Skip to main content

ہندوستان

2022 کے واقعات

نئی دہلی کے جہانگیر پوری محلے میں ہندو مذہبی جلوس کے دوران فرقہ وارانہ تشدد سے متاثرہ علاقے میں بلڈوزر عمارتوں کو مسمار کر رہا ہے، 20 اپریل 2022

 

© 2022اے پی فوٹو/الطاف قادری

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیرِقیادت حکومت نے مذہبی اور دیگر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ منظم امتیازی سلوک کرنے اور  اُن پرتہمتیں لگانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بی جے پی کے حامیوں نے ٹارگٹ گروپوں کو پرتشدد حملوں کا نشانہ بنایا۔ حکومت کا ہندو اکثریتی نظریہ نظامِ انصاف  اور قومی کمیشن برائےانسانی حقوق جیسی آئینی اتھارٹیزسمیت مختلف اداروں میں پائے جانے والے تعصب سے ظاہر ہوتا ہے۔

حکام نے سیاسی طور پر محرک فوجداری الزامات بشمول دہشت گردی کے الزام کا استعمال کرتے ہوئے سول سوسائٹی کے کارکنوں اور آزاد صحافیوں کو خاموش کرنے کی کوششیں تیز کی ہیں تاکہ حکومتی زیادتیوں کو بے نقاب کرنے یا  اُن پرتنقید کرنے والوں کو پابند سلاسل کیا جائے۔ حکومت نے حقوق کے گروپوں، سیاسی مخالفین اور دیگر کو ہراساں کرنے کے لیے غیر ملکی فنڈنگ کے ضوابط اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سہارا لیا۔

بھارتی حکام نے جموں و کشمیر میں آزادیِ اظہار اور پرامن اجتماع پر پابندیاں مزید سخت کیں۔

مئی میں، عدالتِ عظمیٰ نے ایک عبوری فیصلے کے ذریعے نوآبادیاتی دور کے بغاوت کے قانون کے ہر قسم کے استعمال کو مؤثر طریقے سے روک دیا۔ یہ قانون حکومت کے پرامن ناقدین کو گرفتار کرنے کے لیے حکام کی جانب سے بار بار استعمال کیا جاتا ہے۔

ہندوستانی حکومت نے سری لنکا، افغانستان اور یوکرین میں انسانی ہمدردی کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔

حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کی آئینی خود مختار حیثیت کو منسوخ ہونے اور اسے وفاق  کےزیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کے تین سال بعد تشدد کا سلسلہ جاری رہا اور 229 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی تھیں، جن میں 28 عام شہری، 29 سیکورٹی فورسز اہلکار، اور 172 مشتبہ عسکریت پسند شامل تھے۔ اگرچہ مقامی کشمیریوں نے شکایت کی کہ جن لوگوں کو عسکریت پسندوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور کہاگیا کہ وہ فائرنگ کے تبادلے  مارے گئے ہیں،  ان میں سے کئی درحقیقت عام شہری تھے، لیکن کوئی آزادانہ تحقیقات منظر عام پر نہیں آئیں۔

جموں و کشمیر

مسلم اکثریتی وادیِ کشمیر میں اقلیتی ہندو اور سکھ برادریوں پر حملے ہوئے۔ ما میں ٹارگٹ کلنگ کی سات وارداتیں ہوئیں جن میں سے چار کشمیری ہندو تھے جنہیں پنڈت کہا جاتا ہے۔ باقی تین مسلمان پولیس اہلکار تھے۔ بندوق برداروں نے 12 مئی کو ایک کشمیری پنڈت سرکاری ملازم راہول بھٹ کو گولی مار کر ہلاک  کیا جس کے بعد وادیِ کشمیر میں سرکاری ملازمتوں پر تعینات کشمیری پنڈتوں نے نقل مکانی کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کر دی۔

