17 فروری 2013ء ایک آدمی پاکستان کے شہر کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ آبادی کی سبزی منڈی میں بم حملے میں ہلاک ہونے والوں کی قبریں تیار کرتے ہوئے

©2013 Reuters

دیا جائے ۔ ہیومن رائٹس واچ کی آج جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں سُنی انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہزارہ اور دوسرے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کو روکنے کے لئے حکومت پاکستان کو تمام ضروری اقدامات کرنے چاہیں۔

62 صفحہ پر مشتمل رپورٹ ''ہم زندہ لاشیں ہیں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں شیعہ ہزارہ ہلاکتیں'' بلوچستان میں شیعہ ہزارہ برادری پر سُنی عسکریت پسند گروہوں کے حملوں پر دستاویز تیار کی گئی ہے۔ 2008 سے کئی سو ہزارہ افراد بتدریج بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور تشدد کی وجہ سے مارے گئے ہیں۔ دو بم دھماکے صوبائی دارلحکومت کو ئٹہ میں جنوری ، فروری 2013 میں ہوئے جن میں کم از کم 180افراد ہلاک ہوئے۔

''سنی انتہا پسندوں نے بندوقوں اور بمبوں سے ہزارہ برادری کے افراد کو اُس وقت نشانہ بنایا جب وہ مذہبی جلوسوں میں شرکت کر رہے تھے مسجدوں میں نماز پڑھ رہے تھے ، اپنے کام پر جا رہے تھے یا روز مرہ زندگی کے دوسرے کام کر رہے تھے'' بریڈ ایڈمنر، ایشا ڈائریکٹرہیو من رائٹس واچ ''ہزارہ برادری کے لیے کوئی سفر کوئی خرید و فروخت کرنا، سکول جانا یا کسی کام کے لئے بھی باہر نکلنا محفوظ نہ ہے۔ ان حملوں کو روکنے میں حکومت کی ناکامی افسوس ناک اور ناقابل قبول ہے''۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر مسلسل جاری حملوں نے پانچ لاکھ کے قریب افراد کو خوف میں زندگی بسر کرنے، اپنی نقل و حرکت کو محدود کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ اور ان کی تعلیم اور ملازمت تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔ ان نامساعدحالات کی بناء پر کافی تعداد میں ہزارہ سے پاکستان سے بھاگ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اس رپورٹ کی تیاری کے لئے ہیو من رائٹس واچ نے ایک سو سے زائد بچ جانے والے افراد ومتاثرہ خاندانوں کے اراکین، قانون نافذ کرنےوالے سیکورٹی اہلکار وں اور خود مختار ماہرین کے انٹرویو کیے۔

    2008 سے پاکستان میں سنی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد سے شیعہ مسلمان برادری کے افراد ہزاروں کی تعداد میں قتل ہوئے ہیں جس کی مثال نہیں ملتی ۔ لشکر جھنگوی نے زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے پھر بھی اس کے زیادہ تر رہنما اپنے انتظامی عہدوں پر قائم ہیں اور احتساب اور مقدمات سے بچے ہوئے ہیں۔ کافی تعداد میں لشکر جھنگوی کے سزایافتہ نمایاں لیڈر اور مشکوک افراد فوجی اور غیر فوجی حراست سے فرار ہوئے ہیںجن کی حکام کوئی وضاحت پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

10جنوری 2013کوسنوکر کلب کوئٹہ میںخود کش حملہ کے نتیجے میں ہزارہ برادری کے96افراد ہلاک اور 150زخمی ہوئے۔ مرنے والوں کی اکثریت دوسرے دھماکہ کا شکار ہوئی جو کہ پہلے دھماکہ کے 10منٹ بعد ہوا ۔وہ پہلے حملے میں زخمیوں کی مدد کے لیے آئے تھے۔ 17 فروری 2013 کوکوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن کی سبزی منڈی میں کم از کم 84 ہزارہ ہلاک ہوئے اور 160 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ لشکر جھنگوی نے ان دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ۔ 1947 کی آزادی کے بعد پاکستان میں یہ فرقہ وارانہ تشدد کے سب سے خونی واقعات ہیں۔

ایڈمنر نے کہا ہے ''کہ پاکستانی حکام لشکر جھنگوی کی جانب سے تشدد کو روکنے میں ناکام ہو گئے ہیں اور ہزارہ برادری خوف و ہراس کی فضا میں زندہ رہنے پر مجبور ہے۔ جو کہ بہت شرمناک ہے۔ اس سے بھی بدتر پاکستانی حکام کا یہ کہنا ہے کہ ان کے حقوق کو محدود کرنا دراصل ان کے زندہ رہنے کی قیمت ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے ''بلوچستان میں متعین فوجی اور غیر فوجی سیکورٹی فورسز نے ہزارہ برادری پر حملوں کی تفتیش کے سلسلہ میں کوئی قدم نہیں اٹھایا اور نہ ہی آئندہ کے لیے کوئی حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ بڑی تعداد میں ہزارہ افراد نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ منتخب حکام اور ریاستی سیکورٹی اداروں کا متعصبانہ اور مخالفانہ رویہ حملوں کی مناسب تفتیش نہ ہونے اور مجرموں کے سزا نہ پانے کی بڑی وجہ ہے۔لشکر جھنگوی نے بغیر روک ٹوک فرنٹئیرکور پولیس اور دیگر حکومتی اہلکاروں کو جو شیعہ جلوسوں زائرین اور ہزارہ کی مضافاتی بستیوں کی حفاظت پر مامور تھے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ گو پاکستانی فوج اور دیگر حکومتی ادارے لشکر جھنگوی کے ساتھ کسی قسم کی ملی بھگت یا ہمدردی سے انکار کرتے ہیں لیکن لشکری جھنگوی نے حکومتی سیکورٹی اداروں کے ساتھ روابط کی بناء پر فوائد اُٹھائے ہیں۔

