These twelve men share a one room labor camp, with no beds and no air conditioner.

© 2010 Samer Muscati/Human Rights Watch

(بیروت، 1 اکتوبر 2012) – ہیومن رائٹس واچ (Human Rights Watch) نے آج جاری ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بحرین میں لاکھوں تارک وطن کارکنان کو جن میں بیشتر جنوبی ایشیائی ہیں ان کے تحفظ کے ارادے سے کی گئی سرکاری اصلاحات کے باوجود استحصال اور بدسلوکی کا سامنا ہوتا ہے۔

123 صفحہ کی رپورٹ، "ایک بہتر زندگی کیلئے: بحرین میں تارک وطن کارکنان کے ساتھ بدسلوکی اور حکومت کا اصلاحی ایجنڈا،" میں بحرین میں تارک وطن کارکنان کو درپیش بدسلوکی اور استحصال کی بہت ساری شکلوں کا ریکارڈ جمع کیا گیا ہے اور کارکن کو تدارک فراہم کرنے اور اس کے تحفظات کو استحکام بخشنے کی حکومت کی کوششوں کی تفصیلات کو تحریر کیا گیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا کہ بحرین کے حکام کو پہلے سے موجود مزدور کے تحفظات اور تدارکی میکانزم کو نافذ کرنے اور بدسلوک آجروں کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو 2012 کے نجی شعبے کے قانون محنت کا دائرہ وسیع کرکے اس میں خانگی ملازمین کو شامل کرنا چاہیے، جنہیں کلیدی تحفظات سے خارج کردیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے ڈپٹی ڈائرکٹر جوئے اسٹارک (Joe Stork) کا کہنا ہے، "بحرین کے حکام اس بات کو سمجھتے ہیں کہ تارک وطن کارکنان نے ملک کی تعمیر میں مدد کی ہے اور انہوں نے کچھ اہم اصلاحات نافذ کی ہیں"۔ "لیکن مزید سختی کے ساتھ نفاذ کے بغیر، ان اصلاحات سے وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی حقوق کی بیشتر خلاف ورزیوں جیسے اجرتوں کی عدم ادائیگی اور کارکنان کے پاسپورٹ ضبط کرلینے کے معاملات کا ازالہ بہت کم ہی ہوپاتا ہے۔"

بحرین میں تارک وطن کارکنان 458,000 سے زیادہ ہی ہیں، جو کل سرکاری و نجی افرادی قوت کا قریب 77 فیصد ہیں۔ ان میں سے بیشتر تعمیرات، تجارت، مینوفیکچرنگ اور گھریلو کام میں ادنی اہلیت، کم اجرت والی نوکریوں میں برسر ملازمت ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے 62 تارک وطن کارکنان کا انٹرویو لیا اور سرکاری اہلکاروں، بھرتی کرنے والے ایجنٹوں، مزدور بھیجنے والے ممالک کے سفارتکاروں، مزدور سے متعلق قانونی ماہرین، اور کارکنوں کے وکلاء سے ملاقات کی۔

حکومت کی حالیہ اصلاحات میں حفاظتی ضوابط، انسانوں کی بردہ فروشی سے مقابلہ آرا ہونے کے اقدامات، کارکنان کے حقوق کی تعلیم کی مہمیں اور تارکین وطن کو اپنے آجروں کو چھوڑنے کا وسیع تر استحقاق فراہم کرنے والے اصول شامل ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے پایا کہ حکام موسم گرما کے خطرناک حد تک گرم مہینوں کے دوران دن کے درمیانی حصے میں تعمیری کام کرنے پر پابندی جیسے کچھ تحفظات کو لاگو کرتے ہیں۔ لیکن حکام نے کارکن کے دیگر متعدد تحفظات معقول طور پر انجام نہیں دیئے ہیں، جیسے اجرتیں روک لینے، بھرتی سے متعلق فیس عائد کرنے اور پاسپورٹ ضبط کرلینے کے خلاف تحفظات۔ ان سبھی باتوں کی وجہ سے کارکنان کے لئے کام کرنے کے بدسلوکی بھرے حالات کو چھوڑنا مشکل تر ہوجاتا ہے۔

