satellite Public Affairs Network (C-Span), August 15, 2005,

https://www.c-span.org/video/?188483-1/israeli-disengagement-gaza (accessed June 1, 2020).

[214] “Sharon Maintains Control in Face of Demographic Shift,” The Irish Times, August 20, 2005, https://www.irishtimes.com/opinion/sharon-maintains-control-in-face-of-demographic-shift-1.482484 (accessed June 1, 2020).

[215] Zafrir Rinat and Haaretz correspondent, “PMO Issues Rush Order for 30 New Towns in Negev, Galilee,” Haaretz, July 20, 2003, https://www.haaretz.com/1.5347089 (accessed June 1, 2020).

[216] Israel MFA, “Security Cabinet Declares Gaza Hostile Territory,” September 19, 2007, http://www.mfa.gov.il/mfa/pressroom/2007/pages/security%20cabinet%20declares%20gaza%20hostile%20territory%2019-sep-2007.aspx (accessed March 30, 2020). On the policy to restrict movement in order to weaken the economy in Gaza, see Albassiouni v. Prime Minister, HCJ 9132/07, State Submission, November 2, 2007, para. 44 (Hebrew), http://gisha.org/UserFiles/File/Legal%20Documents_/fuel%20and%20electricity_oct_07/state_response_2_11_07.pdf (accessed August 4, 2016).

[217] Gisha, “Area G: From Separation to Annexation,” June 2020, https://gisha.org/UserFiles/File/publications/Area_G/From_Separation_to_Annexation_2020_EN.pdf (accessed June 30, 2020); “Gisha Petition Against Israel’s Refusal to Allow a Woman to Return from Gaza to the West Bank with Her Children,” Preliminary Response by the State (Hebrew) (November 14, 2019), https://gisha.org/UserFiles/File/LegalDocuments/54868-19/3.pdf (accessed June 25, 2020). “Granting the requested remedy to the petitioner (as in, accepting the petition, or giving the petitioner the option of returning to Judea and Samaria) would fundamentally undermine the policy of separation and of reducing movement between the areas, as outlined by the government;” and “The policy on travel between the State of Israel and the Gaza Strip, including the separation policy pertaining to travel between the Gaza Strip and the Judea and Samaria Area, has been developed according to various security and state policy considerations,” Tzafia Raduan and Others v Minister of Defense, HCJ 5911/17 Preliminary Response by the State (25 July 2017), http://gisha.org/UserFiles/File/LegalDocuments/5911-17/state.response.pdf (accessed June 25, 2020).

[218] Lahav Harkov, “Netanyahu: Money to Hamas part of strategy to keep Palestinians divided,” Jerusalem Post, March 12, 2019, https://www.jpost.com/Arab-Israeli-Conflict/Netanyahu-Money-to-Hamas-part-of-strategy-to-keep-Palestinians-divided-583082 (accessed June 1, 2020).

[219] See B’Tselem and HaMoked, “Separated Entities: Israel Divides Palestinian Population of West bank and Gaza Strip,” September 2008, https://www.btselem.org/download/200809_separated_entities_eng.pdf (accessed December 20, 2011).

[220] Israel Coordinator of Government Activities in the Territories (COGAT), “Procedure For Settlement In The Gaza Strip By Residents Of Judea And Samaria Area,” (Hebrew) May 2018, https://bit.ly/3cxcg4f (accessed June 1, 2020).

[221] COGAT, “Procedure for handling Applications by Gaza Strip Residents for settlement in the Judea and Samaria Area,” (Hebrew) July 2013, https://bit.ly/2Y3C42Z (accessed June 1, 2020).

[222] “In Response to Freedom of Information Application Filed by Gisha, COGAT Confirms: Only One Application Processed Under the ‘settlement procedure’ in the Past Year,” Gisha press release, March 21, 2017, https://gisha.org/legal/6404 (accessed June 1, 2020).

[223] “The military's response to an inquiry by HaMoked and Gisha,” HaMoked, March 30, 2015, http://www.hamoked.org/Document.aspx?dID=Updates1510 (accessed June 1, 2020).

[224] Human Rights Watch, “Forget About Him,” p. 9; “Military Data Reveals: Sharp Rise in the Number of People Deported by the Military from their West Bank Homes to the Gaza Strip, due to Their Out of Date Addresses in the Israeli Copy of the Population Registry,” HaMoked press release, December 20, 2017, http://www.hamoked.org/Document.aspx?dID=Updates1942 (accessed June 1, 2020). Also see B’Tselem and HaMoked, “One Big Prison: Freedom of Movement to and from the Gaza Strip on the Eve of the Disengagement Plan,” March 2005, http://www.btselem.org/publications/summaries/200503_gaza_prison, p. 20. (accessed January 23, 2012).

[225] For example, the Israeli military government obtained lists from local Palestinian leaders (mukhtars) in Gaza of families that had been separated and offered to pay the remaining family members to leave Gaza. According to US diplomatic records from 1968, a teenage boy whose father had already left Gaza reported to the International Committee of the Red Cross that Israeli military agents offered to pay 500 liras if he left with his mother and siblings. In addition, the Israeli military encouraged emigration from Gaza by deciding that the standard of living in Gaza should be “reasonable” but only “close to that which existed before the occupation;” according to one document, this meant that Israel would not create new sources of income for refugees living in camps. Tom Segev, “The June 1967 War and the Refugee Problem,” Journal of Palestine Studies, Spring 2007 (v. 36 n.3), available at http://prrn.mcgill.ca/research/papers/segev.pdf (accessed June 1, 2020).

[226] Raphael Ahren, “Israel Actively Pushing Palestinian Emigration from Gaza, Official says,” Times of Israel, August 19, 2019, https://www.timesofisrael.com/israel-actively-pushing-palestinian-emigration-from-gaza-official-says/ (accessed June 1, 2020).

[227] Economic and Social Commission for Western Asia (ESCWA), “Israeli Practices towards the Palestinian People and the Question of Apartheid Palestine and the Israeli Occupation,” E/ESCWA/ECRI/2017/1, March 2017, pp. 4, 38. (Report no longer available online; copy on file with HRW); “Joint Parallel Report to the United Nations Committee on the Elimination of Racial Discrimination on Israel’s Seventeenth to Nineteenth Periodic Reports,” Al Haq et al., November 10, 2019, p. 15-18, available at https://tbinternet.ohchr.org/Treaties/CERD/Shared%20Documents/ISR/INT_CERD_NGO_ISR_39700_E.pdf (accessed February 9, 2021); “Engineering Community: Family Unification, Entry Restrictions and other Israeli Policies of Fragmenting Palestinians,” Al Haq, February 2019, https://www.alhaq.org/cached_uploads/download/alhaq_files/images/stories/PDF/Family_Unification_14%20February%20(1).pdf (accessed February 9, 2021).

[228] Apartheid Convention, art II.

[229] Rome Statute, art 7(2)(h).

[230] Military Proclamation No. 2 Concerning Regulation of Authority and the Judiciary (West Bank), June 7, 1967, published in Jerusalem Media & Communication Center (JMCC), Israeli Military Orders in the Occupied Palestinian West Bank 1967-1992, Second Edition (East Jerusalem, 1995) p. 1.

[231] “Status of Palestinian Territories and Palestinian Society under Israeli Occupation,” The Applied Research Institute of Jerusalem (ARIJ), https://www.arij.org/atlas40/chapter2.2.html (accessed October 27, 2019).

[232] B’Tselem and Kerem Navot, “This Is Ours – And This, Too: Israel’s Settlement Policy in the West Bank,” March 2021, https://f35bf8a1-b11c-4b7a-ba04-05c1ffae0108.filesusr.com/ugd/a76eb4_ce24a5c07d134e3191887acff5aabd84.pdf (accessed March 23, 2021); “Settlements,” B’Tselem, updated January 16, 2019, https://www.btselem.org/settlements (accessed November 1, 2020). Also see, “Settlement Watch: Data,” Peace Now, https://peacenow.org.il/en/settlements-watch/settlements-data/population (accessed May 21, 2020).

[233] Fourth Geneva Convention, art. 49.

[234] “Order Concerning Security Directives (Judea and Samaria)” (Hebrew), No. 378, 1970, Declaration Concerning Closure of an Area (Israeli Settlements), June 6, 2002, https://www.nevo.co.il/law_word/Law70/zava-0199.pdf (accessed May 3, 2020). The order was first issued in 1995 and then re-issued in 2002.

[235] Israel CBS, “Localities (1) and Population, By District, Sub-District, Religion and Population Group, September 15, 2020. The West Bank population figure excludes East Jerusalem residents living within the Israeli-administrated Jerusalem municipality. It subtracts the Israel CBS figure for the Palestinian population in Jerusalem from the total population figures for the West Bank, including East Jerusalem, released by the Palestinian Central Bureau of Statistics (PCBS). See PCBS, “Palestinians at the end of 2020,” (Arabic), December 2020, http://www.pcbs.gov.ps/Downloads/book2546.pdf (accessed March 22, 2021). Such a calculation may undercount the actual West Bank population. It yields a figure of about 95,000 Palestinians living in parts of Jerusalem beyond the Israeli-administrated municipality, whereas the PCBS in May 2020 estimated the figure to be around 162,000. See “Dr. Awad Presents a Brief on Palestinians at the End of 2020,” PCBS press release, December 31, 2020 http://www.pcbs.gov.ps/post.aspx?lang=en&ItemID=3896 (accessed March 22, 2021).

[236] Human Rights Watch, “Forget About Him.”

[237] The census that provided the basis for the initial entries into the population registry excluded at least 270,000 Palestinians from the West Bank and Gaza who had been living there before 1967, but were absent during the census, either because they had fled during the 1967 war or were abroad for study, work or other reasons. In addition, authorities canceled the residency of 130,000 West Bank Palestinians between 1967 and 1994, generally for being outside the West Bank for more than three years. See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section.

[238] See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section.

[239] “Israel: Military Choking Palestinian Village, Planning Tourist Site,” Human Rights Watch news release, February 4, 2014, https://www.hrw.org/news/2014/02/04/israel-military-choking-palestinian-village-planning-tourist-site; see also Tovah Lazaroff, “Palestinians Petition Court to Reroute 6 KM of Security Barrier,” Jerusalem Post, June 7, 2020, https://www.jpost.com/israel-news/palestinians-petition-court-to-reroute-6-km-of-security-barrier-630665 (accessed June 8, 2020).

[240] UN Office for the Coordination of Humanitarian Affairs (OCHA), “Longstanding Access Restrictions Continue to Undermine the Living Conditions of West Bank Palestinians,” The Monthly Humanitarian Bulletin, March-May 2020, https://www.ochaopt.org/content/longstanding-access-restrictions-continue-undermine-living-conditions-west-bank-palestinians (accessed June 10, 2020).

[241] Human Rights Watch, Separate and Unequal.

[242] OCHA, “Over 700 road obstacles control Palestinian movement within the West Bank,” October 8, 2018, https://www.ochaopt.org/content/over-700-road-obstacles-control-palestinian-movement-within-west-bank (accessed July 3, 2020); UNGA, “Report of the Special Committee to Investigate Israeli Practices Affecting the Human Rights of the Palestinian People and Other Arabs of the Occupied Territories,” A/62/360, September 24, 2007, https://www.adalah.org/uploads/oldfiles/eng/intl07/un-Israeli-HR-Practices-07.pdf (accessed July 13, 2020), para. 28.

[243] Head of the ‘Azzun Local Council et al. v. Government of Israel et al., HCJ 2732/05, Response of the State, Section 17 as cited in B’Tselem and Bimkom, “Under The Guise Of Security.”

[244] Bimkom, “Between Fences: The Enclaves Created by the Separation Barrier,” October 2006, http://bimkom.org/eng/wp-content/uploads/Between-Fences.pdf (accessed May 21, 2020), p. VI.

[245] “Order Concerning the Administration of Local Councils,” Israeli Military Order No. 892, 1980, available at http://www.geocities.ws/savepalestinenow/israelmilitaryorders/fulltext/mo0892.htm (accessed May 21, 2020); “Order Concerning the Administration of Local Councils,” Israeli Military Order No. 892, 1980, available at http://www.geocities.ws/savepalestinenow/israelmilitaryorders/fulltext/mo0892.htm (accessed May 21, 2020); The Association for Civil Rights in Israel (ACRI), “One Rule, Two Legal Systems: Israel's Regime of Laws in the West Bank,” October 2014, https://law.acri.org.il/en/wp-content/uploads/2015/02/Two-Systems-of-Law-English-FINAL.pdf (accessed May 21, 2020).

[246] Michael Sfard, The Wall and the Gate: Israel, Palestine, and the Legal Battle for Human Rights (New York, Metropolitan Books: 2018), p.126. Sfard represented Human Rights Watch in a challenge of a deportation order against one of its employees working in Israel and the OPT.

[247] ACRI, “Direct Legislation of the 20th Knesset Imposed on the West Bank: Legislative Initiatives to Promote Annexation and Weaken the Laws of Occupation,” October 2018, http://docs.wixstatic.com/ugd/01368b_13c3a58d52ad4ba9a45455985ddbf30e.pdf (accessed June 1, 2020); “Annexation Legislation Database,” Yesh Din, https://www.yesh-din.org/en/legislation/ (accessed June 1, 2020).

[248] Chaim Levinson, “Nearly 100% of All Military Court Cases in West Bank End in Conviction, Haaretz Learns,” Haaretz, November 29, 2011, https://www.haaretz.com/1.5214377 (accessed January 31, 2018); B’Tselem, “Presumed Guilty: Remand in Custody by Military Courts in the West Bank,” June 2015, https://www.btselem.org/sites/default/files/sites/default/files2/201506_presumed_guilty_eng.pdf (accessed June 1, 2020).

[249] ACRI, “One Rule, Two Legal Systems,” p. 16.

[250] Ibid., p. 37.

[251] Human Rights Watch, Born Without Civil Rights: Israel’s Use of Draconian Military Orders to Repress Palestinians in the West Bank (New York: Human Rights Watch, 2019) https://www.hrw.org/report/2019/12/17/born-without-civil-rights/israels-use-draconian-military-orders-repress.

[252] Abraham Ben-Zvi, “The Limits of Israel’s Democracy in the Shadow of Security,” Taiwan Journal of Democracy, Vol. 1 No.2 (2005), pp. 8-9.

[253] Order regarding Security Provisions [Consolidated Version] (Judea and Samaria) (Military Order No. 1651), 5770-2009, available at http://www.hamoked.org/files/2017/1055_eng.pdf (accessed October 25, 2019), adopted November 2009, entered into force May 2, 2010, art. 251.

[254] Order No. 101 – Order Regarding Prohibition of Incitement and Hostile Propaganda Actions, August 1967, arts. 1, 3, 10, as amended by Order No. 718 (1977), Order No. 938 (1981), Order No. 1079 (1983), and Order No. 1423 (1995), available at https://bit.ly/2DfDTOA (accessed October 25, 2019). 

[255] “Pocket Guide: The Right to Demonstrate,” ACRI et al., 2015, https://bit.ly/2ohIVrD (accessed July 2, 2019).

[256] B’Tselem, “The Right to Demonstrate in the Occupied Territories,” July 2010, https://bit.ly/2FIztTr (accessed June 30, 2019).

[257] ACRI, “One Rule, Two Legal Systems.”

[258] The Association for Civil Rights in Israel et al v the Commander of the IDF Forces in the West Bank, Petition demanding equal initial detention periods for Palestinians and Israelis, HCJ 4057/10, May 26, 2010, https://www.yesh-din.org/en/petition-demanding-equal-initial-detention-periods-palestinians-israelis/ (accessed June 1, 2020); ACRI, “One Rule, Two Legal Systems,” p. 40.

[259] ACRI, “One Rule, Two Legal Systems,” pp. 44-52.

[260] Ibid.

[261] B’Tselem, “Caution: Children Ahead: The Illegal Behavior of the Police toward Minors in Silwan Suspected of Stone Throwing,” December 2010, https://www.btselem.org/download/201012_caution_children_ahead_eng.pdf (accessed June 1, 2020).

[262] United Nations Children’s Fund (UNICEF), “Children in Israeli Military Detention Observations and Recommendations,” February 2013, https://www.unicef.org/oPt/UNICEF_oPt_Children_in_Israeli_Military_Detention_Observations_and_Recommendations_-_6_March_2013.pdf (accessed June 4, 2020); Military Court Watch, “Comparative graph - Issues of concern,” updated June 1, 2020, http://www.militarycourtwatch.org/page.php?id=MmNuAkpGrsa613395AWw2bO0pT3K (accessed June 4, 2020); Defense for Children International – Palestine, “No Way to Treat a Child: Palestinian Children in the Israeli Military Detention System,” April 2016, https://bit.ly/2zRaVbt (accessed June 4, 2020).

[263] ACRI, “Arrest and Detention of Palestinian Minors in the Occupied Territories: 2015 Facts and Figures,” March 2017,

https://law.acri.org.il/en/2017/03/30/arrest-and-detention-of-palestinian-minors-in-the-occupied-territories-2015-facts-and-figures/ (accessed July 21, 2020).

[264] Addameer, Shadow Report for Consideration Regarding Israel’s Fourth Periodic Report to the UN Human Rights Committee, International Covenant on Civil and Political Rights (ICCPR), September 2014, https://tbinternet.ohchr.org/Treaties/CCPR/Shared%20Documents/ISR/INT_CCPR_CSS_ISR_18199_E.pdf (accessed July 21, 2020). 

[265] “4323 ‘Security’ Inmates are Held in Prisons inside Israel,” HaMoked, April 2021, http://www.hamoked.org/Prisoners.aspx (accessed April 5, 2021). ; Addameer, “On Administrative Detention,” July 2017, http://www.addameer.org/israeli_military_judicial_system/administrative_detention (accessed June 4, 2020).

[266] Israeli Prison Services figures on file with Human Rights Watch.

[267] “Israel: Rules Curtail Gaza Family Visits to Prisoners,” Human Rights Watch news release, July 31, 2016,

https://www.hrw.org/news/2016/08/01/israel-rules-curtail-gaza-family-visits-prisoners.

[268] HaMoked, “4323 "Security" Inmates are Held in Prisons inside Israel,” April 2021, http://www.hamoked.org/Prisoners.aspx (accessed April 5, 2021); Yonah Jeremy Bob, “Analysis: Administrative detention is not the same for Jewish and Palestinian terrorists,” Jerusalem Post, May 19, 2016, https://www.jpost.com/arab-israeli-conflict/analysis-administrative-detention-is-not-the-same-for-jewish-and-palestinian-terrorists-454360 (accessed June 4, 2020).

[269] Human Rights Watch, Torture and Ill-Treatment: Israel’s Interrogation of Palestinians from the Occupied Territories (New York: Human Rights Watch, 1994) https://www.hrw.org/legacy/reports/1994/israel/; International Rehabilitation Council for Torture Victims (IRCT), “Torture in Israel,” Country Factsheet, June 2015, http://stoptorture.org.il/wp-content/uploads/2015/11/CF_Israel_Final-2.pdf (accessed July 3, 2020); Sfard, The Wall and the Gate, p. 253-254 (noting that Israeli authorities approved use of torture on a group of Jewish Israelis in the 1970s and, in 2015, on several Jewish Israelis accused of murdering a Palestinian family).

[270] The Public Committee Against Torture in Israel (PCATI), “Milestones in the Struggle Against Torture in Israel,” http://stoptorture.org.il/frequently-asked-questions/milestones-in-the-struggle-against-torture-in-israel/?lang=en (accessed June 4, 2020).

[271] PCATI, “Torture in Israel 2020: Situation Report,” June 26, 2020, http://stoptorture.org.il/wp-content/uploads/2020/06/%D7%90%D7%A0%D7%92%D7%9C%D7%99%D7%AA-%D7%9C%D7%90%D7%99%D7%A0%D7%98%D7%A8%D7%A0%D7%98.pdf?fbclid=IwAR3ls7GvEAEEO9Ss9cN8fw1Ld44pZ_p9cZHyQsBiD-s9xMWivDwfXIzAAsU (accessed July 14, 2020).

[272] PCATI, “Torture in Israel 2019: Situation Report,” June 29, 2019, http://stoptorture.org.il/2927/?lang=en (accessed April 9, 2020).

[273] Human Rights Watch, Submission by Human Rights Watch to the Committee on the Rights of the Child on the State of Palestine, March 20, 2019, https://www.hrw.org/news/2019/03/20/submission-committee-rights-child-state-palestine.

[274] See, for example, “Israel/Palestine: Some Officials Backing ‘Shoot-to-Kill’,” Human Rights Watch news release, January 2, 2017, https://www.hrw.org/news/2017/01/02/israel/palestine-some-officials-backing-shoot-kill.