2008 سے پاکستان اور بلوچستان کے حکام نے درجنوں افراد کو شیعہ برادری پر حملے میں ملوث پاکر گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ صرف مٹھی بھر افراد مجرم ٹھہرائے گئے ۔ پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ لشکر جھنگوی کوغیر مسلح کرے /اس پر پابندی لگائے اور اس کی لیڈر شپ اور جرائم میں ملوث افراد کے خلاف تفتیش کرے۔ ہیو من رائٹس واچ نے کہا ہے کہ پاکستان کے بین الاقوامی اتحادیوں اور امداد دینے والوں کو چاہیے کہ وہ حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالے کہ وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق انسانی حقوق کے سلسلے میں اپنے فرائض کی ادائیگی کرے اور بلوچستان میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں کے مجرموں کے خلاف مقدمات کی تفتیش اور عدالتی کاروائی کے ذریعے بہتر حکومت کے معیار کو فروغ دے۔

ایڈمنر نے کہا ہے ''کہ حکومتی افسران اور سیکورٹی فورسز کو سمجھنا چاہیے کہ لشکر جھنگوی کے مظالم کے خلاف کاروائی کرنے کے علاوہ اُن کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔ ہزارہ اور دوسری شیعہ برادری کے قتل عام پر بے عملی نہ صرف اپنے ہی شہریوں سے بے حسی اور بے وفائی ہے بلکہ اس کا مطلب جرائم کو جاری رکھنے میں حصہ دار بننا ہے۔

تنازعہ کے پس منظر اور انٹر ویوز کے اقتباس کے لیے مندرجہ ذیل ملاحظہ کریں۔

لشکر جھنگوی (LEJ) اورہزارہ

پاکستان کی موجودہ آبادی تقریباً ساڑھے اٹھارہ کروڑ ہے جس میں سے 95%مسلمان ہیں جس میں 75% سنی اور 20%شیعہ ہیں /ہزار ہ شیعہ برادری کوئٹہ میں جمع ہے جو تقریباً پانچ لاکھ ہے ۔ 1994میں افٖغانستان میں طالبان کی حکومت جو سنی عسکریت پسند مسلمان ہیں کو حکومت پاکستان کی حمایت حاصل تھی وہ شیعہ کو مذہب کی بے حرمتی کرنے والے سمجھتے ہیں ۔انہوں نے افغانستان میں ہزارہ کے خلاف مظالم کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ۔ اگست 1998میں جب طالبان شمالی افغانستان کے شہر مزار شریف جس میں مختلف قومیں آباد تھیں میں داخل ہوئے انہوں نے کم از کم دو ہزار عام شہریوں کو قتل کیا جن میں اکثریت ہزارہ برادری سے تعلق رکھتی تھی۔

مزار شریف میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بشمول انتہا پسند سُنی گروہ سپاہ ـصحابہ (SSP)اور اس کے ذیلی وجود لشکر جھنگوی (LEJ) نے طالبان کی طرف سے جنگ میں حصہ لیا۔ پاکستان اور افغان سنی عسکریت پسند گروہوں کے درمیان روابطہ اور بلوچستان میں ہزارہ برادری کی بڑی تعداد کی وجہ سے اس صوبہ میں اُن پر مظالم میں اضافہ ہوا۔

2002میں پاکستان کے اُس وقت کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے لشکر جھنگوی پر پابند ی عائد کر دی لیکن یہ پابندی لشکر ِ جھنگوی کے پاکستان بھر میں حملے کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ نہ بن سکی اور اُن کے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے خلاف حملوں میں طالبان کا تعاون بھی شامل ہے۔

2002 سے لشکر جھنگوی کا سربراہ ملک اسحاق ہے اسحاق کے خلاف 44 تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کی بنیاد پر مقدمات چلا ئے گئے ۔ ان میں تقریباً 70لوگ ہلاک ہوئیے جن میں اکثریت کا تعلق شیعہ برادری سے تھا۔ تاہم عدالتوں نے اسحاق کو کسی بھی مقدمے میں سزا نہ دی اور 40دہشت گردی کے مقدمات میں بری کرد یا راولپنڈی کی عدالت نے تین مقدمات میں بری کرتے ہوئے 29مئی 2014کو تحریر کیا کہ اسحاق کے خلاف مزید کاروائی کے لیے کافی شہادت موجود نہ تھی۔

