میں اپنی بیٹی کوروٹی دوں یا تعلیم

پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹیں

 

خلاصہ

اگر ہم تعلیم حاصل نہیں کرتے تو ہماری قوم ترقی نہیں کر سکتی
ربیعہ 23 سال ایک بیٹی کی تنہا ماں… کراچی جولائی 2017ء

2015ء میں تعلیم اور ترقی پر اوسلو سیمینار(Oslo Summit) میں پاکستان کو دنیا میں سب سے بدترین کارکردگی کا

مظاہرہ کرنے والے ممالک میں شمار کیا گیا۔ جولائی 2018ء میں منتخب نئی حکومت نے اپنے منشور میں بیان کیا کہ تقریباً 22.5 ملین بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ خاص طور پر لڑکیاں متاثر ہیں۔ 32فیصد پرائمری سکول جانے والی عمر کی لڑکیاں سکول نہیں جاتیں جبکہ 21 فیصد اسی عمر کے لڑکے بھی سکول نہیں جاتے۔ چھٹی جماعت تک 59 فیصد لڑکیاں سکول سے باہر ہے۔ اس کے مقابلے میں 49 فیصد لڑکے سکول نہیں جاتے۔ نویں جماعت میں صرف 13 فیصد لڑکیاں سکول جاتی ہیں۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی سکول نہ جانے کی تعداد ناقابل قبول ہے۔ لیکن لڑکیاں بری طرح متاثر ہیں۔

سیاسی عدم استحکام، سکیورٹی فورسز کا حکومت پر غیرمتوازن دبائو ہے، میڈیا اور سکول سوسائٹی پر بھی غیرضروری دبائو ہے، پُرتشدد بغاوت اور بڑھتی ہوئی نسلی و مذہبی کشیدگی نے پاکستان کے سماجی نظریات پر زہریلا اثر ڈالا ہے۔ یہ قوتیں حکومت کے بنیادی فرائض مثلاً خاص طور پر تعلیم سے توجہ ہٹا دیتی ہیں جس سے لڑکیوں کو سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ سکول سے باہر بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ملک بھر میں تعلیم میں صنفی بنیاد پر امتیاز نمایاں ہے لیکن بعض علاقوں میں اس کی حالت بدترین ہے، بلوچستان صوبہ میں خواتین کی تعلیم سب سے کم فیصد ہے۔ 2014-15ء میں 81 فیصد خواتین نے پرائمری تعلیم مکمل نہیں کی جبکہ 52 فیصد لڑکوں نے یہ تعلیم مکمل نہ کی۔ 75 فیصد خواتین نے کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا جبکہ اس کے مقابلے میں مردوں کی تعداد 40 فیصد ہے۔ ان اعدادوشمار کے مطابق خیبرپختونخواہ میں تعلیم کی شرح بلند رہی۔ لیکن اس کے باوجود صنفی امتیاز برقرار رہا۔ سندھ اور بلوچستان میں تعلیم کی شرح بلند رہی اور جنس کی بنیاد پر تفاوت بھی کم رہا جو کہ 14 سے 21 فیصد ہے۔

تمام صوبوں میں نسل در نسل خاص طور پر لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھا گیا اور انہیں غربت میں دھکیلا گیا۔ اس رپورٹ کے لئے انٹرویو میں لڑکیوں نے تعلیم کے لئے اپنی خواہش کا بار بار اظہار کیا اور ان کے خوابوں کو تعلیم نہ ملنے کی وجہ سے کچل دیا گیا۔

لڑکیوں کے لئے تعلیم تک رسائی کی کمی پاکستان کے صنفی عدمِ مساوات ہے۔ ملک میں زچگی کے دوران اموات کی شرح ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد بشمول زنا، عصمت دری، عزت کے نام پر قتل، تیزاب پھینکنے کے واقعات، گھریلو تشدد، جبری شادی اور کم عمری کی شادی بھی شامل ہیں۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور سرکاری ردعمل ناکافی ہے۔ پاکستان کے سرگرم کارکنوں کا اندازہ ہے ہر سال تقریباً ایک ہزار ہلاکتیں عزت کے نام پر ہوتی ہیں ۔21 فیصد کم عمر لڑکیوں کی شادی کر دی جاتی ہیں۔

حکومت کے اپنی ذمہ داری پوری نہ کرنے کے ردعمل میں نظام تعلیم میں واضح تبدیلیاں آئیں۔ کیونکہ حکومت سرکاری سکولوں کے ذریعے مناسب معیارِ تعلیم فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بچوں کو لازمی اور مفت تعلیم دینے میں بھی ناکام رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں نئے نجی سکولوں کی بھرمار ہو گئی ہے۔ جن میں معیارکے لئے کوئی ضابطے نہیں ہیں۔ بہت سے غریب لوگوں کے لئے سرکاری سکولوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے سستے نجی سکولوں کے لئے مارکیٹ میںتیزی آ گئی ہے۔ بہت سے علاقوں میں غریب خاندانوں کے لئے سستے نجی سکول ہی تعلیم کا واحد ذریعہ ہیں۔ اس خلاء کو پُر کرنے کے لئے کم تعلیم یافتہ جن کو تھوڑی تنخواہ دی جاتی ہے ہی ایک متبادل ذریعہ ہے۔ جس میں حکومت کی کوئی مناسب نگرانی نہیں ہوتی نہ ہی اچھے معیار کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے۔ دوسرا،مذہبی تعلیم کی فراہمی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا۔ ان میں باقاعدہ مدرسے کے علاوہ غیررسمی طور پر جہاں بچے ہمسایوں کے گھر قرآن کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مذہبی سکول اکثر غریب خاندانوں کے لئے دستیاب تعلیم کا واحد ذریعہ ہیں تاہم یہ مناسب متبادل نہیں ہے کیونکہ وہ غیرمذہبی مضامین کی تعلیم نہیں دیتے۔

پاکستان میں حکومتی ڈھانچہ غیرمعمولی طور پر مقامی طور پر خودمختار ہے۔ جس کامطلب یہ ہے کہ تعلیمی پالیسی کے بارے میں بہت سے فیصلے علاقائی سطح پر کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً ہر صوبے مختلف ٹائم لائن پر مختلف نقطہ نظر کے ذریعے لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کو بہتر بنانے کے لئے مختلف منصوبہ بندی پر عمل کیا جاتا ہے اور یہ ایک صوبے سے دوسرے صوبے کے ساتھ بڑے اختلافات کی طرف اشارہ کرتا ہے بشمول اس طرح کے بنیادی مسائل کے۔ آیا بچوں کو حکومت سکولوں میں پڑھنے کی فیس ادا کرنا ہو گی یا اساتذہ کو کتنی تنخواہ دی جائے گی۔ تاہم ہر صوبے میں صنفی تفاوت موجود ہے۔ وہ لڑکے اور لڑکیاں جو سکول نہیں جاتے ان کی شرح بھی بہت بلند ہے۔ حکومت کی جانب تعلیمی نقطہ نظر میں واضح خامیاں موجود ہیں۔

سکول کے نظام کے اندر لڑکیوں کی تعلیم کے لئے رکاوٹیں

لڑکیوں کی تعلیم میں بہت سی رکاوٹیں تعلیمی نظام کے اندر موجود ہیں۔ پاکستان کی حکومت نے ابھی تک ملک کے بچے خاص طور پر لڑکیوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مناسب تعلیمی نظام نہیں بنایا۔ نجی سکولوں اور مذہبی مدرسوں کو تعلیم دینے کی ذمہ داریاں منتقل کرنا ایک حل سمجھا جاتا ہے لیکن اس سے حکومت اپنی ان ذمہ داریوں سے مبرا نہیں ہو سکتی جن کے تحت وہ بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے تحت تمام بچوں کو مناسب تعلیم دینے کی پابند ہے۔ لیکن حکومت پاکستان اس کو دینے میں ناکام ہے۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود اس رپورٹ میں انٹرویو دیتے ہوئے بہت سے لوگوں نے بتایا کہ معاشی طور پر کم تر طبقے کی لڑکیوں کے لئے تعلیم کی بڑھتی ہوئی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔

سرمایہ کاری میں کمی

حکومت سکولوں میں ناکافی سرمایہ کاری کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اورثقافتی تنظیم یونیسیکو کی تعلیم پر سفارشات کے مقابلہ میں پاکستان بہت کم خرچ کر رہا ہے۔ بہت سے ماہر تعلیم نے پاکستان میں صورت حال بیان کرتے ہوئے کہ حکومت تعلیم کے معاملے میں عدم دلچسپی رکھتی ہے جو کہ قومی، ریاستی اور مقامی سطحوں پر واضح ہے۔

تمام بچوں کے لئے کافی تعداد میں سرکاری سکول موجود نہیں ہیں۔ سرکاری سکولوںکی تعداد اتنی کم ہے کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی بچوں کو محفوظ طریقے سے اور مناسب وقت میں سکولوں تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔ دیہی علاقوں میں صورت حال اس سے بدتر ہے۔ جہاں سکولوں کی تعداد بھی کم ہے اور نجی سکول بھی اس خلا کو پُر نہیں کر سکتے۔ وہ خاندان جو سرکاری سکولوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں سمجھتے ہیں کہ بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

بچوں خاص طور پر لڑکیوں کے لئے جب وہ بڑی ہو جاتی ہیں رکاوٹیں بڑھ جاتی ہیں۔ ثانوی سکولوں کی تعداد پرائمری سکولوں کے مقابلے میں کم ہے اور کالجوں کی مزید کم خاص طور پر لڑکیوں کے لئے، لڑکے اور لڑکیوں کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے سکول اور کالج بھی علیحدہ علیحدہ کر دیئے جاتے ہیں۔ لڑکیوں کے سکول اورکالجوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے میں کم ہے، بہت سی لڑکیوں کو تعلیم کو جاری رکھنے سے روک دیا جاتا ہے، کیونکہ ایک سکول کی تعلیم کو مکمل کرنے کے بعد دوسرے سکول تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔

مہنگی تعلیم

غریب گھرانوں کو بچوں کو سکول بھیجنے کے لئے بہت سی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ سرکاری سکول نجی سکولوں کے مقابلے میں سستے ہوتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ٹیوشن فیس، رجسٹریشن فیس اور امتحانی فیس طلب کرتے ہیں۔ لیکن وہ ہمیشہ اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ طالب علموں کو اضافی بل بھیج دیتے ہیں۔ ان میں کتابیں، کاپیاں، یونیفارم، جوتے اور سکول بیگ شامل ہوتے ہیں۔ کئی دفعہ درسی کتب سرکاری سکولوں میں مفت مہیا کی جاتی ہیں لیکن بعض دفعہ طلبا کے گھر والوں کو ان کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔

بہت سے غریب خاندان جو سرکاری سکولوں تک رسائی حاصل نہیںکر سکتے کے پاس سرکاری سکولوں کے نظام سے باہر ذریعہ تعلیم چننے کا اختیار رہ جاتا ہے۔ ان میں نجی سکول، غیررسمی تدریسی مراکز، غیرسرکاری تنظیموں (این جی او ) کے سکول بچوں کے والدین کے لئے ایک پیچیدہ نظام پیش کرتے ہیں۔ بہت سی لڑکیاں ان میں سے تمام تعلیمی اداروںکا تجربہ بغیر کسی تعلیمی قابلیت کے کرتی ہیں۔

گھٹیا معیارِ تعلیم

بہت سے گھرانوں نے ان کو دستیاب تعلیم کے معیار کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا۔ کچھ کہتے ہیں معیارِ تعلیم اتنا گھٹیا ہے کہ بچے کو بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ سرکاری سکولوں میں بھیجنے والے طلبا کے والدین شکایت کرتے ہیں۔ اساتذہ سکول میں شاذونادر آتے ہیں اور طلبا کی بھرمار ہوتی ہے۔ سہولیات ناقص ہیں۔ نجی سکولوں میں خاص طور پر سستے نجی سکولوں میں اساتذہ نیم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں ان کے لیکچر بھی غیرمنظم اور ناقص ہوتے ہیں۔ سرکاری اور نجی سکولوں کے اساتذہ سکولوں سے باہر کی پرائیویٹ اکیڈمی کے تعلیم کے لئے دبائو ڈالتے ہیں۔ اس کے اضافی اخراجات بھی والدین کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ سرکاری اور نجی سکولوں میں اساتذہ کی طرف سے جسمانی سزا اور بدسلوکی کی بھی وسیع پیمانے پر شکایات ملی ہیں۔

لازمی تعلیم کو لاگو نہ کرنا

پاکستان میں بہت سے بچے اس وجہ سے سکول نہیں جاتے کہ تمام بچوں کو پڑھناچاہیے پر حکومتی سطح پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ آئینِ پاکستان کاکہناہے ہر پاکستانی 5 سے 16 سال تک کے بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنی چاہئے۔ جس کے لئے قانون سازی کی جائے گی۔ تاہم کسی بھی صوبے میں حکومت کی طرف سے کوئی منظم کوششیں نہیں کی گئیںجو اس بات کی یقین دہانی کرائے کہ تمام بچے سکول جائیں گے۔

سکول، کوئی سرکاری اہلکار کسی خاندان کو حوصلہ افزائی یا بچے کی پڑھائی میں کسی مدد کے لئے رابطہ نہیں کرتے۔ جب بچہ سکول میں فیل ہو جاتا ہے تو کئی دفعہ اساتذہ انفرادی طور پر بچے کو پڑھائی جاری رکھنے کے لئے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے منظم طریقہ کار نہیں ہے۔ جیسے بچوں کا سکول میں دوبارہ داخلہ وغیرہ کروانا۔ یہ اس سے بین الاقوامی معیار کی خلاف ورزی ہوتی ہے جس پر پاکستان نے دستخط کیے ہیں جس کے تحت کم از کم مفت اور لازمی پرائمری تعلیم ضروری ہے۔

رشوت، بدعنوانی

سرکاری سکولوں کے نظام میں ایک اہم مسئلہ ہے۔ جو کہ کئی شکلوں میں موجود ہیں۔ اساتذہ اور پرنسپلوں کی بھرتی میں وسیع پیمانے پر رشوت اور اقرباپروری ہوتی ہے۔ کچھ لوگ تدریسی کی پوزیشن خریدتے ہیں اور دوسرے سیاسی تعلقات کی وجہ سے نوکری حاصل کرتے ہیں۔ جب لوگ تدریس کے عہدوں کو غیرقانونی طور پر حاصل کرتے ہیں وہ نہ تو پڑھانے کے قابل ہوتے ہیں اور نہ ہی ان میں وہ طلبا کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں نہ ہی ان سے اس کی توقع کی جا سکتی ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں کچھ سکول خالی ہوتے ہیں۔ کیونکہ تعلیم کے ماہرین کے مطابق رشوت کی بنا پر اساتذہ کی تنخواہ کسی ایسے شخص کو دی جاتی ہے جو تعلیم نہیں دیتا۔

سکول کے نظام سے باہر لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹیں

سکول کے نظام میں رکاوٹوں کے علاوہ لڑکیوں کو اپنے گھروں اور برادری میں بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں غربت، چائلڈ لیبر(بچوں سے مشقت) جنسی امتیاز تکلیف دہ سماجی رویے اور سکول کے راستے پر غیرمحفوظ اور خطرات شامل ہیں۔

غربت

بہت سے والدین کے لئے بچوں کو سکول بھیجنے کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ غربت ہے۔ یہاں تک نسبتاً کم اخراجات بھی وہ برداشت نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں بہت سے غریب خاندان ہیں۔ 2016ء میں حکومت کے اندازے کے مطابق چھ کروڑ سےسات ملین خاندان غربت میں رہ رہے ہیں جو کہ ملک کی کل آبادی کا 29.5 فیصد ہے۔

لڑکیوں سمیت بہت سے بچے اس لئے سکول سے باہر ہیں کیونکہ وہ مزدوری کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی ان کو اپنے کام کا معاوضہ دیا جاتا ہے لیکن لڑکیاں اکثر گھریلو صنعتوں موتی تارا لگانا، چیزوں کو جوڑنا، کڑھائی سلائی کا کام کرتی ہیں۔ دوسرے بچے جن میں سے اکثریت لڑکیوں کی ہے گھریلو کاموں کے لئے ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں۔

سماجی اقدار

کچھ خاندان اس بات پر یقین رکھتے ہیںکہ ایک خاص عمر کے بعد بچیوں کو تعلیم حاصل نہیں کرنی چاہئے۔ مختلف برادریوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے بارے رویہ واضح طور پر مختلف ہوتا ہے۔ کچھ خاندانوں میں لڑکیوں کی تعلیم برادری کے دبائو، ثقافتی معیار کی خلاف ورزی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ جب خاندان لڑکیوں کی تعلیم کے لئے برادری کے قوانین کے خلاف جاتے ہیں تو لڑکیوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم تعلیم کچھ قدامت پسند خاندان بھی لڑکیوں کے تعلیم کے بڑھتے رجحان کی حمایت کرتے ہیں۔ حکومت کو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔

لڑکیوں کے بلوغت کی عمر پر پہنچنے پر اکثر کو سکول سے اٹھا لیا جاتا ہے کیونکہ ان کے خاندانوں کو ان کے رومانوی تعلقات میں ملوث ہونے کاخطرہ درپیش ہوتا ہے۔ کچھ خاندان اس بات سے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ بڑی عمر کی لڑکیوںکو سکول آتے جاتے راستے میںجنسی طور پر ہراساں کیا جائے گا۔ نقصان دہ جنسی اقدار بھی لڑکوں کو تعلیم دینے کی ترجیح کا باعث بنتے ہیں۔ کیونکہ لڑکیاں عام طور پراپنے سسرال کے ساتھ رہتی ہیں اور اپنے شوہر کے خاندان کا بھی ہاتھ بٹاتی ہیں جبکہ بیٹوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہیں گے لہٰذا بیٹوں کو سکول بھیجنے کو بہتر سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔

کم عمری کی شادی لڑکیوں کوسکول نہ بھیجنے کی وجہ بھی ہے اور نتیجہ بھی۔ پاکستان میں 21 فیصد لڑکیوں کی شادیاں اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہیںاور تین فیصد کی پندرہ سال کی عمر سے پہلے۔ لڑکیوں کو ان کے بلوغت کی عمر تک پہنچتے ہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ شادی کے قابل ہو چکی ہیں اور کچھ برادریوں میں کم عمری کی شادی Child Marriage کی توقع کی جاتی ہے۔ بعض خاندان غربت کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کی شادی کر دیتے ہیں اور بعض اس بات سے خوفزدہ ہو کر جلد شادی کر دیتے ہیں کہ تاکہ وہ اپنی مرضی سے شادی نہ کر سکیں۔ سکول میں پڑھنے والی لڑکیوں کو شادی دیر سے کرنے میں مدد ملتی ہے اور جونہی لڑکیوں کی شادی یا منگنی ہو جاتی انہیں سکول چھوڑنے کے لئے مجبور کر دیا جاتا ہے۔

عدم تحفظ

بہت سے خاندان اور لڑکیاں سکیورٹی کو تعلیم جاری رکھنے میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ وہ کئی قسم کے تحفظ کا مثلاً جنسی ہراسگی، اغوا، جرم، تنازعات اور تعلیم پر حملے شامل ہیں۔ کچھ خاندانوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ حالیہ سالوں میں صورت حال مزید خراب ہو گئی ہے۔ چھوٹے بچوں کو اپنے بڑے بہن بھائیوں کی نسبت تعلیم تک رسائی کم ہے۔

خاندان مصروف سڑکوں کی وجہ سے پریشان ہے۔ سکول دور ہونے کی وجہ سے لڑکیوں میں دوران سفر مزید خطرات اور خوف کا اضافہ ہوا ہے۔ بہت سی لڑکیوں کو سکول کے راستے میں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے جبکہ پولیس اس ہراسگی سے بچانے کے لئے کوئی اقدام نہیں کرتی۔ لڑکیاں ہراسگی کے واقعات کو بیان کرتے ہوئے ہچکچاتی ہیں انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ انہیں ہی موردالزام ٹھہرایا جائے گا یا پھر ان کے والدین انہیں سکول سے ہٹا لیں گے۔

لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کو اغوا کا خطرہ درپیش ہوتا ہے اور اس میں سکول کے طویل راستے خطرے کو بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔ اس خوف میں اس وقت اضافہ ہو جاتا ہے جب لڑکیاں جوان ہوں اور ان پر جنسی حملے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں تعلیم پر حملے پریشان کن حد تک عام ہیں۔ جب تشدد کے واقعات سکول یا اس کے اردگرد وقوع پذیر ہوتے ہیں لڑکیوں کی تعلیم پر اس کے نتائج دوررس ہوتے ہیں۔

ملک کے مختلف حصوں میں رہنے والے خاندانوں نے تشدد کے واقعات کے بعد کئی سالوں تک بچیوں کے سکول نہ جانے کی وجہ قرار دیا۔