[275] “Fatalities Since Operation Cast Lead,” B’Tselem, January 19, 2009 - January 31, 2021, https://www.btselem.org/statistics/fatalities/after-cast-lead/by-date-of-event (accessed March 4, 2021).

[276] “Data on casualties,” UN OCHA, https://www.ochaopt.org/data/casualties (accessed June 4, 2020).

[277] Yesh Din, “Law Enforcement on Israeli Civilians In The West Bank: Yesh Din Figures 2005-2019,” Datasheet, December 2019, https://go.aws/370cTCg (accessed June 4, 2020).

[278] B’Tselem, “State-Backed Settler Violence,” November 11, 2017, https://www.btselem.org/settler_violence (accessed June 4, 2020).

[279] See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section for detailed account of the range of methods.

[280] Peace Now, “State Land Allocation in the West Bank — For Israelis Only,” July 17, 2018, https://peacenow.org.il/en/state-land-allocation-west-bank-israelis (accessed June 4, 2020).

[281] ACRI, “Information Sheet – Allocation of State Land in OPT,” updated April 12, 2013, https://law.acri.org.il/en/2013/04/23/info-sheet-state-land-opt/ (accessed June 4, 2020).

[282] WZO Settlement Division website, http://www.hityashvut.org.il/ (Hebrew) (accessed June 1, 2020).

[283] See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section for more details.

[284] Hagar Shezaf, “Israel Rejects Over 98 Percent of Palestinian Building Permit Requests in West Bank's Area C,” Haaretz, January 21, 2020, https://bit.ly/2XX5TC4 (accessed June 4, 2020).

[285] “Data on Demolition and Displacement in the West Bank,” OCHA, https://www.ochaopt.org/data/demolition (accessed June 4, 2020).

[286] “Database on Fatalities and House Demolitions,” B’Tselem, https://statistics.btselem.org/en/demolitions/pretext-unlawful-construction?stateSensor=%22west-bank%22&structureSensor=%22true%22&demoScopeSensor=%22false%22&dateSensor=%221230771600000%2C1609451999000%22 (accessed March 27, 2021).

[287] B’Tselem and Kerem Navot, “This Is Ours – And This, Too,” p. 2.

[288] Peace Now, “Annual Settlement Report 2018: A Glance at 10 Years under Netanyahu,” May 14, 2019,

https://peacenow.org.il/en/annual-settlement-report-2018 (accessed June 1, 2020); Peace Now, “Settlement Construction Report 2019,” March 18, 2020, https://peacenow.org.il/en/settlement-construction-report-2019 (accessed June 4, 2020); Peace Now, “From De Jure to De Facto Annexation – Construction in Settlements 2020,” April 13, 2021, https://peacenow.org.il/en/settlement-construction-report-2020 (accessed April 20, 2021).

[289]  World Bank, “Palestinians Access to Area C Key to Economic Recovery and Sustainable Growth,” October 8, 2013, https://www.worldbank.org/en/news/press-release/2013/10/07/palestinians-access-area-c-economic-recovery-sustainable-growth (accessed June 4, 2020).

[290] “Restrictions on Movement,” B’Tselem, November 11, 2017, https://www.btselem.org/freedom_of_movement (accessed June 4, 2020).

[291] “West Bank Roads on Which Israel Forbids Palestinian Vehicles,” B’Tselem, updated January 31, 2017, https://www.btselem.org/freedom_of_movement/forbidden_roads (accessed June 4, 2020).

[292] “Hebron: Restrictions on Palestinian Movement,” B’Tselem, map, 2011, https://www.btselem.org/sites/default/files/201108_hebron_map_eng.pdf (accessed June 4, 2020).

Yehuda Shaul, “The Only Way to End the Violence in Hebron,” +972 Magazine, November 2, 2015, https://www.972mag.com/the-only-way-to-end-the-violence-in-hebron/ (accessed June 4, 2020); Breaking the Silence, “Occupying Hebron: Soldiers’ Testimonies from Hebron 2011-2017,” 2018, https://www.breakingthesilence.org.il/inside/wp-content/uploads/2018/11/OccupyingHebron-Eng.pdf (accessed July 14, 2020);  Monica Pinna, “Hebron’s Silent War: No Peace in Sight for Israelis and Palestinians” Euronews, October 5, 2019, euronews.com/2019/05/09/daily-life-in-hebron-shows-why-west-bank-peace-is-far-away (accessed July 14, 2020).

[293] B’Tselem, “Ground to a Halt: Denial of Palestinians’ Freedom of Movement in the West Bank,” August 2007, https://www.btselem.org/download/200708_ground_to_a_halt_eng.pdf (accessed June 4, 2020), p. 87; “West Bank Movement and Access Update,” OCHA, May 2009,

https://www.un.org/unispal/document/auto-insert-203051/ (accessed June 4, 2020).

[294] OCHA, “Over 700 Road Obstacles Control Palestinian Movement Within the West Bank,” October 2018.

[295] B’Tselem, “Route 443 – West Bank road for Israelis only,” January 1, 2011, https://www.btselem.org/freedom_of_movement/road_443 (accessed June 4, 2020).

[296] Ali Hussein Mahmoud Abu Safiya, Beit Sira Village Council Head et al., vs. Minister of Defense et al., HCJ 2150/07, Judgement, March 5, 2008, available at: http://www.hamoked.org/files/2011/8865_eng.pdf (accessed February 18, 2021) (In a concurring opinion, Supreme Court president Beinisch mentions apartheid, but asserts the comparison to Israeli policies is “inappropriate,” without offering a detailed explanation). ACRI, “Route 443: Fact Sheet and Timeline,” updated May 25, 2010, https://law.acri.org.il/en/2010/05/25/route-443-fact-sheet-and-timeline/ (accessed June 4, 2020). The Israeli Supreme Court sits as the High Court of Justice when hearing cases on appeal.

[297] Ibid.; B’Tselem, “Route 443.”

[298] B’Tselem, “Route 443.”

[299] Al Haq, “Water For One People Only: Discriminatory Access and ‘Water-Apartheid’ in the OPT,” 2013, https://www.alhaq.org/publications/8073.html(accessed June 4, 2020), p. 28-29.

[300] Military Order 92: Order Concerning Jurisdiction Over Water Regulations, August 15, 1967, published in Jerusalem Media & Communication Center (JMCC), Israeli Military Orders in the Occupied Palestinian West Bank 1967-1992, Second Edition (East Jerusalem, 1995), p. 14.

[301] Military Order 158: Order Concerning Amendment to Supervision Over Water Law, October 30, 1967, published in JMCC, Israeli Military Orders, p. 22.

[302] Military Order 291: Order Concerning Settlement of Disputes Over Land and Water, December 19, 1968, published in JMCC, Israeli Military Orders, p. 38.

[303] Stephen C. Lonergan and David B. Brooks, Watershed: The Role of Fresh Water in the Israeli-Palestinian Conflict (Ottawa: International Development Research Center: 1994), https://bit.ly/37dQy4s (accessed June 4, 2020).

[304] Frederick D. Gordon, Freshwater Resources and Interstate Cooperation: Strategies to Mitigate an Environmental Risk (State University of New York Press: 2009), https://bit.ly/3dzBD6S (accessed June 4, 2020).

[305] UN General Assembly, “Report of the independent international factfinding mission to investigate the implications of the Israeli settlements on the civil, political, economic, social and cultural rights of the Palestinian people,” A/HRC/22/63, February 7, 2013, https://www.ohchr.org/Documents/HRBodies/HRCouncil/RegularSession/Session22/A-HRC-22-63_en.pdf (accessed June 16, 2020), para. 81.

[306] Israel MFA, “The Israeli-Palestinian Interim Agreement-Annex III,” September 28, 1995,

https://www.mfa.gov.il/mfa/foreignpolicy/peace/guide/pages/the%20israeli-palestinian%20interim%20agreement%20-%20annex%20iii.aspx#app-40 (accessed June 4, 2020).

[307] Al Haq, “Water for One People Only,” pp. 36-38; World Bank, “West Bank and Gaza: Assessment of Restrictions on Palestinian Water Sector Development,” April 2009, http://documents1.worldbank.org/curated/en/775491468139782240/pdf/476570SR0P11511nsReport18Apr2009111.pdf (accessed July 21, 2020), pp. 11-12.

[308] World Bank, “Assessment of Restrictions on Palestinian Water Sector Development,” p. 51.

[309] Ibid., p. ix, 34; Al Haq, “Water for One People Only,” p. 42.

[310] Jan Selby, “Cooperation, Domination and Colonisation: The Israeli-Palestinian Joint Water Committee,” Water Alternatives 6(1): 1-24 (2013), http://www.water-alternatives.org/index.php/volume6/v6issue1/196-a6-1-1/file (accessed June 25, 2020), pp. 11-12, 16-17.

[311] Ibid.; World Bank, “Assessment of Restrictions on Palestinian Water Sector Development,” p. 34.

[312] ACRI, “Water Provision and Drillings in the West Bank 2010-2016,” June 5, 2018; https://law.acri.org.il/en/2018/06/05/water-provision-and-drillings-in-the-west-bank-2010-2016/ (accessed June 25, 2020).

[313] Al Haq, “Water for One People Only,” pp. 23-25

[314] Ibid., p. 44; B’Tselem, “Arrested Development: The Long Term Impact of Israel's Separation Barrier in the West Bank,” October 2012, https://www.btselem.org/sites/default/files/sites/default/files2/201210_arrested_development_eng.pdf (accessed June 4, 2020), p. 66.

[315] See, for example, Emergency Water Sanitation and Hygiene group (EWASH), “Down the Drain: Israeli Restrictions on the WASH Sector in the Occupied Palestinian Territory and Their Impact on Vulnerable Communities,” March 2012, https://bit.ly/2z9zYpD (accessed June 4, 2020), p. 16.

[316] OCHA, “Humanitarian Needs Overview – OPT,” Humanitarian Programme Cycle 2020, December 2019, https://www.ochaopt.org/sites/default/files/hno_2020-final.pdf (accessed June 4, 2020), p. 43.

[317] UNGA, “Report of the Independent International Factfinding Mission to Investigate the Implications of the Israeli Settlements on the Civil, Political, Economic, Social and Cultural Rights of the Palestinian People," A/HRC/22/63, para. 84.

[318] Amir Ben-David, “Israel is Drying up,” (Hebrew) post to Zman Israel (blog), timesofisrael.com, July 9, 2020, https://www.zman.co.il/126897/ (accessed July 15, 2020); Alwyn R. Rouyer, “Between Desert Countries: The Political Economy of Water Under the Israeli Occupation of the Palestinian Territories and Beyond,” in Structural Flaws in the Middle East Peace Process: Historical Contexts, ed. J. W. Wright Jr. (London: Palgrave Macmillan, 2002), pp. 56, 121-125.

[319] Amira Hass, “Just How Much Do Palestinians Rely on Israel for Water,” Haaretz, February 13, 2014, https://www.haaretz.com/.premium-do-palestinians-rely-on-israel-for-water-1.5321782 (accessed June 25, 2020); World Bank, “Assessment of Restrictions on Palestinian Water Sector Development,” p. v-vi; Amnesty International, “The Occupation of Water,” November 29, 2017, https://www.amnesty.org/en/latest/campaigns/2017/11/the-occupation-of-water/ (accessed June 17, 2020);

[320] Amnesty International, “The Occupation of Water.”

[321] World Bank, “Assessment of Restrictions on Palestinian Water Sector Development,” p. 13.

[322] Amnesty International, “The Occupation of Water;” Al Haq, “Water for One People Only,” p. 51; ARIJ, “Status of the Environment in the State of Palestine 2015,” December 2015, http://www.arij.org/files/arijadmin/2016/Final_SOER_2015_opt_r.pdf (accessed July 3, 2020) p. 77; Camilla Corradin, “Israel: Water as a Tool to Dominate Palestinians,” Al Jazeera, June 23, 2016, https://www.aljazeera.com/news/2016/06/israel-water-tool-dominate-palestinians-160619062531348.html (accessed June 16, 2020).

[323] PCBS, “Palestinians at the end of 2020.”

[324] PCBS, “Number of Settlers in the Israeli Settlements and Palestinian Population in the West Bank by Governorate, 2018,” http://www.pcbs.gov.ps/Portals/_Rainbow/Documents/SETT4E-2018.html (accessed June 4, 2020); B’Tselem, “Land Grab: Israel’s Settlement Policy in the West Bank,” May 2002, https://www.btselem.org/download/200205_land_grab_eng.pdf (accessed March 30, 2020), p. 100.

[325] UN, “Salfit Access Restrictions – July 2018 – OCHA Map,” https://www.un.org/unispal/document/salfit-access-restrictions-july-2018-ocha-map/ (accessed June 4, 2020).

[326] Shaul Arieli, “Messianism Meets Reality: The Israeli Settlement Project in Judea and Samaria: Vision or Illusion, 1967-2016,” November 2017, https://www.shaularieli.com/wp-content/uploads/2019/07/messianism-meets-reality.pdf (accessed June 1, 2020), p. 20.

[327] WZO “Settlement Arrays in Judea and Samaria: Update – 1997.”

[328] Ibid.

[329] Ibid.

[330] “West Bank Roads on Which Israel forbids Palestinian Vehicles,” B’Tselem, updated January 31, 2017.

[331] Al Haq, “Water For One People Only,” pp. 25-27.

[332] In 2015, 90 percent of all available water in Salfit governorate was purchased from Mekorot. ARIJ, “Status of the Environment in the State of Palestine 2015,” p. 49. Also see PCBS, “Quantity of Water Supply for Domestic Sector, Water Consumed, Total Losses, Population and Daily Consumption per Capita in the West Bank by Governorate, 2018,” http://www.pcbs.gov.ps/Portals/_Rainbow/Documents/water-E9-2018.html (accessed June 4, 2020); PCBS, “Water tables in Palestine, 2018” (Arabic), https://bit.ly/2KNW7Mk (accessed June 4, 2020). Residents of the Salfit governorate purchased 3.4 million cubic meters from Mekorot in 2018, while total domestic water use in the governorate, including commercial and industrial, but non-agricultural, stood at 4.4 million cubic meters of water that year.

[333] Human Rights Watch interview with Murad Samara, Bruqin municipality employee, February 18, 2020; Machsom Watch, “Salfit Checkpoint,” https://machsomwatch.org/en/node/52634 (accessed June 4, 2020); Ylenia Gostoli, “Palestinians decry West Bank industrial zone expansion,” Al Jazeera, February 24, 2017, https://www.aljazeera.com/indepth/features/2017/02/palestinians-decry-west-bank-industrial-zone-expansion-170206090749576.html (accessed June 4, 2020).

[334] Israel CBS, “Population and Density Per Sq. Km. in Localities With 5,000 Residents and More On 31.12.2019(1),” September 15, 2020, cbs.gov.il/he/publications/doclib/2020/2.shnatonpopulation/st02_24.pdf (accessed January 11, 2021); Maayana Miskin, “Ariel Named for Former PM,” Israel National News, July 13, 2009, http://www.israelnationalnews.com/News/News.aspx/132385 (accessed June 4, 2020).

[335] B’Tselem and Kerem Navot, “This Is Ours – And This, Too,” p. 55.

[336] “About Ariel,” Ariel Municipal Website, https://www.ariel.muni.il/english/8/ (accessed September 1, 2020).

[337]  B’Tselem and Kerem Navot, “This Is Ours – And This, Too,” p. 40.  

[338] See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section. 

[339] Human Rights Watch, Occupation Inc.: How Settlement Businesses Contribute to Israel’s Violations of Palestinian Rights (New York: Human Rights Watch, 2016), https://www.hrw.org/report/2016/01/19/occupation-inc/how-settlement-businesses-contribute-israels-violations.

[340] Ibid.

[341] Ibid.

[342]  “Israeli Banks Profit from Settlements,” May 24, 2018, Human Rights Watch video clip, YouTube, https://www.youtube.com/watch?v=__HiXM_8Y94&feature=emb_logo.

[343] Ibid.

[344]. Human Rights Watch, Bankrolling Abuse: Israeli Banks in West Bank Settlements (New York: Human Rights Watch, 2018), https://www.hrw.org/sites/default/files/report_pdf/israel0518_web.pdf, pp. 24-25.

[345] Human Rights Watch phone interview with Murad Samara, Bruqin municipality employee and landowner, April 14, 2020 and Jamal Salameh, landowner, April 19, 2020.

[346] Human Rights Watch phone interview with Jamal Salameh, April 19, 2020.                                   

[347] Ibid.; Also see B’Tselem, “State-backed settler violence” Blog, March 2020, https://www.btselem.org/settler_violence_updates?type=All&date_from=&date_to=&location=204109 (accessed June 4, 2020).

[348] Human Rights Watch phone interview with Fares ad-Dik, April 6, 2020.

[349] Ibid.; Alex Levac and Gideon Levy, “This Huge Settlement Will ‘Turn Palestinian Villages Into a Prison’,” Haaretz, June 5, 2015, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-the-great-divide-1.5369333 (accessed July 22, 2020); Also see, Peace Now, “Annual Settlement Construction Report 2016: Stark increase in Settlement Construction,” May 2017,

http://peacenow.org.il/wp-content/uploads/2017/05/annual-construction-report-2016-1.pdf  (accessed June 4, 2020), p. 4.

[350] Human Rights Watch phone interview with Fares ad-Dik, April 6, 2020.

[351] Human Rights Watch phone interviews with Murad Samara, February 18, 2020, Marwan Abdelrahman, head of Bruqin municipality, April 8, 2020, Fares ad-Dik, April 6, 2020, and Jerusalem Legal Aid and Human Rights Center field researcher, April 20, 2020; Also see Jaclynn Ashly, “Drowning in the waste of Israeli settlers,” Al Jazeera, September 18, 2017, https://www.aljazeera.com/indepth/features/2017/09/drowning-waste-israeli-settlers-170916120027885.html (accessed June 4, 2020); Megan Giovannetti, “ ‘They Just Die’: Palestinian Village Choked by Israeli Settlement Dumpsite,” Middle East Eye, July 24, 2019, https://www.middleeasteye.net/news/palestinian-village-choked-toxic-dumpsite-israeli-industrial-settlements (accessed June 4, 2020); Clare Maxwell, “West Bank Villagers Suffer from Sewer Politics,” The Electronic Intifada, August 31, 2016, https://electronicintifada.net/content/west-bank-villagers-suffer-sewer-politics/17811 (accessed June 4, 2020).

[352] B’Tselem, “Foul Play: Neglect of Wastewater Treatment in the West Bank,” June 2009, https://www.btselem.org/download/200906_foul_play_eng.pdf (accessed June 4, 2020), p. 31.

[353] Ibid.

[354] Human Rights Watch field visit and interviews with two Bruqin municipality officials, February 18, 2020.

[355] Israel Nature and Parks Authority, Ministry of Environmental Protection and Israel Civil Administration, “Monitoring of the Judea and Samaria Rivers: Assessment of the situation based on the sampling findings in 2014 – 2015,” (Hebrew) March 2016, https://www.sviva.gov.il/infoservices/reservoirinfo/doclib2/publications/p0801-p0900/p0831.pdf (accessed June 16, 2020), p. 31.

[356] B’Tselem, “Foul Play,” p. 34.

[357] “Ariel Settlement Fact Sheet,” B’Tselem, updated July 17, 2012, https://www.btselem.org/settlements/20100830_facts_on_the_settlement_of_ariel (accessed June 4, 2020).

[358] “Laying the cornerstone for a project that waited 25 years ... Minister Ghoneim: Despite Israeli obstacles, we are continuing to improve the water service” (Arabic), Palestine Water Authority press release, November 20, 2019, http://www.pwa.ps/ar_page.aspx?id=527rVEa3111280557a527rVE (accessed July 12, 2020).

[359] UNICEF and the Palestinian Hydrology Group (PHG), Water, Sanitation and Hygiene Monitoring Program (WASH MP), “Water for Life,” June 2011, https://www.unicef.org/oPt/WASH_MP_Final_Report_2009__WP_21_June.pdf (accessed June 4, 2020), p. 39.

[360] Ibid.

[361] B’Tselem, “Foul Play,” p. 31.

[362] Human Rights Watch phone interview with Murad Samara, April 9, 2020.

[363] Human Rights Watch phone interview with May Barakat, April 7, 2020.

[364] Palestinian Central Bureau of Statistics (PCBS), “Estimated Mid-Year Population of Qalqiya Governate, 2017-2021” (Arabic), http://www.pcbs.gov.ps/Portals/_Rainbow/Documents/QalqiliyaA.html (accessed April 4, 2021).

[365] B’Tselem, “Arrested Development,” p. 48.

[366] Ibid., p. 53.

