Pakistan: Garment Workers’ Rights at Risk

Pakistan’s government is failing to enforce laws that could protect millions of garment workers from serious labor rights abuses. 

 (نیو یارک) ۔ پاکستانی حکومت قوانین کو نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے جس سے ملبوسات کے لاکھوں مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی کو روکا جا سکتا تھا ، یہ بات ہیومن رائٹس واچ کی آج جاری کردہ رپورٹ میںکہی گئی ہے۔

.....صفحات پرمشتمل رپورٹ ’’سودے بازی کی گنجائش نہیں ‘‘ میں پاکستانی ملبوسات کی صنعت میں مختلف خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی گئی ہے ۔ جن میںپنشن اور کم از کم اجرت کی ادائیگی نہ کرنا ، آزاد مزدور انجمنوں کو دبانا ، مقررہ اوقات کار سے زائد جبری طور پر کام کروانا ، نا کافی وقفہ دینا اور قواعد و ضوابط کی رو سے زچگی اور بیماری کی رخصت نہ دینا شامل ہیں۔ہیومن رائٹس واچ نے حکومت کے مزدوروں کے معائنہ نظام میں بھی مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ پاکستانی حکام کو فیکٹریوں کے معائنہ نظام کو بہتر بنانا چاہیے اورخلاف ورزی کرنے والوں کا محاسبہ کرنا چاہیے ، ملکی اور بین الاقوامی ملبوسات کا برانڈ کو چاہیے کہ وہ ان کے لیے ملبوسات تیار کرنے والی فیکٹریوں میں مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی روکنے یا کم کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ڈائریکٹر بریڈ ایڈم  نے کہا ہے کہ ’’ پاکستان نے بہت لمبے عرصہ تک ملبوسات تیار کرنے والےمزدوروں کے حقوق کی حفاظت کرنے میں اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتی ہے ۔‘‘ ’’وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر لیبر قوانین کو نافذ کرے اور مزدوروں کے حقوق کی حفاظت اور ان کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے نئی پالیسی اپنائے ۔‘‘

ہیومن رائٹس واچ نے ایک اپنی رپورٹ  کے لیے 140لوگوں کے انٹرویوز کئے جن میں 25 ملبوسات فیکٹریوں کے 118 مزدور ، یونین رہنما ، حکومتی نمائندے اور مزدوروں کے حقوق کے علمبردار شامل تھے۔ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ کے لیے زیادہ تر تحقیق پاکستان میں جون 2017 تا دسمبر 2018 میں کی ہے۔

حالیہ سالوں میں پاکستانی ملبوسات کے مزدروں نے سنگین مسائلکا اظہار ہڑتالوں اور احتجاج کے ذریعے کیا ہے دسمبر 2018  لاہور میں ملبوستان کے کارکنان کی تربیت کے ادارہ جیسے ایک بڑا پاکستانی برانڈ چلاتا ہے میں احتجاج ہوا ۔ مزدوروں کا کہنا تھا کہ کمپنی حکومت کی جانب سے تربیت کے ادارے قائم کرنے کی ترغیب کو غلط استعمال کر رہی ہے ۔ مزدوروں نے الزام لگایا کہ در حقیقت تربیت کا ادارہ ایک کارخانہ ہے جس میں نام نہاد تربیت لینے والوں سے اصل میں مفت مزدوری کروائی جاتی ہے ۔ مئی 2017 میں مزدروں نے اُ س وقت احتجاج کیا جب کھاڈی جو کہ ایک بڑا پاکستانی برانڈ ہے نے 32 مزدوروں کو جو پاکستانی قوانین کے تحت اپنے حقوق کا مطالبہ کررہے تھے ملازمت سے برخاست کر دیا۔

ستمبر 2012 کراچی میں واقع علی انٹر پرائز ملبوستان کی فیکٹری میں آگ لگنے سے 255 مزدور ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ۔ تفتیش کے نتیجہ میں بہت سی بے ضابطگیاں پائی گئیں ، جن میں حفاظتی نظام اور آگ بھجانے کا طریقہ کار بالکل موجودنہ تھا ۔ زندہ بچ جانے والے مزدروں کے مطابق انتظامیہ نے فوری طور پر مزدوروں کو بچانے کی کوئی کوشش نہ کی اور اس کی بجائے انہوں نے پہلے اپنا مال بچانے کی کوشش کی ۔

کچھ بڑے پاکستانی کارخانے جو کہ منظم صنعتی شعبہ کا حصہ ہیں بین الاقوامی برانڈ کے لیے ملبوسات فراہم کرتے ہیں لیکن زیادہ تر پاکستانی کارخانے ملکی ضروریات کو پورا کرتے ہیں یہ اکثر بغیر نام کی عمارات میں واقع چھوٹے غیر رجسٹرڈ مستری خانوں سے ملبوسات تیار کرواتے ہیں جو کہ محکمہ محنت کے انسپکٹرز کے معائنوں سے بچے رہتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق چھوٹے کارخانوںمیں حالات کار بڑے کارخانوں کی نسبت زیادہ برے ہوتے ہیں ۔ مالکان طے شدہ کم از کم اجرت سے کم ادائیگی کرتے ہیں اورمزدوروں کو کم مدت کے زبانی معاہدوں کے بنیاد پر ملازم رکھتے ہیں۔تاہم ہیومن رائٹس واچ نے مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی ہے جن میں طے شدہ اوقات کار سے زائد وقت کے لیے کام کروانا اور عارضی ملازمت پر بغیر کسی سکیورٹی یا مراعات کے کام کروانا شامل ہے۔جس میں بڑے کارخانے جو بین الاقوامی ملبوسات کے برانڈ کے لیے مال مہیا کرتے ہیںبھی شامل ہیں۔