سکول مسلح حملوں کی زد میں

پاکستان کے بہت سے حصوں میں بغاوت، نسلی اور مذہبی تنازعات سے متعلق تشدد کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اور نسلی تنازعات بھی اکثر سکولوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ پاکستان میں حملوں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے ان میں طلبا، اساتذہ اور سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاکستان میں حالیہ برسوں میں تعلیم پر سب سے زیادہ تباہ کن حملہ دسمبر 2014ء میں آرمی پبلک سکول پشاور پر ہوا تھا۔ جہاں عسکریت پسندوں نے 145 افراد کو ہلاک کیا جو کہ تقریباً تمام بچے ہی تھے۔ یہ حملہ دوسرے حملوں سے مختلف نہ تھا۔ 2013ء سے 2017ء کے دوران سینکڑوں سکولوں پر حملے کیے گئے۔ عام طور پر دھماکہ خیز مواد کے ساتھ جس سے کئی سو طلبا اور اساتذہ ہلاک ہوئے اور اس سے بنیادی ڈھانچے کو بہت نقصان پہنچا۔ ان حملوں میں سے ایک تہائی نے خاص طور پر لڑکیوں اور خواتین کو نشانہ بنایا۔ ان کا مقصد ان کی تعلیم میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔

پاکستان سکولوں کے نظام کو درست کر سکتا ہے اور ایسا کرنا بھی چاہئے۔ حکومت کو تعلیم کے لئے مزید مسائل کی سرمایہ کاری کرنا چاہئے اور ان مسائل کو عدم مساوات سے نمٹنے کے لئے استعمال کرنا اور یقینی بنانا چاہئے تاکہ تمام بچوں، لڑکوں اور لڑکیوں کو اعلیٰ معیار کی پرائمری اور ثانوی تعلیم حاصل ہو سکے۔ کیونکہ ملک کا مستقبل کا انحصار اس پر ہے۔

 

کلیدی سفارشات

(مرکزی حکومتِ پاکستان کے لئے)

(1)  یونیسکو (UNESCO) کی سفارشات کے مطابق تعلیم پر اخراجات کا اضافہ تاکہ حکومت تعلیم کے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر سکے۔

(2) صوبائی تعلیم کے نظام کی نگرانی کو مضبوط بنایا جائے۔ تاکہ لڑکے اور لڑکیوں کے پرائمری اور ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع مساوی بنائے جا سکیں۔ صوبے لڑکیوں کی تعلیم کی بابت صحیح اعدادوشمار فراہم کریں، ان کے داخلے کے اندراج کی صحیح نگرانی، لڑکیوں کی حاضری کی مناسب نگرانی کی جائے اور ہر صوبے میں اس بابت اہداف مقرر کیے جائیں۔

(3) صوبائی حکومتوں کی تعلیم مہیا کرنے کے لئے مرکزی حکومت کے کردار کو مضبوط کیا جائے۔ صنفی عدم مساوات کو ختم کیا جائے۔

(4) صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے تاکہ سرکاری سکولوں میں معیارِ تعلیم کو بہتر بنایا جائے اور پرائیویٹ سکولوں میں معیار کو یقینی بنایا جائے۔

(5)بغیر کسی استثنیٰ کے شادی کے لئے قومی عمر کم از کم 18سال تک بڑھائی جائے اور کم عمری کی شادیوں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ 2030ء تک ہر قسم کی چائلڈ میرج کو ختم کیا جا سکے۔

(6) محفوظ سکول اعلامیہ کی توثیق اور عمل درآمد بین الاقوامی سیاسی معاہدے کے مطابق کیا جائے تاکہ اساتذہ اور طلبا کی مسلح حملوں سے حفاظت کی جائے۔

صوبائی حکومتوں کے لئے

(1) صوبائی تعلیمی حکام کو ہدایت کی جائے کہ لڑکیوں کی تعلیم کو تعلیمی بجٹ میں ترجیح دی جاےئ تاکہ سکولوں کی تعمیر، خواتین اساتذہ کی بھرتی اور ٹریننگ، سامان کی فراہمی اور لڑکیوں اور لڑکوں کی تعلیم کے درمیان عدمِ توازن کو درست کیا جا سکے۔

(2) بچوں کے لیبر قوانین کا نفاذ کرنے میں مدد کی جائے۔

(3) پولیس اہلکاروں کو سکولوں کے ساتھ طالب علموں کی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت دیں جن میں اساتذہ، طلبا اور سکولوں کو ممکنہ خطرات سے تحفظ دینے اور خاص طور پر لڑکیوں کو ہراساں کرنے سے روکنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔

(4) اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سرکاری ایجوکیشن اہلکاروںکی بدعنوانی کو روکنے والوں کے لئے مؤثر طریقہ کار بنایا جائے۔

صوبائی تعلیمی حکام کے لئے

نئے سکول خاص طور پر مخلوط تعلیم اور لڑکیوں کے لئے تعمیر کئے جائیں۔

جب تک سرکاری سکول دستیاب نہیں ہیں، سرکاری سکولوں سے دور رہنے والی لڑکیوں کو نجی سکولوں میں وظائف فراہم کرے۔

طالب علموں کے مفت اور سستی ٹرانسپورٹ فراہم کرے۔ جو طویل فاصلے اور مشکل ماحول میں ان کو سرکاری سکولوں تک لے جائے۔

سرکاری سکولوں میں تمام رجسٹریشن اور امتحانی فیس کو ختم کرے۔

غریب طالب علموں کو سکول یونیفارم، بیگ، جوتے، درسی کتب اور تمام ضروری اشیاء مہیا کرے۔

تمام پرنسپلوں کو ان علاقوں سے جن سے بچے ان کے سکولوں میں پڑھتے ہیں۔ ہدایت کی جائے کہ وہ ایسے بچوں کی نشاندہی کریں جو سکول سے باہر ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ ان کے خاندانوں کے ساتھ مل کر انہیں سکول میں لے جانے کے لئے کام کریں۔

غریب خاندانوں کی لڑکیوں کے لئے حاضری میں اضافے کے لئے وظائف، کھانے کی تقسیم یا کھانے کے پروگراموں کے ذریعے امکان کا جائزہ لیں۔

جب بچے سکول چھوڑتے ہیں یا غیرحاضر ہو جاتے ہیں تو تمام سکولوں کو چاہئے کہ وہ ان وجوہات کا تعین کرنے اور طالب علموں کو دوبارہ سکول میں واپس لانے کے لئے کوشش کریں۔

ہر سکول کو چاہئے کہ وہ سکیورٹی منصوبہ تیار کرے اور اس کو نافذ کرنے کے لئے توجہ دیں خاص طور پر لڑکیوں کی جنسی ہراسگی کے خدشات پر۔

سرکاری تعلیم کے نظام کے ذریعے لڑکیوں کے لئے مڈل اور ہائی سکول تک رسائی کو بڑھانے کے لئے منصوبہ تیار کرے جس میں نئے سکولوں کو قائم کرنا بھی شامل ہے۔ تمام سکولوں کی نگرانی اور معیار کو یقینی بنایاجائے جس میں صرف سرکاری سکول ہی نہیں بلکہ نجی سکول اور مدرسے بھی شامل ہیں۔ سکولوں میں ہر قسم کی جسمانی سزا پر ممانعت کریں اور اس اصول کی خلاف ورزی کرنے والے ملازم کے خلاف مناسب انضباطی کارروائی کریں۔

اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے تاکہ تمام سکولوں میں حفظان صحت کی سہولیات کے ساتھ محفوظ اور صاف باتھ روم، پینے کا صاف پانی اور مناسب چار دیواری موجود ہو۔

طریقہ کار

یہ رپورٹ 2017ءاور 2018ء میں کی گئی تحقیق پر مبنی ہے جس کے لئے H.R.W کے ریسرچرز نے تقریباً 209 افراد کے انفرادی اور اجتماعی انٹرویوز کئے جو زیادہ تر کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں کئے گئے۔

انٹرویو دینے والے زیادہ افراد جن کی تعداد 119 تھی لڑکیوں اور عورتوں پر مشتمل تھے۔ انہوں نے پرائمری اور ثانوی تعلیم میں حاصل کی تھی۔ ان میں کچھ نے بالکل تعلیم حاصل نہیں کی تھی باقی نے شروع کی لیکن جاری نہ رکھ سکے۔ ہم نے 60 والدین اور دیگر افرادِ خانہ کے انٹرویو بھی کئے جن کے بچے یا تو سکول نہیں گئے تھے یا سکول جانا چھوڑ دیا تھا۔

 اس کے علاوہ ہم 12 اساتذہ اور 4 سکولوں کے پرنسپلوں کا انٹرویو کیا۔ 18 انٹرویو تعلیم کے ماہرین، کارکنوں اور سماجی کارکن اور مقامی حکام کے ساتھ کئے تھے۔

 بچوں اور خاندانوں کے ساتھ انٹرویو عام طور پر ان کے گھروں میں کئے گئے یا پڑوس میں۔ اور کچھ انٹرویو کمیونٹی تنظیموں یا سکولوں کے دفاتر میں کئے گئے۔ جہاں تک ممکن ہوا انٹرویوز ذاتی طور پر H.R.W کے ریسرچرز اور انٹرویو دینے والے اور کچھ ترجمان کے ساتھ منعقد کئے گئے۔ انٹرویو اردو، پنجابی، پشتو، سندھی، سرائیکی ، بروہی اور انگریزی زبان میں لئے گئے۔ ماہرین تعلیم کے انٹرویو انگریزی زبان میں لئے گئے۔ چند معاملات میں انٹرویو دوہرے ترجمے کے ذریعے کئے گئے، کچھ انٹرویو ماہرین کے ساتھ بذریعہ فون یا ذاتی طور پر پاکستان سے باہر کئے گئے۔

تمام انٹرویو دینے والے افراد کو تحقیق کے مقصد سے آگاہ کیا گیا۔ مزید یہ بھی بتایا گیا کہ ان معلومات کو کس طرح استعمال کیا جائے گا۔ ہم انٹرویو کی رضاکارانہ نوعیت کی وضاحت کی اور یہ بتایا کہ وہ سوالات کے جوابات دینے سے انکار کر سکتے ہیں یا کسی مرحلہ پر انٹرویو ختم کر سکتے ہیں۔ انٹرویو دینے والے کسی بھی فرد کو کوئی معاوضہ نہ دیا گیا۔ بچوں اور ان کے افرادِ خانہ کے نام ان کی رازداری کی حفاظت کے لئے تبدیل کر دیئے گئے۔ کچھ انٹرویو دینے والے افراد کے ناموں کو ان کی درخواست پر روک دیا گیا۔