[367] In his statement recognizing Jerusalem as Israel’s capital and indicating his plan to move the US Embassy there, President Trump said that the announcement did not constitute recognition of the city’s boundaries: “Statement by President Trump on Jerusalem,” US Embassy and Consulates in Italy press release, December 6, 2017, https://it.usembassy.gov/statement-president-trump-jerusalem-december-6-2017/ (accessed June 4, 2020). However, when announcing his “Peace to Prosperity” plan in January 2020, he said that “Jerusalem will stay united,” effectively recognizing the annexation. President Donald J. Trump’s Vision for Peace, Prosperity, and a Brighter Future for Israel and the Palestinian People,” White House press release, January 28, 2020, https://www.whitehouse.gov/briefings-statements/president-donald-j-trumps-vision-peace-prosperity-brighter-future-israel-palestinian-people/ (accessed June 4, 2020).

[368] Israel CBS, “Population and Density Per Sq. Km. in Localities With 5,000 Residents and More On 31.12.2019(1).”

[369] “Settlements data – Jerusalem,” Peace Now, https://peacenow.org.il/en/settlements-watch/settlements-data/jerusalem (accessed January 11, 2021).

[370] See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section for more information.  

[371] HaMoked, “Ministry of Interior Data: 18 East Jerusalem Palestinians Were Stripped of their Permanent Residency Status in 2020 as Part of Israel’s “Quiet Deportation” Policy; 10 of Them Women,” March 9, 2021,

http://www.hamoked.org/Document.aspx?dID=Updates2224 (accessed March 28, 2021). Those who lose their residency may petition the Interior Ministry to recover their status, during which time they can obtain a temporary status to remain in Jerusalem. Some Palestinians have succeeded in reinstating their status, but often after protracted legal and administrative processes that many cannot afford. “Israel: Jerusalem Palestinians Stripped of Status,” Human Rights Watch news release, August 8, 2017, https://www.hrw.org/news/2017/08/08/israel-jerusalem-palestinians-stripped-status.

[372] See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section for more information.  

[373] “Abbas Says No Elections Unless Palestinians in East Jerusalem Can Vote,” Times of Israel, December 19, 2019, https://www.timesofisrael.com/abbas-says-no-elections-unless-palestinians-in-east-jerusalem-can-vote/ (accessed June 4, 2020).

[374] ACRI, “East Jerusalem: Facts and Figures 2019.”

[375] “Abuse and Collective Punishment in al-'Esawiya, East Jerusalem,” B’Tselem video clip, YouTube, https://www.youtube.com/watch?time_continue=87&v=wsu394CrDSs&feature=emb_logo (accessed July 22, 2020); Also see B’Tselem, “This is Jerusalem: Violence and Dispossession in al-‘Esawiyah,” May 2020, https://bit.ly/2AL2gaA (accessed June 4, 2020).

[376] Ibid.; Also see Nir Hasson, “Israel Arrests Hundreds of Palestinian Minors in Jerusalem, Violating Children's Rights,” Haaretz, January 10, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israel-arrests-hundreds-of-palestinian-minors-in-jerusalem-violating-child-rig-1.8377280 (accessed June 4, 2020); ACRI, “Protections for Minors Suspected of Crimes? Not in Issawiya,” January 12, 2020, https://www.english.acri.org.il/post/__147 (accessed June 4, 2020).

[377] B’Tselem, “This is Jerusalem: Violence and Dispossession in al-‘Esawiyah.”

[378] “Abuse and Collective Punishment in al-'Esawiya, East Jerusalem,” B’Tselem video clip, YouTube.

[379] Nir Hasson, “Police Step Up Raids, Arrests in Jerusalem's Isawiyah Despite Mounting Protests,” Haaretz, November 26, 2019, https://www.haaretz.com/middle-east-news/palestinians/.premium-police-step-up-raids-arrests-in-jerusalem-s-isawiyah-despite-mounting-protests-1.8185789 (accessed June 4, 2020); Nir Hasson, “Israel's Collective Punishing Exacts Price From This East Jerusalem Neighborhood,” Haaretz, July 1, 2019, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israel-s-collective-punishing-exacts-price-from-this-east-jerusalem-neighborhood-1.7425731 (accessed June 4, 2020).

[380] Nir Hasson, “Police Step Up Raids, Arrests in Jerusalem's Isawiyah Despite Mounting Protests,” Haaretz.

[381] See Case Study: Kufr Aqab section below.

[382] Al Haq, “Hidden in Plain Sight: The Village of Nabi Samwil,” June 13, 2018, http://www.alhaq.org/advocacy/6186.html (accessed June 4, 2020).

[383] “Welcome to Bir Nabala – a new video by B'Tselem,” B’Tselem press release, November 8, 2012, btselem.org/press_releases/20121011_welcome_to_bir_nabala (accessed June 4, 2020).

[384] “Statistics on Land Expropriaion [sic] in East Jerusalem,” B’Tselem, January 1, 2011,

https://www.btselem.org/jerusalem/land_expropriation_statistics (accessed June 2, 2020).

[385] Ir Amim, “Displaced in Their Own City,” p. 10.

[386] Ibid.

[387] “A 40-Person Palestinian Family Is about to Be Thrown Out of Its Home in Sheikh Jarrah for the Benefit of Settlers,” Peace Now press release, January 11, 2019, https://peacenow.org.il/en/sabagh-family-sheikh-jarrah (accessed June 4, 2020); “East Jerusalem Cleansing Continues: Israel Removes More Palestinian Families, Hands Over Their Homes to Settlers,” B’Tselem press release, March 11, 2019, https://www.btselem.org/jerusalem/20190311_east_jerusalem_cleansing_continues (accessed June 4, 2020).

[388] Norwegian Refugee Council (NRC), “The Absentee Property Law and its Application to East Jerusalem,” Legal Memo, February 2017, https://www.nrc.no/globalassets/pdf/legal-opinions/absentee_law_memo.pdf (accessed June 4, 2020). While the law applies on its face to non-Jews, the NRC wrote in 2017 that “[i]n practice, [the law] was implemented only in the case of Jewish Israeli owners.”

[389] Ibid. The 1950 Absentees’ Property Law allowed the state to confiscate the land and homes of Palestinians not present on their property as of November 29, 1947. Israeli authorities long used that to apply to Palestinian homes in West Jerusalem. That, combined with the Law and Administration Procedures Act passed in 1970 by the Knesset, have empowered the Custodian of Absentee Property to determine whether East Jerusalem properties qualified as “absentee properties.” The Israeli government has permitted the application of the law to East Jerusalem for the most part since 1967.

[390] Nir Hasson, “East Jerusalem Palestinians Say Right-wing Group Using Land Trust to Displace Them,” Haaretz, June 4, 2020, https://www.haaretz.com/middle-east-news/palestinians/.premium-east-jerusalem-palestinians-say-right-wing-group-using-land-trust-to-displace-them-1.8895928?utm_source=dlvr.it&utm_medium=twitter (accessed June 4, 2020).

[391] “Court Rules to Evict Palestinian Rajabi Family in Silwan because of Discriminatory Property Law,” Peace Now press release, January 20, 2020, https://peacenow.org.il/en/the-court-ruled-to-evict-a-palestinian-family-from-its-home-in-silwan-because-the-property-was-owned-by-jews-before-1948 (accessed June 4, 2020); Nir Hasson, “The Judaization of an East Jerusalem Neighborhood Gains Steam, Haaretz, November 2, 2015, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-judaization-of-e-j-lem-quarter-gains-pace-1.5415648 (accessed June 4, 2020); “High Court of Justice Paves Way for Cleansing of Palestinians from Silwan,” B’Tselem press release, November 22, 2018, https://www.btselem.org/press_releases/2018122_batan_al_hawa_ruling (accessed June 4, 2020).

[392] Nir Hasson, “Court Okays Eviction of Palestinian Family Because Land Was Once Owned by Jews,” Haaretz, January 20, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-court-okays-eviction-of-east-j-lem-family-because-their-land-was-once-owned-by-jews-1.8414592 (accessed June 4, 2020); Nir Hasson, “Court Orders Dozens of Palestinians Out of Jerusalem Homes to Make Way for Settlers,” Haaretz, September 15, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-court-orders-dozens-of-palestinians-out-of-jerusalem-homes-to-make-way-for-settlers-1.9157320 (accessed September 15, 2020).

[393] Nir Hasson, “Israeli Court Clears the Way to Evict Palestinian Family from East Jerusalem Home,” Haaretz, July 1, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israeli-court-clears-the-way-to-evict-palestinian-family-from-east-jerusalem-home-1.8962453 (accessed July 1, 2020). Noam Sheizaf, “Despite Denials, JNF to Continue Eviction Effort of J’lem Palestinians,” +972 Magazine, November 28, 2011, https://www.972mag.com/despite-denials-jnf-to-continue-eviction-effort-of-jerusalem-palestinians/28489/ (accessed June 4, 2020); “Following KKL-JNF Suit: Court Orders Sumarin Family to Evacuate Their Home in Silwan,” Peace Now press release, September 23, 2019, https://peacenow.org.il/en/following-kkl-jnf-suit-court-orders-sumarin-family-to-evacuate-their-home-in-silwan (accessed June 4, 2020).

[394] Human Rights Watch phone interview with Sumarin Family, September 16, 2020; Human Rights Watch phone interview with Rajabi family, September 17, 2020.

[395] “Planning Policy in the West Bank,” B’Tselem, updated February 6, 2019,

https://www.btselem.org/planning_and_building (accessed June 4, 2020); Ir Amim and Bimkom, “Deliberately Planned A Policy to Thwart Planning in the Palestinian Neighborhoods of Jerusalem,” February 2017, http://www.ir-amim.org.il/sites/default/files/Deliberately%20Planned.pdf (accessed June 4, 2020).

[396] “Jerusalem Municipal Data Reveals Stark Israeli-Palestinian Discrepancy in Construction Permits in Jerusalem,” Peace Now press release, September 12, 2019, https://peacenow.org.il/en/jerusalem-municipal-data-reveals-stark-israeli-palestinian-discrepancy-in-construction-permits-in-jerusalem (accessed June 4, 2020).

[397] Ibid.

[398] “Data on Demolition and Destruction in the West Bank,” OCHA. According to OCHA, Israeli authorities demolished 1,237 of the structures for lacking a permit, 13 punitively and seven for “other reasons”.

[399] “Database on Fatalities and House Demolitions,” B’Tselem, https://statistics.btselem.org/en/demolitions/pretext-unlawful-construction?stateSensor=%22east-jerusalem%22&structureSensor=%22true%22&demoScopeSensor=%22false%22&dateSensor=%221230771600000%2C1609451999000%22 (accessed March 27, 2021). This figure includes 145 demolitions carried out by owners in East Jerusalem in the face of demolition orders for lacking a permit. Three others sealed their homes in the face of a demolition order.

[400] Ir Amim, “A Layman’s Guide to Home Demolitions,” March 1, 2009, https://www.ir-amim.org.il/en/report/layman%E2%80%99s-guide-home-demolitions (accessed June 4, 2020), p. 8.

[401] Bimkom, “Survey of Palestinian Neighborhoods in East Jerusalem: Planning problems and opportunities,” 2013, http://bimkom.org/eng/wp-content/uploads/survey-of-the-Palestinian-neighborhoods-of-East-Jerusalem.pdf (accessed June 4, 2020).

[402] Nir Hasson, “Jerusalem Must Plan Playgrounds for Palestinian Neighborhoods, Court Orders,” Haaretz, January 10, 2016, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-court-jerusalem-must-plan-playgrounds-for-palestinians-1.5388362 (accessed July 26, 2020).

[403] Ir Amim, “Jerusalem Municipality Budget Analysis for 2013: Share of Investment in East Jerusalem,” December 30, 2014, http://www.ir-amim.org.il/en/policy_papers/jerusalem-municipality-budget-analysis-2013-share-investment-east-jerusalem (accessed June 4, 2020).

[404] Ir Amim, “The State of Education in East Jerusalem: Discrimination against the Backdrop of COVID-19,” September 2020, https://www.ir-amim.org.il/sites/default/files/The%20State%20of%20Education%20in%20East%20Jerusalem%202020_Discrimination%20Against%20the%20Backdrop%20of%20COVID19.pdf(accessed March 31, 2021).

[405] ACRI, “East Jerusalem: Facts and Figures 2019”; Peter Beaumont, “Welcome to Shuafat, East Jerusalem: Where Water Comes Only After Dark,” The Guardian, April 14, 2014, https://www.theguardian.com/world/2014/apr/14/welcome-shuafat-jerusalem-camp-water-palestinians-israel (accessed June 4, 2020).

[406] ACRI, “East Jerusalem: Facts and Figures 2019.”

[407] Ibid.; Municipality of Jerusalem, “Social Services Offices,” https://www.jerusalem.muni.il/en/residents/welfare-and-social-services-in-jerusalem/welfareoffices/ (accessed June 4, 2020).

[408] ACRI, “East Jerusalem: Facts and Figures 2019.”

[409] Miriam Berger, “For Some Palestinians in Love, This Slum Is the Only Place to Live,” Reuters, November 9, 2017, https://www.reuters.com/article/us-israel-palestinians-marriage/for-some-palestinians-in-love-this-slum-is-the-only-place-to-live-idUSKBN1D910Z (accessed June 4, 2020); Jerusalem Institute for Policy Research, “Kufr Aqab: Abstract,” 2018, https://jerusaleminstitute.org.il/wp-content/uploads/2019/07/PUB_Kfar-Akeb_English_abstract.pdf (accessed June 4, 2020).

[410] Meron Benvenisti, Intimate Enemies: Jews and Arabs in a Shared Land (University of California Press: 1995), https://bit.ly/2yVZmiF (accessed June 4, 2020), pp. 53-54; Nir Hasson, “Rivlin Says Warned in 1967 Against Extensive Annexation of Arab Neighborhoods in Jerusalem,” Haaretz, December 27, 2015, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-rivlin-warned-of-annexing-e-j-lem-1.5382574 (accessed June 4, 2020); Jerusalem Institute for Policy Research, “Residents, Not Citizens: Israeli Policy towards the Arabs in East Jerusalem, 1967-2017,” 2017, https://jerusaleminstitute.org.il/wp-content/uploads/2019/05/PUB_%D7%AA%D7%95%D7%A9%D7%91%D7%95%D7%AA.pdf (accessed June 4, 2020), pp. 46, 53-54; Oren Ziv, “In Pictures: The airport That No One Takes Off from Anymore,” (Hebrew), Local Call, April 18, 2020, https://bit.ly/2MClz8C (accessed June 4, 2020).

[411] Human Rights Watch phone interview with Munir Zghayyar, Kufr Aqab Residents Committee Chair, May 17, 2020.

[412] See, for example, Nir Hasson, “Israel Opens Vaccination Center at Checkpoint to Reach Palestinian East Jerusalem Residents,” Haaretz, February 24, 2021, https://www.haaretz.com/israel-news/israel-opens-vaccination-center-at-checkpoint-in-bid-to-reach-e-jerusalem-residents-1.9563857 (accessed February 24, 2021) (noting that Kufr Aqab has 100,000 residents, including 70,000 Israeli ID holders). The Jerusalem Institute for Policy Research estimated in 2018 that 61,500 people live in the part within the Jerusalem municipality, while another 10,000 live in the portion of Kufr Aqab outside the Jerusalem municipality. Jerusalem Institute for Policy Research, “Kufr Aqab: Abstract.” ACRI also used a figure of 61,500 for Kufr Aqab’s population in Jerusalem. ACRI, “East Jerusalem: Facts and Figures 2019.” The Meir Amit Intelligence and Terrorism Information Center put the number of Jerusalem residents in Kufr Aqab at between 70,000 and 75,000, citing July 2020 data from the Jerusalem municipality. The Meir Amit Intelligence and Terrorism Information Center, “COVID-19 in the East Jerusalem Neighborhoods: The Exceptional Case of Kafr ‘Aqab,” August 3, 2020, https://www.terrorism-info.org.il/app/uploads/2020/08/E_189_20.pdf (accessed August 4, 2020), p. 2.

[413] Human Rights Watch phone interview with Kufr Aqab municipal council representative (name withheld), May 17, 2020.

[414] B’Tselem, “Under the Guise of Legality: Israel's Declarations of State Land in the West Bank,” February 2012, https://www.btselem.org/download/201203_under_the_guise_of_legality_eng.pdf (accessed March 28, 2021).

[415] Human Rights Watch phone interview with Kufr Aqab municipal council representative (name withheld), May 17, 2020. The ARIJ estimates that, in total, Israeli authorities confiscated 2,037 dunams of Kufr Aqab lands: ARIJ, “Kafr 'Aqab Village Profile,” 2012, http://proxy.arij.org/vprofile/jerusalem/pdfs/vprofile/Kafr%20'Aqab_EN.pdf (accessed June 4, 2020); “Kochav Ya’akov,” Peace Now, https://peacenow.org.il/en/settlements/settlement55-en (accessed June 4, 2020).

[416] Yesh Din, “Petitions to Halt Construction of Illegal Structures Near the Settlement Kochav Yaakov and Annul the Declaration of Kafr Aqab Land as State Land,” July 19, 2018, https://www.yesh-din.org/en/petition-to-halt-construction-of-illegal-structures-by-the-settlement-of-kochav-yaakov-hcj-650509-barkat-et-al-v-the-minister-of-defense-et-al/ (accessed June 4, 2020); Michael Sfard, Yesh Din legal advisor, email to Human Rights Watch, May 8, 2020.

[417] Hagar Shezaf, “Top Court Green Lights Israel Land Claim in Ruling That Could Pave Way for Legalizing Outposts,” Haaretz, December 1, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israeli-high-court-rejects-petition-against-declaring-west-bank-area-state-land-1.9338816 (accessed December 20, 2020).

[418] “Plan Advanced for a New Settlement in Atarot in the Heart of Palestinian East Jerusalem,” Peace Now press release, February 18, 2020, https://peacenow.org.il/en/plan-advanced-for-a-new-settlement-in-atarot-in-the-heart-of-palestinian-east-jerusalem (accessed June 4, 2020).

[419] Ir Amim, “The Separation Barrier,” http://www.ir-amim.org.il/en/issue/separation-barrier (accessed June 4, 2020).

[420] Human Rights Watch phone interviews with and Kufr Aqab municipal council representatives (names withheld), May 13 and May 17, 2020.

[421] Grassroots Jerusalem, “Kufr ‘Aqab & Qalandia Refugee Camp,” (map) 2015, https://www.grassrootsalquds.net/sites/default/files/kufraqab_qalandiarefugeecamp_small-2_0.pdf (accessed June 4, 2020).

[422] Jerusalem Institute for Policy Research, “Kufr Aqab: Abstract,” p. I.

[423] Cited in Ir Amim, “Displaced in Their Own City,” p. 40.

[424] Human Rights Watch phone interview with Munir Zghayyar, May 17, 2020.

[425] Ir Amim, “Displaced in Their Own City,” p. 51; Jerusalem Institute for Policy Research, “Kufr Aqab: Abstract.”

[426] OCHA, “East Jerusalem Palestinian Localities Behind the Barrier,” August 10, 2016, https://www.ochaopt.org/content/east-jerusalem-palestinian-localities-behind-barrier (accessed June 4, 2020).

[427] Jacob Burns, “Life Beyond the Wall: Israel Neglecting Palestinian Residents of Jerusalem,” Middle East Eye, June 7, 2017, https://www.middleeasteye.net/news/life-beyond-wall-israel-neglecting-palestinian-residents-jerusalem (accessed June 4, 2020).

[428] Human Rights Watch phone interview with Kufr Aqab resident (name withheld), May 20, 2020; Human Rights Watch phone interview with Kufr Aqab resident (name withheld), May 18, 2020; Human Rights Watch phone interview with Munir Zghayyar, May 17, 2020.

[429] Human Rights Watch phone interview with Kufr Aqab resident (name withheld), May 18, 2020.

[430] Human Rights Watch phone interview with Munir Zghayyar, May 17, 2020.

[431] Ir Amim, “Displaced in Their Own City,” p. 42.

[432] Human Rights Watch phone interview with Munir Zghayyar, May 17, 2020; Human Rights Watch phone interview with Kufr Aqab municipal council representative (name withheld), May 17, 2020.

[433] Human Rights Watch phone interview with Moien Odeh, lawyer, May 7, 2020.

[434] Ir Amim, “Displaced in Their Own City,” p. 46. 

[435] Ibid. 

[436] By contrast, authorities have carried out few demolitions in Kufr Aqab. Human Rights Watch phone interview with Kufr Aqab municipal council employee (name withheld), May 13, 2020; Nir Hasson, “In Highly Rare Move, Israel to Demolish Five Palestinian Residential Buildings Behind Separation Barrier,” Haaretz, October 28, 2017, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israel-to-demolish-5-residential-buildings-behind-separation-barrier-1.5460444 (accessed June 3, 2020); The Israeli Committee Against Home Demolitions (ICAHD), “Demolition and Displacement Report – June 2019,” https://icahd.org/2019/07/03/demolition-and-displacement-report-june-2019/ (accessed June 3, 2020).

