Skip to main content

ہندوستان

2019 میں پیش آنے والے واقعات

جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے ہندوستانی حکومت کے فیصلے کے بعد ہندوستانی نیم فوجی دستے سرینگر میں گشت کر رہے ہیں، 05 اگست،2019 ۔ 

© 2019 مزمل مٹو/ نور فوٹو بذریعہ گیٹی امیجز

Keynote

 
Protesters in Hong Kong, July 5, 2019.
China’s Global Threat to Human Rights

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مئی 2019 کے انتخابات بھاری اکثریت سے جیتے اور یوں نریندرمودی دوسری مدت کے لیے ایک بار پھر وزیرؚاعظم منتخب ہوئے۔ مودی سرکار نے سرکاری عہدیداروں اور پالیسیوں پر تنقید کرنے کی پاداش میں انسانی حقوق کے بہادر دفاع کاروں اور صحافیوں کو ہراساں کرنے اور ان پر مقدمے چلانے کا لمبا چوڑا سلسلہ جاری رکھا۔

اگست میں، حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی اور صوبے کو دو وفاقی علاقوں میں تقسیم کیا جنہیں وفاق کے ذریعے کنٹرول کیا جائے گا۔ اس اعلان سے قبل، حکومت نے صوبے میں اضافی دستے تعینات کیے، انٹرنیٹ اور فون سروس بند کی، اور ہزاروں لوگوں کو حراست میں لے لیا جس پر اسے عالمی برادری کی مذمت کا سامنا کرنا پڑا۔

حکومت مذہبی اقلیتوں اور دیگر غیرمحفوظ طبقوں پر بلوائی حملے جو اکثر بی جے پی کے حامیوں نے کیے، رکوانے کے لیے عدالتؚ عظمیٰ کی ہدایات کے مؤثر اطلاق میں ناکام رہی۔ 

جموں و کشمیر

14 فروری کو ضلع پلوامہ میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر ایک خودکش بم دھماکے میں 40 ہندوستانی سپاہی مارے گئے۔ جیشؚ محمد جس کی جڑیں پاکستان میں تھیں، نے ذمہ داری قبول کی۔ اس سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان عسکری تناؤ شروع ہو گیا۔ حملے کے بعد، بی جے پی کے حامیوں نے ہندوستان کے دیگر علاقوں میں مقیم کشمیری طالبعلموں اور تاجروں کو ہراساں کیا، مارا پیٹا اور کرائے کے مکانوں اور ہاسٹلوں سے بے دخل کیا۔ 

ہندوستانی حکومت کو جموں و کشمیر میں کچھ پابندیاں ہٹنے کے بعد حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہو گا۔ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کچھ زمینی ذرائع مواصلات بحال کیے تھے، اسکول دوبارہ کھولے تھے اور بڑے اجتماعات پر پابندی ختم کر دی تھی۔ حکومت نے 05 اگست، 2019 کو ریاست کی خصوصی خودمختار آئینی حیثیت ختم کرنے اور اسے وفاق کے زیرؚ کنٹرول دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد پابندیاں عائد کی تھیں۔


جموں و کشمیر

14 فروری کو ضلع پلوامہ میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر ایک خودکش بم دھماکے میں 40 ہندوستانی سپاہی مارے گئے۔ جیشؚ محمد جس کی جڑیں پاکستان میں تھیں، نے ذمہ داری قبول کی۔ اس سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان عسکری تناؤ شروع ہو گیا۔ حملے کے بعد، بی جے پی کے حامیوں نے ہندوستان کے دیگر علاقوں میں مقیم کشمیری طالبعلموں اور تاجروں کو ہراساں کیا، مارا پیٹا اور کرائے کے مکانوں اور ہاسٹلوں سے بے دخل کیا۔ 