1 جون کو، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی، ایک گروپ، جو صوبے میں مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے، نے خطے کے چیف جسٹس کو ایک خط  لکھ کر مذہبی اقلیتوںکی حفاظت کے متعلق تشویش کا اظہار کیا ۔ ستمبر میں، جموں و کشمیر انتظامیہ نے وادی میں ابھی تک ہڑتال پر موجود ملازمین کی تنخواہیں روکنے کے احکامات جاری کیے ۔ اکتوبر میں عسکریت پسندوں نے ایک کشمیری پنڈت اور دو مہاجر مزدوروں کو قتل کیا۔ جنوری میں، حکومت کے ساتھ جڑے صحافیوں اور پولیس نے کشمیر پریس کلب پر زبردستی قبضہ کر لیا، جو کہ ایک آزاد میڈیا ادارہ ہے، جسے حکام نے بعد میں بند کر دیا۔

جنوری میں، کشمیر کی ڈیجیٹل نیوز سائٹ دی کشمیر والا کے صحافی سجاد گُل کو عوامی احتجاج کی اطلاع دی تو پولیس نے اُنہیں فوجداری سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ ایک ماہ بعد، حکام نے مدیر ِاعلیٰ فہد شاہ کو بغاوت اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا جب اُن کی سائٹ نے فائرنگ کےایک واقعے  کے بعد متضاد دعووں کی اطلاع دی جس میں سیکورٹی فورسز نے چار افراد کو ہلاک کیا تھاجو اُن کے بقول عسکریت پسند تھے۔ حکام نے شاہ اور گُل دونوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت دوبارہ گرفتار کیا جب انہیں ان کے خلاف درج مقدمات میں اُنہیں ضمانت مل گئی تھی، تحریر کے وقت ان کی من مانی حراست کو جاری رکھا۔

اگست 2019 کے بعد سے، کشمیر میں کم از کم 35 صحافیوں کو اپنی رپورٹنگ کے لیے پولیس سے پوچھ گچھ، چھاپوں، دھمکیوں، جسمانی حملے، نقل و حرکت کی آزادی پر پابندیوں یا من گھڑت مجرمانہ مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سیکیورٹی فورسز کے لیے استثنیٰ

تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات سامنے آتے رہے، قومی کمیشن برائےانسانی حقوق نے 2022 کے پہلے نو مہینوں میں پولیس کی حراست میں 147 اموات، عدالتی حراست میں 1,882 اموات اور 119 مبینہ ماورائے عدالت قتل کا اندراج کیا۔

مارچ میں، بھارتی حکومت نے کچھ شمال مشرقی ریاستوں میں مسلح افواج (خصوصی اختیارات) ایکٹ(اے ایف ایس یس پی اے) کے تحت آنے والے اضلاع کی تعداد کم کی۔ تاہم، یہ جموں و کشمیر اور چار شمال مشرقی ریاستوں کے 90 میں سے 43 اضلاع میں نافذ رہا۔ یہ قانون انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے معاملے میں بھی سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو قانونی کارروائی سے مؤثر استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔

بارڈر سیکیورٹی فورس نے بنگلہ دیشی سرحد کے ساتھ اکثر ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا، ہندوستانی باشندوں اور بنگلہ دیش سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن اور مویشیوں کے تاجروں کو نشانہ بنایا۔

دلت، قبائلی گروہ، اور مذہبی اقلیتیں

اکتوبر میں، گجرات میں پولیس نے ایک ہندو تہوار میں خلل ڈالنے کے الزام پر مسلمان مردوں کو توہین آمیزسزا کے طور پر سرِعام کوڑے مارے جبکہ مدھیہ پردیش میں حکام نے بغیر کسی قانونی اجازت کے، ہندو رسمی رقص پر پتھر پھینکنے کے الزام میں تین افراد کے گھروں کو مسمار کر دیا۔ اپریل میں، مدھیہ پردیش، گجرات اور دہلی میں حکام نے فرقہ وارانہ تصادم کے ردِعمل میں املاک گرائی گئی املاک میں سے زيادہ تر مسلمانوں کی تھیں ۔ اگرچہ انہوں نے عمارات کو غیر قانونی قرار دے کر مسماری کے عمل کو جائز قرار دینے کی کوشش کی، لیکن اس تباہی کا مقصد مسلمانوں کے لیے اجتماعی سزا ظاہر ہو رہا تھا۔ ریاست مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے وزیرِ داخلہ نے خبردار کیا کہ ’’جو گھر پتھراؤ میں ملوث تھے انہیں ملبے میں تبدیل کردیا جائے گا‘‘۔