[437] Human Rights Watch phone interview with Munir Zghayyar, May 17, 2020. Zghayyar estimated that an apartment that costs $100,000 in Kufr Aqab would cost between $350,000 to $400,000 in Beit Hanina, a Palestinian neighborhood on the other side of the wall in East Jerusalem.

[438] See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section.

[439] Ibid.

[440] Human Rights Watch phone interview with Kufr Aqab resident (name withheld), May 18, 2020.

[441] OCHA, “East Jerusalem Palestinian Localities Behind the Barrier.”

[442] Ibid.; Jerusalem Institute for Policy Research, “Kufr Aqab: Abstract.”

[443] Human Rights Watch phone interview with Moien Odeh, May 7, 2020.

[444] Human Rights Watch phone interview with Kufr Aqab municipal council employee (name withheld), May 13, 2020.

[445] Jerusalem Institute for Policy Research, “Kufr Aqab: Abstract.” p. III.

[446] Human Rights Watch phone interview with Kufr Aqab municipal council representative (name withheld), May 17, 2020.

[447] OCHA, “East Jerusalem Palestinian Localities Behind the Barrier.”

[448] Ir Amim, “Displaced in Their Own City,” p. 35.

[449] Ibid.; Jerusalem Institute for Policy Research, “Kufr Aqab: Abstract,” p. V.

[450] Human Rights Watch phone interview with Munir Zghayyar, May 17, 2020; Jerusalem Institute for Policy Research, “Kufr Aqab: Abstract.”

[451] Mohammed Daraghmeh and Joseph Krauss, “Palestinians Fear Outbreak in Jerusalem’s ‘No Man’s Land’,” Associated Press, May 6, 2020, https://apnews.com/5a23ac37a37b636d95ebc2436cebabcb (accessed June 4, 2020).

[452] Human Rights Watch phone interview with Kufr Aqab municipal council employee (name withheld), May 13, 2020; HyoJin Park, “The Paramedics of Jerusalem,” Al Jazeera, January 10, 2018, https://www.aljazeera.com/indepth/features/paramedics-jerusalem-180110074447702.html (accessed June 4, 2020); WHO, “Health Conditions in the Occupied Palestinian Territory, including East Jerusalem, and in the Occupied Syrian Golan,”, November 5, 2020, https://apps.who.int/gb/ebwha/pdf_files/WHA73/A73_15-en.pdf (accessed March 29, 2021).

[453] Ir Amim, “Displaced in Their Own City,” p. 38. For more on the Shuafat refugee camp, see Jerusalem Institute for Policy Research, “Shuafat Refugee Camp: Abstract,” 2019, https://bit.ly/2AdOQnw (accessed June 4, 2020); Mersiha Gadzo, “Shuafat Demolition to Tighten Israel's Control over Jerusalem,” Al Jazeera, November 22, 2018, https://www.aljazeera.com/news/2018/11/shuafat-demolition-tighten-israel-control-jerusalem-181122150238941.html (accessed June 4, 2020).

[454] OCHA, “East Jerusalem Palestinian Localities Behind the Barrier.”

[455] Ir Amim, “Displaced in Their Own City,” pp. 38-39.

[456] Ibid.

[457] Ibid., pp. 39-40.

[458] Ibid., pp. 38-39.

[459] OCHA, “East Jerusalem Palestinian Localities Behind the Barrier.”

[460] Lawsuit on file with Human Rights Watch. The Jerusalem Institute for Public Affairs for Policy in 2018 and ACRI in 2019 both estimated that 61,500 people live in the portion of Kufr Aqab within Jerusalem, which constitutes 6.7 percent of the population in the Jerusalem municipality as of July 2019 of 921,000.

[461] Human Rights Watch phone interview with Munir Zghayyar, May 17, 2020.

[462] Human Rights Watch phone interview with Moien Odeh, May 7, 2020.

[463] Ir Amim, “Displaced in Their Own City,” p. 35.

[464] Documents on file with Human Rights Watch.

[465] See, for example, Aseel Jundi and Atef Daghlas, “Why Has Israel Allowed the Palestinian Authority to Pave a Road in the Jerusalem Municipality?” (Arabic), Al Jazeera, February 26, 2020, aljazeera.net/news/alquds/2020/2/26/القدس-إسرائيل-فلسطين-الاحتلال-شارع (accessed June 4, 2020).

[466] Miriam Berger, “Israel’s ‘Checkpoint Q’: A Daily Hurdle for Palestinians,” Reuters, April 26, 2017, https://www.reuters.com/article/us-israel-palestinians-qalandiya-idUSKBN17S23D (accessed July 12, 2020).

[467] Moien Odeh email to Human Rights Watch, June 25, 2020.

[468] Ir Amim, “Displaced in Their Own City,” p. 35; ARIJ, “Kafr 'Aqab Village Profile,” 2012.

[469] Human Rights Watch phone interview with Moien Odeh, May 7, 2020. The Jerusalem Water Undertaking also services parts of the Palestinian neighborhood of Beit Hanina. Jerusalem Institute for Policy Research, “Kufr Aqab: Abstract.”

[470] Hasson, “Israel Opens Vaccination Center at Checkpoint to Reach Palestinian East Jerusalem Residents,” Haaretz, February 24, 2021. Idan Zonshine, “COVID Vaccine: Israel Sets Up Palestinians in East Jerusalem,” Jerusalem Post, February 23, 2021, https://www.jpost.com/health-science/mda-to-set-up-vaccination-station-at-qalandiya-crossing-in-east-jerusalem-659877 (accessed February 23, 2021).

[471] ACRI, “Implications of Establishing a Separate Local Authority for the Neighborhoods Beyond the Barrier in Jerusalem,” Position Paper, November 2017, https://law.acri.org.il/en/wp-content/uploads/2017/11/Separate-Municiplaity-Position-Paper-1.pdf (accessed June 4, 2020).

[472] Oslo II, art. 31.

[473] See Gisha, “50 Shades of Control,” June 2017, https://gisha.org/UserFiles/File/publications/50_Shades/50_Shades_Of_Control_EN.pdf (accessed June 4, 2020).

[474] Gisha, “Scale of Control: Israel’s Continued Responsibility in the Gaza Strip,” November2011, http://gisha.org/UserFiles/File/scaleofcontrol/scaleofcontrol_en.pdf (accessed June 6, 2020). In 2001, Israel bombed the airport that had operated briefly in Gaza and destroyed the site where construction of a seaport was to begin.

[475] COGAT, “Procedure For Settlement In The Gaza Strip By Residents Of Judea And Samaria Area,” 2018.

[476]  Gisha, “Scale of Control,” pp. 17-19.

[477] Ibid., pp. 19-20.

[478] Ibid., pp. 20-22.

[479] Ibid., pp. 22-23.

[480] Both the ICRC and the UN continue to refer to Gaza as occupied territory. Email from Yves Sorokobi, Office of the UN Secretary General Spokesperson, to Gisha, February 7, 2007, on file with Human Rights Watch. “The UN welcomed the Israeli disengagement from Gaza in August 2005. However, there has been no change in our characterization of the Gaza Strip as occupied territory.” See ICRC, “Gaza Closure Not Another Year!”, June 14, 2010, www.icrc.org/eng/resources/documents/update/palestine-update-140610.htm (accessed December 24, 2020). Also see Gisha, “Scale of Control,” pp. 29-30; Gisha, “Separating Land, Separating People: Legal Analysis of Access Restrictions between the West Bank and Gaza,” June 2015, https://bit.ly/2MJaYc4pp (accessed June 4, 2020), footnote 5, pp. 10-11.

[481] Human Rights Watch, Unwilling or Unable: Israeli Restrictions on Access to and from Gaza for Human Rights Workers (New York: Human Rights Watch, 2017), https://www.hrw.org/report/2017/04/02/unwilling-or-unable/israeli-restrictions-access-and-gaza-human-rights-workers.

[482] UNRWA, “Where We Work: Gaza Strip,” https://www.unrwa.org/where-we-work/gaza-strip (accessed June 4, 2020); see Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section; Human Rights Watch Policy on the Right of Return; ICCPR, adopted December 16, 1966, G.A. Res. 2200A (XXI), 21 U.N. GAOR Supp. (No. 16) at 52, U.N. Doc. A/6316 (1966), 999 U.N.T.S. 171, entered into force March 23, 1976, https://www.ohchr.org/en/professionalinterest/pages/ccpr.aspx (accessed June 4, 2020), art. 12.4; UN Human Rights Committee (HRC), CCPR General Comment No. 27: Article 12 (Freedom of Movement), 2 November 1999, CCPR/C/21/Rev.1/Add.9, available at https://www.refworld.org/docid/45139c394.html (accessed June 9, 2020); “Dr. Awad Presents a Brief on Palestinians at the End of 2020,” PCBS press release.

[483] See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section; HaMoked, “Ceased Residency”: Between 1967 and 1994 Israel Revoked the Residency of Some Quarter Million Palestinians from the West Bank and the Gaza strip,” June 12, 2012, http://www.hamoked.org/Document.aspx?dID=Updates1175 (accessed June 9, 2020).

[484] Gisha, “Changes at Rafah Crossing,” n.d., https://gisha.org/updates/1688 (accessed September 17, 2020).

[485] Israel CBS, “Localities (1) And Population, By Municipal Status And District (2),” 2004.

[486] Israel MFA, “Security Cabinet Declares Gaza Hostile Territory.” September 19, 2007.

[487] See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section.

[488] Human Rights Watch, Unwilling or Unable.

[489] “Gaza: Israeli Soldiers Shoot and Kill Fleeing Civilians,” Human Rights Watch news release, August 4, 2014, https://www.hrw.org/news/2014/08/04/gaza-israeli-soldiers-shoot-and-kill-fleeing-civilians; “Israel/Palestine: Unlawful Israeli Airstrikes Kill Civilians,” Human Rights Watch news release, July 15, 2014, https://www.hrw.org/news/2014/07/15/israel/palestine-unlawful-israeli-airstrikes-kill-civilians; Human Rights Watch, White Flag Deaths: Killings of Palestinian Civilians during Operation Cast Lead (New York: Human Rights Watch, 2009) https://www.hrw.org/report/2009/08/13/white-flag-deaths/killings-palestinian-civilians-during-operation-cast-lead; Human Rights Watch, Rain of Fire: Israel’s Unlawful Use of White Phosphorus in Gaza (New York: Human Rights Watch, 2009) https://www.hrw.org/report/2009/03/25/rain-fire/israels-unlawful-use-white-phosphorus-gaza; Human Rights Watch, Precisely Wrong: Gaza Civilians Killed by Israeli Drone-Launched Missiles (New York: Human Rights Watch, 2009) https://www.hrw.org/report/2009/06/30/precisely-wrong/gaza-civilians-killed-israeli-drone-launched-missiles; “Israel: Gaza Airstrikes Violated Laws of War,” Human Rights Watch news release, February 12, 2013, https://www.hrw.org/news/2013/02/12/israel-gaza-airstrikes-violated-laws-war; “Gaza: Unlawful Attacks in May Fighting,” Human Rights Watch news release, June 12, 2019, https://www.hrw.org/news/2019/06/12/gaza-unlawful-attacks-may-fighting;

[490] Human Rights Watch, World Report 2015, (New York: Human Rights Watch, 2015), Israel/Palestine chapter, https://www.hrw.org/world-report/2015/country-chapters/israel/palestine; Human Rights Watch, World Report 2013, (New York: Human Rights Watch, 2013), Israel/Palestine chapter, https://www.hrw.org/world-report/2013/country-chapters/israel/palestine; Human Rights Watch, World Report 2010, (New York: Human Rights Watch, 2010), Israel/Palestine chapter, https://www.hrw.org/world-report/2010/country-chapters/israel/palestine.

[491] “Gaza: Palestinian Rockets Unlawfully Targeted Israeli Civilians,” Human Rights Watch news release, December 24, 2012, https://www.hrw.org/news/2012/12/24/gaza-palestinian-rockets-unlawfully-targeted-israeli-civilians; Human Rights Watch, Indiscriminate Fire: Palestinian Rocket Attacks on Israel and Israeli Artillery Shelling in the Gaza Strip  (New York: Human Rights Watch, 2007) hrw.org/reports/2007/iopt0707/; “Gaza: Unlawful Attacks in May Fighting,” Human Rights Watch news release, June 12, 2019, https://www.hrw.org/news/2019/06/12/gaza-unlawful-attacks-may-fighting; “Gaza: Apparently Unlawful Israeli Strikes Kill at Least 11 Civilians,” Human Rights Watch news release, February 4, 2020, https://www.hrw.org/news/2020/02/04/gaza-apparently-unlawful-israeli-strikes-kill-least-11-civilians.

[492] “Gaza: Widespread Impact of Power Plant Attack,” Human Rights Watch news release, August 10, 2014, https://www.hrw.org/news/2014/08/10/gaza-widespread-impact-power-plant-attack; Human Rights Watch, “I Lost Everything”: Israel's Unlawful Destruction of Property during Operation Cast Lead (New York: Human Rights Watch, 2010) https://www.hrw.org/report/2010/05/13/i-lost-everything/israels-unlawful-destruction-property-during-operation-cast-lead; “Israel: In-Depth Look at Gaza School Attacks,” Human Rights Watch news release, September 11, 2014, https://www.hrw.org/news/2014/09/11/israel-depth-look-gaza-school-attacks.

[493] B’Tselem, “4.5 years after Israel destroyed thousands of homes in Operation Protective Edge: 13,000 Gazans still homeless,” March 3, 2019, https://www.btselem.org/gaza_strip/20190303_13000_gazans_homelsess_since_2014_war (accessed June 26, 2020).

[494] OCHA, “Humanitarian Needs Overview – OPT,” December 2019.

[495] Raoul Wootliff, “‘Parts of Gaza Sent Back to Stone Age’: Gantz Videos Laud His IDF Bona Fdes,” Times of Israel, January 20, 2019, https://www.timesofisrael.com/only-the-strong-survive-gantzs-new-campaign-videos-laud-his-idf-bona-fides/ (accessed June 4, 2020).

[496] B’Tselem, “Whitewash Protocol: The So-Called Investigation of Operation Protective Edge,” September 2016, https://www.btselem.org/download/201609_whitewash_protocol_eng.pdf (accessed June 4, 2020).

[497] “Israel: Apparent War Crimes in Gaza,” Human Rights Watch news release, June 13, 2018, https://www.hrw.org/news/2018/06/13/israel-apparent-war-crimes-gaza.

[498] OCHA, “Two Years On: People Injured and Traumatized During ‘Great March of Return’ Still Struggling” April 6, 2020, https://www.ochaopt.org/content/two-years-people-injured-and-traumatized-during-great-march-return-are-still-struggling#ftn3 (accessed July 3, 2020).

[499] “UN Commission Urges Israel to Review Rules of Engagement Before Gaza Protest Anniversary,” UN HRC news release, March 18, 2019, https://www.ohchr.org/EN/HRBodies/HRC/Pages/NewsDetail.aspx?NewsID=24348&LangID=E (accessed June 4, 2020); World Health Organization (WHO), “Situation Report: Occupied Palestinian Territory, Gaza: 01–31 August 2019,” http://www.emro.who.int/images/stories/palestine/documents/sitrep_aug_2019_v0_sh_rev_gro.pdf?ua=1 (accessed June 4, 2020).

[500] “UN Commission Urges Israel to Review Rules of Engagement Before Gaza Protest Anniversary,” UN HRC news release.

[501] “Israel: Gaza Killings Unlawful, Calculated,” Human Rights Watch news release, April 3, 2018, https://www.hrw.org/news/2018/04/03/israel-gaza-killings-unlawful-calculated.

[502] Ibid.; Judah Ari Gross “IDF Gears Up for Mass Gaza Riots, Warns that Hamas Plans to ‘Massacre’ Israelis,” Times of Israel, May 13, 2018, https://www.timesofisrael.com/idf-gears-up-for-mass-gaza-riots-warning-hamas-plans-to-massacre-israelis/ (accessed August 17, 2020).

[503] “About 13 Million Palestinians in the Historical Palestine and Diaspora, on the Occasion of the International Population Day, 11/7/2019,” PCBS press release, July 10, 2019, http://www.pcbs.gov.ps/post.aspx?lang=en&ItemID=3503 (accessed August 17, 2020); UN High-level Political Forum on Sustainable Development, “Israel - Voluntary National Review 2019,” https://sustainabledevelopment.un.org/index.php?page=view&type=30022&nr=1273&menu=3170 (accessed June 4, 2020).

[504] Letter from Public Inquiries Section - IDF spokesperson, to Gisha (Hebrew), August 11, 2015, https://gisha.org/UserFiles/File/LegalDocuments/buffer_zone/8.3.2015_foi_to_idf_answer_2.pdf (accessed June 4, 2020).

[505] Gisha, “Closing In,” August 2018, https://features.gisha.org/closing-in/ (accessed June 4, 2020); Al Mezan Center for Human Rights, “Israeli occupation violation statistics in areas of restricted access by land – from 1/1/2010 – 31/12/2019,” (Arabic), http://mezan.org/posts/60/+%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%B7%D9%82+%D9%85%D9%82%D9%8A%D8%AF%D8%A9+%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%B5%D9%88%D9%84 (accessed June 24, 2020).

[506] Michael Schaeffer Omer-Man, “IDF Admits Spraying Herbicides Inside the Gaza Strip,” +972 Magazine, December 28, 2015, https://www.972mag.com/idf-admits-spraying-herbicides-inside-the-gaza-strip/115290/ (accessed June 4, 2020).

[507] Gisha, “Closing In.”

[508] Forensic Architecture, “Herbicidal Warfare in Gaza (January 2020 update),” video report, January 20, 2020, https://vimeo.com/386063595 (accessed June 4, 2020).

[509] Michael Schaeffer Omer-Man, “IDF Admits Spraying Herbicides Inside the Gaza Strip,” +972 Magazine; “Severe Damage to Crops in Gaza Following Aerial Herbicide Spraying by Israel,” Gisha press release, January 28, 2020, https://gisha.org/updates/10909 (accessed June 4, 2020).

[510] See, for example, WHO, “The WHO Recommended Classification of Pesticides by Hazard and Guidelines to Classification,” 2019 edition, https://bit.ly/2ZvNVbZ (accessed July 15, 2020); United States Environmental Protection Agency (EPA), “Glyphosate Draft Human Health Risk Assessment for Registration Review” memorandum, December 12, 2017, https://bit.ly/32jHoTq (accessed July 15, 2020); Luoping Zhang, Iemaan Rana, Rachel M. Shaffer, Emanuela Taioli and Lianne Sheppard, “Exposure to Glyphosate-based Herbicides and Risk for Non-Hodgkin Lymphoma: A Meta-analysis and Supporting Evidence,” Mutation Research, Volume 781, July–September 2019, 186-206, https://bit.ly/2OqNLfJ (accessed July 15, 2020).

[511] Gisha, “Closing In,”; See, for example, “Changes to Gaza’s Fishing Zone Implemented by Israel in 2019,” Gisha press release, June 13, 2019, https://gisha.org/publication/10931 (accessed June 4, 2020).

[512] Gisha, “Fishing Zone Reduced Again in Act of Collective Punishment,” May 30, 2019, https://gisha.org/updates/10086 (accessed September 17, 2020).

[513] Quoted in Gisha, “Closing In.”; Abier Almasri, “Israeli Forces Kill Gaza Fisherman at Sea,” Human Rights Dispatch, June 18, 2017, https://www.hrw.org/news/2017/06/18/israeli-forces-kill-gaza-fisherman-sea.

[514] “Israel Destroying Gaza’s Fishing Sector,” B’Tselem, updated June 19, 2018, https://www.btselem.org/gaza_strip/20170129_killing_the_fishing_sector (accessed June 4, 2020).

[515] Israel MFA, “Security Cabinet Declares Gaza Hostile Territory,” September 19, 2007.

[516] Gisha, “Kerem Shalom Crossing,” March 3, 2020, https://features.gisha.org/kerem-shalom-crossing/ (accessed June 4, 2020); Gisha, “Gaza Up Close,” September 1, 2020, https://features.gisha.org/gaza-up-close/ (accessed December 24, 2020).

[517] Maayan Lubell, “Israel Gaza Blockade Study Calculated Palestinians' Calories,” Reuters, October 17, 2012, https://www.reuters.com/article/us-palestinians-israel-gaza/israel-gaza-blockade-study-calculated-palestinians-calories-idUSBRE89G0NM20121017 (accessed June 4, 2020).

