پاکستان کے لیے 2014 ایک ہیجانی سال تھا۔ فرقہ وارانہ حملے سزا کے خوف کے بغیر جاری رہے۔فوجی آپریشن کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے اور معمول سے زیادہ سیلاب نے سندھ اور پنجاب میں تباہی مچا دی۔ 2013ء میں الیکشن کے نتیجہ میں ایک سیویلین حکومت سے دوسری سیویلین حکومت کو اقتدارِ انتقال ہوا اور نواز شریف وزیراعظم بنے۔ لیکن اگست اور ستمبر میں سیاسی بے یقینی بحران کی حالت تک پہنچ گئی اورانتقالِ اقتدار کے ذریعے حاصل کردہ کامیابی خطرہ میں پڑ گئی۔

اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج جس کی قیادت اپوزیشن لیڈر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کر رہے تھے۔ جنھوں نے نواز شریف کا استعفیٰ اور نئی حکومت بنانے کامطالبہ کیا۔ احتجاج کرنے والوں اور سیکورٹی فورسز کے تصادم کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اورسینکڑوں زخمی ہوئے۔ حکومت نے احتجاج کے ردِ عمل میں اسلام آباد میں ایمرجنسی نافذ کردی اور بنیادی حقوق معطل کر دیے۔ جیسا کہ آئینی درخواست دائر کرنے کا حق۔ اس بحران کے عروج پر فوج نے حکومت کی درخواست پر مداخلت کی اور حکومت کو جمہوری اور سیاسی فیصلے کرنے کا موقع فراہم کیا۔مذہبی اقلیتوں پر پُر تشدد حملے جاری رہے۔ عرصہ دراز سے قائم ''مذہبی بے حرمتی کے قوانین'' ان حملوں کو پروان چڑھانے کے ایک حد تک ذمہ دار ہیں جیسے صوبہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیاں، غیر عدالتی ہلاکتیں اور تشدد سے متعلقہ حقوق کی جانب توجہ نہ دی گئی ہے۔ بلوچستان میں سیکورٹی اداروں کی طاقت کو مسلسل غلط استعمال کرنے اور حکومت کے نہ روکنے کی وجہ سے سزا سے نہ ڈرنے کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔

جولائی میں حکومت نے تحفظ پاکستان ایکٹ (PPA) منظور کیا جو کہ انسداد دہشت گردی کی قانون سازی ہے۔ اس سے سیکورٹی اداروں کو بلا احتساب اختیار برتنے کا جواز فراہم کیا گیا ہے۔ تحفظ پاکستان ایکٹ مخصوص حالات میں بارِ ثبوت ملزم پر منتقل کرتا ہے اور سیکورٹی اداروں کو گرفتاری کے اندھا دھند اختیارات اور نظر بندی(Preventive Detention) کا اختیار دیتا ہے۔ اور اس طرح مقدمہ کے منصفانہ سماعت کے حق کی خلاف ورزی کرنا ہے۔

وزیرستان میں جنگ

8 جون کو کراچی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے میں اٹھارہ سے زائد لوگ ہلاک ہوئے جس کے بعد 30 جون کو فوج نے شمالی وزیرستان میں جارحانہ کارروائی شروع کی۔ جس میں تیس ہزار سپاہیوں نے حصہ لیا۔ فوج کے جانب سے علاقہ جنگ میں رسائی نہ ہونے کی وجہ سے غیر جانبدارانہ ذرائع ابلاغ کے لیے عام شہریوں کو ہلاکتوں کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا۔
جنگی کارروائی کی وجہ سے تقریباً دس لاکھ لوگ بے گھر ہوئے جو کہ غلیظ کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ حکومت نے پوری طرح ان کی صحت کے مسائل کی طرف توجہ نہیں دی ہے۔ جولائی میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کے پاکستان میں نمائندہ کے مطابق پینے کے پانی میں صفائی کے ناقص انتظام، حفظانِ صحت کی سہولتوں کے فقدان بنا پر خیبر پختونخواہ میں بنوں کے مقام پر مہاجرین کے کیمپوں میں متعدی بیماریاں پھوٹ پڑیں۔

فوجی حملے کی بنا پر ستمبر میں تحریک طالبان پاکستان کے پنجابی دھڑے نے ہتھیار ڈال دیئے اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کے حملوں کو ترک کرنے کا اعلان کیا۔ تحریکِ طالبان پاکستان نے کہا کہ ''مستقبل میں اس کے پر تشدد حملوںکا نشانہ افغان فوج اور حکومت ہو گی۔