جون میں، بی جے پی کے ایک سیاست دان کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تبصرے ملک بھر میں مسلمانوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر احتجاج کا سبب بنے۔ جھارکھنڈ میں پولیس نے مبینہ طور پر مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا، جس سے دو افراد ہلاک ہو گئے، جب کہ اتر پردیش میں حکام نے احتجاجی تشدد کے پیچھے "کلیدی سازش ی" ہونے کےشبہ میں مسلمانوں کے گھروں کو غیر قانونی طور پر مسمار کر دیا۔

 جون میں، اقوام متحدہ کے تین خصوصی نمائندوں نے ہندوستانی حکومت کو خط لکھا جس میں مسلم برادریوںاور دیگر کم آمدنی والے گروہوں کے گھروں کومبینہ طور پر بین فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث ہونے پر بے جان طور پر مسمار کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "حکام مبینہ طور پر ان واقعات کی تحقیقات کرنے میں ناکام رہے، بشمول تشدد کے لیے اکسانے اور دھمکی دینے کی کارروائیاں جنہوں نےتشدد کو فروغ دیا۔"

اگست میں، بی جے پی حکومت نے 2002 کے مسلم مخالف فسادات کے دوران اجتماعی عصمت دری اور قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا پانے والے 11 افراد کی قبل ازوقت رہائی کی منظوری دی، جس کا بی جے پی سے وابستہ افراد نے عوامی سطح پر جشن منایا۔ ان افراد کو ایک مسلم خاتون بلقیس بانو کی عدالت میں گواہی کے بعد سزا سنائی گئی تھی۔ اپوزیشن کی قانون ساز مہوا موئترا نے عدالتِ عظمیٰ میں ایک عرضی دائر کی جس میں قبل ازوقت رہائی کو چیلنج کیا گیا، جس کی عام طور پر اجتماعی عصمت دری کے معاملات میں اجازت نہیں دی جاتی، یہ کہتے ہوئے کہ ’’یہ قوم بہتر فیصلہ کرتی کہ بلقیس بانو عورت ہے یا مسلمان‘‘۔

جنوری میں، صحافیوں اور کارکنوں سمیت 100 سے زائد مسلم خواتین کی تصاویر ایک ایپ پر آویزاں کی گئیں، جن میں کہا گیا تھا کہ وہ فروخت کے لیے ہیں۔ایسا اُن کی تذلیل کرنے اور اُنہیں دھمکانے کے لیے کیا گیا۔

جبری مذہب تبدیل کرنے سے منع کرنے والے قوانین کا غلط استعمال مسیحوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا، خاص طور پر دلت اور آدیواسی برادریوں کے لوگوں کو۔ جولائی میں، ایک ہندو قوم پرست تنظیم کی شکایت پر اتر پردیش میں چھ دلت مسیحی خواتین کو جبری تبدیلی مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔

اگست میں، نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو نے 2021 میں دلتوں کے خلاف جرائم کے 50,900 واقعات کی اطلاع دی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 1.2 فیصد زیادہ تھے۔ آدیواسی برادریوں کے خلاف جرائم میں  8,802 واقعات کے ساتھ 6.4 فیصد اضافہ ہوا ۔ ستمبر میں، اتر پردیش میں دو دلت نوعمر لڑکیوں کی عصمت دری کر کے اُنہیں قتل کر دیا گیا، جس نے ایک بار پھر اس مسئلے کی نشاندہی کی کہ دلت اور آدیواسی خواتین اور لڑکیوں کو جنسی تشدد کا زیادہ خطرہ ہے۔