[518] Ibid.

[519] Gisha, “Kerem Shalom Crossing.”

[520] COGAT, “A List of Dual-use Goods and Equipment Requiring a Special License for Transportation,” (Arabic) February 26, 2020, https://www.gov.il/ar/departments/policies/alistofdualusegoodsandequipmentboundbyaspeciallicenseforthepurposeoftransport (accessed June 4, 2020).

[521] WHO, “Medical Equipment in Gaza’s Hospitals: Internal Management, the Israeli Blockade and Foreign Donations,” July 2009,

http://www.emro.who.int/images/stories/palestine/documents/pdf/Medical_equipment_in_Gaza_EB_reportJuly09.pdf (accessed June 4, 2020), pp. 6-8.

[522] Gisha, “Dark-gray lists,” Information Sheet, January 31, 2016, https://gisha.org/UserFiles/File/publications/Dark_Gray_Lists/Dark_Gray_Lists-en.pdf (accessed June 4, 2020), p. 1.

[523] OCHA, “Import Restrictions Impede Delivery of Services and Humanitarian Assistance,” (blog) September 2015,

https://www.ochaopt.org/content/gaza-strip-import-restrictions-impede-delivery-services-and-humanitarian-assistance (accessed June 4, 2020).

[524] Gisha, “Gaza Up Close;” “First Time: Egypt Permits the Entry of Cement and Goods to Gaza via the Salah al-Din Crossing” (Arabic), Sama News Agency, February 7, 2018, https://bit.ly/3rrxw32 (accessed September 17, 2020).

[525] Gisha, “Kerem Shalom Crossing.”

[526] Gisha Gaza export figures on file with Human Rights Watch.

[527] Gisha, “Gaza Up Close.”

[528] Gisha, “Kerem Shalom Crossing.”

[529] Gisha, “50 shades of control.”

[530] “For the First Time in Eight Years: Produce from Gaza to be Sold in Israel,” Gisha press release, March 12, 2015, https://gisha.org/updates/4065 (accessed June 4, 2020); “Following Gisha’s Petition, Ministry of Agriculture Releases Procedure for Sale of Agricultural Produce from Gaza in the West Bank and Israel,” Gisha press release, May 5, 2019, https://gisha.org/legal/10285 (accessed June 4, 2020).

[531] Ibid.; Gisha email to Human Rights Watch, April 4, 2021. In February 2021, Israeli authorities announced that they would formally also permit the sale of peppers and zucchini, but, according to Gisha, none have actually exited Gaza due to onerous conditions on shipping the produce. Their policies have also at times formally allowed exit of strawberries to Israel, but other restrictions have generally blocked their actual exit.

[532] “Cookie Crackdown: How Israel’s Ban on Exit of Processed Food Impedes an Entire Industry,” Gisha press release, November 2018, https://gisha.org/publication/9676 (accessed June 24, 2020). In November 2020, two truckloads of snacks by a Gaza-based company made it to the West Bank, marking the first time a Gaza company successfully had been able to transit processed foods to the West Bank since 2007. Gisha (@Gisha_Access), November 23, 2020, Twitter, https://twitter.com/Gisha_Access/status/1330897579442311169?s=20 (accessed December 24, 2020).

[533] “Gisha in Response to Israel’s Statements at the AHLC Today: Change in Gaza Can Only Begin with Recognition of Israel’s Responsibility,” Gisha press release, January 31, 2018, https://gisha.org/press/8595 (accessed June 4, 2020).

[534] Ibid.; Gisha, “50 Shades of Control”; Gisha, “Kerem Shalom Crossing.”

[535] Gisha, “50 Shades of Control.”

[536] See Gisha, “A Costly Eivide: Economic Repercussions of Separating Gaza and the West Bank,” February 2015,

http://gisha.org/UserFiles/File/publications/a_costly_divide/a_costly_divide_en-web.pdf (accessed June 4, 2020).

[537] PCBS, “Quarterly National Accounts Variables in Palestine for the years 2017, 2018” undated, http://www.pcbs.gov.ps/Portals/_Rainbow/Documents/E.QNA_Constant.htm (accessed August 18, 2020). Baseline year – 2004. Also see United Nations Conference on Trade and Development (UNCTAD), “Fifty Years of Occupation Have Driven the Palestinian Economy into De-development and Poverty,” September 12, 2017, https://unctad.org/en/pages/newsdetails.aspx?OriginalVersionID=1539 (accessed August 18, 2020).

[538] UNRWA, “Protection in the Gaza Strip,” https://www.unrwa.org/activity/protection-gaza-strip (accessed June 4, 2020).

[539] OCHA, “Humanitarian Needs Overview – OPT,” December 2019, p. 11.

[540] Ibid.; “Unemployment in Gaza in Q2 of 2019 is 46.7%,” Gisha press release, September 4, 2019, https://gisha.org/updates/10396 (accessed June 4, 2020).

[541] Gisha, “Hand on the Switch: Who’s Responsible for Gaza’s Infrastructure Crisis?” January 2017, https://gisha.org/UserFiles/File/publications/infrastructure/Hand_on_the_Switch-EN.pdf (accessed June 4, 2020), p. 4.

[542] Ibid.; “Gaza: Widespread Impact of Power Plant Attack,” Human Rights Watch news release, August 10, 2014, https://www.hrw.org/news/2014/08/10/gaza-widespread-impact-power-plant-attack; Albassiouni v. Prime Minister, HCJ 9132/07, January 30, 2008, available at https://versa.cardozo.yu.edu/sites/default/files/upload/opinions/Ahmed%20v.%20Prime%20Minister.pdf (accessed June 4, 2020).

[543] Ibid.

[544] Raf Sanchez, “Israel Cuts Gaza Electricity after Palestinian President Says He Will No Longer Pay the Bill for Hamas,” Daily Telegraph, June 12, 2017, https://www.telegraph.co.uk/news/2017/06/12/israel-cuts-gaza-electricity-palestinian-president-says-will/ (accessed June 4, 2020).

[545] “Gaza: Widespread Impact of Power Plant Attack,” Human Rights Watch news release; “Gaza: Israeli Offensive Must Limit Harm to Civilians,” Human Rights Watch news release, June 28, 2006, https://www.hrw.org/news/2006/06/28/gaza-israeli-offensive-must-limit-harm-civilians.

[546] “The Gaza Electricity Crisis – FAQs,” Gisha, updated January 3, 2018, https://gisha.org/UserFiles/File/publications/Electricity_FAQ/Electricity_FAQ_EN.pdf (accessed June 4, 2020).

[547] Gisha, “Hand on the Switch.”

[548] Ibid.

[549] Ibid., p. 6.

[550] Ibid.

[551] OCHA, “Gaza Strip: Early Warning Indicators - December 2019,” https://www.ochaopt.org/sites/default/files/early_warning_indicator_december_2019.pdf (accessed June 4, 2020); OCHA, “Improvements to Gaza Electricity,” July 16, 2019, https://www.ochaopt.org/content/improvements-gaza-electricity-supply (accessed August 17, 2020).

[552] Abier Almasri (Human Rights Watch), “In Gaza, We Get Four Hours of Electricity a Day — If We’re Lucky,” commentary, Los Angeles Times, August 20, 2017, https://www.hrw.org/news/2017/08/20/gaza-we-get-four-hours-electricity-day-if-were-lucky.

[553] Al Haq, “Water for One People Only,” pp. 28-31.

[554] OCHA, “Humanitarian Needs Overview 2019,” December 2018, https://www.humanitarianresponse.info/sites/www.humanitarianresponse.info/files/2018/12/humanitarian_needs_overview_2019-%281%29.pdf (accessed June 4, 2020); p. 22. In March 2019, the Palestinian CBS and PWA said that “more than 97% of the water pumped from the coastal aquifer does not meet the water quality standards of the World Health Organization.”; “The Palestinian Central Bureau of Statistics (PCBS) and the Palestinian Water Authority (PWA) Issue a Press Release on the Occasion of World Water Day, March 22, 2019” PCBS press release, March 22, 2019, http://www.pcbs.gov.ps/portals/_pcbs/PressRelease/Press_En_21-3-2019-water-en.pdf (accessed August 17, 2020). Also see, “Failing Gaza: Undrinkable Water, No Access to Toilets and Little Hope on the Horizon,” Oxfam, April 24, 2017, https://www.oxfam.org/en/failing-gaza-undrinkable-water-no-access-toilets-and-little-hope-horizon (accessed June 4, 2020).

[555] Yaniv Kubovich, “Polluted Water Leading Cause of Child Mortality in Gaza, Study Finds,” October 16, 2018, https://www.haaretz.com/middle-east-news/palestinians/.premium.MAGAZINE-polluted-water-a-leading-cause-of-gazan-child-mortality-says-rand-corp-study-1.6566812 (accessed August 17, 2020).

[556] Gisha, “Hand on the Switch.”

[557] OCHA, “Humanitarian Needs Overview 2019,” p. 22.

[558] Gisha, “50 Shades of Control.”

[559] Gisha, “Hand on the Switch.”

[560] Ibid.

[561] OCHA, “Gaza Strip: Early Warning Indicators - December 2019.”

[562] Human Rights Watch phone interview with “Yazan,” Gaza City, February 11, 2020.

[563] Authorities, he noted, denied his mother a permit to travel to the West Bank in 2018 to attend a brother’s funeral and his aunt from Nablus a permit to enter Gaza in 2019 for his brother’s funeral.

[564] Human Rights Watch phone interview with “Leen,” March 18, 2020.

[565] See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section.

[566] Human Rights Watch phone interview with “Samia,” March 23, 2020.

[567] Human Rights Watch phone interview with “Hadil,” Gaza City, February 16, 2020.

[568] Human Rights Watch phone interview with “Kiran,” March 19, 2020.

[569] “Population of Israel on the Eve of 2021,” Israel CBS press release, December 31, 2020, https://www.cbs.gov.il/he/mediarelease/DocLib/2020/438/11_20_438e.pdf  (accessed March 23, 2021). This figure excludes Israeli settlers, as well as Palestinians from occupied East Jerusalem and all Syrians living in the occupied Golan Heights.

[570] Nimer Sultany, “The Legal Structures of Subordination: The Palestinian Minority and Israeli Law,” in Israel and Its Palestinian Citizens: Ethnic Privileges in the Jewish State, eds. Nadim N. Rouhana and Sahar S. Huneidi (Cambridge University Press, 2017) https://papers.ssrn.com/sol3/papers.cfm?abstract_id=2365177 (accessed June 4, 2020), pp. 202-203.

[571] See Intent to Maintain Domination section.

[572] Adalah, Citizenship Law, No. 32 of 1952, https://www.adalah.org/uploads/oldfiles/Public/files/Discriminatory-Laws-Database/English/37-Citizenship-Law-1952.pdf (accessed May 3, 2020). The official translation calls the law the ‘Nationality Law’, but the Hebrew, Hok ha-Ezrahut, translates literally to ‘Citizenship Law’ and more accurately describes the process laid out. See Shira Robinson, Citizen Strangers: Palestinians and the Birth of Israel's Liberal Settler State (Stanford: Stanford University Press, 2013), pp. 72-112.

[573] Israel MFA, Law of Return 5710-1950.

[574] See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section.

[575] See Shira Robinson, Citizenship Strangers, pp. 72-112.

[576] Jack Khoury, “Israel Revokes Citizenship of Hundreds of Negev Bedouin, Leaving Them Stateless,” Haaretz, August 25, 2017, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israel-revokes-citizenship-of-hundreds-of-bedouin-1.5445620 (accessed August 10, 2020); See also “Israel Illegally Revoking Citizenship from Thousands of Bedouin Citizens, Leaving them Stateless,” Adalah press release, September 18, 2017, https://www.adalah.org/en/content/view/9238 (accessed August 12, 2020);

[577] Internal Affairs and Environment Knesset Committee meeting (online), August 10, 2020, attended by Human Rights Watch researcher; Knesset, Internal Affairs and Environment Committee, Protocol No. 49, August 11, 2020, available at https://bit.ly/36hO3Qe (Hebrew), (accessed September 29, 2020); Sue Surkes, “Knesset Demands Answers After Some Negev Bedouin Have Citizenship Revoked,” Times of Israel, August 16, 2020, https://www.timesofisrael.com/knesset-demands-answers-after-some-negev-bedouin-have-citizenship-revoked/ (accessed September 28, 2020).

[578] Knesset, Citizenship and Entry into Israel Law (temporary provision) 5763 – 2003, (unofficial translation),

https://www.knesset.gov.il/laws/special/eng/citizenship_law.htm (accessed June 1, 2020); See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section.

[579] “Israel: Family Reunification Ruling Is Discriminatory,” Human Rights Watch news release, May 17, 2006, https://www.hrw.org/news/2006/05/17/israel-family-reunification-ruling-discriminatory; Adalah, “Ban on Family Unification” - Citizenship and Entry into Israel Law (Temporary Order), https://www.adalah.org/en/law/view/511 (accessed June 4, 2020); Jonathan Lis, “Israeli Legislator Invokes Nation-state Law in Bid to Block Palestinian Family Unification,” June 2, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israeli-legislator-invokes-nation-state-law-in-bid-to-block-palestinian-family-unifi-1.8890451(accessed June 4, 2020); Adalah, Nationality and Entry Into Israel Law (Temporary Order) (Amendment) 2005, https://www.adalah.org/uploads/oldfiles/features/famuni/lawBill27jul05.pdf (accessed June 4, 2020).

[580] Norman Berdichevsky, Modern Hebrew: The Past and Future of a Revitalized Language (North Carolina: McFarland & Company, 2014) https://bit.ly/3178FXz (accessed June 4, 2020), p. 161.

[581] Revital Hovel, “Supreme Court Rejects Citizens' Request to Change Nationality From 'Jewish' to 'Israeli',” Haaretz, October 3, 2013, https://www.haaretz.com/.premium-court-israeli-isn-t-ethnicity-1.5343897 (accessed June 4, 2020).

[582] Ornan v. Ministry of the Interior, CA 8573/08, October 2, 2013, https://versa.cardozo.yu.edu/opinions/ornan-v-ministry-interior (accessed June 4, 2020).

[583] Ibid.

[584] Knesset, Basic Law: Israel - The Nation State of The Jewish People.

[585] Adv. Nezar Bakri v. Karmiel Municipality, November 24, 2020, Krayot Magistrate's Court, ruling on file with Human Rights Watch.

[586] Knesset, Basic Law: The Knesset – 1958.

[587] Political Parties Law, 5752-1992 (Hebrew), https://www.nevo.co.il/law_html/Law01/282_001.htm (accessed June 1, 2020).

[588] Mordechai Kremnitzer, “Israel's Top Court Decided Not to Disqualify Arab Lawmaker, but Its Lack of Conviction Is Disturbing,” Haaretz, February 10, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/elections/.premium-israeli-court-didn-t-disqualify-arab-mk-but-its-lack-of-conviction-is-disturbing-1.8521477 (accessed June 1, 2020).

[589] Rami Ayyub, “A Historic First? Israel's Arabs Could Lead Parliamentary Opposition,” Reuters, September 20, 2019, https://www.reuters.com/article/us-israel-election-arabs/a-historic-first-israels-arabs-could-lead-parliamentary-opposition-idUSKBN1W51SJ (accessed June 1, 2020).

[590] Shira Robinson, Citizen Strangers, p. 68.

[591] ACRI et al., “Kaminitz Law (Draft Planning and Construction Law) (Amendment 109) 5776-2016,” Position Paper, January 29, 2017, https://law.acri.org.il/en/wp-content/uploads/2017/02/2017.2.5-keminitz-law-position-paper-eng.pdf (accessed September 17, 2020).

[592] Israel Land Authority, “About Us.”

[593] See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section for detailed account of the range of methods.

[594] “Israeli Supreme Court Rejects Petition Against JNF Membership in ILA Land Council,” Adalah press release, June 22, 2018,

https://www.adalah.org/en/content/view/9595 (accessed June 10, 2020); ACRI, “Annul JNF representation on the Israel Land Council,” August 23, 2016, https://law.acri.org.il/en/2016/08/23/annul-jnf-representation-on-the-israel-land-council/ (accessed June 10, 2020).

[595] Keren Kayemeth LeIsrael- Jewish National Fund (KKL-JNF), “Jewish People Land,” https://www.kkl-jnf.org/about-kkl-jnf/kkl-jnf-id/jewish-people-land/ (accessed June 10, 2020); Adalah, “Excerpts from the Jewish National Fund’s Response to H.C. 9205/04 and H.C. 9010/04,” https://www.adalah.org/uploads/oldfiles/eng/publications/makan/hc9010.pdf (accessed June 10, 2020).

[596] Adalah, “Excerpts from the Jewish National Fund’s Response to H.C. 9205/04 and H.C. 9010/04”; “Land Controlled by Jewish National Fund for Jews Only,” Adalah press release, July 29, 2007, https://www.adalah.org/en/content/view/6787 (accessed June 10, 2020); KKL-JNF, “A Company with Share Capital with No Par Value - Memorandum of Association,” https://www.kkl.org.il/files/HEBREW_FILES/odotenu/Memorandum-of-Association-English.pdf (accessed June 10, 2020).

[597] See Sikkuy, “The Marketing of State-Owned Land for Development and Construction in Arab Communities – A Summary,” September 2011, sikkuy.org.il/wp-content/uploads/2011/09/marketing_state_land_eng.pdf (accessed June 10, 2020).

[598] Israel CBS, “Localities (1) and Population, By District, Sub-District, Religion and Population Group,” September 15, 2020.

[599] ACRI et al., “Kaminitz Law (Draft Planning and Construction Law) (Amendment 109) 5776-2016,” Position Paper; “Israel: Discriminatory Land Policies Hem in Palestinians,” Human Rights Watch news release, May 12, 2020, https://www.hrw.org/news/2020/05/12/israel-discriminatory-land-policies-hem-palestinians?fbclid=IwAR0vdJktAcKixLI16nilINVibC3uoOI_YXoogQRGpWaynU4YbK_YAXMIqTc.

[600] Ibid.; Also see Sikkuy, “Expansion of Jurisdiction Boundaries in Arab Local Authorities,” http://www.sikkuy.org.il/en/departments/equality-policy-department/expansion-jurisdiction-boundaries-arab-local-authorities/ (accessed June 10, 2019) (estimating that 3.4 percent of land in Israel fell within the jurisdiction of Palestinian municipalities).

[601] Or Commission, Chapter I, “Before October Events: Background, Factors, Predicting Events and Police Readiness. Section A - Escalation processes in the Arab sector in light of the outbreak of riots,” (Hebrew), August 2003, http://uri.mitkadem.co.il/vaadat-or/vaadat-or-part1.html (accessed June 10, 2020).

[602] Bimkom, “Government Resolution 922: Level of Implementation in the Sphere of Planning – Interim Report,” November 2019, https://bimkom.org/wp-content/uploads/922.pdf (accessed June 10, 2020).

[603] “Israel: Discriminatory Land Policies Hem in Palestinians,” Human Rights Watch news release; “Israel: Grant Status Long Denied to Arab Village in Central Israel,” Human Rights Watch news release, October 8, 2010, https://www.hrw.org/news/2010/10/08/israel-grant-status-long-denied-arab-village-central-israel; Human Rights Watch, Off the Map: Land and Housing Rights Violations in Israel’s Unrecognized Bedouin Villages (New York: Human Rights Watch, 2008),

https://www.hrw.org/report/2008/03/30/map/land-and-housing-rights-violations-israels-unrecognized-bedouin-villages.

[604] Human Rights Watch interview with the Arab Center for Alternative Planning, Eilabun, Israel, December 19, 2018. “Israel: Discriminatory Land Policies Hem in Palestinians,” Human Rights Watch news release.

[605] ACRI et al., “Kaminitz Law (Draft Planning and Construction Law) (Amendment 109) 5776-2016,” Position Paper.

[606] “Following Adalah Legal Action, Israel Expands Eligibility for Emergency COVID-19 Food Stamps Program,” Adalah press release, February 3, 2021, https://www.adalah.org/en/content/view/10240 (accessed April 11, 2020). See Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights section; Human Rights Watch, Off the Map.

[607] See Intent to Maintain Domination and Systematic Oppression sections.

[608] Sikkuy, “Development of the Negev and Galilee – For Jews Only?”

[609] Adalah, Law to Amend the Cooperative Societies Ordinance (No. 8), 5771-2011, (unofficial translation), https://www.adalah.org/uploads/oldfiles/Public/files/Discriminatory-Laws-Database/English/12-Admissions-Committees-Law-2011.pdf (accessed June 10, 2020);Israel: New Laws Marginalize Palestinian Arab Citizens,” Human Rights Watch news release, March 30, 2011, https://www.hrw.org/news/2011/03/30/israel-new-laws-marginalize-palestinian-arab-citizens.