 ہم نے کراچی ، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں تحقیقاتی جگہوں کا انتخاب کیا ہے جس میں سکول کے بچوں افرادِ خانہ کے مختلف تجربات شامل کئے گئے ہیں۔ ہم نے ایسے خاندانوں سے سوال و جواب کئے جو دیہی علاقوں سے شہری علاقوں میں منتقل ہوئے ہیں۔ جن میں پناہ گزین بھی شامل ہیں۔ کچھ انٹرویو دیہی علاقوں میں بھی کئے لیکن بنیادی طور پر تحقیق شہری علاقوں سے متعلق ہے۔ خطرات کی وجہ سے جگہوں کا انتخاب متاثر ہوا۔

اس رپورٹ میں بین الاقوامی قانون کے تحت بچے اور بچیوں کی اصطلاحات سے مراد اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچے ہیں۔ اس رپورٹ کے لئے تحقیق کے وقت پاکستانی روپے کے قدر ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں 105 روپے ہے۔ اس شرح کو اس رپورٹ میں استعمال کیا گیا۔

 

پس منظر

 اوسلو سیمینار (oslo sumit)

تعلیم اور ترقی پر ہونے والے اوسلوسیمینار 2015ء میں پاکستان کو دنیا میں سب سے بدترین کارکردگی والے ممالک میں شامل کیا گیا تھا۔[1] جولائی 2018ء میں منتخب نئی حکومت کے منشور میں بتایا گیا ہے 22.5 ملین بچے سکول سے باہر ہیں۔ [2]پاکستان میں 32فیصد پرائمری سکول کی عمر کی لڑکیاں سکول نہیں جاتیں۔ اس عمر کے گروپ میں 21فیصد لڑکے بھی سکول سے باہر ہیں۔[3]یہ مجموعی طور پر تقریباً 5 ملین بچوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو سکول نہیں جاتے ان میں سے 62فیصد لڑکیاں ہیں۔[4]

جب بچے مڈل سکول کی سطح تک پہنچتے ہیں۔چھٹی جماعت میں بچوں کی عمر دس سے گیارہ سال تک ہوتی ہے اور سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور صنفی عدم مساوات بدستور برقرار رہتی ہے۔ 2016ء میں مڈل سکول جانے والی لڑکیوں کی شرح 59 فیصد تھی جبکہ ان کے مقابلے میں لڑکوں کی شرح 49 فیصد تھی۔[5] 2013-14ءکے اعدادوشمار کے مطابق نویں جماعت میں صرف 13فیصد لڑکیاں سکول جاتی تھیں۔[6]

لڑکے اور لڑکیوں کی سکول نہ جانے والی تعداد ناقابل قبول ہے لیکن لڑکیاں بدترین متاثرہ ہیں۔ خاص طو رپر غریب لڑکیاں غریب ترین طالب علموں میں صرف 30فیصد لڑکے پرائمری سکول تک پڑھتے ہیں اور لڑکیوں کی شرح ان کے مقابلے میں 16فیصد ہے۔[7] مڈل سکول میں غریب طالب علموں لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد زیادہ غیرمساوی ہے کیونکہ 18 فیصد لڑکے اور 5فیصد لڑکیاں سکول جاتی ہیں۔[8]صرف ایک فیصد غریب ترین لڑکیاں ثانوی سکول کی تعلیم مکمل کرتی ہیں ان کے مقابلے میں لڑکوں کی تعداد 6 فیصد ہے۔[9]

سیاسی عدم استحکام سکیورٹی فورسز کا حکومت پر غیرمتوازن دبائو ہے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی پر بھی غیرضروری جبر دباؤ ہے۔ پرتشدد بغاوت اور بڑھتی ہوئی نسلی و مذہبی کشیدگی نے پاکستان کے سماجی نظریات پر زہریلا اثر ڈالا ہے۔ یہ قوتیں حکومت کے بنیادی فرائض مثلاً تعلیم سے توجہ ہٹا دیتی ہیں خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کا سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔[10]

سکول سے باہر بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ملک بھر میں تعلیم میں صنفی بنیاد پر امتیاز نمایاں ہے۔ لیکن بعض علاقوں میں صورت حال بدترین ہے۔ 2014ء، 2015ءکے مطابق سب سے زیادہ حالیہ شائع شدہ اعدادوشمار ہیں وہ لوگ جو کبھی بھی سکول گئے ہیں ان کا تناسب مندرجہ ذیل ہے۔ بلوچستان 25 فیصد خواتین 60 فیصد مرد

خیبر پختونخواہ 36 فیصد خواتین      74 فیصد مرد

سندھ 50 فیصد خواتین                    71 فیصد مرد

پنجاب 56 فیصد خواتین      74 فیصد مرد

اسی طرح ان لوگوں کے درمیان جنہوں نے پرائمری سکول مکمل کئے ۔ صنفی اور علاقائی صورت حال مندرجہ ذیل ہے۔

بلوچستان 19فیصد خواتین   48 فیصد مرد

خیبر پختونخواہ 28 فیصد خواتین     59فیصد مرد

سندھ 43فیصد خواتین 62 فیصد مرد

پنجاب 47فیصد خواتین                   61 فیصد مرد[11]

تمام صوبوں میں بچوں کو نسل در نسل اور خاص طور پر لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کیا جاتا ہے اور ان کو غربت میں دھکیلا جاتا ہے۔

اس رپورٹ کے لئے انٹرویو میں لڑکیوں نے تعلیم کے لئے خواہش کی بار بار بات کی۔ ان کے کچھ بننے اور ان کے خوابوں کے کچل جانے کے بارے میں بتایا۔

لڑکیوں کے لئے تعلیم تک رسائی کی کمی پاکستان کے صنفی عدم مساوات کا حصہ ہے۔ ملک میں زچگی کے دوران اموات کی شرح ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔(12)[12] خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد جن میں ریپ Rape اور عزت کے نام پر قتل اور تیزاب کے واقعات، گھریلو تشدد، جبری اور کم عمری کی شادی شامل ہے جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔سرکاری ردِعمل ناکافی ہے۔[13]

پاکستانی کارکنوں کا اندازہ ہے ہر سال تقریباً ایک ہزار ہلاکتیں عزت کے نام پر ہوتی ہیں۔

اس رپورٹ میں کئے گئے انٹرویوز میں یہ بات سامنے آئی کہ بہت سے خاندانوں میں بچے اپنے والدین کے مقابلے میں کم تعلیم یافتہ تھے یا چھوٹے بہن بھائی اپنے بڑے بہن بھائیوں کی نسبت تعلیم میں پیچھے رہ گئے تھے۔ کچھ خاندان غربت یا عدم تحفظ کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوئے جس کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی متاثر ہوئی۔ کچھ کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس نے بچوں کی والدین کی تعلیمی سطح پر رسائی کو ناممکن بنا دیا۔ کچھ برادریوں میں سکولوں کو بند کر دیا گیا یا سکول بھیجنے کا راستہ غیرمحفوظ ہو گیا۔

چند خاندانوں میں وقت کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی تعلیم کا مخالف نظریہ بڑھتا چلا گیا۔[14] حالیہ برسوں پاکستان کے نظامِ تعلیم میں بہت اہم تبدیلیاں آئی ہیں۔ جس میں حکومت نے سرکاری سکولوں کے ذریعے تعلیم کی فراہمی، مناسب معیارِ تعلیم لازمی اور مفت تعلیم تمام بچوں کو مہیا کرنے کی اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں پرائیویٹ سکولوں کی بھرمار ہو گئی ہے جو زیادہ تر غیرمنظم ہیں اور ان کا معیار بھی یکساں نہ ہے۔

1999-2000ء تا 2007-2008ء کے دوران نجی سکولوں کی تعداد میں 69فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ سرکاری سکولوں میں اضافہ صرف 8فیصد تھا۔[15] پرائیویٹ سکولوں میں اس اضافے کی وجہ سے ان میں طلبا کا اندراج 34فیصد بڑھ گیا۔[16] آل پاکستان پرائیویٹ سکول فیڈریشن کے ممبران سکولوں کی تعداد ایک لاکھ ستانوے ہزار ہے۔ [17]مذہبی تعلیم کی پیشکش کے پروگراموں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ اس میں رسمی مدرسے اور غیرروایتی انتظامات پڑوسیوں اور ہمسایوں کے گھر قرآن پڑھنے جاتے ہیں۔ کیونکہ بہت سے مذہبی سکول غیررسمی ہیں لہٰذا اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ ان کی تعداد کتنی ہے؟ مبصرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حالیہ دہائیوں میں ان کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے۔[18]

کافی تعداد میں مختلف اقسام میں غیرمنافع بخش سکول پاکستان میں واقع ہیں لیکن ان کی تعداد اتنی تھوڑی ہے کہ بہت سے خاندان اپنے بچوںکو تعلیم نہیں دلوا سکتے۔ ان میں غیررسمی انتظام جس میں انفرادی اساتذہ اپنے گھر میں مفت تعلیم دیتے ہیں سے لے کر غیررسمی سکول جن کی مالی امداد بین الاقوامی افراد یا ادارے کرتے ہیں بھی شامل ہیں۔ سٹیزن فائونڈیشن تقریباً دو لاکھ سے زیادہ طالب علموں کی مدد کرتے ہیں۔[19]سٹیزن فائونڈیشن ماہانہ 175روپے جو کہ 1.67 امریکی ڈالر کے برابر ہے بطور فیس وصول کرتی

ہے۔[20] کچھ غیرمنافع بخش نجی سکول صرف لڑکیوں کے لئے ہیں۔[21] دوسرے خاص طور پر پسماندہ کمیونٹی میں قائم ہیں۔جیسا کہ افغان مہاجرین اور مچھیروں کی بستیاں شامل ہیں۔[22]

غیرمنافع بخش سکولوں اور نجی ٹیوشن کے درمیان لائن غیرواضح ہو سکتی ہیں۔ بعض غیررسمی سکول کے خدمت خلق اور کاروبار دونوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے اساتذہ فیس ادا کرنے والے طلبا فیس وصول کرتے ہیں جبکہ غریب طلبا کو فیس معاف کر دیتے ہیں۔[23]ٹیوشن والے اساتذہ کئی دفعہ اپنے طلبا کو سرکاری سکولوں میں منتقل کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے راستے میں فاصلے اور لاگت کی رکاوٹیں ہوتی ہیں۔ جنہوں نے ان طلبا کو ابتدا ہی میں سکولوں سے باہر رکھا۔۔[24]

N.G.O کے تحت چلنے والے خیراتی سکول کئی دفعہ دوسرے سکولوں کی بھی مدد کرتے ہیں۔ جیسا کہ وہ غریب علاقوں میں قائم سکولوں کو کتابیں فراہم کرتے ہیں۔[25]مدد کے مطالبے فراہمی سے کہیں زیادہ ہیں۔ بہت سے خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے لئے چیریٹی حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔[26]