05 اگست کو ریاست کی خصوصی خودمختار حیثیت ختم کرتے ہوئے حکومت نے سیکیورٹی لاک ڈاؤن نافذ کر دیا تھا اور اضافی دستے تعینات کر دیے تھے۔ ہزاروں کشمیریوں کو بغیر الزام کے حراست میں لیا گیا جن میں سابق وزرائے اعلیٰ، سیاسی رہنماء، سرکار سے اختلاف کرنے والے کارکن، وکیل اور صحافی شامل تھے۔ انٹرنیٹ اور فون سروس بند کر دی گئی۔ حکومت نے کہا کہ لوگوں کی زندگیاں محفوظ کرنے کے لیے یہ اقدامات ضروری تھے مگر  لوگوں کو مارنے پیٹنے کے مستند اور سنجیدہ الزامات سامنے آئے ہیں۔  

 نومبر تک کچھ پابندیاں تو ہٹ گئی تھیں مگر سینکڑوں لوگ حراست میں رہے اور موبائل فون کی سروس اور انٹرنیٹ تک رسائی پھر بھی محدود تھی۔ حکومت نے حزبؚ مخالف کے سیاستدانوں، غیرملکی سفارت کاروں اور عالمی صحافیوں کو کشمیر کے آزادانہ دورے کرنے کی اجازت نہ دی۔

پُر تشدد مظاہرین نے حالات ٹھیک ہیں کے حکومتی دعووں کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کئی بار ایسے لوگوں کو دھمکیاں دی جو مکمل ہڑتال کرنے میں اُن کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔

پہلے، جولائی میں، یواین ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے اپنی 2018 کی رپورٹ سے متعلق تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا جس میں انہوں نے ہندوستانی اور پاکستانی، دونوں اطراف کے کشمیر میں سیکیورٹی فورسز اور مسلح گروہوں کے مظالم پر پریشانی کا اظہار کیا اور کہا کہ کسی بھی ملک نے اُن تحفظات کا ازالہ کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جن کا رپورٹ میں ذکر کیا گیا تھا۔ ہندوستانی حکومت نے رپورٹ کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ '' غلط اور خاص بیانیہ'' ہے جس میں''سرحد پار دہشت گردی کا اصل معاملہ'' نظرانداز کیا گیا۔

سیکیورٹی فورسز کو قانونی کاروائی سے استثنیٰ

اقوامؚ متحدہ کے ماہرین کی سفارشات سمیت کئی آزادانہ سفارشات سمیت حکومت نے مسلح افواج (خصوصی اختیارات) قانون پر نظرثانی یا اسے منسوخ نہیں کیا۔ یہ قانون سپاہیوں کو انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر قانونی کاروائی سے استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔ یہ قانون کشمیر اور شمال مشرقی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں نافذ ہے۔

ریاست ااترپردیش میں پولیس ماورائے عدالت ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور اسے قانونی کاروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ مارچ 2017 سے جب بی جے پی کی ریاستی حکومت نے اقتدار سنبھالا  اُس وقت سے لے کر جون تک کم از کم 77 افراد مارے جا چکے تھے اور 1,100 زخمی ہوئے تھے۔ جنوری میں اقوامؚ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ان ہلاکتوں پر اور ان واقعات میں  انصاف کا مطالبہ کرنے والوں پر پولیس کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس رپورٹ کے تحریر ہونے تک، آزادانہ تحقیقات کے لیے عدالت عظمیٰ میں ایک پٹیشن زیرغور تھی۔

ان ہلاکتوں سے پولیس کی زيادتیوں کے لیے محاسبے کی کمی اور پولیس اصلاحات کے نفاذ میں ناکامی کی نشاندہی ہوئی ہے۔