اسحاق کو سزاد لوانے میں ناکامی پاکستان کے عدالتی نظام اور سنگین جرائم کی حوصلہ افزائی کی طر ف نشان دہی کرتی ہے 2002 سے عثمان سیف اللہ کرد بلوچستان میں لشکر جھنگوی کا سربراہ رہا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وہ ملک بھر اور خاص طو رپر بلوچستان میں سینکڑوں ہلاکتوں میں ملوث رہا ہے۔
روئداد     ''ہم زندہ لاشیں ہیں''

میں ایران کی سرحد کی جانب راستے Route پر ویگن چلاتا ہوں ۔جو نہی ہم مستونگ ضلع میں داخل ہوئے تو مسلح افراد تیزی سے ہماری طرف لپکے اورہمارا راستہ روکا ۔مجھے یاد نہیں وہ کتنے آدمی تھے؟ لیکن وہ سب کلاشنکوف اور راکٹ لانچر سے مسلح تھے انہوں نے ہمیں باہر نکلنے کا کہا ۔ انہوں نے ہم سے پوچھا آپ میں سے کون کون سنی ہے۔ تب انہوں نے سُنیوںکو بھاگ جانے کا کہا ۔ ہم اپنی جانیں بچانے کے لئے بھاگ پڑے۔ ہر آدمی خوفزدہ تھا۔۔۔۔۔کوئی اس طرف بھاگا اور کوئی اُس طرف لیکن جہاں انہوں نے ہر اُس شخص کو جانے دیا جو شیعہ نہیں تھا انہوں نے اس بات کی تسلی کر لی کہ شیعہ بس میں ہی رہیں۔ اس کے بعد انہوں نے ان کو بس سے باہر نکالا اور فائر کھول دیا۔ میں نے یہ سب قریبی عمارت میں پناہ لیتے ہوئے دیکھا۔

سنی بس ڈرائیور کوئٹہ ۔

میں اپنی دوکان سے حملہ سے دس منٹ قبل روانہ ہوا۔ وہاں ایک ہی قطا ر میں ہزارہ شیعہ برادری کی چار دوکانیں تھی۔ چاروں پر اکٹھا حملہ ہوا چھ سے سات لوگ موٹرسائیکلوں پر آئے اور فائر کھول دیا ۔ انہوں نے نہ صرف ان ہزارہ افراد کو ہلاک کیا جو دوکان کے اندر کام کر رہے تھے بلکہ ان کو بھی جو پیچھے سٹور روم میں کام کر رہے تھے مجھے بعد میں پتہ چلا کہ حملہ سے دو دن قبل کوئی شخص پٹھان دوکاندار کے پاس آیا جس کی دوکان چار دوکان نیچے تھی اس سے پوچھا کہ ہزارہ کی کونسی دوکانیں ہیں ۔ حملہ آور ٹھیک سے جانتے تھے کہ کتنے ہزار ہ ان دوکانوں میں کام کرتے تھے اور کہاں ۔وہ سٹور روم میں کام کرنے والوں کے متعلق بھی جانتے تھے اس وجہ سے وہ دوکانوں کی پچھلی طرف گئے اور انہیں بھی مارڈالا ۔

ہزار دوکاندار کوئٹہ۔

یوسف ایک جوان خوبرو لڑکا تھا اس کی عمر 22 سال تھی اور مقامی کالج میں بزنس پڑھ رہا تھا جونہی (عید) کی نماز ختم ہوئی یوسف مسجد سے باہر دوستوں کو عید ملنے گیا میں نے اسے جاتے دیکھا ۔ اس وقت ہی بم دھماکہ ہوا کچھ مرد ہ اور زخمیوں کو پہلے ہی ہسپتال پہنچایا جا چکا تھا ۔ ہم بھی سول ہسپتال گئے میں ایمریجنسی کی طرف گیا وہاں کفنوں میں میں لپـٹی ڈھکے چہروں کے ساتھ لاشوں کی ایک قطار تھی میں نے پہلی ہی لاش کا کپڑا ہٹایا یہ میرا بیٹا تھا ۔اس کا جسم مکمل طور پر جل چکا تھا۔ جہاں پر دل ہوتا ہے وہاں ایک گڑھا تھا اس کا پورا جسم گولیوں سے چھلنی تھا میں نے اُسے ہاتھوں سے پہچانا۔
    حکومت بتدریج ہمیں تحفظ دینے میں ناکام ہو رہی ہے اگر آپ شیعہ ہیں تو یہاں جنگل کا قانون ہے بلکہ اُس سے بھی بدتر ۔میراکاروبار اچھا ہے میںٹیکس ادا کرتا ہوں پھر بھی میں محسوس کرتا ہوں کہ میں دوسرے درجے کا شہری ہوں۔ شیعہ کیوں مارے جاتے ہیں؟

حکومت لشکر جھنگوی کو ہمیں مارنے کی اجازت کیوں دیتی ہے؟

ہزارہ مرنے والے کا باپ

کوئٹہ