مختلف قسم کے تعلیمی اداروں کے نتائج پر تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ جب آپ سرکاری اور نجی سکولوں کا موازنہ کرتے ہیں تو کامیابی کے لحاظ سے نتائج مختلف نہیں ہوتے۔[27]دوسری طرف مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کے نتائج بہت خراب تھے۔[28]

حکومت پاکستان کے ڈھانچہ میں مرکزیت کی کمی ہے۔ اس بنا پر تعلیمی پالیسی کے بارے میں فیصلے زیادہ تر علاقائی سطح پر کئے جاتے ہیں۔ جن میں چارصوبوں (بلوچستان، خیبر پختونخواہ، سندھ، پنجاب) اسلام آباد کے دارالحکومت اور وفاقی طور پر زیرانتظام قبائلی علاقے جو کہ افغانستان سرحد کے قریب واقع ہیں، آزاد کشمیر گلگت بلتستان کے انتظامی ادارے شامل ہیں۔ ہر صوبے کی علیحدہ منصوبہ بندی کا عمل ہے جس میں مختلف طریقوں سے لڑکیوں کے لئے تعلیم تک رسائی کو بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔[29] نتیجہ یہ ہے تعلیم کی پالیسیوں اور طرز عمل ملک کے کسی حصے دوسرے حصوں سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ جن میں بنیادی سوال کہ آیا سرکاری سکولوں میں جانے والے بچوں سے فیس وصول کی جائے یا نہیں، اساتذہ کو کتنی تنخواہ ادا کی جائے بھی شامل ہیں۔ تمام رکاوٹوں کے باوجود اس رپورٹ کے لئے انٹرویو کئے جانے والے بہت سے افراد نے لڑکیوں کی تعلیم کے لئے بڑھتی ہوئی طلب کی وضاحت کی۔ خاص طور پر محروم برادری کی لڑکیوں کے لئے 45 سالہ عزیزہ کراچی کے ماہی گیروں کی بستی میں رہتی ہے۔ وہ خود کبھی سکول نہیں گئی اس کے پانچوں بچے کچھ نہ کچھ عرصہ کے لئے سکول جاتے رہے ہیں حالانکہ کوئی بھی پرائمری سکول سے آگے نہیں پڑھ سکا۔ عزیزہ نے کہا ’’اب والدین پر اس کا اچھا اثر پڑتا ہے جب ایک بچہ ان کے لئے بہتر کرتا ہے‘‘ عزیزہ نے یہ بھی کہا ’’پہلے تو ہمیں پڑھائی کا کوئی تجربہ نہیں تھا لیکن اب ہے۔ اس لئے ہر کوئی تعلیم میں دلچسپی رکھتا ہے’’۔[30]

کچھ ماہرین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ لڑکیوں کو پڑھنا چاہئےکو بتدریج قبول کیا جا رہا ہے۔ ایک سکول کے ہیڈماسٹر نے اس کی چار وجوہات بیان کیں۔ (1) لڑکوں اور مردوں کی خواہش کہ ان کی دلہن تعلیم یافتہ ہو۔ (2) نجی سکولوں کے پھیلائو کے نتیجے میں تعلیم کی بڑھتی ہوئی دستیابی۔ (3) حکومت کی کوشش کہ لوگ مدرسوں میں پڑھنے کی بجائے مرکزی دھارے میں تعلیم حاصل کریں۔ (4) خاندانوں میں بڑھتا ہوا عقیدہ کہ تعلیم یافتہ عورتیں اپنے خاندانوں میں بہتر کردار ادا کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کا کردار گھر کے اندر ہی ہو۔[31]

علیمہ اپنی 20 سالہ بیٹی کو کالج بھیج رہی ہے۔ جہاں وہ گیارھویں جماعت میں ہے۔[32] اگرچہ اس کا خاندان اس کی کمائی اور اس کے خاوند کی پھل فروخت کرنے والی آمدنی پر گزراوقات کرتاہے۔ علیمہ کے دو بڑے بچوں دونوں بیٹوں نے نویں اور دسویں جماعت میں سکول چھوڑ دیا تاکہ وہ محنت کر کے گھر کا کرایہ ادا کر سکیں۔ علیمہ نے کہا ’’یہ آخری بچہ ہے جس کو پڑھانے کے لئے ہم سب کوشش کر رہے ہیں اگر مجھ پر منحصر ہوتا وہ باقی بچوں کے لئے بھی اتنی ہی توجہ دیتی لیکن مالی حالات کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر سکی۔ اب جب کہ وہ چار کما رہے ہیں اس لئے وہ ایسا کر سکتی ہے‘‘۔خاندان میں اتنے آمدنی والے لوگ ہیں۔ اب ہم کر سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ اتنا پڑھ سکتی ہے جس کے بعد اسے میری طرح کی زندگی بسر نہ کرنی پڑے۔[33]

کراچی کے ایک غریب علاقے میں N.G.O کےایک کارکن نے کہا اس آگاہی کے پیچھے بہت سی کوشش ہے۔ اس نے مزید کہا کہ اس علاقے میں تعلیم کا مطالبہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ این جی اوز اور اداروں کے سکول قائم کرنے کی کاوش کا نتیجہ ہے۔ یہاں شرح خواندگی دوسرے علاقوں کی نسبت کافی زیادہ ہے۔ یہاں بہت سے سکول ہیں اور لوگ تعلیم کی اہمیت کے بارے میں جانتے ہیں۔[34]

پنجاب میں ایک سکول کے ہیڈماسٹر نے کہا کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ لڑکی کو گھر کا خیال رکھنا چاہئے اور انہیں تعلیم حاصل نہیں کرنی چاہئے۔ انہیں بچپن سے ہی گھریلو خاتون بننے کی تیاری کرائی جائے لیکن اب بہت کم لوگ اس طرح سوچتے ہیں۔[35]

37سالہ رضیہ نے کہا اس کے چار بچے ہیں اور اس نے کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا۔ اس نے مزید کہا کہ وہ پڑھنا چاہتی تھی کہ اس کے والد نے پڑھنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس کے خاندان میں یہ روایت ہے کہ لڑکیاں نہیں پڑھتی۔ رضیہ نے جدوجہد کر کے خود کو پڑھنے کے قابل بنایا۔ وہ کہتی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم زیادہ قابل قبول ہے۔ اس میں

اس کا اپنا خاندان بھی شامل ہے اس نے مزید کہا کہ ’’اس کے خاندان میں تمام لڑکیاں سکول جاتی ہیں‘‘ اس کا کہنا کہ چیزیں بدل گئی ہیں کیونکہ تعلیم آپ کو بدل دیتی ہے۔ پہلے لوگ تعلیم یافتہ نہیں تھے لیکن اب وہ پڑھے لکھے ہیں۔[36]

 

 

سکول کے نظام میں لڑکیوںکی تعلیم کیلئے رکاوٹیں

’’سکول کے نظام میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے رکاوٹیں ہیں۔ ہر ماں اپنے بچے کو تعلیم
دلوانا چاہتی ہے لیکن اس کے لئے مناسب ریاستی نظام موجود نہیں‘‘
(سربراہ کمیونٹی تنظیم کراچی 2017ء)

لڑکیوں کو سکول کے نظام سے باہر تعلیم کے لئے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن لڑکیوں کی تعلیم کے لئے بہت سے خطرات اور رکاوٹیں سکول کے نظام کے اندر موجود ہیں۔ حکومتی نظام تعلیم میں سرمایہ کاری کی مستقبل کمی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے بچے قریب ترین سکولوں سے بھی کافی دور ہیں جہاں وہ محفوظ طریقے مناسب وقت میں نہیں پہنچ پاتے۔ اگر بچوں کے پاس مناسب وسیلہ نقل و حمل نہ ہو تو مسئلہ اور بھی گھمبیر ہو جاتا ہے کیونکہ جب بچے بڑی جماعتوں میں پہنچتے ہیں تو سکولوں کی تعداد اور بھی کم ہو جاتی ہے۔ لازمی تعلیم کی فراہمی صرف کاغذوں میں موجود ہے لیکن بچوں کو سکول بھیجنے کا کوئی طریق کار نہیں۔ لیکن کوئی مناسب قابل عمل سسٹم نہیں۔ سکولوں میں ملازمت حاصل کرنے میں رشوت ستانی اور اقربا پروری اثرانداز ہوتے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقے زیادہ متاثر ہیں۔ پاکستانی حکومت نے بچوں کی ضروریات کے لئے مناسب تعلیمی نظام قائم نہیں کیا۔

سرمایہ کاری میں کمی

حکومت سکولوں میں مناسب اور کافی سرمایہ کاری نہیں کرتی۔ UNESCO ، اقوام متحدہ کی تعلمی، سائنس اور ثقافتی تنظیم یونیسکو نے 2030ء تک تعلیم کے جو اہداف مقرر کئے ہیں جن میں پرائمری اور ثانوی تعلیم شامل ہے کو پورا کرنے کے لئے پاکستان کو GDP کی شرح برائے تعلیم کو دگنا کرنا پڑے گا۔[37] یونیسکو رہنمائی کے مطابق حکومت کو تعلیم پر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے کل قومی بجٹ کا 15 سے 20 فیصد اور تعلیم پر 4 سے 6 فیصد GDPخرچ کرنا چاہئے۔ [38]پاکستان ان 33 ممالک میں سے ایک ہے جو ان اہداف کو پورا نہیں کر سکے اور نہ ہی انہوں نے تعلیم پر اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔ کئی دفعہ یہ اخراجات معاشی ترقی کی شرح سے بہت کم ہیں جس سے تعلیم پر خرچ ہونے والے اخراجات کی شرح GDP کم ہو جاتی ہے۔[39]

2016ء کے دوران پاکستان کے کل اخراجات کا 26فیصد تعلیم پر خرچ ہوا اور 2017ء میں تعلیم پر خرچ ہونے والی شرح 2.758 تھی۔ یہ اعدادوشمار سفارش کردہ معیار سے کم ہیں۔ [40]سرمایہ کاری میں کمی بدستور قائم رہی باوجود اس کے 2009ء میں حکومت نے تعلیم پر GDP کی شرح 7 فیصد کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی جس سے پاکستان ایشیا میں واحد ملک بن جاتا جو فوج سے زیادہ تعلیم پر خرچ کرتا۔[41]

قومی تعلیمی پالیسی 2017-2025ء میں حکومت نے اپنے نظام کی خرابی کے بارے میں لکھا: درج ذیل ہے۔