دلت، قبائلی گروہ، اور مذہبی اقلیتیں

حکمران جماعت بی جے پی کے ساتھ وابستہ ہندو انتہاپسندوں کا مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسسلمانوں پر تشدد سارا سال جاری و ساری رہا۔ ان افواہوں کی موجودگی میں کہ مسلمان گوشت کے حصول کے لیے گائے کی تجارت یا اسے ذبح کرنے کرتے ہیں۔ ان حملوں میں مئی 2015 سے اب تک 50 لوگوں کو قتل اور 250 سے زائد کو زخمی کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ، مسلمانوں کو مارا پیٹا گیا اور ہندوآنہ نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ پولیس جرائم کی باقاعدہ تحقیقات کرنے میں ناکام رہی، تحقیقات روک دیں، قواعدوضوابط نظر کیے، اور گواہوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے ان کے خلاف فوجداری مقدمے درج کیے۔

دلت، ماضی میں جنہیں '' اچھوت'' کہا جاتا تھا، کو متشدد حملوں اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ ستمبر میں، عدالت عظمیٰ نے حکام کو ہندوستان بھر کی جامعات میں ذات کی بنیاد پرامتیاز کی تحقیقات کرنے کا کہا تھا۔ مبینہ طور پر امتیاز کے باعث خودکشی کرنے والے ایک دالت اور ایک قبائلی برادری کے طالبعلم کی ماؤں نے پٹیشن دائر کی تھی جس پر عدالت نے یہ ہدایت کی۔ 

فروری 2019 میں عدالتؚ عظمیٰ نے حکم دیا تھا کہ اُن تمام لوگوں کو بےدخل کیا جائے جنگلات حقوق قانون کے تحت جن کے دعوے مسترد ہو گئے تھے۔ چنانچہ قبائلی برادریوں اور جنگلات میں مقیم لگ بھگ 20 لاکھ افراد سے اُن کی رہائش اور روزگار چھن جانے کا خدشہ ہے۔ دعوے کے عمل میں نقائص پر تحفظات کی فضا میں عدالت نے بے دخلی کو عارضی طور پر روک دیا تھا۔ جولائی میں، اقوامؚ متحدہ کے انسانی حقوق کے تین ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مسترد کیے گئے دعووں پر شفاف اور آزاد نظرثانی کی جائے اور تمام دستیاب چارے بروئے کار لانے کے بعد ہی لوگوں کو بےدخل کیا جائے اور لوگوں کے ریلیف اور معاوضے کو یقینی بنایا جائے۔

اظہار اور خلوت کی آزادی

حکام نے پُرامن اختلاف رائے کا گلا دبانے کے لیے بغاوت اور ہتک عزت کے فوجداری قوانین استعمال کیے۔ اکتوبر میں، ریاست بہار کی پولیس نے فلمی صنعت کی نامور شخصیات سمیت 49 افراد کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا جس کی وجہ یہ تھی کہ اُنہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو ایک کھلا خط لکھا تھا جس میں اقلیتی برادریوں کے خلاف نفرت اور تشددد پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ بڑے پیمانے پر ہونے والی مذمت کے بعد، حکام نے دنوں کے اندر ہی مقدمہ بند کر دیا۔

صحافیوں کو سوشل میڈیا پر رپورٹنگ کرنے یا تنقیدی آرا ظاہر کرنے اور سیلف سنسر اختیار کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ہراساں اور قید کیا گیا۔ ستمبر میں، سرکاری اسکولوں میں مفت کھانا دینے کی سرکاری اسکیم میں بدنظمی کو بے نقاب کرنے پر اترپردیش پولیس نے ایک صحافی کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کر لیا۔ جون میں تین صحافیوں پر وزیراعلی اترپردیش کی تضحیک کے الزام لگا کر انہیں گرفتار کر لیا۔

ہندوستان بہت زيادہ تعداد میں انٹرنیٹ سروسز کی بندش کے حوالے سے دنیا بھر میں سرؚفہرست رہا۔ حکام نے انٹرنیٹ سروسز کے تعطل کا راستہ اپنایا جس کی وجہ سماجی بدامنی پر قابو پانا تھا یا پھر امن عامہ کے پہلے سے موجود مسئلے کو حل کرنا تھا۔ سافٹ وئیر فریڈم لاء سنٹر کے مطابق، نومبر تک، 85 بندشیں تھیں جن میں سے 55 جموں و کشمیر میں تھیں۔