بحرین میں تارک وطن کارکنان کو عمومی طور پر بحرینی معاشرے کی جانب سے تفریق اور بدسلوکی کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے ایک حساس سیاسی بے اطمینانی کے عرصہ کے دوران، مارچ 2011 میں جنوب ایشیائی تارک وطن کارکنان کے خلاف متعدد پرتشدد حملوں کو ضبط تحریر کیا ہے۔ کچھ معاملات میں تارکین وطن نے بتایا کہ ان پر حملہ کرنے والے حکومت مخالف مظاہرین تھے۔ پاکستانی کارکنان نے ایک ساتھی کارکن کی موت اور دوسروں کو سنگین چوٹیں آنے کا باعث بننے والے حملوں کے بارے میں ہیومن رائٹس واچ کو ثبوت فراہم کرائے۔

ہیومن رائٹس واچ نے پایا کہ تارک وطن کارکن کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے آجروں کو عام طور پر بحرینی قانون میں موجود ہرجانوں کا سامنا نہیں ہوتا ہے اور تعزیری ضابطے اور انسانی بردہ فروشی مخالف قوانین میں بیان کردہ تعزیری نتائج کا سامنا، اگر کبھی ہوتا ہے تو، شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کو اس امر کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ بحرینی حکام نے مزدور سے تعلق رکھنے والی خلاف ورزیوں کا محاسبہ کرنے کیلئے، 2008 میں متعارف بردہ فروشی مخالف قانون کا استعمال کیا ہو۔

بہت سارے تارک وطن کارکنان کی مصیبت ان کے آبائی ملک میں شروع ہوتی ہے، جہاں بہت سارے افراد مقامی بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کو بحرین میں 10 تا 20 ماہ کی اجرت کے مساوی فیس ادا کرتے ہیں، جس کے سبب زبردست قرض چڑھ جاتا ہے، اور اکثر کنبہ جاتی گھر اور قیمتی اشیاء رہن کے بطور استعمال ہوتی ہیں۔ یہ قرض، جو کبھی کبھی آجروں کے ذریعہ اجرتیں روک لیے جانے پر بڑھتا جاتا ہے، مؤثر طور پر بہت سارے تارکین وطن کو کام میں بدسلوکی کی صورتحال قبول کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ بحرین کے آجرین عام طور پر کارکنان کے پاسپورٹ ضبط کرلیتے ہیں۔ موجودہ کفالتی نظام (کفالہ-kefala) کے ساتھ مل کر، یہ امور آجروں کو چھوڑنے اور آزادانہ طور پر گھر واپس ہونے کی کارکنان کے استحقاق بہت زیادہ محدود کردیتے ہیں۔

کارکنان نے بارہا ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ اجرتوں کی ادائیگی نہ ہونا ان کی شکایات کی فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے جن کارکنان کا انٹرویو لیا ان میں سے نصف کا کہنا ہے کہ ان کے آجر تین سے دس ماہ کے درمیانی عرصہ کی اجرتیں روک لیتے ہیں۔ ایک گھریلو کارکن کو پانچ سالوں سے اپنے آجر سے اجرتیں موصول نہیں ہوئی ہیں۔

راجا ایچ۔ (Raja H.) نے تعمیرات میں دیگر 19 لوگوں کے ساتھ کام کیا جس کا کہنا ہے کہ انہیں چار مہینے سے ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ اس کا کہنا تھا، "میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے، اور میں سب سے بڑا بھائی ہوں"۔"میرے چھوٹے بھائی اور بہنیں ہیں اور ایک بھائی پاکستان میں مزدور کے بطور کام کر رہا ہے۔ میں اپنے گھر والوں کو فون کرتا ہوں اور وہ مجھ سے رقم بھیجنے کو کہتے ہیں۔ اگر مجھے رقم نہیں ملتی ہے تو، میں ان سے کیا کہوں گا؟ میری ایک بیوی ہے اور میرے بچے اسکول میں زیر تعلیم ہیں اور یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔"

کارکنان نے کم اجرتوں، کام کرنے کے اضافی اوقات اور جسمانی و نفسیاتی بدسلوکی – اور خانگی ملازمین کی صورت میں، جنسی بدسلوکی کے بارے میں بتایا۔ تعمیرات سے متعلق کارکنان نے مزدوروں کے کیمپوں میں بھیڑ بھاڑ اور عدم تحفظ کا مستقل مسئلہ بھی اٹھایا۔ ہیومن رائٹس واچ نے پایا کہ تارکین وطن میں خودکشی کی شرح انتباہی حد تک زیادہ ہے۔ چند معاملات میں، مزدور کی صورتحال جبری مزدور تک پہنچ گئی ہے۔