سول سوسائٹی اور انجمن سازي کی آزادی

حکام نے سیاسی بنیادوں پر مقدمات سازیوں، ٹیکس کے چھاپوں، مالی بے ضابطگیوں کے الزامات، اور غیر سرکاری تنظیموں کے لیے غیر ملکی فنڈنگ کو کنٹرول کرنے والے قانون فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ(ایف سی آر سی) کے ذریعے کارکنوں اور حقوق کے گروپوں کو ہراساں کیا اور دھمکیاں دیں۔

ستمبر میں، انکم ٹیکس حکام نے آکسفیم انڈیا، دہلی میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار پالیسی ریسرچ، اور بنگلورو میں قائم انڈیپنڈنٹ اینڈ پبلک اسپرٹ میڈیا فاؤنڈیشن کے دفاتر پر ایف سی آر اے کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہوئے چھاپہ مارا۔ جنوری میں، بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی، مرکزی تفتیشی ادارے نے تامل ناڈو ریاست میں انسانی حقوق کی ممتاز تنظیم سینٹر فار پروموشن آف سوشل کنسرنز کے دفاتر کی تلاشی لی۔ تنظیم کے خلاف یہ کارروا ئي ایف سی آر اے کے تحت دھوکہ دہی اور مالی بے ضابطگیوں کے الزام پر کی گئی۔

جون میں، حکام نے انسانی حقوق کی ممتاز کارکن تیستا سیتلواڑ کے ساتھ ساتھ پولیس افسران آر بی سری کمار اور سنجیو بھٹ کو 2002 میں ریاست گجرات میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے متشدد ہجوم  کوجوابدہ ٹھہرانے کی کوشششوں کے ردِعمل میں گرفتار کیا۔ ستمبر میں، پولیس نے ان پر وزیرِ اعظم نریندر مودی، جو فسادات کے دوران گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے سمیت "بے گناہ لوگوں کے خلاف جھوٹی اور بدنیتی پر مبنی مجرمانہ کارروائی" کے الزامات عائد کیے۔

دہلی پولیس نے حقائق کی جانچ کرنے والی ایک خودمختارویب سائٹ آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو جون میں گرفتار کیا، ان پر 2018 کی ٹویٹر پوسٹ میں ہندو جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا گیا۔ زبیر کی گرفتاری اُس ٹیلی ویژن نیوز نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے انتقامی کارروائی معلوم ہوتی ہے جس نے پیغمبر اسلام کے بارے میں بی جے پی کے ایک سیاست دان کے متنازعہ تبصرے نشر کیے تھے، جس پرکئی مسلم حکومتوں نے تنقید کی تھی۔

آزادیِ اظہار

حکام نے حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو سیاسی بنیادوں پر گھڑے گئےالزامات کے تحت گرفتار کیا۔ جولائی میں، جھارکھنڈ میں پولیس نے ایک خودمختار صحافی روپیش کمار سنگھ کو گرفتار کیا، جو آدیواسی برادریوں کے حقوق کے بارے میں رپورٹنگ کرتے ہیں،۔ انہیں  ظالمانہ انسداد دہشت گردی قانون غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یواےپی اے)  کے تحت سمیت مختلف الزامات پر گرفتار کیا گیا۔ سنگھ اور ان کی اہلیہ نے عدالت ِعظمی ٰمیں حکومت کی جانب سے صحافیوں اور کارکنوں کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی تیار کردہ اسپائی ویئر پیگاسو کے مبینہ استعمال کے خلاف  درخواست دائر کر رکھی تھی، جب اُن کے فون نمبر ممکنہ اہداف کی فہرست میں شامل کیے گئے تھے۔

صحافی صدیق کپن دہشت گردی، بغاوت اور دیگر جرائم کے بے بنیاد الزامات میں دو سال تک قید رہے۔  ستمبر میں، عدالتِ عظمی ٰکے چیف جسٹس نے انہیں ضمانت پر رہائی دی ۔ کپن، جنہیں اکتوبر 2020 میں اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اتر پردیش میں ایک دلت لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور قتل کی رپورٹ کرنے کے لیے جا رہے تھے، دیگر الزامات میں زیرِ حراست رہے۔