جولائی میں، پارلیمان نے بائیو میٹرک تصدیقی منصوبہ، آدھار ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی جس سے نجی فریقین کی طرف سے اس کا استعمال ممکن ہوا۔ ترامیم نے خلوت اور کوائف کی حفاظت کے حوالے سے تحفظات کو جنم دیا جو ستمبر 2018 کے عدالتؚ عظمیٰ کے فیصلے کے تناظر میں کی گئی تھیں جس نے آدھار کے استعمال کو سرکاری فوائد تک رسائی اور محصولات کے اندراج کے علاوہ دیگر مقاصد تک محدود کر دیا تھا۔   

دسمبر 2018 میں، حکومت نے نئے انفارمیشن ٹیکنالوجی ( درمیانی ہدایات) قواعد تجویز کیے جو اظہار کی آزادی اور صارفین کی خلوت کو بہت زيادہ متاثر کریں گے۔

اکتوبر میں، فیس بک کی زیرؚملکیت سوشل میڈیا کمپنی واٹس ایپ نے تصدیق کی  تھی کہ ایک اسرائیلی کمپنی این ایس او کے کڑی نگرانی والے سافٹ وئیر کے ذریعے ہندوستان میں انٹرنیٹ کے 121 صارفین پر نظر رکھی گئی تھی جن میں سے کم از کم 22 انسانی حقوق کے کارکنان، صحافی، ماہرینؚؚ تعلیم، اورشہریتی حقوق کے وکیل تھے۔ حکومت نے سافٹ وئیر خریدنے کی تردید کی تھی۔   

سول سوسائٹی اور انجمن سازی کی آزادی

حکام نے انسانی حقوق کے سرگرم اداروں کو ہراساں کرنے اور بیرونی فنڈنگ لینے کی ان کی استعداد محدود کرنے کے لیے فارن کنٹریبیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (ایف سی آر اے) کا استعمال کیا۔ جون میں حکام نے وکلاء کولیکٹو کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ درج کیا جو کہ ایک ایسا گروپ ہے جو قانونی امداد دیتا ہے، پسماندہ طبقوں کے حقوق کی بات کرتا ہے، اور ہم جنس پرست عورتوں، ہم جنس پرست مردوں، بین صنفی افراد، اور مخلوط الجنس لوگوں (ایل جی بی ٹی کیو) کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے مہمیں چلا رہا ہے۔ نومبر میں، حکام نے ادارے کے بانیان کو زیرؚحراست تفتیش کے لیے گرفتار کرنے کرنے کے لیے عدالت کی اجازت طلب کی حالانکہ وہ تحقیقات میں تعاون کر رہے تھے۔

ایک اہم انسداد دہشت گردی قانون، غیرقانونی سرگرمیوں (خاتمہ) کے ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت 2018 میں انسانی حقوق کے نو نامور کارکنان کو گرفتار کیا گیا جو کہ ابھی تک جیل میں تھے۔ ان پر کالعدم ماؤاﹺسٹ تنظیم کا حصہ ہونے اور پرتشدد احتجاج کی ترغیب دینے کا الزام ہے۔ اسی مقدمے میں، ستمبر میں، حکام نے جامعہ دہلی کے پروفیسر کے گھر پہ چھاپہ مارا جو معذوری کے شکار افراد کے حقوق کے لیے ذات کی بنیاد پر امتیاز کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔

اگست میں،  وفاقی حکومت نے یو اے پی اے میں ترامیم منظور کیں تاکہ اسے افراد کو دہشت گرد ٹھہرانے کا اختیار مل جائے حالانکہ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ قانون پہلے ہی حقوق کے حوالے سے قانونی ضابطوں سے متصادم ہے، اور اسے مذہبی اقلیتوں، حکومت کے ناقدین اور سماجی کارکنوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ ترامیم کو غیرقانونی سمجھ کر عدالتؚ عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا ہے اور اؚس رپورٹ کے مرتب ہونے تک مقدمہ عدالت میں زیرؚغور تھا۔