[610] “Israeli Supreme Court Upholds ‘Admissions Committees Law’ That Allows Israeli Jewish Communities to Exclude Palestinian Arab Citizens,” Adalah press release, September 17, 2014, https://www.adalah.org/en/content/view/8327 (accessed June 10, 2020); Also see “A Setback in the Fight Against Discrimination in Housing,” ACRI press release, September 17, 2014, https://law.acri.org.il/en/2014/09/17/setback-housing/ (accessed June 10, 2020); Jack Khoury, “Israeli Arab Couple Petitions High Court After Residency Denied,” Haaretz, February 14, 2007, https://www.haaretz.com/1.4805873 (accessed June 10, 2020). 

[611] Yosef Jabareen, “Territoriality of negation: Co-production of “creative destruction” in Israel,” Geoforum, Volume 66, November 2015, pp. 11-25, https://www.sciencedirect.com/science/article/abs/pii/S0016718515002316?via%3Dihub (accessed June 10, 2020).

[612] Sikkuy and Injaz – Center for Professional Arab Local Governance, “From Deficits and Dependence to Balanced Budgets and Independence: The Arab Local Authorities’ Revenue Sources,” April 2014, http://www.sikkuy.org.il/wp-content/uploads/2014/10/localauthorities_eng.pdf (accessed June 10, 2020), p. 4.

[613] Ibid., p. 5.

[614] Sikkuy and Injaz, “The Fund for Reducing Gaps,” (Hebrew and Arabic), Position Paper, May 2020, https://www.sikkuy.org.il/wp-content/uploads/2020/05/%D7%A0%D7%99%D7%99%D7%A8-%D7%A2%D7%9E%D7%93%D7%94-%D7%94%D7%A7%D7%A8%D7%9F-%D7%9C%D7%A6%D7%9E%D7%A6%D7%95%D7%9D-%D7%A4%D7%A2%D7%A8%D7%99%D7%9D-%D7%A1%D7%95%D7%A4%D7%99-1.pdf (accessed June 10, 2020).

[615] Knesset Research and Information Center, Budgetary Control Department, “Description of Industrial Zones and Distribution of Income from Property Taxes - Submitted to the Economics Committee” (Hebrew), July 2018, https://bit.ly/2CUlnQX (accessed August 24, 2020).

[616]  Knesset Research and Information Center, “Distribution of government property taxes revenue by sector,” (Hebrew), July 2020, https://main.knesset.gov.il/Activity/Info/MMM/Pages/document.aspx?docId=5bad2ce5-0899-ea11-8113-00155d0af32a&businessType=1 (accessed July 20, 2020).

[617] Sikkuy email to Human Rights Watch, May 26, 2020.

[618] ACRI et al., “Kaminitz Law (Draft Planning and Construction Law) (Amendment 109) 5776-2016,” Position Paper.

[619] Report on file with Human Rights Watch. This figure includes occupied East Jerusalem and the Golan Heights.

[620] “Arab Mayors Petition Israeli Supreme Court to Demand Equitable Budgets for Arab Towns Confronting COVID-19 Financial Damage,” Adalah press release, June 4, 2020, https://www.adalah.org/en/content/view/10007 (accessed June 16, 2020); Jack Khoury, “Israeli Arab Councils Announce Strike in Protest of 'Discrimination' in Coronavirus Funds,” Haaretz, May 2, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israeli-arab-councils-to-strike-in-protest-of-discrimination-in-coronavirus-funds-1.8814841 (accessed June 10, 2020). Also see, Sikkuy and Injaz, “From Deficits and Dependence to Balanced Budgets and Independence.” An April 2020 Knesset report put the figure at 2.3 percent, but that figure includes occupied East Jerusalem and the Golan Heights. Knesset Report on file with Human Rights Watch. Following a May 2020 lawsuit filed by Adalah on behalf of Palestinian municipalities, the Israeli government in June provided them with an additional NIS 200 million ($57.60 million). “Arab Towns to Receive NIS 200 Million to Mitigate Severe Covid Financial Damages,” Adalah press release, June 4, 2020, https://www.adalah.org/en/content/view/10030 (accessed June 16, 2020).

[621] Human Rights Watch, Second Class: Discrimination Against Palestinian Arab Children in Israel's Schools (New York: Human Rights Watch, 2001) https://www.hrw.org/report/2001/09/30/second-class/discrimination-against-palestinian-arab-children-israels-schools.

[622] Ibid.; Nimer Sultany, “The Making of an Underclass: The Palestinian Citizens of Israel,” Israel Studies Review, Vol. 27, No. 2 (2012), pp. 190-200, https://www.jstor.org/stable/41804808?seq=1 (accessed June 10, 2020); Mossawa Center, “The 2019 State Budget and Government Resolution 922,” n,d,, http://www.mossawa.org/eng//Public/file/12019%20State%20Budget%20and%20Government%20Resolution%20922.pdf (accessed June 10, 2020).

[623] Mossawa Center, “Position Paper from the Mossawa Center on the Israeli State Budget and The Government Decision for Economic Development in the Arab Community for the Years 2016-2020,” 2016, http://www.mossawa.org/eng//Public/file/0Position%20Paper%20Budget%202016-2020.pdf (accessed June 10, 2020).

[624] Or Kashti, “For Jews and Arabs, Israel’s School System Remains Separate and Unequal,” Haaretz, July 7, 2016, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-for-jews-and-arabs-israels-school-system-remains-separate-and-unequal-1.5406700?lts=1593971995108 (accessed July 14, 2020).

[625] Inter-Agency Task Force on Israeli Arab Issues, “Historic Economic Development Plan for Arab Sector: Overview and Key Allocation Areas,” January 2016, https://www.iataskforce.org/activities/view/437 (accessed June 10, 2020).

[626] Human Rights Watch phone interview with local NGO officer (name withheld), May 17, 2020.

[627] Sikkuy and Injaz, “From Deficits and Dependence to Balanced Budgets and Independence.”

[628] Mossawa Center, “The 2019 State Budget and Government Resolution 922.”

[629] “Strategic Outline 2020 for Economic Development of the Minority Population,” May 2020, Israel Ministry for Social Equality, report on file with Human Rights Watch.

[630] Sikkuy, “Infographics: Fair representation through government tenders,” infographic, August 2015, http://www.sikkuy.org.il/wp-content/uploads/2015/10/Tenders-infographic-ENGLISH-FINAL-August-10-2015.pdf; also see “Strategic Outline 2020 for Economic Development of the Minority Population,” Israel Ministry for Social Equality (finding that 41 percent of Palestinian citizens of Israel work in the construction, agriculture and manufacturing industries, though not indicating what percentage of Jewish Israelis work in these industries).

[631] Israel CBS, “Population and Density Per Sq. Km. in Localities With 5,000 Residents and More On 31.12.2019(1).”

[632] Jonathan Cook, “Why Israel Has Silenced the 1948 Story of Nazareth’s Survival” Mondoweiss, January 12, 2016, https://mondoweiss.net/2016/01/silenced-nazareths-survival/ (accessed March 31, 2021).

[633] The population of Nazareth in 1946 was around 15,000. Leena Dallasheh, “Persevering Through Colonial Transition: Nazareth's Palestinian Residents After 1948,” Journal of Palestine Studies. 45. 8-23 (2016), https://bit.ly/3cQZIVM (accessed June 10, 2020), p. 10.

[634] Letter made public in 1987 on 30th anniversary of Nazareth Illit establishment, quoted in Oren Yiftachel, Ethnic Frontiers and Peripheries: Landscapes of Development and Inequality in Israel (Oxfordshire: Taylor & Francis, 2019), https://bit.ly/37mnec8 (accessed June 10, 2020).

[635] Quoted in Forman, “Military Rule,” p. 350.

[636] Human Rights Watch interview with Nazareth Illit general manager Hava Bachar, February 3, 2020; Kashti, “This Israeli City Has 25% Arab Residents, but Won’t Open a School for Them” Haaretz, November 5, 2019; https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-a-quarter-of-its-residents-are-arabs-but-nof-hagalil-won-t-open-a-school-for-them-1.8073126 (accessed September 30, 2020).

[637] Benny Morris, The Birth of the Palestinian Refugee Problem, 1947-1949 (Cambridge: Cambridge University Press, 1989), p. 419; Also see Mitch Potter, “The Toronto Man Who Saved Nazareth,” The Star, December 20, 2015, https://www.thestar.com/news/insight/2015/12/20/the-toronto-man-who-saved-nazareth.html (accessed June 10, 2020); Jonathan Cook, “Why Israel has Silenced the 1948 Story of Nazareth’s Survival.” .

[638] Forman, “Military Rule,” p. 338; also see Leena Dallasheh, “Nazarenes in the Turbulent Tide of Citizenships: Nazareth from 1940 to 1966,” (Ph.D. diss., New York University, 2012), p. 18; Dan Rabinowit, Overlooking Nazareth: The Ethnography of Exclusion in Galilee (Cambridge: Cambridge University Press,1997), p. 4.

[639] See, for example, Jonathan Cook, “'A Place I Do Not Recognise': Palestinians Mark 70 years of Israeli Injustice,” Middle East Eye, May 15, 2018, https://www.middleeasteye.net/news/place-i-do-not-recognise-palestinians-mark-70-years-israeli-injustice (accessed June 10, 2020)

[640] Human Rights Watch phone interview with Ameen Muhammad Ali, June 2, 2020. Other former residents of the villages have recounted an aerial attack by Israeli forces. See, for example, Zochrot, “Safuriyya,” https://zochrot.org/en/village/49363 (accessed June 10, 2020).

[641] Human Rights Watch phone interview with Ameen Muhammad Ali, June 2, 2020.

[642] Benny Morris, The Birth of the Palestinian Refugee Problem, p. 517.

[643] Zochrot, “Safuriyya.”

[644] Rochelle Davis, Palestinian Village Histories: Geographies of the Displaced (Stanford: Stanford University Press, 2010), p. 224.

[645] Ori Nir, “Focus/ ‘Internal Refugees’ Demand Their Rights Too,” Haaretz, January 8, 2001, article on file with Human Rights Watch.

[646] Human Rights Watch phone interview with Ameen Muhammad Ali, June 2, 2020.

[647] See Intent to Maintain Domination and Systematic Oppression sections.

[648] Forman, “Military Rule.”

[649] Ibid.

[650] Ibid.; Sabri Jiryis, "The Land Question in Israel." MERIP Reports, No. 47 (1976): pp. 5-26, https://www.jstor.org/stable/3011382?read-now=1&seq=15#page_scan_tab_contents (accessed June 1, 2020) pp.13-14.

[651] Ibid.

[652] Forman, “Military Rule”; Jonathan Cook, “Welcome to Nazareth.”

[653] Ibid.

[654] Forman, “Military Rule.”

[655] Joseph Algazy, “Nazareth Rejects Another Raw Deal for Its Future,” Haaretz, February 17, 2002, https://www.haaretz.com/1.5271207 (accessed June 10, 2020); Hussein Abu Hussein and Fiona Mckay, Access Denied:

Palestinian Land Rights in Israel (London: Zed Books, 2003) https://bit.ly/2zmmoiL (accessed June 10, 2020) p. 88; Jonathan Cook, “Welcome to Nazareth.”

[656] Jonathan Cook, “Welcome to Nazareth.”

[657] Jiryis, “The Land Question in Israel”; Dallasheh, “Persevering through Colonial Transition.”

[658] Israel CBS, “Population and Density Per Sq. Km. in Localities With 5,000 Residents and More On 31.12.2019(1).” Land expansion request from 2017 on file with Human Rights Watch.

[659] Yosef Jabareen, “Space of Risk: The Contribution of Planning Policies to Conflicts in Cities, Lessons from Nazareth,” Planning Theory & Practice, Vol. 7, No. 3, pp. 305–323, September 2006 (308-09), https://bit.ly/2XRoxwn (accessed June 10, 2020); Human Rights Watch phone interview with former Nazareth mayor Ramiz Jaraisy. April, 10, 2021. Jiryis, “The Land Question in Israel”; Dallasheh, “Persevering through Colonial Transition.”

[660] Land expansion requests from 2013/2017 on file with Human Rights Watch.

[661] Ibid.

[662] Survey results on file with Human Rights Watch.

[663] Ibid.

[664] Human Rights Watch phone interview with Musab Dukhan, April 28, 2020.

[665] Human Rights Watch phone interview with Sally Azzam, June 2, 2020.

[666] The Arab Center for Alternative Planning, based in Israel, describes Nazareth’s current industrial zones as “weak” and revenues as “insignificant.” Arab Center for Alternative Planning, “Distributive Justice: Model of Allocation of Revenues from “Tziporit” Industrial Zone,” June 2017, https://www.ac-ap.org/en/files/userfiles/Booklet%20Distributive%20Justice%20with%20cover%20EN(2).pdf (accessed June 10, 2020).

[667] Ibid.; Human Rights Watch phone interview with former mayor of Nazareth, Ramiz Jaraisy, May 5, 2020. Human Rights Watch phone interview with Musab Dukhan, April 28, 2020.

[668] Jonathan Cook, “Welcome to Nazareth."

[669] Algazy, “Nazareth Rejects Another Raw Deal for Its Future,” Haaretz; Human Rights Watch phone interview with Musab Dukhan, April 28, 2020.

[670] Human Rights Watch phone interview with former Nazareth council member, April 28, 2020.

[671] Arab Center for Alternative Planning, “Distributive Justice.” Nazareth Illit received 543NIS (US$154) per capita, compared to 1,879 NIS ($533) for Nazareth.

[672] Yosef Jabareen, “Space of Risk,” 309.

[673] Algazy, “Nazareth Rejects Another Raw Deal for Its Future,” Haaretz; Human Rights Watch phone interview with Ramiz Jaraisy May 5, 2020.

[674] Jonathan Cook, email to Human Rights Watch, May 27, 2020.

[675] Ibid.; Algazy, “Nazareth Rejects Another Raw Deal for Its Future,” Haaretz; Human Rights Watch phone interview with Ramiz Jaraisy, May 5, 2020.

[676] Human Rights Watch phone interview with Khalil Haddad, June 3, 2020. Human Rights Watch phone interview with Sally Azzam, June 2, 2020. Human Rights Watch phone interview with Ameen Muhammad Ali, June 2, 2020.

[677] “Nazareth Dispatch,” post by Jonathan Cook (blog), August 7, 2013, https://www.jonathan-cook.net/2013-08-07/nazareth-dispatch/ (accessed June 10, 2020).

[678] Human Rights Watch phone interview with Khalil Haddad, June 3, 2020. Human Rights Watch phone interview with Sally Azzam, June 2, 2020. Human Rights Watch phone interview with Ameen Muhammad Ali, June 2, 2020.

[679] Letter to Yehiel (Hilik) Bar, Knesset Research and Information Center, June 25, 2015, https://fs.knesset.gov.il/globaldocs/MMM/5b1107dc-1277-e511-80d1-00155d0ad6b2/2_5b1107dc-1277-e511-80d1-00155d0ad6b2_11_10405.pdf (accessed June 10, 2020).

[680] Human Rights Watch phone interview with Musab Dukhan, April 10, 2021.

[681] “Israeli City Takes Aim at Surrounding Arab Communities, Bans Non-residents from Public Park,” Adalah press release, July 2, 2019, https://www.adalah.org/en/content/view/9758 (accessed June 10, 2020); “Afula Mayor Attends Demonstration Against Sale of Home to Arab Family,” Times of Israel, June 16, 2019, https://www.timesofisrael.com/afula-mayor-attends-demonstration-against-sale-of-home-to-arab-family/ (accessed June 12, 2020).

[682] “Afula's Public Park Will Be Open to All Visitors - Including Non-residents - Following Adalah's Petition,” Adalah press release, July 24, 2019, https://www.adalah.org/en/content/view/9783 (accessed June 10, 2020).

[683] Jonathan Cook, “Welcome to Nazareth.”

[684] Human Rights Watch phone interview with Khalil Haddad, June 3, 2020.

[685] Human Rights Watch interview with Nazareth Illit general manager Hava Bachar, February 3, 2020; “Israel: Discriminatory Land Policies Hem in Palestinians,” Human Rights Watch news release.  

[686] Ibid.

[687] Ibid.

[688] Human Rights Watch phone interview with Khalil Haddad, June 3, 2020.

[689] ACRI, “The Need for an Arab Public School in Upper Nazareth,” October 28, 2019, https://www.english.acri.org.il/post/__139 (accessed June 10, 2020); Human Rights Watch, Second Class.

[690] Jack Khoury and Eli Ashkenazi, “Israeli Mayor Calls on State to Declare Arab City ‘Hostile to Israel’,” Haaretz, November 21, 2012, https://www.haaretz.com/.premium-own-mayor-says-nazareth-is-hostile-to-israel-1.5199305 (accessed August 18, 2020).

[691] William Booth and Ruth Eglash, “High Above Nazareth, an Israeli Mayor Wants to Keep His City Jewish ‘Now and Forever’,” Washington Post, September 20, 2013, https://www.washingtonpost.com/world/high-above-nazareth-an-israeli-mayor-wants-to-keep-his-city-jewish-now-and-forever/2013/09/19/1a3fd172-2157-11e3-ad1a-1a919f2ed890_story.html (accessed June 10, 2020).

[692] Rome Statute, art. 7(2)(g); Apartheid Convention, art. II.

[693] Human Rights Watch, Unwilling or Unable.

[694] “Israel: Record-Low in Gaza Medical Permits,” Human Rights Watch news release, February 13, 2018, https://www.hrw.org/news/2018/02/13/israel-record-low-gaza-medical-permits.

[695] Data from Gisha on file with Human Rights Watch.

[696] Gisha, “Scale of Control,” pp. 12-14. In 2001, Israel bombed the airport that had operated briefly in Gaza and destroyed the site where construction of a seaport was to begin.

[697] Oslo II, art. 31.

[698] B’Tselem and HaMoked, “So Near and Yet So Far: Implications of Israeli-Imposed Seclusion of the Gaza Strip on Palestinians’ Right to Family Life,” January 2014, http://www.btselem.org/sites/default/files2/201401_so_near_and_yet_so_far_eng.pdf (accessed March 29, 2020); Palestinian Center for Human Rights (PCHR), “Actual Strangulation and Deceptive Facilitation,” March 2016, https://pchrgaza.org/en/wp-content/uploads/2016/03/Gaza-Strip-Actual-Strangulation.pdf(accessed March 29, 2020) pp. 31-33; Physicians for Human Rights-Israel, “#Denied: Harassment of Palestinian Patients Applying for Exit Permits,” June 2015, http://cdn2.phr.org.il/wp-content/uploads/2016/04/Denied-2015-New-Report.pdf (accessed March 29, 2020); Gisha, “Student Travel Between Gaza and the West Bank 101,” September 2012, http://www.gisha.org/UserFiles/File/publications/students/students-2012-eng.pdf (accessed March 29, 2020).

[699] Kafarne v. Defense Minister, HCJ 495/12, State Response of August 16, 2012, para. 26 (Hebrew), tinyurl.com/k3o8ckn (accessed May 2, 2020). Excerpts unofficially translated by Gisha are available at tinyurl.com/p4jc9x9 (accessed May 2, 2020).

[700] See Intent to Maintain Domination and Systematic Oppression and Institutional Discrimination sections.

[701] HaMoked: Center for the Defence of the Individual v. The Government of Israel et al. Preliminary Response on behalf of the Respondents, HCJ 9961/03, January 1, 2004, http://www.hamoked.org/items/3827_eng.pdf (accessed May 2, 2020).

[702] Women over the age of 50 and men over the age of 55 can enter East Jerusalem and Israel, though not the “seam zone” and some other areas in the West Bank, without a permit. “HaMoked to the Military: Palestinians Over 50 Must Be Allowed to Freely Access West Bank Lands Trapped Behind the Barrier,” HaMoked, May 20, 2020, http://www.hamoked.org/Document.aspx?dID=Updates2172 (accessed June 17, 2020).

[703] “Israel: Palestinians Cut off from Farmlands,” Human Rights Watch news release, April 5, 2012, https://www.hrw.org/news/2012/04/05/israel-palestinians-cut-farmlands.

[704] “Restrictions on Movement,” B’Tselem.

[705] See, for example, Omar Shakir, “Amnesty International Staffer Challenges Israel’s Travel Ban,” Human Rights Watch dispatch, May 25, 2020, https://www.hrw.org/news/2020/05/25/amnesty-international-staffer-challenges-israels-travel-ban (accessed June 4, 2020).

[706] Ibid.

[707] Jessica Montell, executive director of HaMoked, email to Human Rights Watch, June 3, 2020.

[708] OCHA, “Longstanding Access Restrictions Continue to Undermine the Living Conditions of West Bank Palestinians,” March-May 2020.