حکام نے حکومت پر تنقید کرنے والے کارکنوں اور صحافیوں کو بیرون ملک سفر سے روکنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

اگست میں، عدالت ِعظمیٰ کی جانب سے بھارتی شہریوں پر پیگاسس اسپائی ویئر کے استعمال کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی ماہرین کی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ جانچ کیے گئے 29 فونز میں سے 5 فونز میں میلویئر تھا، لیکن  کمیٹی یہ تعین کرنے میں ناکام رہی کہ آیا یہ پیگاسس تھا یا  کہ نہیں۔ عدالت ِعظمیٰ نے اپنے مشاہددے میں کہا کہ حکومت نے کمیٹی کی تحقیقات میں تعاون نہیں کیا لیکن رپورٹ کو پبلک نہیں کیا۔

جولائی میں، میٹا، جو پہلے فیس بک تھا، نے بھارت کے متعلق زیر التواء انسانی حقوق کے اثرات کا جائزہ شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جائزے کا مقصد بھارت میں اپنی سروسز کے ذریعے نفرت انگیز تقریر اور تشدد پر اکسانے میں کمپنی کے کردار کا آزادانہ طور پر جائزہ لینا تھا۔ کمپنی کے اس فیصلے سول سوسائٹی کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت میں میٹا نے انسانی حقوق کی اپنی پہلی سالانہ رپورٹ کے محض کچھ حصّوں کو شائع کیا، جو اس کی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں سے دستبردار ہے۔ میٹا نے زور دے کر کہا کہ اس نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر اشاعت روکی تھی۔

خواتین اور لڑکیوں کے حقوق

 خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد خطرناک حد تک جاری رہا، 2021 میں جنسی زیادتی کے 31,677 کیسز درج کیے گئے، اوسطاً روزانہ 86 کیسز۔  ستمبر میں، عدالتِ عظمی ٰاس بارے میں فیصلہ دینے میں ناکام رہی کہ آیا مسلم طالبات بی جے پی کی زیرِقیادت کرناٹک ریاست کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہن سکتی ہیں یا نہیں،  دو ججوں نے اختلافی آراء کا اظہار کیا تھا۔ فروری میں، ریاستی حکومت نے متعدد سرکاری تعلیمی اداروں میں کلاس رومز کے اندر حجاب پہننے والے طالب علموں پر امتیازی پابندیوں کی حمایت کرتے ہوئے ایک ہدایت جاری کی تھی اور ایک ماہ بعد، ریاستی ہائی کورٹ نے حکومتی حکم کو برقرار رکھا۔

ستمبر میں، سپریم کورٹ نے اسقاطِ حمل کے حقوق کے بارے میں ایک ترقی پسند فیصلہ سنایا، جس سے ازدواجی حیثیت سے قطع نظر تمام خواتین کے لیے قانونی اسقاط حمل تک رسائی کو وسعت دی گئی اور سِس جینڈر خواتین کے علاوہ دیگر افراد کو بھی۔ اس نے جنسی زیادتی کے متاثرین کو بھی رسائی بھی دی، بشمول ازدواجی جنسی زیادتی کے متاثرین کے۔

تعلیم کا حق

 فروری تک، ملک بھر کے تعلیمی اداروں نے مارچ 2020 میں کوویڈ 19 وباءکے بعد سے متعدد بار کھولنے اور بند کرنے کے بعد اسکولوں میں طلباء کی حاضری کے ساتھ کلاسز شروع کیں۔ اسکول بند ہونے سے کروڑوں بچوں کی تعلیم میں بڑے پیمانے پر خلل پڑا،  خاص طور پرغریب اور پسماندہ  طبقوں کی  لڑکیوں اور بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہوئی۔ جنہیں آن لائن سیکھنے تک رسائی حاصل نہیں تھی، جس  سے وہ اسکولوں سے خارج ہونے، تعلیمی عمل سے باہر نکلنے، بچوں کی شادی اور چائلڈ لیبر کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہوئے۔