مہاجرین اور شہریتی حقوق

اگست میں، آسام میں حکومت نے ہندوستانی شہریوں اور قانونی رہائیشیوں کی نشاندہی کے لیے قومی رجسٹر برائے شہریاں  شائع کیا۔ یہ اقدام بنگلہ دیش سے بنگالی نسل کے لوگوں کی بے ضابطہ نقل مکانی پر ہونے والے کئی احتجاجی مظاہروں کے بعد کیا گیا۔ فہرست سے لگ بھگ 20 لاکھ لوگوں کو خارج کیا گیا، جن میں سے بیشتر مسلمان تھے اور ان میں وہ بھی تھے جو ہندوستان میں کئی برسوں سے مقیم ہیں اور بعض نے تو اپنی ساری عمر وہیں پہ بسر کی ہے۔ ایسے سنجیدہ الزامات ہیں کہ تصدیقی عمل من مانا اور امتیازی تھا، اگرجہ فہرست سے خارج ہونے والوں کے پاس عدالتی اپیل کا حق ہے۔

ریاست آسام نے کہا کہ وہ دس حراستی مراکز بنائے گی ان لوگوں کے لیے جنہیں اپیل کے بعد بھی شہریت نہیں دی گئی۔ ستمبر میں، ہندوستان کے وزیرؚ داخلہ نے اعلان کیا کہ قومی رجسٹر برائے شہریاں کا اطلاق ملک بھر میں ہو گا اور یہ کہ حکومت ہمسایہ ممالک سے مسلمانوں کے سوا باقی تمام بےضابطہ پناہ گزینوں کو شامل کرنے کے لیے شہریتی قانون میں ترمیم کرے گی۔

2019 میں، حکومت نے آٹھ روہنگیا مسلمانوں کو میانمر واپس بھیجا، پانچ افراد کے ایک خاندان کو جنوری میں اور مارچ میں ایک والد اور اس کے دو بچوں کو۔ اکتوبر 2018 میں بھی سات لوگوں کو ملک بدر کیا گیا تھا۔ اپریل میں، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے پانچ ماہرین نے ان لوگوں کی ملک بدری کی مذمت کی اور کہا کہ یہ عالمی حقوق کے منافی ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں کچھ روہنگیا لوگوں کی غیرمعینہ حراست پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

عورتوں کے حقوق

سال بھر کے دوران عورتوں کے ریپ کے اعلیٰ سطح کے واقعات، بشمول وہ مقدمہ جو بی جے پی کے ایک رہنماء کے خلاف درج ہوا، نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ عورتوں کو انصاف کے حصول میں بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے جیسے کہ پولیس کی جانب سے مقدمے کے اندراج سے انکار، اُلٹا متاثرہ عورت پر الزامات، دھونس، تشدد، اور گواہوں کے تحفظ کا فقدان۔ ملزم رہنما سوشل میڈیا پر اٹھنے والی آوازوں سمیت وسیع پیمانے پر ہونے والی مذمت کے بعد ستمبر میں گرفتار کیا گیا۔ 

اپریل میں، عدالتؚ عظمیٰ کے موجودہ چیف جسٹس کے خلاف جنسی ہراسانی کی شکایت اسی سے ملتی جلتی مشکلات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ دیگر عورتیں جنہوں نے طاقتور مردوں کے خلاف شکایت کی، وہ بھی تضحیک کے فوجداری مقدمات کا نشانہ بنیں۔ 