پاکستان کا تعلیمی شعبہ ریاست کی طرف سے مسلسل سرمایہ کاری میں کمی کا شکار ہے۔ برسراقتدار حکومتیں سالہا سال تعلیم کے شعبہ کو نظرانداز کرتی رہی ہیں۔ جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری میں کمی ناقص طرزِ حکمرانی اور صلاحیت میں کمی کے باعث سکولوں کی تعداد ناکافی ہو گئی، سکولوں میں داخل ہونے والے بچوں کی تعداد میں کمی، سکولوں میں سہولیات کی کمی اور فیل ہو جانے والے بچوں میں اضافہ ہوا۔ اسی طرح اساتذہ کی تعداد میں کمی اور ان کی صلاحیت میں بھی کمی ہوئی۔ اس کے نتیجے میں تعلیم کے معیار میں کمی واقع ہوئی اور کچھ بچوں کو سرے سے ہی تعلیم سے محروم رکھا گیا۔[42]

یہ تشخیص بڑی ایماندارانہ ہے۔ لیکن کچھ علامات سے اس کے حل کی نشاندہی بھی ہوتی ہے۔ تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والے ماہرین نے بیان کیا ہے کہ حکومت عدم دلچسپی کا شکار ہے۔[43] پالیسی بنانے والے افراد کے اپنے بچے اعلیٰ معیار اور مہنگے نجی سکولوں میں پڑھتے ہیں اور سرکاری نظام تعلیم میں کسی قسم کی ذاتی دلچسپی نہیں لی جاتی۔ پنجاب میں

ایک N.G.O کے سربراہ نے H.R.W کو بتایا کہ اصل مسئلہ حکومت کی ترجیحات کا ہے۔ تعلیم کبھی بھی حکومت کی ترجیح نہ رہی ہے اور نہ ہی مناسب بجٹ اس کے لئے مختص کیا گیا ہے۔[44]

کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت بجٹ اور بین الاقوامی ڈونر کی جانب سے ملنے والی امداد کو خرچ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہ سلسلہ مسلسل مختلف علاقوں میں وقوع پذیر رہا ہے۔[45] پیسہ ضائع ہو جاتا ہے۔ کوئی نظام نہیں ہے، نگرانی اور سیاسی جذبہ کی کمی ہے۔ سندھ میں ایک ماہر نے کہا تھا کہ آپ کو یہ جذبہ حاصل کرنا پڑے گا۔[46]

لازمی تعلیم کا عدم نفاذ

اگر والدین اپنی لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت نہ دیں تو حکومت کیا کر سکتی ہے۔ 18سالہ زرافشاں کو 12 سال کی عمر میں اس کے چچا نے زبردستی سکول چھڑوا لیا۔ 30 جولائی 2017ءآئین پاکستان کا کہنا ہے کہ ریاست پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم مہیا کرے گی۔ جس کے لئے قانون سازی کی جائے گی۔[47] پاکستان کے نظامِ حکومت جس میں مرکزیت کی کمی ہے یہ ذمہ داری صوبائی حکومتوں کی ہے کہ وہ اس بارے میں قانون سازی کریں اور لازمی تعلیم کے قانون پر عمل درآمد کروائیں۔ حقیقت میں حکومت کی طرف سے کوئی منظم کوشش نہ کی گئی ہے کہ تمام بچوں کو سکول بھیجا جائے۔

جب بچے سکول نہیں جاتے تو کوئی سرکاری اہلکار ان کے خاندان سے نہ تو رابطہ کرتا ہے اور نہ ہی ان کی حوصلہ افزائی کہ بچہ سکول میں داخل ہو۔ جب ایک بچہ سرکاری سکول سے باہر نکل جاتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ انفرادی طور پر اساتذہ بچے کو تعلیم جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کریں۔ لیکن کوئی منظم سرکاری کوشش نہیں کی جاتی کہ اس بچے کو دوبارہ سکول میں داخل کیا جائے یا سکول میں رکھا جائے۔ یہ بات آئین پاکستان اور بین الاقوامی معاہدوں جن پر پاکستان نے دستخط کئے ہیں سے متصادم ہیں کیونکہ آئین اور بین الاقوامی معاہدہ کے مطابق پرائمری تعلیم مفت اور لازمی ہے۔

کچھ بچے اپنے والدین کے ذریعے تعلیم کے حق کو نافذ کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ 35سالہ زونیشہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ میری چھوٹی بیٹیاں اپنے باپ کے پاس گئی اور کہا کہ ہمیں سکول میں داخل کروائو ورنہ حکومت تمہیں جیل بھیج دے گی۔ ان کے باپ نے کہا اس کی جیب اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔ اس کی بڑی بیٹی سولہ سالہ حفصہ نے بات کاٹتے ہوئے کہا کہ اس کا باپ کبھی اجازت نہیں دے گا۔ حفصہ کو سکول جانے کے ایک سال بعد سکول سے اٹھا لیا گیا تھا۔ جس کا اسے آج تک دکھ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کے کوئی خواب نہیں ہیں۔ آپ دلچسپی اور شوق تبھی رکھ سکتے جب آپ تعلیم حاصل کریں۔ اس نے اپنے والدین کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ اس کی چار چھوٹی بہنیں جن کی عمریں سات سے پندرہ سال تک تھیں سکول جا سکیں لیکن اسے کامیابی نہ ہوئی۔ اس نے کہا میرے بھائی اور باپ نہیں چاہتے کہ میں سکول جائوں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ دسویں جماعت تک لڑکیوں کو پڑھانا لازمی ہونا چاہئے۔ اس کے بعد اگر وہ پڑھنا چاہیں تو مزید پڑھ لیں۔[48]

حکومت کی طرف سے خاندانوں کی تعلیم تک رسائی حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کو سمجھایا جائے کہ تعلیم لازمی ہے۔ جس سے فوری طور پر فرق پڑ سکتا ہے۔ 40 سالہ سفینہ کبھی سکول نہیں گئی وہ دس بچوں کی ماں ہے۔ جن کی عمر 6 سے 22 کے درمیان ہے، اس کا صرف ایک بچہ پڑھ رہا ہے۔ اس نے بتایا کہ دوسرے بچوں نے سکول جانے سے انکار کر دیا ہے۔ بچوں نے بتایا کہ انہیں پڑھائی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس نے مزید کہا حکومت کو چاہئے کہ والدین کے ساتھ ملاقاتیں کریں اور سمجھائیں کہ بچوں کو سکول جانا چاہئے۔ اس نے تجویز دی کہ حکومت کو گھر گھر لوگ بھیجنے چاہئیں تاکہ وہ تعلیم کے بارے میں بات کریں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس بارے میں کوئی بھی نہیں آیا۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے بچے سکول جائیں اور شاید ہر ایک کی یہی خواہش ہو۔[49]

لازمی تعلیم کی غیرموجودگی میں بچوں کو کبھی کبھی خود فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ کیا انہیں سکول جانا چاہئے۔ 19 سالہ کریمیہ نے کہا کہ اس کے والد نے کوشش کی کہ وہ سکول جا سکے حالانکہ ان کے پاس اچھی ملازمت نہ تھی لیکن وہ چاہتا تھا کہ اس کے بچے سکول جائیں۔ اس کا باپ کاریں دھو کر اپنی گزراوقات کرتا تھا۔ اس نے مزید کہا کہ جب اس کی عمر دس سال تھی چوتھی جماعت کے بعد سکول چھوڑ دیا کیونکہ اسے پڑھائی میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ کریمیہ کے کچھ بہن بھائی سکول جاتے تھے اور کچھ نہیں۔[50]کریمیہ کی ماں سحر نے کہا کہ اس نے اور اس کے خاوند نے کافی کوشش کی کہ کریمیہ اپنی پڑھائی جاری رکھے لیکن کریمیہ نے انکار کر دیا۔ سحر کا خیال ہے کہ حکومت کو بچوں کو سکول جانے کے لئے مجبور کرنا چاہئے۔ یہ اچھا ہے کہ حکومت یہ اقدام کرے کیونکہ اس سے بچے اپنی خواہشات کے لئے مرضی کر سکتے ہیں۔[51] کچھ خاندان اس سے آگاہ نہیں کہ سرکاری سکولوں میں مفت تعلیم دستیاب ہے۔ 30سالہ سائرہ کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے جن کی عمریں 6 سے 12 سال تک کے درمیان ہے۔ اس کا خاوند جسمانی طور پر بدسلوکی کرتا ہے اور سائرہ کو

گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں۔ وہ ایک سکول میں خاکروب کے طور پر ملازم ہے اور جب اس نے اپنی ملازمت شروع کر دی تو سائرہ گھر سے باہر جا سکتی تھی اور چرچ اپنی سہیلیوں سے بچوں کے سکول جانے کے سلسلے میں مدد مانگی۔ اس وقت تک سائرہ کو اس بات کا علم نہ تھا کہ سکول میں پڑھائی مفت دستیاب تھی۔ ایک پادری نے اس کو بتایا کہ سرکاری سکولوں میں تعلیم مفت مہیا کی جاتی ہے اس پر اس کا خاوند بھی تین بچوں کو سکول داخل کروانے پر راضی ہو گیا۔ جب بچے سکول داخل ہوئے تو میں خوشی سے رو پڑی۔ جب میں دوسرے بچوں کو سکول جاتے دیکھتی تھی تو سوچتی تھی کہ کیا میرے بچے کبھی سکول جا سکیں گے؟ سائرہ کبھی سکول نہیں گئی تھی۔[52] نہ صرف بچوں کو پڑھنے کے لئے نہیں کہا جاتا کیونکہ بہت سے کیسوں میں والدین اور اساتذہ نے خود بچے کے سکول چھوڑنے پر اکسایا۔ 16 سالہ پلوشے پانچویں جماعت میں تھی جب اس کے استاد نے سرکاری سکول میں کہا کہ اس کی عمر جماعت کے لحاظ سے زیادہ ہے اور اسے پڑھائی چھوڑ دینی چاہئے۔ اس کا رزلٹ بھی اچھا نہ تھا۔ وہ چھٹی جماعت بھی پاس نہ کر سکی۔ اس کے گھر والے اب اسے نجی سکول میں بھیجنا چاہتے تھے۔[53]

سرکاری سکولوں کی قلت

انہیں چاہئے کہ ہم سب کے لئے سرکاری سکول کھولے جائیں۔
سولہ سالہ غزال نے سکول سے باہر گیارہ لڑکیوں کے ایک گروپ جو کہ غریب علاقے سے تعلق رکھتا تھا۔
30جولائی 2017ء

 تمام بچوں کے سکول جانے کے لئے کافی تعداد میں تعلیمی ادارے موجود نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں بہت سے بچے پیدل سرکاری سکولوں تک محفوظ طریقے سے نہیں پہنچ سکتے۔ جب ان بچوں کے خاندانوں کو کوئی سرکاری سکول ملتا ہے بچے کی تعداد کی پہلے ہی بھرمار ہوتی ہے۔