خانگی ملازمین نے، جن میں سے تقریبا سبھی خواتین تھیں، 19 گھنٹے یومیہ تک کام کرنے نیز آرام کے وقفے کے کم سے کم ہونے اور چھٹی کا کوئی دن نہیں ہونے کی بابت بتایا۔ بہتوں کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے آجر کا گھر چھوڑنے سے منع کردیا گیا ہے، اور کچھ نے بتایا کہ انہیں معقول خوراک بھی نہیں دی جاتی ہے۔

عائشہ کے۔ (Ayesha K.) نے بتایا، "ہم صبح 5:30 سے رات کے 11 بجے تک کام کرتے ہیں"۔ "جس میں کوئی وقفہ نہیں ہے۔ کوئی آرام نہیں ہے۔ حتی کہ کھانے کا بھی وقت نہیں ہے۔" گلف ڈیلی نیوز (Gulf Daily News) نے 18 ستمبر 2012 کو، 63 سالہ آکانہ ستیہ وتی (Aakana Satyawati) کے معاملے پر رپورٹ شائع کی، جس کے آجر نے مبینہ طور پر پچھلے دو سال سے اس کو ادائیگی نہیں کی ہے اور قریب 21 سال سے اس کو ہندوستان میں مقیم اپنے اہل خانہ سے ملاقات کے لئے جانے کی اجازت دینے سے منع کردیا ہے، اسٹارک(Stork) کا کہنا ہے کہ "نجی گھروں میں دنیا سے کٹے، خانگی ملازمین اکثر و بیشتر معمولی تنخواہ پر کام کرنے کے خطرناک اوقات کار، اور کبھی کبھی جسمانی اور جنسی بدسلوکی کا شکار بنتے ہیں"۔"ان کارکنان کو بدسلوکی کے انتہائی زبردست خطرے کا سامنا ہوتا ہے جبکہ انہیں بہت کم ہی قانونی تحفظات حاصل ہیں۔"

ایک نئے مزدور قانون کا دائرہ وسیع کرکے جو جولائی میں نافذ العمل ہوا، سالانہ چھٹیوں سمیت خانگی ملازمین کے لئے چند تحفظات کو شامل کیا گیا، اور مزدور کے تنازعہ میں ثالثی تک رسائی سمیت، دیگر امور کی وضاحت کی گئی۔ تاہم، یہ قانون درکار اصلاحات جیسے کام کرنے کے زیادہ سے زیادہ یومیہ اور ہفتہ وار اوقات اور ہفتہ واری چھٹی کے دنوں کے تعین کو لازمی قرار دینے میں ناکام ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے پایا کہ کچھ شعبوں میں، بحرین نے قابل ذکر اصلاحات کی ہیں۔ 2006 میں قائم شدہ ایک ایجنسی، لیبر مارکیٹ ریگولیٹری اتھارٹی (Labor Market Regulatory Authority) کام سے متعلق ویزا کی درخواستوں کی سلسلہ بندی اور کارکن کی تعلیم سے متعلق مہموں کا نظم و نسق کرتی ہے، جن میں سے کچھ کارکن کے حقوق اور تلافی سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہیں۔ 2009 میں پاس ہوئے ایک قانون سے "کھلی چھت" والے ٹرکوں میں، جو بہت سارے کارکنان کو چوٹیں آنے اور ان کی موت واقع ہونے کا سبب بنے، ان کے نقل و حمل میں تیزی سے کمی آئی۔ حکومت کے زیر انتظام چلنے والی ایک پناہ گاہ نے 2006 کے بعد سے بدسلوک آجروں سے فرار اختیار کرنے والی خاتون تارک وطن کارکنان کو پناہ دی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے پایا کہ بہت سارے اہم شعبوں میں، اصلاحات زیادہ عرصے تک نہیں چل پائی ہیں، نہ ہی ان کا نفاذ معقول رہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے جن دو مزدور کیمپوں کا دورہ کیا وہاں کے کارکنان نے بتایا کہ وزات محنت
(Labor Ministry) کے معائنہ کاروں نے ضابطہ سکونت کی سنگین اور خطرناک خلاف ورزیوں کے بارے میں ان کے آجروں کو سالوں پہلے بتایا ہے لیکن آجر نے مطلوبہ کارروائیاں کبھی نہيں کیں اور کیمپ کھلے ہی رہے۔