بچوں کے حقوق

اگست میں، پارلیمان نے بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ کے ایکٹ 2012 میں ترمیم کی اور 18 برس سے کم عمر کسی بھی فرد کے ریپ کے لیے سزائے موت نافذ کی ااور اور دیگر جنسی جرائم کی سزائیں بھی بڑھائیں۔ ایسا بچوں کے حقوق کے اداروں کے ان تحفظات کے باوجود کیا گیا کہ اس سے پولیس کو درج شکایات میں کمی آ سکتی ہے کیونکہ رپورٹ کیے گئے 95 فیصد واقعات میں مجرم متاثرہ فرد کا جاننے والا، کوئی طاقتور شخصیت یا خاندان کا ہی کوئی فرد ہوتا ہے۔

نومبر میں، بچوں کے حقوق کے کارکنوں کی ایک پٹیشن کے بعد، عدالتؚ عظمیٰ نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے جووینائل جسٹس سسٹم سے اگست سے نافذ شدہ لاک ڈاؤن کے دوران بچوں کی مبینہ حراست اور دیگر زيادتیوں پر ایک رپورٹ طلب کی۔ اُس سے پہلے، کمیٹی نے 144 زيرؚحراست بچوں جن میں سب سے کم عمر 09 سال کا بچہ تھا، کی فہرست پیش کی تھی۔ پولیس کے مطابق کئی کو پُرتشدد مظاہروں میں شرکت کی تنبیہہ کے بعد چھوڑ دیا گیا تھا۔

معذوری کے شکار لوگوں کے حقوق

معذوری کا شکار لڑکیوں اور عورتوں کو زیادتیوں کا نشانہ بننے کے بڑھتے خطرات کا سامنا رہا اور انہیں انصاف کے نظام میں بڑی سنگین قسم کا رکاوٹوں کا سامنا رہا حالانکہ اُن کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی قانونی دفعات موجود ہیں۔

نفیسیاتی یا ذہنی معذوری کے شکار ہزاروں افراد رہائیشی اداروں میں پڑے ہوئے ہیں جہاں انہيں بہت زيادہ ہجوم، صفائی کے فقدان اور جسمانی، زبانی اور یہاں تک کہ جنسی تشدد کا سامنا ہے۔ نفسیاتی معذوریوں کا شکار بعض لوگ کو یہاں تک کہ باندھ کر، زنجیروں میں جکڑ کر یا چھوٹی بند جگہوں پر بند کیا گیا ہے جس کی وجہ ذہنی صحت کی حالتوں کے ساتھ جُڑی تہمت اور معاشرے کی سطح پر امدادی سہولیات کا فقدان ہے۔

جنسی رجحان اور صنفی شناخت

پارلیمان نے خواجہ سراء افراد (حقوق کا تحفظ) قانون منظور کیا۔ حقوق کی تنظیموں نے قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون خواجہ سراء لوگوں کو مکمل تحفظ اوران کی شاخت کو پوری طرح تسلیم نہیں کرتا۔ قانون کسی خواجہ سراء فرد کی اپنی شناخت جسے ہندوستان کی عدالتؚ عظمیٰ نے 2014 میں ایک تاریخ ساز فیصلے میں تسلیم کیا تھا، پر غیر واضح ہے۔ اس کی دفعات قانونی صنفی شناخت کے عالمی اصولوں کے بھی برخلاف ہیں۔

اہم عالمی کردار

امریکی کانگریس نے دو سماعتیں کی جن کی زیادہ تر توجہ کشمیر پر رہی۔ کئی قانون سازوں نے کشمیر میں ہندوستان کے اقدام بشمول سیاسی حراستوں اور ذرائع مواصلات کی بندش پر تنقید کی اور آسام میں شہریتی تصدیقی عمل سمیت دیگر زيادتیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔

اگست میں اقوامؚ متحدہ کی سلامتی کونسل نے کئی عشروں بعد پہلی دفعہ جموں و کشمیر پر ایک بند کمرہ اجلاس منعقد کیا۔ چین جس نے پاکستان کے کہنے پر اجلاس بلایا، نے کہا کہ اراکین انسانی حقوق کے بارے میں اور بھارت- پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر پریشان ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنا‏زعہ میں ثالثی کرنے اور اُسے حل کرنے کی پیشکش کی تھی   