[709] Ibid. Also see Umm Forat, “Flying Checkpoints and Traffic Jams: The Genius of the Israeli Occupation’s Architecture,” Haaretz, June 1, 2020, https://www.haaretz.com/middle-east-news/palestinians/the-idiot-who-cut-me-off-did-not-build-the-checkpoint-that-ruined-our-day-1.8922173 (accessed July 3, 2020).

[710]  “Restrictions on Movement,” B’Tselem.

[711] “Israel: Palestinians Cut off From Farmlands,” Human Rights Watch news release; International Court of Justice (ICJ), Advisory Opinion Concerning Legal Consequences of the Construction of a Wall in the Occupied Palestinian Territory, ICJ General List, No.131, ICJ Rep 136, July 9, 2004, https://www.icj-cij.org/public/files/case-related/131/131-20040709-ADV-01-00-EN.pdf (accessed June 15, 2020).

[712] Apartheid Convention, art II(c).

[713] Ibid.

[714] See Systematic Domination and Systematic Oppression sections.

[715] Apartheid Convention, art II(c).

[716] B’Tselem and Kerem Navot, “This Is Ours – And This, Too,” p. 8; Yotam Berger, “Israeli Settlers ‘Upgrade’ West Bank Springs to Usurp Palestinian Land,” Haaretz, May 31, 2019, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israeli-settlers-upgrade-west-bank-springs-to-usurp-palestinian-land-1.7309122 (accessed May 2, 2020); “Settlements,” B’Tselem, updated January 16, 2019, https://www.btselem.org/settlements (accessed June 4, 2020).

[717] See B’Tselem, “Under the Guise of Legality.”

[718] Peace Now, “State Land Allocation in the West Bank-for Israelis Only.”

[719] Human Rights Watch, Occupation Inc.: How Settlement Businesses Contribute to Israel’s Violation of Palestinian Rights.

[720] See B’Tselem, “Under the Guise of Legality,” p. 34.

[721] Ibid. The laws vested ownership rights in certain kinds of farmland, far from villages, based on continuous cultivation at a level reasonable under the circumstances, but also reverted land to state ownership if it lay fallow for three years.

[722] B’Tselem, “Land Grab,” pp. 58-59. Israeli authorities have also given some “absentee” properties to settlements, sometimes via land-swaps, and also continue to manage some properties, which they have leased to settlements or relatives of the ‘absentees’. Kerem Navot, “Israeli Settlers’ Agriculture as a Means of Takeover in the West Bank,” August 2013, https://f35bf8a1-b11c-4b7a-ba04-05c1ffae0108.filesusr.com/ugd/cdb1a7_370bb4f21ceb47adb3ac7556c02b8972.pdf (accessed May 2, 2020).

[723] Dweikat et al. v. Government of Israel et al., HCJ 390/79, Judgement, October 22, 1979, http://www.hamoked.org/files/2010/1670_eng.pdf. Case also known as “Elon Moreh.”

[724] B’Tselem, “Land Grab,” p. 51.

[725] Ibid.

[726] Haqel and Kerem Navot, “Out of Order: Civil Administration Eviction Orders from ‘State Land’ 2005-2018,” December 2019, https://f35bf8a1-b11c-4b7a-ba04-05c1ffae0108.filesusr.com/ugd/a76eb4_a511485a16f74e44a328efaa00e1444f.pdf (accessed June 15, 2020), p. 4; Kerem Navot, “Blue and White Make Black,” December 2016, https://www.keremnavot.org/blue-and-white-make-black (accessed May 2, 2020).

[727] Haqel and Kerem Navot, “Out of Order,” p. 18. This category also includes land formerly managed by the Waqf, or Islamic Trust, and some land owned by Jews before 1948 and held in custodianship by Jordanian authorities prior to 1967.

[728] Ibid., p. 10.

[729] Ibid. The groups found that authorities issued 91 percent of the orders, covering 96 percent of the territory confiscated under the orders, related to land owned by Palestinians.

[730] Peace Now, “State Land Allocation in the West Bank-for Israelis Only.”

[731] Steven Erlanger, “West Bank Sites on Private Land, Data Shows,” New York Times, March 14, 2007, https://www.nytimes.com/2007/03/14/world/middleeast/14israel.html (accessed May 2, 2020); Peace Now, “Breaking the Law in the West Bank, One Violation Leads to another: Israeli Settlement Building on Private Palestinian Property,” October 2006, https://peacenow.org.il/wp-content/uploads/2016/05/Breaking_The_Law_in_WB_nov06Eng.pdf (accessed May 2, 2020).

[732] Dror Etkes, director of Kerem Navot, email to Human Rights Watch, July 4, 2020; Kerem Navot, “Israeli Settlers’ Agriculture as a Means of Takeover in the West Bank.”

[733] B’Tselem, “Land Grab” pp. 60-61. Also see Yotam Berger, “Private Palestinian Land Can be Taken for Public Use in Settlements, Israeli Attorney General Says,” Haaretz, November 15, 2017 haaretz.com/israel-news/premium-ag-private-palestinian-land-can-be-taken-for-public-use-in-settlements-1.5465801 (accessed June 11, 2020).

[734] Kerem Navot, “Seize the Moral Low Ground, Land Seizure for “Security Needs” in the West Bank,” December 2018, https://f35bf8a1-b11c-4b7a-ba04-05c1ffae0108.filesusr.com/ugd/a76eb4_c5e9bfddf49c4d87b30d570722acc728.pdf (accessed June 28, 2020), p. 15.

[735] Ibid. Dweikat et al v. Government of Israel, HCJ 390/79 (1979), Judgment, http://www.hamoked.org/files/2010/1670_eng.pdf (accessed June 29, 2020).

[736] Israeli authorities in some cases have demolished structures built on private Palestinian land, at times at the order of the Supreme Court. See, for example, Yotam Berger, “Israel to Raze Structures Built on Private Palestinian Land in West Bank Outpost,” Haaretz, June 11, 2018 https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israel-to-raze-structures-in-illegal-west-bank-outpost-1.6170866 (accessed June 17, 2020); Yotam Berger, “Israel’s Top Court Rejects Settlers’ Claim, Orders Outpost built on Palestinian Land Demolished,” Haaretz, October 23, 2017, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israel-s-top-court-orders-outpost-built-on-palestinian-land-demolished-1.5459750 (accessed June 17, 2020).

[737] B’Tselem and Kerem Navot, “This Is Ours – And This, Too,” p. 8.

[738] “Data - Settlements Population,” Peace Now, https://peacenow.org.il/en/settlements-watch/settlements-data/population (accessed March 27, 2021).

[739] Peace Now, “Return of the Outpost Method,” July 2019, http://peacenow.org.il/wp-content/uploads/2019/08/maahazim-english_full.pdf (accessed July 15, 2020), p. 10.

[740] “Data on Netanyahu’s Jordan Valley Annexation Map,” Peace Now, September 11, 2019, https://peacenow.org.il/en/data-on-netanyahus-jordan-valley-annexation-map (accessed March 27, 2021).

[741] Hagar Shezaf, “Israel’s High Court Strikes Down West Bank Land-grab Law as ‘Unconstitutional’,” Haaretz, June 9, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israel-s-high-court-strikes-down-west-bank-land-grab-law-as-unconstitutional-1.8908929 (accessed June 10, 2020).

[742] “Initial Analysis of the Israeli Supreme Court’s Decision in the Settlements Regularization Case,” Adalah, June 15, 2020,

https://www.adalah.org/uploads/uploads/Settlements_Regularization_Law_Paper_English_FINAL_15.06.2020.pdf (accessed June 16, 2020); “Israel’s Use of ‘Good Faith’ to Confiscate Private Palestinian Property in the Occupied West Bank – in Bad Faith,” Adalah, December 30, 2019 https://www.adalah.org/en/content/view/9885 (accessed June 16, 2020).

[743] Jacob Magid, “Attorney General Announces New Settlement Legalization Process,” Times of Israel, December 16, 2018, https://www.timesofisrael.com/attorney-general-announces-new-settlement-legalization-process/ (accessed June 12, 2020). “Attorney General Begins Implementation of Regulation Law and the Government Endorses a Bill to Legalize Outposts,” Peace Now press release, December 17, 2018, https://peacenow.org.il/en/attorney-general-begins-implementation-of-regulation-law-and-the-government-endorses-a-bill-to-legalize-outposts (accessed June 12, 2020). “The District Court Ruled that Settlers in an Outpost Established on Private Palestinian Land Have Rights to the Land,” Peace Now press release, August 29, 2018. https://peacenow.org.il/en/district-court-ruled-settlers-outpost-established-private-palestinian-land-rights-land (accessed June 12, 2020).

[744] Tova Zimuki, “Without Law, With the Series: How Mandelblit Will Prepare the Settlement Houses,” (Hebrew), Ynet News, December 16, 2018, https://www.ynet.co.il/articles/0,7340,L-5426616,00.html (accessed June 12, 2020).

[745] B’Tselem, “Land Grab,” pp. 62-63. Also see Ir Amim, “Shady Dealings in Silwan,” May 2009, https://www.ir-amim.org.il/sites/default/files/Silwanreporteng.pdf (accessed May 2, 2020).

[746] “Statistics on Expropriaion [sic] in East Jerusalem,” B’Tselem.

[747] B’Tselem, “Policy of Discrimination, Land Expropriation, Planning and Building in East Jerusalem,” January 1997, https://www.btselem.org/sites/default/files/publications/199505_policy_of_discrimination_eng.pdf (accessed May 2, 2020). Kerem Navot, “Seize the Moral Low Ground.”

[748] Kerem Navot, “A Locked Garden, Declaration of Closed Areas in the West Bank,” March 2015, https://f35bf8a1-b11c-4b7a-ba04-05c1ffae0108.filesusr.com/ugd/cdb1a7_5d1ee4627ac84dca83419aebf4fad17d.pdf (accessed May 2, 2020).

[749] Ibid.

[750] Human Rights Watch phone interview with Dror Etkes, director of Kerem Navot, June 1, 2020; Hamos Harel, “Israel is Preventing Construction in Territories Controlled by Palestinians for Security Reasons,” (Hebrew), Haaretz, January 25, 2013, https://www.haaretz.co.il/news/politics/1.1937128 (accessed May 2, 2020); Kerem Navot, “Seize the Moral Low Ground.”

[751] B’Tselem, “Expel and Exploit, the Israeli Practice of Taking Over Rural Palestinian Land,” December 2016, https://www.btselem.org/download/201612_expel_and_exploit_eng.pdf (accessed May 2, 2020), p. 16.

[752] Apartheid Convention, art II (d).

[753] Ibid.

[754] Human Rights Watch, Separate and Unequal

[755] Israel CBS, “Population and Density Per Sq. Km. in Localities With 5,000 Residents and More On 31.12.2019(1).”

[756] OCHA, “Under Threat, Demolition Orders in Area C of the West Bank,” September 7, 2015, https://reliefweb.int/sites/reliefweb.int/files/resources/demolition_orders_in_area_c_of_the_west_bank_en.pdf (accessed May 2, 2020), p. 3.

[757] “Planning Policy in the West Bank,” B’Tselem, updated February 6, 2019; Ir Amim and Bimkom, “Deliberately Planned, A policy Thwart Planning in the Palestinian Neighborhoods of Jerusalem,” February 2017, http://www.ir-amim.org.il/sites/default/files/Deliberately%20Planned.pdf (accessed May 2, 2020), p. 5.

[758] See Intent to Maintain Domination and Systematic Oppression sections.

[759]  Hagar Shezaf, “Israel Rejects Over 98 Percent of Palestinian Building Requests in the West Bank’s Area C,” Haaretz, January 21, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israel-rejects-98-of-palestinian-building-permit-requests-in-west-bank-s-area-c-1.8403807 (accessed May 2, 2020). The government said it approved 56 building permits in 2019, but 35 were part of a state plan to relocate Palestinian Bedouins against their will and were not implemented.

[760] Ibid.

[761] “Planning Policy in the West Bank,” B’Tselem, updated February 6, 2019, https://www.btselem.org/planning_and_building (accessed May 2, 2020).

[762] “Jerusalem Municipal Data reveals Stark Israeli-Palestinian Discrepancy in Construction Permits in Jerusalem,” Peace Now press release, September 12, 2019, https://peacenow.org.il/en/jerusalem-municipal-data-reveals-stark-israeli-palestinian-discrepancy-in-construction-permits-in-jerusalem (accessed May 2, 2020). Statistics on the number of permit applications are not available.

[763] Israeli authorities also have issued demolition orders for structures allegedly built on archaeological sites in the West Bank. According to government data obtained by Haaretz, between 2017 and 2019, authorities issued 224 such demolition orders. Hagar Shezaf, “When an Archaeological ‘Find’ Can Evict Palestinians from Their Homes,” Haaretz, June 23, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-when-an-archaeological-find-can-evict-palestinians-from-their-home-1.8935454 (accessed July 3, 2020).

[764] “Data on demolition and displacement in the West Bank,” OCHA, https://www.ochaopt.org/data/demolition (accessed August 19, 2020).

[765] “Database on Fatalities and House Demolitions,” B’Tselem.

[766] Ibid.

[767] Fourth Geneva Convention, art. 53; “Israel: Stop Punitive Demolitions,” Human Rights Watch news release, November 21, 2014, https://www.hrw.org/news/2014/11/21/israel-stop-punitive-home-demolitions.

[768] Civil Administration data on file with Human Rights Watch.

[769] OCHA, “46 Bedouin Communities at Risk of Forcible Transfer in the Central West Bank: A Vulnerability Profile,”

https://www.ochaopt.org/page/46-bedouin-communities-risk-forcible-transfer-central-west-bank-vulnerability-profile (accessed April 5, 2021);  “Breakdown of Data on Demolition and Displacement in the West Bank,” OCHA, https://bit.ly/3rRS192 (accessed April 5, 2021).

[770] Peace Now, “Policy of Palestinian dispossession in the Jordan Valley and Northern Dead Sea,” Factsheet, 2017, https://peacenow.org.il/wp-content/uploads/2017/04/JordanValleyEng.pdf (accessed June 15, 2020).

[771] “Data on Demolition and Displacement in the West Bank,” OCHA.

[772] Al-Haq, “Settling Area C: The Jordan Valley Exposed,” January 31, 2018, http://www.alhaq.org/publications/8057.html (accessed May 3, 2020); Palestinian Academic Society for the Study of International Affairs (PASSIA), “Israeli Annexation of The Jordan Valley,” http://www.passia.org/maps/view/74 (accessed May 3, 2020); Maan Development Center and Jordan Valley Popular Committees, “Bankrolling Colonialism: How US Zionist Organizations in the Jordan Valley are undermining a future Palestinian state,” 2010, https://www.badil.org/en/resources/documents/individual-studies.html?download=864:bankrolling-colonialism-usz-orgs-in-the-jordan-valley (accessed May 3, 2020); PLO Negotiation Affairs Department, “Israeli Annexation Policy in the Jordan Valley: Destroying the Future of the State of Palestine,” September 2013, https://www.nad.ps/sites/default/files/jordanvalley_factsheet.pdf (accessed May 3, 2020); Jordan Valley Solidarity, “About the Jordan Valley - Geography and Population,” April 13, 2010, http://jordanvalleysolidarity.org/background-info/geographyanddemographics/ (accessed June 15, 2020).

[773] B’Tselem, “Dispossession & Exploitation: Israel's Policy in the Jordan Valley & Northern Dead Sea,” May 2011, https://bit.ly/2N1x21M (accessed June 15, 2020), p. 10.

[774] “The Jordan Valley,” B’Tselem, https://www.btselem.org/topic/jordan_valley (accessed May 3, 2020); Peace Now, “Policy of Palestinian Dispossession in the Jordan Valley and Northern Dead Sea,” Factsheet, 2017.

[775] See, for example, Al Haq, “Plight of Palestinian Bedouin Depicts Impact of Illegal Israeli Occupation and Practices in Palestinian Territory,” 2014, https://www.alhaq.org/publications/8068.html (accessed June 15, 2020); B’Tselem, “Civil Administration Plans to Expel Tens of Thousands of Bedouins from Area C,” December 30, 2019, https://www.btselem.org/video/2009/12/video-testimony-bedouins-maale-edomim#full (accessed May 3, 2020).

[776] Human Rights Watch, Separate and Unequal.

[777] “Statistics on Deportation,” B’Tselem, January 1, 2011, https://www.btselem.org/deportation/statistics (accessed May 2, 2020); B’Tselem, “Deportation of Palestinians from the Occupied Territories and the Mass Deportation of December 1992,” June 1993, https://www.btselem.org/sites/default/files/publications/199306_deportation_eng.pdf (accessed July 3, 2020).

[778] Naletilic and Martinovic (Trial Chamber), March 31, 2003, paras. 519-521, cited in Case Law of the International Criminal Tribunal for the Former Yugoslavia, http://www.hrw.org/reports/2004/ij/icty/2.htm#_Toc62882623.

[779] Rome Statute, arts. 8.2.b.viii, 7.2.g.

[780] Ibid.; art. 7.1.d.

[781] Apartheid Convention, art II(c).

[782] Human Rights Watch, “Forget About Him.”

[783] Ibid.

[784] Gisha, “Changes at Rafah Crossing.”

[785]The Israeli census recorded the population of the West Bank, including East Jerusalem, as 598,637, and the population of the Gaza Strip as 356,261. Levy Economics Institute of Bard College, “The 1967 Census of the West Bank and Gaza Strip: A Digitized Version,” February 2012, http://www.levyinstitute.org/pubs/1967_census/dataset_doc.pdf (accessed June 15, 2020); Levy Economics Institute of Bard College, “Population, Area and Population Density in the West Bank by District,” February 2012, https://bit.ly/3hurjzp (accessed June 15, 2020); “Gaza Strip Population According to 1967 Census and Egyptian Estimate for 1966,” February 2012, https://bit.ly/2YE84L1 (accessed June 15, 2020). Also see UN Conference on Trade and Development (UNCTAD), “Population and Demographic Developments in the West Bank and Gaza Strip until 1990,” U.N. Doc. UNCTAD/ECDC/SEU/1, June 28, 1994, https://unctad.org/system/files/official-document/poecdcseud1.en.pdf (accessed April 3, 2020), pp. 73, 75.

[786] Yehuda Lukacs, Israel, Jordan and the Peace Process (Syracuse, NY: Syracuse University Press, 1997), note 4, p. 218, citing two UNRWA reports from October and December 1967; and Daniel Dishon, ed., Middle East Record, 1967 (Tel Aviv: Israeli Univ. Press, 1968), p. 311.

[787] B'Tselem and HaMoked, “Perpetual Limbo,” June 2006, p. 9.

[788] Human Rights Watch, “Forget About Him.” For instance, after 1967, Israeli authorities granted residency to children under 16 who were born in the West Bank and Gaza, or who were born abroad if one parent was a registered resident. In 1987, with the outbreak of the first Palestinian intifada, the military ordered that children under 16 who were born in the occupied territory could only be registered if their mother was a resident, and that children born abroad could not be registered after the age of five, regardless of either parent’s residency status. In 2000, authorities stopped granting entry to all unregistered Palestinians more than five years old. Authorities in 2006 began to grant entry permits to Palestinian children for the purpose allowing them to apply for registration, but it has refused to register children who turned 16 during the period from 2000 to 2006, when Israeli policies had made their entry and registration impossible.

[789] HaMoked, “‘Ceased Residency’: Between 1967 and 1994 Israel revoked the residency of Some Quarter Million Palestinians from the West Bank and the Gaza Strip,” June 12, 2011, http://www.hamoked.org/Document.aspx?dID=Updates1175 (accessed May 3, 2020).

[790] B’Tselem and HaMoked, “Perpetual Limbo,” p. 20.

[791] “Israel: End Restrictions on Palestinian Residency,” Human Rights Watch news release, February 5, 2012, https://www.hrw.org/news/2012/02/05/israel-end-restrictions-palestinian-residency. In May 2020, the PA stopped transferring applications to Israeli authorities, as part of its vow to end coordination with Israel on security and civil affairs. Avi Issacharoff, “Israeli Officials Confirm Palestinian Authority is Ending Security Coordination,” Times of Israel, May 21, 2020, https://www.timesofisrael.com/israeli-officials-confirm-palestinian-authority-has-ended-security-coordination/ (accessed August 4, 2020); Amira Hass, “The Palestinian Authority is Harming Its Own People in the Name of National Pride,” Haaretz, August 3, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-in-the-name-of-national-pride-the-palestinian-authority-is-harming-its-own-people-1.9040489 (accessed August 4, 2020). The PA said in November 2020 that it would resume coordination with Israel on security and civil affairs. Jack Khoury, Noa Landau, Nir Hasson, “Palestinian Authority Announces It Will Resume Cooperation with Israel,” Haaretz, November 17, 2020, https://www.haaretz.com/middle-east-news/palestinians/.premium-palestinian-authority-resumes-cooperation-with-israel-minister-announces-1.9314412 (accessed November 23, 2020).