سکول سے باہر بچوں پر کام کرتے ہوئے ایک N.G.O کے سربراہ نے کہا کہ حکومت کو زیادہ پیسہ خرچ کرنے اور مزید سکول کھولنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک ایسے علاقے کا ذکر کیا جہاں ان کی N.G.O نے کام کیا ہے جہاں دو سرکاری سکول ہیں جبکہ علاقے کے رقبے کے مطابق وہاں پانچ سے دس سکولوں کی ضرورت ہے۔[54]

پشاور میں ایک مقامی سرکاری اہلکار نے بتایا کہ قریب ترین سرکاری سکول 40 منٹ کی پیدل مسافت پر واقع تھا۔ جس کی وجہ سے بہت سے بچے دیر سے سکول جانا شروع کرتے تھے۔ تقریباً 8 سے 12 سال کی عمر سے کیونکہ والدین انتظار کرتے تھے کہ بچے اتنے بڑے ہو جائیں کہ وہ پیدل سکول جانے کے قابل ہو جائیں۔ [55]کچھ والدین تعلیم کے پہلے اور دوسرے سال کے لئے نجی سکولوں کے اخراجات ادا کرتے ہیں اور اس کے بعد انتظار کرتے ہیں کہ بچے بڑے ہو جائیں تاکہ وہ دورافتادہ واقع سرکاری سکولوں میں جا سکیں جن کا خرچہ آسانی سے برداشت کیا جا سکتا ہے۔[56]

پاکستان میں لڑکوں کے لئے سکولوں کی تعداد لڑکیوں کے سکولوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔[57] قومی سطح پر 2016ءمیں حکومت نے لڑکے اور لڑکیوں کے لئے مڈل سکولوں کی تعداد مساوی بیان کی۔ لیکن لڑکیوں کے پرائمری سکولوں کی تعداد میں بہت فرق پایا گیا۔ لڑکیوں کے پرائمری سکول 66ہزار جبکہ کل سکولوں کی تعداد ایک لاکھ پینسٹھ ہزار نو سو تھی، اسی طرح ثانوی سکولوں کی تعداد لڑکیوں کے لئے تیرہ ہزار چار سو جبکہ کل تعداد بتیس ہزار ایک سو تھی۔[58]یہ فرق پیشہ ورانہ تعلیم کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بڑھ جاتا ہے۔[59]

کچھ علاقوں اور صوبوں میں عدم مساوات او ربھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر بلوچستان میں لڑکوں کے سکولوں کی تعداد لڑکیوں کے سکولوں سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔[60]صوبہ خیبرپختونخواہ میں بھی اسی طرح کی عدم مساوات موجود ہے۔ ایک ماہرِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر لڑکوں کے 10 سکول ہیں تو لڑکیوں کے لئے ان کی تعداد پانچ ہو گی۔[61] ایک اور ماہر نے ایک علاقے کی نشاندہی کی جہاں لڑکوں کے لئے 14سکول اور لڑکیوں کے لئے ایک سکول موجود ہے۔[62]

30 سالہ عائشہ اپنے شوہر اور چھ بچوں کے ساتھ پشاور کے علاقے میں رہتی ہے جہاں قریب ترین سرکاری سکول جو لڑکوں کے لئے نرسری سے لے کر دسویں جماعت ہے۔ صرف پانچ منٹ کے پیدل فاصلے پر ہے جبکہ قریب ترین سرکاری سکول لڑکیوں کے لئے 30 منٹ کے پیدل فاصلے پر ہے اور وہ بھی صرف پانچویں جماعت تک ہے۔ عائشہ کی بیٹی کوسکول چھوڑنا پڑا جب وہ نو سال کی تھی کیونکہ اس کے والدین کو پیدل سکول جانے پر تحفظات تھے۔[63]

بہت سارے علاقوںکے غریب خاندانوں کے لئے تعلیم ایک صحرا کی مانند ہے۔ 28 سالہ عاکفہ جو تین بچوں کی ماں ہیں جن کی عمریں دس، آٹھ اور سات سالہ ہیں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سکول بھیج دیتی اگر وہاں کوئی سرکاری سکول موجود ہوتا۔ یہ خاندان ملتان کے قریب ایک گائوں سے تین سال پہلے کام کے سلسلے میں کراچی منتقل ہوا۔ اور ایک ایسے علاقے میں رہائش اختیار کی جہاں صرف نجی سکول موجود تھے۔ جن کا خرچہ ان کی جیب برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ سرکاری سکول ان کی پہنچ میں نہ تھا۔[64]

جونہی بچوں کی عمریں بڑھتی ہیں خاص طور پر لڑکیوں کے لئے تو سکول کا فاصلہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ بچوں کے بڑے ہونے کے ساتھ لڑکے اور لڑکیوں کے سکول علیحدہ ہو جاتے ہیں اور لڑکیوں کے سکولوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ اگر پرائمری سکول قریب ہے تو مڈل سکول اور ہائی سکو ل دور واقع ہوتے ہیں کیونکہ بڑی جماعتوں میں لڑکیوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ حکومت نے اس خلا کو تسلیم کیا ہے۔ مثال کے طور پر بلوچستان میں صوبائی تعلیمی منصوبہ بندی لڑکیوں کی تعلیم میں ایک رکاوٹ تسلیم کیا گیا ہے۔ جوں جوں تعلیم کی سطح بڑھتی ہے سکولوں کی تعداد کم ہوئی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے مڈل اور سیکنڈری سکولوں کی تعداد میں کمی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بچے خصوصاً لڑکیاں تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔[65]

اس خلا کی وجہ سے لڑکیوں کے لئے پانچویں سے چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ 14 سالہ بینش نے پانچویں جماعت کے بعد سکو لچھوڑ دیا کیونکہ قریب ترین ثانوی سکول دس سے پندرہ منٹ تک کا بس کے ذریعے سفر کے فاصلے پر تھا۔ اس نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے والدین اسے تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دے سکتے تھے۔ اگر کوئی سکول نزدیک واقع ہوتا کیونکہ میرے والدین چاہتے تھے کہ میں پڑھوں۔ اس نے مزید کہا کہ اسے بازار میں پیدل سکول جانے کی اجازت نہ تھی کیوں کہ سرکاری سکول کا راستہ بازار سے ہو کر جاتا تھا۔ غیرمحفوظ سمجھا جاتا تھا۔ اس کے والدین ٹرانسپورٹ کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ سکول واپس جانا شروع کرے۔ اس نے مزید کہا کہ ہر روز صبح اٹھتی ، میں قرآن پڑھتی ہوں گھر کے کام کاج کرتی ہوں اسی طرح میرا دن اختتام کو پہنچتا ہے۔ میری حکومت سے درخواست ہے کہ پرائمری سکول کو اپ گریڈ کر کے ثانوی سکول کا درجہ دے دیا جائے تاکہ میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکوں۔(66)[66]

لڑکیاں جب دسویں جماعت مکمل کر لیتی ہیں تو انہیں ایک اور مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ (SSC) کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ جس کے بعد جو طلبا تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں انہیں انٹرمیڈیٹ کالج جہاں گیارھویں اور بارھویں جماعت کی کلاسیں پڑھائی جاتی ہیں۔ وہاں داخلہ لینا پڑتا ہے۔ سرکاری کالج بہت تھوڑی تعداد میں ہے۔

16 سالہ غزال کراچی کے ایک غریب علاقے میں رہتی ہے۔ اس کے گھر کے نزدیک دو سرکاری سکول واقع ہیں۔ جہاں اس نے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ لیکن اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے اسے کالج میں داخلہ لینا تھا اور سرکاری کالج بس کے ذریعےنصف گھنٹے کے فاصلے پر تھا جو کہ غریب خاندان کے لئے ایک ناقابل عبور رکاوٹ تھی۔ ہمارے پاس زیادہ رقم نہ تھی اس نے بیان کیا۔(67)[67]

گورنمنٹ کالج جہاں بچے دسویں جماعت کے بعد تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ تعداد میں بہت کم ہیں اور ان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے نہ صرف فاصلہ ایک رکاوٹ ہے۔ ان میں داخلہ کے لئے بھی زبردست مقابلہ ہوتا ہے۔ ایک پرائیویٹ سکول کے پرنسپل نے واضحت کرتے ہوئے بتایا کہ سرکاری کالجوں میں داخلہ کے لئے زبردست مقابلہ ہوتا ہے۔ اگر بچوں کے نمبر کم ہیں تو انہیں نجی کالج میں داخلہ لینا پڑتا ہے۔[68]

16سالہ عاصمہ نے کہا وہ امید کرتی ہے کہ اس کے علاقے میں بھی سرکاری کالج قائم کیا جائے۔ جو کہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس نے کہا کہ یہاں ایک لاکھ افراد رہتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کا کوئی ادارہ نزدیک واقع نہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس طرف توجہ دے اور ایک تعلیمی ادارہ قائم کرے۔ اس نے مزید کہا اس کے ہمسائے میں سرکاری سکول ہے۔ صرف آٹھویں جماعت تک تعلیم مہیا کرتا ہے لہٰذا اس نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ نویں اور دسویں جماعت کے لئے نجی سکول میں پڑھا لیکن اب اس کے گھر والے اسی صورت میں تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ جب وہ کالج میں کوئی نوکری تلاش کرے اور اپنی پڑھائی کے اخراجات خود برداشت کرے۔

نزدیک ترین سرکاری کالج 4/5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اس کے گھر والے اس کو رکشا کے ذریعے یہ سفر کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔[69]

شہری بمقابلہ دیہاتی تفریق

دیہات میں رہنے والے خاندانوں کے لئے صورت حال زیادہ مشکل ہے۔ گائوں میں رہنے والوں کے لئے سرکاری سکولوں تک کا فاصلہ اور بھی زیادہ ہوتا ہے۔ نجی سکولوں کی تعداد بھی کم ہوتی ہے۔ چونکہ نجی سکول زیادہ منافع حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں، سرکاری سکولوں کی کمی کے خلا کو بھرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ جن لوگوں کے انٹرویو کئے گئے ان میں سے کچھ کا کہنا تھا کہ ان کے آبائی گائوں میں سرکاری یا نجی کوئی سکول نہ تھا۔[70]