ستمبر میں، یورپی یونین نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں جموں و کشمیر کی صورت حال کو اجاگر کیا اور ہندوستان سے مطالبہ کیا کہ وہ پابندیاں اٹھائے اور متاثرہ آبادی کے حقوق اور بنیادی آزادیوں کا احترام کرے۔ یورپی پارلیمان نے کشمیر پر ایک خصوصی بحث بھی کی جس میں ہندوستان اور پاکستان دونوں سے تقاضا کیا گیا کہ وہ انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی عالمی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔

اقوامؚ متحدہ کے خصوصی طرائق کار ہندوستان میں مختلف واقعات پر پریشانی کا اظہار کرتے رہے جیسے کہ ماورائے عدالت قتل، آسام میں لاکھوں لوگوں کی ممنکہ بے وطنی کی کیفیت، قبائلی برادریوں اور جنگلوں میں مقیم لوگوں کی ممنکہ بے دخلی اور کشمیر میں ذرائع مواصلات کی بندش۔ اقوامؚ متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق مشل بیشلٹ  نے ستمبر میں جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔

خارجہ پالیسی

سال کے دوران، پاکستان کے ساتھ تعلقات بگڑتے رہے۔ فروری میں کشمیر میں سیکیورٹی فورسز پر ایک مسلح حملہ ہوا جو انتقامی فضائی حملوں کا سبب بنا۔ اگست میں ہندوستان نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو پاکستان نے اس کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات محدود کر دیے اور ہندوستانی ہائی کمشنر کو ملک سے نکال دیا۔ پاکستان نے ستمبر میں اقوامؚ متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر چین اور تنظیم برائے اسلامی تعاون کی حمایت سے ایک بیان بھی جاری کیا۔ بگڑتے تعلقات کے باوجود، نومبر میں، دونوں ملکوں نے پاکستان میں سکھ گردوارے کی زیارت کے لیے ہندوستانی زائرین کے لیے ویزا کے بغیر داخلے کا اعلان کیا۔

ہندوستان نے بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، اور افغانستان سمیت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات طے کرتے وقت  حقوق کی حفاظتوں کو کھلے عام گفتگو نہیں کی۔ اگست میں، ہندوستان کے وزیرؚخارجہ نے اپنے دورہ بنگلہ دیش کے دوران بنگلہ دیش میں مقیم بے  دخل روہنگیا کو مدد فراہم کرنے اور میانمر کی ریاست رخائن کی ترقی میں معاونت کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ آسام میں شہریتی تصدیقی منصوبے کے خارج ہونے والے لگ بھگ 20 لاکھ افراد کی ملک بدری کے متعلق تحفظات کے ردؚعمل میں وزیرؚخارجہ نے بنگلہ دیش کو بتایا کہ یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ساتھ بڑھتے تعلقات کے عندیے کے طور پر، اگست میں وزیراعظم مودی کے دوران کے دوران فرمانروا نے انہیں ملک کے سب سے اعلیٰ سول ایوارڈ سے نوازا۔ ہندوستان کو مارچ 2018 میں دبئی کے حکمران کی 32سالہ بیٹی کا تعاقب کرنے اور وطن بدر کرنے میں کردار ادا کرنے پر اقوامؚ متحدہ کے ادارے اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں  سے سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خاندان کی عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے فرار ہو رہی تھی۔

جولائی میں ہندوستان نے اپنا سابقہ مؤقف برقرار رکھا اور اقوامؚ متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں رائے دہی کے استعمال سے گریز کیا یہاں تک کہ ایل جی بی ٹی لوگوں کو تشدد اور امتیاز سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک آزاد ماہر کےاختیار کی تجدید کے لیے بھی رائے دہی کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