فرقہ وارنہ دہشت گردی

فرقہ وارانہ دہشت گردی اور خاص طور پر پہلے سے پریشان (محصور) شعبہ برادری پر حملے 2014ء میں بھی جاری رہے۔ جس میں مرنے والوں کی شرح کافی زیادہ رہی۔ عسکریت پسند لشکر جھنگوی نے شعبہ ہزارہ برادری پر بلوچستان میں حملے جاری رکھے حکومت پاکستان مشکوک افراد پر کامیابی سے مقدمات چلانے اور انھیں گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔ جس کی وجہ سیکورٹی اداروں میں اس گروہ کے ساتھ ہمدردی بھی شامل ہے۔

جون میں پاکستان ایران سرحد کے نزدیک واقع تفتان شہر میں جڑواں خود کش دھماکوں میں 24 شیعہ زائرین ہلاک اور 18 زخی ہوئے۔ سنی عسکریت پسندگروہ جیش اسلام نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ لیکن حکام نے تادمِ تحریر کوئی گرفتاریاں عمل میں نہ لائی ہیں۔ ستمبر 2013 سے 2014ء تک کراچی شہر فرقہ وارانہ تشدد کے لیے بہت ساز گار مقام رہا۔ جہاں کم از کم 750 فرقہ وارانہ ہلاکتیں ہوئیں۔

6 ستمبر 2014ء کو نامعلوم مسلح افراد نے شیعہ رہنما علی عباس کو قتل کریا اور چار دن بعد نامعلوم مسلح افراد نے سُنی رہنما مولانا مسعود کو بظاہر انتقامی کارروائی میں قتل کر دیا۔


مذہبی اقلیتیں

دفعہ 295-C تعزیرات پاکستان مذہبی بے حرمتی کے لیے سزائے موت کو لازمی قرار دیتی ہے اگرچہ اب تک اس ضمن میں کسی کو پھانسی نہیں ہوئی۔حکومتِ پاکستان مذہبی بے حرمتی کے قوانین میں ترمیم کرنے یا اس کو منسوخ کرنے میں ناکام رہی ہے۔جو مذہبی اقلیتوں پر بلا خوف تشدد کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ 1990ء سے لے کر آج تک کم از کم ساٹھ افراد کو مذہبی بے حرمتی کا موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے قتل کر دیا گیا۔ اس وقت سترہ 17 لوگ مذہبی بے حرمتی کے جرم میں قصور وار قرار پاتے ہوئے پھانسی کے منتظر ہیں۔ جبکہ دیگر اُنیس 19 افراد عمر قید بھگت رہے ہیں۔

مارچ 2014ء میں لاہور کی ایک عدالت نے ساون مسیح کو مذہبی بے حرمتی کے جرم میں موت کی سزا سنائی۔ اس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر توہین آمیز کلمات بیان کرنے کا الزام تھا۔ اپریل میں تین ہزار افراد کے ایک بڑے ہجوم نے لاہور میں عیسائی برادری کی رہائشی کالونی پر حملہ کیا اور سینکڑوں گھروںکو نذرِ آتش کر دیا۔ پولیس نے مسیح کو گرفتار کیا لیکن اور کسی قسم کی مداخلت کرنے میں ناکام رہی۔

7 مئی کو نامعلوم مسلح افراد نے انسانی حقوق کے نامور وکیل راشد رحمان کو مذہبی بے حرمتی میں ملوث افراد کی نمائندگی کرنے کی بنا پر بظاہر انتقاماً قتل کر دیا۔ رحمان کے قتل کے وقت وہ مذہبی بے حرمتی کے ملزم یونیورسٹی لیکچرر جنید حفیظ کی نمائندگی کر رہا تھا اور اسے موت کی دھمکیاں بھی ملی تھیں۔ ان سطور کو لکھنے تک حفیظ کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔
اپریل میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ایک عدالت نے ایک عیسائی جوڑے شفقت عمانویل اور شگفتہ کوثر کومبینہ بے حرمتی پرمبنی پیغامات (SMS)بھیجنے پر موت کی سزا سنائی۔

نومبر میں ایک مشتعل ہجوم نے ایک اور عیسائی جوڑے کو مبینہ طور پر قرآن پاک کے اور اق جلانے کی بنا پر مار مار کے ہلاک کر دیا۔ ان کی نعشوں کو بعد میں اسی بھٹہ خشت میں جلا ڈالا جس میں وہ کام کرتے تھے۔

جولائی میں ایک اور ہجوم نے گوجرانوالہ کی احمدی برادری کے گھروں کو مذہبی بے حرمتی کے الزام میں جلا ڈالا۔ جس میں تین افرد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعات جو احمدیوں کے خلاف امتیازی سلوک کو دوام بخشتی ہیںمیں کوئی تبدیلی نہ کی گئی۔ قانون واضح طور احمدیوں کو بالواسطہ یا بلا واسطہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کو ممنوع قرار دیتا ہے۔'' مزید برآں ان کو کھلم کھلا اپنے عقائد کو ظاہر کرنے یا ان کو تشہیر سے بھی منع کرتا ہے۔ اسی طرح ان کو مساجد کی تعمیر یا اپنی عمارات کو ایسا کہنے اور نماز کے لیے کھلم کھلا بلانے کی بھی اجازت نہیں۔