وزارت محنت کارکنان کو شکایات درج کرنے کی اجازت دیتی ہے، جن میں سے بیشتر کا تعلق اجرت سے ہوتا ہے، اور مزدوروں کے تنازعات میں ثالثی کرتی ہے۔ پھر بھی بدسلوک آجر اکثر تصفیہ کرنے سے انکار اور اکثر و بیشتر میٹنگوں کیلئے وزارت ہذا کی درخواستیں نظر انداز کردیتے ہیں۔ وزارت ہذا کے ذریعہ فراہم کرائے گئے ڈیٹا کے مطابق، 2009، 2010، اور 2011 میں، ثالثوں نے تارک وطن کارکنان کے ذریعہ درج کرائی شکایات میں صرف 30 فیصد کو حل کیا، جو بحرینی کارکنان کے ذریعہ درج کرائی گئی شکایتوں کے مقابلے 56 فیصد ہے۔

جب تارک وطن کارکنان شکایت درج کرواتے ہیں تو، آجر اکثر یہ الزام لگا کر انتقامی کارروائی کرتے ہیں کہ کارکن نے چوری یا اس سے ملتے جلتے جرم کا ارتکاب کیا، یا اجازت کے بغیر "فرار ہوگیا"، جس کی وجہ سے کارکنان امکانی حراست، ملک بدری، اور دوبارہ داخلے پر پابندیوں کے سزاوار ہوتے ہیں۔

ایک مقامی شہری معاشرتی گروپ، مائگرنٹ ورکرز پروٹیکشن سوسائٹی (Migrant Workers Protection Society) کے ماریئٹا دیاس (Marietta Dias) کا کہنا ہے کہ "اگر آپ وزراء سے بات کریں اور قانون پر نظر ڈالیں تو سب کچھ معقول لگتا ہے اور کسی بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا ہے"۔"لیکن جب آپ [وزارتوں میں موجود] چھوٹے افراد کے پاس جائیں تو، ہر چیز پر کارروائی کرنے والے افراد کو یا تو کوئی بھی کام کرنے کا اختیار نہیں ہے یا انہیں قانون کے بارے میں بتایا نہیں گیا ہے۔"

وکلاء نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ عدالتیں اکثر کارکن کے موافق فیصلے جاری کرتی ہیں، لیکن ان مقدموں کو حل ہونے میں چھ ماہ سے لے کر ایک سال کا عرصہ لگ جاتا ہے اور وہ بھی اپیلوں کے ساتھ مشروط ہوتے ہیں۔ تارک وطن کارکنان اس دوران قانونی طور پر کام کرنے کے اہل نہیں ہوتے ہیں اور ان کی کوئی آمدنی نہیں ہوتی ہے اور وہ بتاتے ہیں کہ انہیں عام طور پر یہ لگتا ہے کہ ان کے پاس عدالت سے ماورا غیر جانبدارانہ تصفیہ قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

بہت سارے کارکنان گھر واپسی کیلئے جہاز کے ٹکٹ اور اپنے پاسپورٹ کی واپسی کے عوض تصفیہ کرتے ہیں، اور اپنی پچھلی اجرتوں کا ایک کافی بڑا حصہ، اور کبھی کبھی پورا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ کارکنان نے بتایا کہ انہوں نے اپنے پاسپورٹوں کی واپسی اور اپنے ویزے منسوخ کرنے کیلئے سابق آجروں کو ادائیگی بھی کی ہے، تاکہ انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت مل جائے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ نئے مزدور قانون میں متعارف کرایا جانے والا مقدمے کے نظم و نسق کا نظام کسی حد تک معاون ہے۔ اسے مزدور کی قانونی حیثیت کو مزید بہتر کرنا چاہیے اور اس میں دیوانی عدالتوں میں تلافی کا مطالبہ کرنے کیلئے تارک وطن کارکنان کی استحقاق کو استحکام بخشنے کی گنجائش ہے۔

اسٹارک (Stork) کا کہنا ہے کہ "بحرین واضح طور پر تارک وطن مزدور سے متعلق فراخ دلانہ طرز عمل والے ملک کی حیثیت سے ساکھ بنانا چاہتا ہے۔" "حکام کو چاہیے کہ تارک وطن کارکنان کے خلاف بدسلوکی کیلئے سزا سے بری ہوجانے کی ثقافت کا ازالہ کرنے سے اس کی شروعات کریں جو وہاں کے قانون کے تحت مواخذہ اور ہرجانے عائد ہونے کی کمی کا براہ راست نتیجہ ہے۔"