[792] “Israel Continues to Harm the Right of Palestinians to Family Life: The State Persists in its Refusal to Examine Family Unification Requests Submitted by Palestinian Residents of the Occupied Territories,” HaMoked, June 17, 2018, http://www.hamoked.org/Document.aspx?dID=Updates1997 (accessed May 3, 2020).

[793] Ibid.

[794] “Application on Behalf of the Respondents for Summary Dismissal of the Petition in Response to the Application for a Temporary Injunction,” HaMoked, September 2, 2007, http://www.hamoked.org/items/9073_eng.pdf.

[795] “Israel Continues to Harm the Right of Palestinians to Family Life,” HaMoked.

[796] B’Tselem and HaMoked, “Perpetual Limbo,” p. 13, citing information provided by the PA Civil Affairs Ministry on August 14, 2005.

[797] “In the absence of documentation: HaMoked Had to Delete Its Petitions Against Israel’s Freeze on Family Unification in the West Bank,” HaMoked, August 8, 2019, http://www.hamoked.org/Document.aspx?dID=Updates2097 (accessed May 3, 2020).

[798] Human Rights Watch, “Forget About Him”; “Israel Continues to Harm the Right of Palestinians to Family Life,” HaMoked.

[799] Gisha, “Disengagement Danger: Israeli Attempts to Separate Gaza from the West Bank,” Briefing paper, February 2006, https://bit.ly/2Y3B7ZF (accessed April 3, 2020), citing a letter from Avi Biton, Office of the Coordinator of Operations in the Territory, November 17, 2004 and Kachlut v. West Bank Military Commander, State’s Response, HCJ 5504/03, February 25, 2004, para. 4. Israel allowed around 2,800 Palestinians registered as residents of Gaza to change their addresses to the West Bank in 2011, but this did not clear the backlog. Following a 2013 petition filed by HaMoked and other organizations, Israeli authorities indicated that they would not forcibly relocate to Gaza Palestinians with registered addresses in the Gaza Strip who had lived in the West Bank since September 2005. See Gaza case studies in Systematic Domination and Inhumane Acts and Other Abuses of Fundamental Rights sections.

[800] Letter from Uri Mendes, Division Head, Coordination and Operations Directorate, Coordinator of Government Activities in the Territories (COGAT), to Ido Bloom, HaMoked: Center for the Defence of the Individual, June 2, 2010, available at: http://www.hamoked.org/files/2010/112281_eng.pdf (accessed August 20, 2020).

[801] Order Regarding Prevention of Infiltration, No. 1650, Amendment No. 2. The order, as amended, defines an “infiltrator” as anyone who resides in the West Bank without a valid permit, including those who entered the territory without a permit and those who stayed in the area after their permit expired.

[802] Letter from Uri Mendes to HaMoked, June 2, 2010; B’Tselem and HaMoked, “One Big Prison,” p. 20; “Military data Reveals: Sharp Rise in the Number of People Deported by the Military from their West Bank Homes to the Gaza Strip,” HaMoked press release.

[803] “Israel: Jerusalem Palestinians Stripped of Status,” Human Rights Watch news release.

[804] Between 2003 and 2016, only about 15,000 of Jerusalem’s Palestinians applied for citizenship. Authorities have approved fewer than 6,000 of them for citizenship. Dov Lieber, “Israel almost Almost entirely Entirely halts Halts citizenship Citizenship approvals Approvals for East Jerusalemites,” Times of Israel, September 16, 2016, https://www.timesofisrael.com/israel-almost-entirely-halts-citizenship-approvals-for-east-jerusalemites/ (accessed June 4, 2020). In 2018, Israeli authorities granted citizenship to 363 of the 1,012 Palestinians who applied that year. ACRI, “East Jerusalem: Facts and Figures 2019,” May 2019, https://bit.ly/3cAET0w (accessed June 4, 2020). Authorities in 2019 streamlined the application process and, in 2020, 1,826 Palestinian Jerusalemites received citizenship.” Nir Hasson, “Israel Denies East Jerusalem Resident’s Citizenship Because His Home ‘Doesn’t Make Sense’,” Haaretz, February 2, 2021, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israel-denies-east-jerusalem-resident-s-citizenship-his-home-doesn-t-make-sense-1.9505231 (accessed February 3, 2021).  

[805]  HaMoked, “Ministry of Interior Data: 18 East Jerusalem Palestinians Were Stripped of their Permanent Residency Status in 2020.”

[806]  Ibid., Letter from Mali Davidian, Supervisor of Freedom of Information Act, Israel Population, Immigration and Border Authority, to Advocate Benjamin Agsteribbe, HaMoked: Center for the Defence of the Individual, May 31, 2015 available at: http://www.hamoked.org/files/2015/1159352_eng.pdf (accessed August 20, 2020).

[807] “Israel: Jerusalem Palestinians Stripped of Status,” Human Rights Watch news release.

[808] Ibid.

[809] Ibid.

[810] Ibid.

[811] Al-Haq v. Minister of Interior, AAA 3268/14, Judgment, March 14, 2017, hamoked.org/files/2018/1159582_eng.pdf (accessed June 15, 2020).

[812] Human Rights Watch, Born Without Civil Rights.

[813] The Defense (Emergency) Regulations, 1945, available at http://www.imolin.org/doc/amlid/Israel/The_Defence_Emergency_Regulations_1945.pdf (accessed May 3, 2020).

[814] “List of Declarations and Orders of Terrorist Organizations and Unlawful Associations,” (Hebrew), Ministry of Defense, https://nbctf.mod.gov.il/he/Announcements/Pages/%D7%A7%D7%91%D7%A6%D7%99%D7%9D-%D7%9C%D7%94%D7%95%D7%A8%D7%93%D7%94-(DATA).aspx (accessed June 29, 2020).

[815] See letter from Israeli army to Human Rights Watch, November 18, 2019, in Human Rights Watch, Born Without Civil Rights.

[816] See Human Rights Watch, Born Without Civil Rights, p. 29.

[817] Order No. 101 – Order Regarding Prohibition of Incitement and Hostile Propaganda Actions, August 1967, arts. 1, 3, 10, as amended by Order No. 718 (1977), Order No. 938 (1981), Order No. 1079 (1983), and Order No. 1423 (1995), available at https://bit.ly/2DfDTOA (accessed May 3, 2020). 

[818] See letter from Israeli army to Human Rights Watch, November 18, 2019 in Human Rights Watch, Born Without Civil Rights.

[819] Order regarding Security Provisions [Consolidated Version] (Judea and Samaria) (Military Order No. 1651), 5770-2009, art. 251.

[820] See letter from Israeli army to Human Rights Watch, November 18, 2019, in Human Rights Watch, Born Without Civil Rights.  

[821] Apartheid Convention, art. II(c).

[822] Alexandre (Sandy) Kedar, Professor of Law at the University of Haifa, email to Human Rights Watch, July 24, 2020. 

[823] Ibid.; Geremy Forman, “From Arab land to `Israel Lands': the legal dispossession of the Palestinians displaced by Israel in the wake of 1948,” Environment and Planning D: Society and Space, 2004, Volume 22, pp. 809-830, DOI:10.1068/d402; Alexandre (Sandy) Kedar, “The Legal Transformation of Ethnic Geography: Israeli Law and the Palestinian Landholder 1948-1967,” New York University Journal of International Law and Politics 33, No. 4, Summer 2001: pp. 923-1000, https://law.haifa.ac.il/images/documents/theLegalTransformation.pdf (accessed July 23, 2020); Yoav Mehozay “The Rule of Difference: How Emergency Powers Prevent Palestinian Assimilation in Israel,” Israel Studies Review, Volume 27, No. 2, Special Issue: Law, Politics, Justice, and Society: Israel in a Comparative Context (Winter 2012), pp. 18-40, https://www.jstor.org/stable/41804801?seq=1 (accessed July 23, 2020); Don Peretz, Israel and the Palestine Arabs (Washington DC: Middle East Institute, 1958) pp. 140-147; Joel Beinin, Was the Red Flag Flying There? Marxist Politics and the Arab-Israeli Conflict in Egypt and Israel, in 1948-1965 (Los Angeles: University of California Press, 1990) https://bit.ly/37xp1Lp (accessed May 2, 2020), p. 69; “The Illegality of Article 7 of the Jewish Nation-State Law: Promoting Jewish Settlement as a National Value,” Adalah, Position Paper, March 2019, https://www.adalah.org/uploads/uploads/Position_Paper_on_Article_7_JNSL_28.03.19.pdf (accessed July 23, 2020).

[824] Beinin, Was the Red Flag Flying There?  p. 69; Shira Robinson, Citizenship Strangers, p. 47.

[825] Yotam Berger, “Declassified: Israel Made Sure Arabs Couldn’t Return to Their Villages,” Haaretz, May 27, 2019; https://www.haaretz.com/.premium-israel-lifted-military-rule-over-arabs-in-1966-only-after-ensuring-they-couldn-t-ret-1.7297983 (accessed June 14, 2020).

[826] Knesset, Absentees’ Property Law, No.20 of 1950, https://knesset.gov.il/review/data/eng/law/kns1_property_eng.pdf (accessed May 2, 2020).

[827] Beinin, Was the Red Flag Flying There? p. 69; Shira Robinson, Citizenship Strangers, p. 47. In 1973, Israel enabled some ‘absentees’ to claim compensation for their seized property, but only to those residing in Israel and only effective if claimed within fifteen years. NRC, “Legal Memo - The Absentee Property Law and its Application to East Jerusalem,” February 2017, nrc.no/globalassets/pdf/legal-opinions/absentee_law_memo.pdf (accessed June 15, 2020).

[828] Ibid.; “Israeli Supreme Court Upholds Continued Confiscation of Occupied East Jerusalem Properties through the Absentee Property Law,” Adalah press release, April 17, 2015, https://www.adalah.org/en/content/view/8530 (accessed May 2, 2020).

[829] Adalah, Land Acquisition Law (Actions and Compensation), https://www.adalah.org/en/law/view/533 (accessed May 2, 2020).

[830] Shira Robinson, Citizen Strangers, p. 47.

[831] NRC Global IDP Project, “Profile of Internal Displacement: Israel,” https://www.refworld.org/pdfid/3c5532fc9.pdf (accessed August 12, 2020), pp. 17-18.

[832] UN Economic and Social Council, “Concluding observations of the Committee on Economic, Social and Cultural Rights -Israel,” December 4, 1998, E/C.12/1/Add.27, https://undocs.org/E/C.12/1/Add.27 (accessed August 4, 2020).

[833] See, for example, Zochrot, “‘Memory and [Return]’- Imagining Return to al-Lajun Destroyed Village,” November 2015, https://zochrot.org/en/video/56415 (accessed June 16, 2020).

[834] Nadeem Shehadeh and Bill Van Esveld (Human Rights Watch), “For Israel’s Palestinian Citizens, an Issue Unsettled,” commentary, GlobalPost, March 30, 2012, https://www.hrw.org/news/2012/03/30/israels-palestinian-citizens-issue-unsettled; Harriet Sherwood, “Return to Iqrit: How One Palestinian Village is Being Reborn,” The Guardian, May 15, 2013, https://www.theguardian.com/world/2013/may/15/return-iqrit-palestinian-village-israel (accessed June 14, 2020); Also see Zochrot, “Iqrit,” https://zochrot.org/en/village/48985 (accessed June 17, 2020).

[835] Ibid.

[836] Ibid.

[837] Ibid.

[838] Awni Sbeit et al. v. The Government of Israel et al., HCJ 840/97 (2003) (Hebrew), https://supremedecisions.court.gov.il/Home/Download?path=HebrewVerdicts%5C97/400/008/l30&fileName=97008400.l30&type=4 (accessed June 15, 2020), para. 6. Also see, Amiram Barkat, “High Court Rejects the Right of Ikrit Refugees to Return Home,” Haaretz, June 27, 2003; https://www.haaretz.com/1.5486435 (accessed June 14, 2020).

[839] Ibid.; Nur Masalha, Catastrophe Remembered: Palestine, Israel and the Internal Refugees: Essays in Memory of Edward W. Said (London: Zed Books, 2005), https://bit.ly/2N1sKrc (accessed June 15, 2020).

[840] Israel CBS, “Localities (1) and Population, By District, Sub-District, Religion and Population Group,” September 15, 2020.

[841] See Systematic Oppression section. “Israel: Discriminatory Land Policies Hem in Palestinians,” Human Rights Watch news release; ACRI et al., “Kaminitz Law (Draft Planning and Construction Law) (Amendment 109) 5776-2016.” Position Paper.

 [842] Human Rights Watch, Off the Map, Land and Housing Rights Violations in Israel’s Unrecognized Bedouin Villages (New York: Human Rights Watch, 2008), https://www.hrw.org/reports/2008/iopt0308/iopt0308webwcover.pdf.

[843] “Following Adalah Legal Action, Israel Expands Eligibility for Emergency COVID-19 Food Stamps Program,” Adalah press release, February 3, 2021; Adalah and Negev Coexistence Forum for Civil Equality (NCF), Joint NGO Report: UN Committee on Economic, Social and Cultural Rights, “Re: List of Issues for the State of Israel: Violations of the ICESCR by Israel Against the Arab Bedouin in the Negev/Naqab desert,” January 2019, https://bit.ly/2zCAexM (accessed May 3, 2020), p. 1.

[844] Human Rights Watch, Off the Map.  

[845] Adalah and NCF, “Violations of the ICESCR by Israel Against the Arab Bedouin in the Negev/Naqab desert.”

[846] Negev Coexistence Forum for Civil Equality, “On (In)Equality and Demolition of Homes and Structures in Arab Bedouin Communities in the Negev/Naqab,” July 2020, https://www.dukium.org/wp-content/uploads/2020/07/HDR-2020-Data-on-2019-Eng-3.pdf (accessed August 18, 2020), p. 14; Almog Ben Zikri, “Bedouin Home Demolitions in Israel Double in 2017,” Haaretz, March 28, 2018, https://www.haaretz.com/israel-news/bedouin-home-demolitions-in-israel-double-in-2017-1.5939858 (accessed May 3,2020); NCF, The Regional Council for the Unrecognized Villages in the Negev (RCUV) and Alhuquq Center, “The Arab Bedouin indigenous people of the Negev/Nagab – A Short Background,” https://bit.ly/2YAjsYy (accessed May 3, 2020).

[847] “Israel Demolishes Bedouin Village for 185th Time,” Middle East Monitor, March 25, 2021 https://www.middleeastmonitor.com/20210325-israel-demolishes-bedouin-village-for-185th-time/ (accessed March 27, 2021); Oren Ziv, “If Pandemic Hits, Unrecognized Bedouin Villages Could ‘Become Like Northern Italy’,” +972 Magazine, March 29, 2020 https://www.972mag.com/coronavirus-unrecognized-bedouin-villages/ (accessed May 3, 2020).. Also see Adalah, “From Al-Araqib to Susiya: The Forced Displacement of Palestinians on Both Sides of the Green Line,” May 2013, https://bit.ly/2BdElR2 (accessed June 15, 2020); Oren Ziv, “Israel Steps Up Campaign Against Bedouin Village It Demolished 173 Times,” +972 Magazine.

[848] Human Rights Watch, Off the Map.

[849] See Intent to Maintain Domination and Systematic Oppression sections.

[850] Human Rights Watch, Off the Map, p. 16-18.

[851] “Israel Announces Massive Forced Transfer of Bedouin Citizens in Negev,” Adalah press release, January 30, 2019, https://www.adalah.org/en/content/view/9677 (accessed May 3, 2019); “The Illegality of Israel’s Plan to Transfer Palestinian Bedouin Citizens of the State into ‘Refugee Displacement Camps’ in the Naqab (Negev),” Adalah press release, December 10, 2019, https://www.adalah.org/en/content/view/9888 (accessed May 3, 2019).

[852] Adalah, Nationality and Entry into Israel Law, https://www.adalah.org/uploads/oldfiles/Public/files/Discriminatory-Laws-Database/English/41-Citizenship-and-Entry-into-Israel-Law-Temporary-Order-2003.pdf (accessed May 3, 2020).

[853] Adalah, Nationality and Entry into Israel Law; “Israel: Family Reunification Ruling Is Discriminatory,” Human Rights Watch news release, May 17, 2006, https://www.hrw.org/news/2006/05/17/israel-family-reunification-ruling-discriminatory.

[854] During Knesset testimony on July 18, 2003, an official said that authorities granted 16,000 family reunification petitions in the preceding decade. “Israel: Don’t Outlaw Family Life,” Human Rights Watch news release, July 27, 2003, https://www.hrw.org/news/2003/07/27/israel-dont-outlaw-family-life.

[855] Ibid.

[856] Jonathan Lis, “Israeli Legislator Invokes Nation-state Law in Bid to Block Palestinian Family Unification,” Haaretz, June 2, 2020, https://www.haaretz.com/israel-news/.premium-israeli-legislator-invokes-nation-state-law-in-bid-to-block-palestinian-family-unifi-1.8890451 (accessed June 15, 2020). “Knesset Expected to Renew the Citizenship Law Despite Dissolution of the Knesset,” Mossawa Center press release, n.d., http://www.mossawa.org/eng/?mod=articles&ID=800 (accessed May 3, 2020). 

[857] Ibid.; Haaretz estimated in 2004 that the law, at the time, affected between 16,000 and 21,000 families. “Israel: Reject Law Separating Spouses,” Human Rights Watch news release, May 22, 2005. https://www.hrw.org/news/2005/05/22/israel-reject-law-separating-spouses; Declaration regarding Area Closure (Prohibition on Entry and Stay (Israelis) (Area A), 5761-2000” (Hebrew), Israel Defense Forces, October 5, 2000, https://www.nevo.co.il/law_html/law65/666_039.htm (accessed July 14, 2020); Also see Umm Forat, “For an Israeli Married to a Palestinian, Family Unification Is Forbidden,” Haaretz, June 1, 2020, https://www.haaretz.com/middle-east-news/palestinians/for-an-israeli-married-to-a-palestinian-family-unification-is-forbidden-1.8886935 (accessed May 3, 2020).

[858] Khulood Badawi, “In Israel, Love Knows Boundaries,” commentary, Human Rights Watch dispatch, February 14, 2018, https://www.hrw.org/news/2018/02/14/israel-love-knows-boundaries  

[859] Adalah, Citizenship Law, No. 32 of 1952; UNRWA, “Palestine Refugees,” https://www.unrwa.org/palestine-refugees (accessed May 3, 2020); Letter from Human Rights Watch to Israeli Prime Minister Barak, December 21, 2000; UN, “Global Issues – Refugees,” https://www.un.org/en/global-issues/refugees (accessed June 15, 2020). (“Under international law and the principle of family unity, the children of refugees and their descendants are also considered refugees until a durable solution is found. Both UNRWA and UNHCR recognize descendants as refugees on this basis, a practice that has been widely accepted by the international community, including both donors and refugee hosting countries.”) 

[860] Jessica Montell, executive director of HaMoked, email to Human Rights Watch, February 24, 2020. HaMoked, “Family Unification in the OPT: The Case of KB,” August 31, 2011, http://www.hamoked.org/Case.aspx?cID=Cases0131 (accessed February 24, 2021).

[861] ICCPR 12.4; UN Human Rights Committee, CPR, General Comment No. 27 of 1999, art. 12 (freedom of movement) https://www.refworld.org/docid/45139c394.html (accessed May 3, 2020).

[862] Human Rights Watch Policy on the Right of Return (which notes that “[t]he international community has a duty to ensure that claims of a right to return are resolved fairly, that individual holders of the right are permitted freely and in an informed manner to choose whether to exercise it, and that returns proceed in a gradual and orderly manner. Governments' legitimate security concerns should be met consistently with these principles and other internationally recognized human rights.”).

[863] “UNRWA Appeals for US$1.5 Billion,” UNRWA press release, February 11, 2021.

[864] “Israel’s Refusal to Grant Palestinian Refugees Right to Return has Fuelled Seven Decades of Suffering,” Amnesty International, press release, May 15, 2019, amnesty.org/en/latest/news/2019/05/israels-refusal-to-grant-palestinian-refugees-right-to-return-has-fuelled-seven-decades-of-suffering/ (accessed May 3, 2020).

[865] Rome Statute, art 7(1)(h), art(7)(1)(k), art 8(2)(g), art 8(2)(h).

[866] Human Rights Watch Policy on the Right of Return.

[867] Human Rights Watch, Born Without Civil Rights.