حقوق نسواں

پولیس نے بچوں کے حق تعلیم کے لیے برملا بولنے والی سترہ سالہ طالبہ ملالہ یوسف زئی پر حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا۔ ان حملہ آوروں نے 9 اکتوبر 2012ء کو ملالہ یوسف زئی پر حملہ کیا تھا۔ اس کی ذمہ داری تحریکِ طالبان قبول کی تھی۔ ملالہ بعد میں شدید زخموں سے صحت یاب ہو گئی۔ اور اکتوبر میں نوبل پرائز حاصل کرنے والی کم عمر ترین ہونے کابھی اعزاز حاصل کیا۔
عورتوں اور لڑکیوں کے خلاف تشدد، بشمول عصمت دری، نام نہاد غیرت کے نام پر قتل، تیزاب پھینکنے کے واقعات، گھریلو تشدد اور زبردستی کی شادیاں تسلسل سے جاری رہیں۔ پاکستان ہیومن رائٹس، این۔ جی اوز کے اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً ایک ہزار غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں۔

ایک بدنام مقدمہ، پچیس سالہ فرزانہ پروین جو کہ تین ماہ کی حاملہ تھی کو اس کے خاندان کے افراد نے پتھر مار مار (سنگسار) کر کے ہلاک کر دیا۔کیونکہ وہ فرزانہ کی مرضی کی شادی کے خلاف تھے۔ ان مقدمات میں قصور وار سزا سے بچ جاتے ہیں۔ کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے موت کا نشانہ بننے والے خاندان کے معاف کرنے پر ملزمان کے خلاف مقدمات خارج کر دیتے ہیں۔ وہ عورتیں اور لڑکیاں جو عوامی مقامات پر نکلنے، عوامی کردار ادا کرنے کی جرأت کرتی ہیں ان کو دھمکیوں سے ڈرانے کا سلسلہ 2014ء میں بھی جاری رہا۔ وہ عورتیں جو مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھتی ہیں خاص طور پر خطرے سے دو چار ہوتی ہیں۔
(Movement for Solidarity and Peace) امن اور یک جہتی کی تحریک پاکستان کی رپورٹ کے مطابق کم از اکم ایک ہزار عیسأای اور ہندو لڑکیوں کو ہر سال زبردستی مسلمان لڑکوں سے بیاہ دیا جاتا ہے۔یہ جبر عام طور پر ہونے والے دولھا کے خاندان کرتے ہیں اور اس کی تعمیل نہ کرنے والی لرکیوں اور ان کے خاندان شدید تشدد سے دو چار ہو سکتے ہیں۔ حکومت ایسی زبردستی کی شادیوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

بلوچستان

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی بری رہی۔ مئی 2013ء میں الیکشن کے باوجود جنوبی مغربی صوبہ میں تمام کلیدی فیصلے فوج کرتی رہی۔ اور سول سوسائٹی اور میڈیا کی ،مسلسل تشدد کو منظر عام پر لانے کی کوششوں میں فوج رکاوٹیں ڈالتی رہی۔ حفاظتی اداروں کے ساتھ منسلک جبری گم شدگیاں بلا خوف جاری رہیں۔ 18 مارچ کو سفید کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد جن کو بعد میں پاکستان کی نیم فوجی فرنیٹئر کور سے تعلق کی بنیاد پر شناخت کیا گیا۔ مبینہ طور پر بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن آزاد کے چیئر پرسن زاہد بلوچ کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے اغوار کیا گیا۔ جس کے اتا پتا اور محفوظ ہونے کی ابھی تک کوئی خبر نہیں۔ 2013ء میں عدالتِ عظمیٰ کے فیصلوں میں جبری گم شدگیوں کے شکار افراد کے لیے انصاف کے تقاضوںکو پورا کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 2012ء میں اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی سفارشات بابت جبری و رضاکارانہ گم شدگیوں پر پاکستانی حکومت اپنی آئینی ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بین الاقوامی قانون بھی جبری گم شدگیوں کو ممنوع قرار دیتا ہے۔