مزدور جن میں خواتین مزدور بھی شامل ہیں کا کہناہے کہ انہیں بد زبانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان پر دبائو ڈالا جاتا ہے کہ وہ باتھ روم جانے کے لے وقفہ نہ لیں اور حتیٰ کہ انہیں پینے کا صاف پانی بھی مہیا نہیں ہوتا جو مزدور اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں انہیں دھمکایا جاتا ہے اور ملازمت سے برخاست کردیا جاتا ہے ۔ ہیومن رائٹس واچ کے علم میںآیا کہ2 فیکٹریوں میں مزدوروں کو منتظمین کی جانب سے مار پیٹ بھی کی گئی۔

’’ میں جانتا ہوں کہ مجھے حکومت کی جانب سے طے شدہ کم از کم اجرت تے تھوڑی ادائیگی کی جا رہی ہے لیکن ہماری شکایت کون سنے گا ۔‘‘ یہ بات ایک کارخانہ کے مزدور نے کہی جو 8سال سے کام کرنے کے بعد صرف 90امریکی ڈالر ماہوار کما رہا ہے ۔’’ اگر میں منیجر سے شکایت کروں تو وہ مجھے فوراً ملازمت سے نکال دے گا ۔‘‘

ملکی برانڈ کے لیے ملبوسات تیار کرنے والے کچھ کارخانے گھروں میںبیٹھ کر کام کرنے والے مزدروں سے خاص آرڈر کے تحت یا موسم کے حساب سے ملبوسات تیار کرواتے ہیں ، گھروں میں کام کرنے والی خواتین مزدوروں کو اکثر لیبر قوانین کے تحت تحفظ نہیں دیا جاتا ۔نہ تو وہ   انجمن سازی کرسکتی ہیں اور نہ ہی وہ کسی مزدوریونین میں شریک ہو سکتی ہیں ان کا کام کسی ضابطے کے تحت نہیں آتا اور وہ ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں ۔ جو ان کو طے شدہ کم از کم اجرت بھی ادا نہیں کرتے ۔

مزدوروں کے حقوق کے لیے سر گرم کارکن بڑے کارخانوں میں مزدور انجمنوں کو توڑنے کی شکات کرتے ہیں ۔ کارخانے کے منتظمین اکثر مزدوروں کو مختصر عرصہ کے معاہدہ پر ملازم رکھتے ہیں تاکہ ان کی ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں شرکت کی حوصلہ شکنی ہو ۔ کارخانہ کے مالکان لیبر قوانین کے لیے ساز باز کر کے مزدوروں کے لیے رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں تاکہ وہ ٹریڈ یونین رجسٹرڈ نہ کروا سکیں کئی فیکٹریوں کے مالکان ایسی جعلی یا ’’ زرد یونین ‘‘ بنواتے ہیں جو کہ ایسے افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو کہ فرضی ملازمین ہوتے ہیں۔جس سے اصل مزدوروں کے لیے یونین کے لیے رجسٹرڈ کروانا نا ممکن ہو جاتا ہے۔

پاکستان کو چاہیے کہ وہ مزدوروں سے متعلق اپنے قوانین میں ترمیم کرے تاکہ ان کو بین الاقوامی معیار بشمول بین الاقوامی مزدور تنظیم (آئی ایل او )کنونشن کے مطابق لایا جا سکے ۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ عارضی طور پر موجودہ لیبر قوانین کو سختی سے نافذ کرنے سے بھی مزدوروں کے حقوق کی حفاظت میں مثبت نتائج حاصل ہو سکتے ہیں ۔ لیبر انسپکٹرز اور دوسرے حکام پر یا تو بہت زیادہ دبائو ہوتا ہے یا پھر وہ باہم سازش میں شریک ہوتے ہیںاور قانون کے غلط استعمال کو جاری رہنے دیتے ہیں ۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ فیکٹری مالکان کو اصلاح کے لیے عہد کرنا چاہیے ۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA)اور پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینو فیکچررز اور ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (PRGMEA)کو مزدوروں کے تحفظ والے ضابطوں پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے اور ان کمپنیوں کو جو مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے ۔

اقوام متحدہ کے کاروبار اور انسانی حقوق کے لیے رہنما اصولوں کے تحت ملکی اوربین الاقوامی ملبوسات کے برانڈ اور ان کو فراہم کرنے والے کارخانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ فیکٹریوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو روکیں اور کم کریں اور اگر ایسی خلاف ورزیاں ہو تی ہیں تو ان کی تلافی کے لیےاقدام کریں۔تمام کاروبار قطع نظر کہ ان کا حجم یا پھیلائو کتنا ہے کو چاہیے کہ وہ اپنی سر گرمیوں کے ذریعہ انسانی حقوق کے منافی اثرات کو روکیں اور اگر ایسے اثرات وقوع پذیر ہوں تو ان کی تلافی کی جائے ۔ رہنما اصولوں کے مطابق :

’’ پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ ملبوسات کے کارخانوں میں یونین توڑنے کو روکیں اور دیگر حکمت عملی جس کے ذریعے مزدوروں کو تنظیم سازی اوراجتماعی طور پر اپنے حقوق کے مطالبات کو پیش کرنے سےروکنا مقصود ہو کو بھی ختم کیا جائے ۔‘‘ ایڈم نے کہا ’’ملکی اور بین الاقوامی برانڈ کو مزدوروں کے حقوق کو تسلیم کرنا چاہیے اور ان کا احترام کرنا چاہیے کیونکہ اس سے کاروباری مقابلے کی فضا پیدا ہوتی ہے ۔‘‘