جنسی رغبت اور صنفی شناخت

ہ جنس پرست عورتوں، ہم جنس پرست مردوں، بین جنس افراد، اور خواجہ سراؤں(ایل جی بی ٹی) برادریوں اور خواتین کے حقوق کے فروغ سے متعلق  ایک اہم فیصلے میں، اگست میں، عدالتِ عظمیٰ نے ہم جنس پرست جوڑوں، واحد والدین، اور ''غیرعمومی؛ سمجھے جانے والے دیگر گھرانوں کو شامل کرنے کے لیے خاندان کی تعریف کو وسیع کیا۔ یہ کہتے ہوئے کہ کہ قانون کے تحت خاندانی فوائد ان تک بھی پہنچنے چاہییں۔

پناہ گزینوں کے حقوق

بھارت میں روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کو سخت پابندیوں، من مانی حراست، سیاسی رہنماؤں کی طرف سے اکثر پرتشدد حملوں اور جبری واپسی کے شدید خطرے کا سامنا ہے۔ مارچ میں، ہندوستانی حکومت نے ایک روہنگیا خاتون کو زبردستی میانمار واپس بھیج دیا، باوجود اس کے کہ منی پور ریاست کے کمیشن  برائےانسانی حقوق نے ملک بدری کو روک رکھا تھا۔ ہندوستان میانمار کی فوج اور مسلح گروپوں کے درمیان تازہ لڑائی کی وجہ سے میانمار سے فرار ہونے والے پناہ گزینوں کے حقوق کا مناسب تحفظ کرنے میں بھی ناکام رہا۔

موسمیاتی تبدیلی کی پالیسیاں اور اثرات

چین اور امریکہ کے بعد بھارت اس وقت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا گرین ہاؤس گیس خارج کرنے والا ملک ہے۔ اگست میں، وفاقی کابینہ نے پیرس معاہدے کے لیے ملک کی تازہ ترین قومی سطح پر طے شدہ شراکت (این ڈی سی) کی منظوری دی، جو 2070 تک خالص صفر اخراج تک پہنچنے، 2030 تک ملک کی نصف توانائی کی ضروریات کو قابل ِتجدید ذرائع سے پورا کرنے، اور 2030 تک معیشت میں اخراج کی شدت کو 45 فیصد تک کم کرنے کا عہد کرتا ہے ۔

زیادہ متواتر اور شدید گرمی کی لہروں، سطح سمندر میں اضافہ، خشک سالی، گلیشیرزپگھلنے، اور بارشوں میں تبدیلی کی وجہ سے ہندوستان پر  موسمیاتی تبدیلیوں کا نمایاں اثر پڑنے کا امکان ہے۔ بھارت نے وقت سے پہلے غیر معمولی  گرمی کی لہر کا سامنا کیا، جس کا آغازمارچ میں شروع ہوا، اور ایک صدی سے زائد عرصے میں اس مہینے میں سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا۔ ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن نیٹ ورک کی ایک تحقیق کے مطابق، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مارچ میں گرمی کی لہر 30 گنا زیادہ تھی۔

کلیدی بین الاقوامی عناصر

 یورپی یونین اور اس کے رُکن ممالک نے بھارتی حکام کے ساتھ متعدد اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں لیکن بھارتی حکومت کی بڑھتی ہوئی زیادتیوں پر کھلےعام تحفظات کا اظہار کرنے سے گریز کیا۔ اس حوالے سے غیر معمولی استثناء یورپی یونین کے خصوصی نمائندے برائے انسانی حقوق کی ٹویٹ اور جولائی میں جرمن دفترِ ِخارجہ کا ایک بیان تھا۔ اپریل میں، یورپی یونین اور بھارت نے دو طرفہ تجارت اور ٹیکنالوجی کونسل کا آغاز کیا، اور جون میں، انہوں نے آزاد تجارتی معاہدے کے لیے باضابطہ طور پر دوبارہ بات چیت شروع کی۔ جولائی میں، یورپی یونین نے ہندوستان کے ساتھ اپنی دسویں، اور بڑی حد تک بے نتیجہ، مقامی انسانی حقوق مذاکرات کیے۔