انسدادِ دہشت گردی

2014ء میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے احتساب میں کوئی بہتری نہ ہوئی ہے۔ جون میں لاہور کے مضافات میں واقع ماڈل ٹاؤن میں سیاسی احتجاج کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کا سب سے قبیح واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے بغیر وارننگ اپوزیشن کی سیاسی پارٹی کے حامیوں پر فائرنگ کر دی۔ کیونکہ انھوں نے پولیس کو پاکستانی عوامی تحریک کے ہیڈ کوارٹر کے کا باہر بنائی گئی حفاظتی رکاوٹیں ہٹانے سے روکا تھا۔ ا س واقعہ میں حکام نے پاکستان عوامی تحریک کے کم از کم آٹھ کارکنوں کے ہلاکت اور 80 ممبران کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ جولائی میں حکومت نے دہشت گردی کو روکنے کے لیے غیر جمہوری قوانین کا اطلاق کیا۔ تحفظ پاکستان ایکٹ انتہائی وسیع اور مبہم الفاظ پر مشتمل دستاویز ہے۔ جو کہ سیکورٹی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلا وارنٹ گرفتاری اور نظر بندی (Preventive Detention) کے وسیع اختیارات رہتی ہے۔ ایسی دفعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیارات کے ناجائز استعمال پر تحفظ دیتی ہیں اور آزادی تقریر، ذاتی زندگی میں بے جا مداخلت، پر امن طریقے سے اکٹھا ہونا اور منصفانہ مقدمہ جیسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔


آزادی رائے

2014ء میں آزادی رائے اور ذرائع ابلاغ حکومتی و غیر حکومتی شدید دباؤ کی زد میں آئے۔

اپریل میں پاکستان کے ایک مشہور ترین ٹی وی پیش کار حامد میر پر کراچی میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا۔ حامد میر اس حملہ سے جانبر ہو گئے۔ جنگ/ جیو /جہاں حامد میر ملازمت کرتے ہیں وہ ملک میں کئی کمپنیوں پر مشتمل ذرائع ابلاغ کا بڑا دارہ ہے۔ اس نے فوج کے طاقتور ادارے ISI کے ڈائریکٹر جنرل پر واقعہ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ ISI نے الزمات کی تردید کی اور وفاقی حکومت نے جیو کا لائسنس معطل کرتے ہوئے اس کی نشریات کو پندرہ دن کے لیے بند کر دیا۔

نامعلوم حملہ آوروں نے ذرائع ابلاغ کے ملازمین اور دفتروں کو بھی نشانہ بنایا۔ 2014ء میں صحافیوں پر دیگر حملوں میں رضا رومی پر اپریل میں حملہ بھی شامل ہے۔ جو کہ نامور کالم نگار اور ٹی۔ وی پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔رومی حملے میں مضروب ہونے اور ان کا ڈرائیور جان بحق ہو گیا۔ ابھی تک مسلح حملہ آور جو کہ لشکر جھنگوی سے تعلق رکھتے تھے گرفتار نہ ہوئے ہیں۔
اگست میں صحافی عمر قریشی اور کالم نگار کامران شفیع کو ان کے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے اسلام آباد احتجاج پر تنقید کرنے کی وجہ سے نامعلوم ذرائع سے قتل کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔


فیصلہ کن بین الاقوامی کردار

امریکہ پاکستان کو ترقیاتی کاموں کے لیے اور فوجی امداد دینے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ ان کے باہمی تعلقات میں سالوں پر محیط اختلافات اور شکوک کے بعد بہتری ہوئی۔ اگرچہ نواز شریف کو 2013ء میں امریکہ کے دورہ سے فوری نوعیت کے اہم سفارتی مقاصد حاصل نہ ہوئے لیکن اس سے دونوں ممالک میں اعتماد کی فضا بنانے میں مدد ملی۔

پاکستان کی حقانی نیٹ ورک کی مبینہ مسلسل مدد سے دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کمزور ہو رہے ہیں۔ کیونکہ امریکہ الزام لگاتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بناتا ہے۔ پھر بھی امریکہ نے اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنے کے دوران وزیراعظم نواز شریف کی کھلم کھلا حمایت کرتے ہوئے جمہوری طریقہ عمل کے حق میں بیان دیئے۔
وزیراعظم نواز شریف کے اگست میں نریندر مودی وزیراعظم ہندوستان کی خلف برداری کی تقریب میں شرکت کے باوجو دپاکستان اور ہندوستان کے درمیان تاریخی طور پر حالات میں کشیدگی برقرار رہی۔ مستقل کشیدگی میں (سیکورٹی ایشز) دفاعی مسئلے اور لمبے عرصے پر محیط دریائی پانی کی تقسیم کا تنازعہ شامل ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان پہلے سے موجود جامع معاشی اور سیاسی روابط مزید مضبوط ہوئے۔ اگرچہ چین کے صدر ذی جن پنگ کے اگست میں پہلے سے طے شدہ دورہ کو اسلام آباد میں احتجاج کی وجہ سے ملتوی کرنے سے باہمی تعلقات کو دھچکا پہنچا ہے۔