اپریل میں، امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے "ہندوستان میں فکرمندی کا باعث بننے والی پیش رفت ، بشمول سرکاری، پولیس اور جیل کے کچھ اہلکاروں کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ" کا کھلے عام حوالہ دیا۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے کہا کہ گزشتہ سال "ہندوستان میں مذہبی آزادی کی صورت حال کافی خراب تھی" اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو ہندوستان کو "خاص تشویش کا ملک" قرار دینے کی سفارش کی۔

ہاؤس آف لارڈز کی بین الاقوامی معاہدوں کی کمیٹی کی طرف سے اٹھائے جانے والے خدشات کے باوجود کہ برطانیہ کی حکومت کے مذاکراتی مقاصد نے "انسانی، ماحولیاتی اور دیگر حقوق اور تحفظات"کی اہمیت  کے بارے میں درکارمعلومات فراہم نہیں کیں، برطانیہ ہندوستان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے آگے بڑھا۔

خارجہ پالیسی

بھارت نے میانمار اور بنگلہ دیش سمیت جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ جولائی میں، ہندوستان نے شام کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی کونسل برائےانسانی حقوق کی قرارداد پر عمل نہیں کیا لیکن اکتوبر میں ایچ آر سی کی اِس قرارداد کی حمایت کی کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال کی نگرانی اور رپورٹنگ کرنے کے لیے خصوصی نمائندے کے اختیارکی تجدید کی جائے۔

پورے سال کے دوران، ہندوستان یوکرین پر روس کے حملے سے متعلق اقوامِ متحدہ میں قراردادوں پر ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہا، جس میں مارچ میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی منظور شدہ قرارداد  شامل تھی جس میں روس کی فوجی کارروائیوں کی مذمت کی گئی تھی اور ماسکو سے غیر مشروط طور پر اپنی فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

رُوسی اقدامات پر تنقید کرنے میں غیرآمادگی یا روسی تیل اور دفاعی خریداری کے خلاف پابندیوں میں شامل ہونے میں عدم دلچسپی کی بدولت ہندوستان کو امریکہ اور یورپی یونین کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندوستانی حکومت نے روسی تیل درآمد کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسے وہاں سے تیل حاصل کرنا چاہیے جہاں سے سستا ملے۔ وزیرِ اعظم مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ براہ راست بات چیت کے دوران نجی اور عوامی طور پر جنگ پر تنقید کی۔

بھارت سری لنکا کو امداد فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا، جس نے تقریباً4 ارب امریکی ڈالر کی توسیع کی، جس میں خوراک، ایندھن اور ادویات جیسی ضروری اشیاء کے لیے کریڈٹ لائنز بھی شامل ہیں۔ سری لنکا کو دہائیوں میں بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ ہندوستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے امداد حاصل کرنے میں بھی سری لنکا کی مدد کی۔

اگست 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے دوران بھارت نے افغانستان کو امداد فراہم کی جس میں گندم اور طبی سامان شامل تھا۔ برطانیہ کے شہر لیسٹر میں ستمبر میں برطانوی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد، ہندوستانی ہائی کمیشن نے یک طرفہ طور پر "ہندو مذہب کے احاطے اور علامتوں کی توڑ پھوڑ" کی مذمت کی۔

مئی 2020 میں شروع ہونے والی محاذآرائی کے بعد جنم لینےوالی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ستمبر میں، بھارت اور چین نے ہمالیہ کی سرحد کے ساتھ ایک متنازعہ علاقے سے فوجیوں کو واپس بلانا شروع کیا۔