دیہی علاقوں میں شہروں کی طرح سرکاری سکولوں کی تعداد میں پرائمری سے ثانوی اور ہائی سکولوں کی جانب تیزی سے کمی آتی ہے۔ ہر گائوں میں سرکاری سکول موجود ہے۔ لیکن ہائی سکول اور کالج موجود نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں ایک پرائیویٹ سکول کے ہیڈماسٹر نے H.R.W کو بتایا ہر گائوں میں ایک سرکاری سکول وجود ہے لیکن ثانوی یا ہائی نہیں ہے۔ مزید یہ بھی بتایا کہ دسویں جماعت کے بعد کچھ بھی نہ ہے کیونکہ 13، 14 کلومیٹر کے بعد ایک کالج دستیاب ہے۔[71]

 22 سالہ منا ڈاکٹر بننا چاہتی تھی لیکن اس کے گائوں میں نویں جماعت میں پڑھنے کا واحد طریقہ یہ ہے وہ شہر کے سکول میں سفر کرنے کے لئے 45 منٹ بس کا سفر کرے۔[72] اس نے سکول کو خیرباد کہہ دیا۔ کیونکہ سکول میں سائنس ٹیچردیر میں دستیاب تھا اور وہ دیر سے گھر نہیں آ سکتی تھی۔ اس نے مزید وضاحت کی پڑھائی شام چھ سات بجے ختم ہوتی تھی۔ اس نے ٹیچر کو پڑھائی جلد ختم کرنے کے لئے کہا لیکن ٹیچر رضامند نہ ہوا۔[73]

بدعنوانی

پاکستان میں بدعنوانی عام ہے اور ایک سو اسی ممالک میں پاکستان بدعنوانی میں 117 نمبر پر آتا ہے۔ سرکاری سکولوں کے نظام میں بدعنوانی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔[74] بدعنوانی کی اقسام میں زیادہ عام ٹیچرز کی بھرتی میں رشوت اور اقرباپروری ہے۔ کچھ لوگ تدریس کے عہدے خریدتے ہیں۔ ایک تنظیم کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ سرکاری سکولوں میں تدریسی عہدہ خریدنے کے لئے تقریباً 2 لاکھ روپے (ایک ہزار نو سو پانچ امریکی ڈالر) کی اوسط ہوتی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ہر ایک کو رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ یہ ایک سرمایہ کاری ہے کیونکہ تدریسی عہدہ کے لئے تنخواہ دی جاتی ہے لیکن اس کا اثر تعلیم کے معیار پر بھی پڑتا ہے بلکہ یہ کہا جائے کوئی تعلیم ہی نہیں دی جاتی، کچھ علاقوں میں سکولوں کی عمارتیں مختلف مقاصد کے لئے استعمال کی جاتی ہیں اور کوئی اس کو چیلنج نہیں کرتا۔[75] دوسرے سیاسی تعلقات کے ذریعے ملازمت حاصل کرتے ہیں، سرکاری سکول کے ہیڈماسٹر نے بتایا کہ اس نے آرٹس میں بی۔اے کیا تھا اور تدریسی سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا تھا لیکن پھر بھی سرکاری سکول میں ملازمت حاصل کرنے کے لئے مقامی ایم پی اے کی مدد حاصل کرنا پڑی۔ حکومتی ملازمت سیاسی بنیادوں پر دی جاتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ دس فیصد ملازمتیں میرٹ پر بھی دی جاتی ہوں۔[76]

ایک تعلیمی ماہر نے وضاحت کی کہ سیاستدان اپنے وفادار لوگوں کو تعلیمی نظام میں بھارتی کرتے ہیں۔ وہ ایسا صرف رشوت کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی مفادکے لئے بھی کرتے ہیں۔ اساتذہ الیکشن میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ لوگوں کو متحرک کرتے ہیں اور انتخابات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے اساتذہ بااثر افراد ہیں۔[77]

جب لوگ تعلیمی نظام میں عہدے خریدتے ہیں تو وہ پڑھانے کا کام نہیں کرتے۔ ایک کمیونٹی کی بنیاد پر تنظیم کے ڈائریکٹر نے کہا کہ آپ کو ہر جگہ سرکاری سکول نظر آتے ہیں۔ سکول کی بلڈنگ بھی ہوتی ہے۔ اساتذہ تنخواہ بھی وصول کرتے ہیں لیکن درحقیقت نہ تو اساتذہ پڑھانے کے لئے موجود ہوتے ہیں اور نہ ہی طلبا۔ اس نے مزید کہا کہ وہ کئی اساتذہ کو جانتا ہے جو دیگر ملازمتیں کرتے ہیں۔ وہ ایک ماہ میں تقریباً 60 ہزار روپے (571 امریکی ڈالر) وصول کرتے ہیں۔ انہیں ضلع کے تعلیمی افسر کو کچھ دینا ہوتا ہے جس کی شرح کچھ بھی ہو سکتی ہے۔کئی دفعہ دس فیصد۔ اس نے کہا لوگ اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتے۔ اساتذہ کو سیاسی بنیادوں پر تعینات کیا جاتا ہے۔ وہ عہدے حاصل کرنے کے لئے رقم ادا کرتے ہیں۔ ان لوگوں پر کوئی دبائو نہیں ڈالاجا سکتا۔[78] 2017ء میں یونیسکو نے بجٹ کا حوالہ دیا جس کے مطابق تقریباً دو ہزار جعلی ٹیچر شناختی کارڈ بنائے گئے اور تقریباً 349 گھوسٹ سکول قائم کئے گئے۔[79]

دیہی علاقوں میں بدعنوانی کا اثر خاص طور پر تباہ کن ہے۔ شہروں میں تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو نافذ کرنے کے لئے دبائو ہوتا ہے۔ لیکن گائوں میں بعض اوقات تعلیمی اداروں کے سربراہ بھی حاضر نہیں ہوتے۔[80]کمیونٹی کی بنیاد پر قائم تنظیم کے ڈائریکٹر نے کہا کہ کم از کم کراچی میں حکومتی تعلیمی نظام فعال ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے دیہی علاقوں میں سرکاری حکام پر موثر طریقے سے تعلیم فراہم کرنے کے لئے کوئی دبائو نہیں ہے۔ مقامی حکومتی ایجنسیوں کو غیرفعال قرار دیتے ہوئے اس نے مزید کہا سکول تو وہاں موجود ہیں لیکن اساتذہ اور طالب علم نہیں۔[81]سکولوں کے اندر بدعنوانی پائی جاتی ہے۔ چالیس سالہ بینا نے کہا کہ اس کی بھانجی نے بتایا کہ اس کی جماعت میں ایک لڑکی تھی جو بہت ہی نکمی تھی لیکن اس نے تین ہزار (129 امریکی ڈالر) ادا کئے اور وہ پہلی پوزیشن حاصل کر لی، میری بھانجی نے روتے ہوئے اپنی ماں سے کہا کہ تم یہ رقم کیوں نہیں ادا کر سکتی۔ ٹیچر نے رقم کا تقاضا کیا جو کہ ہم ادا نہ کر سکتے تھے۔ جس پر میری بیٹی نے میٹرک تو پاس کر لیا لیکن ڈی گریڈ کے ساتھ۔ بینا نے مزید کہا میری دوست کے بیٹے نے بڑی اچھی پڑھائی کی لیکن اس کے استاد نے کہا اگر وہ ان کو تین ہزار روپے ادا کر دیں وہ اسے پاس کر دے گا، لیکن لڑکے نے جواب میں کہا کہ اگر میں اچھی پڑھائی کر رہا ہوںتو پیسے کیوں ادا کروں، [82]جس کے نتیجے میں وہ چار میں سے تین پرچوں میں بارھویںکے امتحان میں فیل ہو گیا، مایوس ہو کر اس نے پڑھائی چھوڑ دی۔[83]

         

بدعنوانی سرکاری اور نجی سکولوں دونوں میں ایک مسئلہ ہے کہ رشوت کے مطالبات نجی سکولوں میں زیادہ ہیں شاید کم تنخواہ کی وجہ سے۔[84]

مہنگی تعلیم

پاکستان میں بہت سے خاندانوں کو تعلیم کے لئے پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔

یہ فیصلہ کہ سرکاری سکولوں میں فیس وصول کی جائے یا نہیں علاقائی سطح پر کیا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں مختلف طریقہ کار کو اپنایا جاتا ہے۔ بہت سے انٹرویو دینے والے لوگوں نے بتایا کہ سندھ میں فیس چارج نہیں کی جاتی، لیکن پنجاب میں انٹرویو ز دینے والوں نے بتایا Pre School پری سکول جماعتوں میں عام طور پر  سرکاری سکولوں میں دس روپے ماہانہ (.09 امریکی ڈالر) اور پرائمری سکول میں بچوں سے 20 روپے ماہانہ وصول کئے جاتے ہیں، [85]بلوچستان میں ایک سرکاری سکول کے ٹیچر نے بتایا کہ اس کے سکول میں سالانہ داخلہ فیس 30 روپے یعنی (0.29) امریکی ڈالر وصول کی جاتی ہے، مقامی کاروباری ادارے کئی دفعہ غریب خاندانوں کے بچوں کی مدد کرتے ہیں۔[86] جس میں بنیادی سطح پر 20 روپے (.19امریکی ڈالر) اور ثانوی سطح پر 30 روپے (1.29 امریکی ڈالر) فیس ادا کی جاتی ہے۔[87]سرکاری سکول نجی سکولوں سے کم مہنگے نہیں ہوتے جب آپ متفرق اخراجات جن میں رجسٹریشن فیس، امتحانی فیس، کتابیں، یونیفارم، سکول بیگ اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کو بھی شامل کیا جائے۔نجی سکولوںمیں عام طور پر متفرق اخراجات کم ہوتے ہیں جن میں کتابیں اور یونیفارم شامل ہے۔ نجی سکول نزدیک واقع ہونے کی وجہ سے بچوں کے ٹرانسپورٹ پر بھی خرچہ کم ہوتا ہے۔ اخراجات اگر کم بھی ہوں پھر بھی یہ تعلیم کو غریب خاندانوں کے لئے ناقابل رسائی بنا دیتے ہیں۔ اور پاکستان میں غریب خاندانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ 2016ء میں حکومت نے غربت کی سطح نئی متعین کی جس میں ایک بالغ کی ماہانہ آمدنی 3030 مقرر کی (29 امریکی ڈالر) اس معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے چھ کروڑ پاکستانی غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کر رہے تھے۔ جس کا مطلب 6.8 تا 7.6 ملین خاندان خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جو پاکستان کی کل آبادی کا 29.5 فیصد بنتا ہے۔[88] بچے مالی وجوہات کی بنیاد پر سرکاری اور نجی سکولوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ 44 سالہ پریزہ جو کہ آٹھ بچوں کی ماں ہے نے بتایا کہ اس کے بچوں نے ابتدائی طور پر نجی سکولوں میں تعلیم کا آغاز کیا لیکن بعد میں وہ سرکاری سکولوں میں چلے گئے کیونکہ ان کے پاس نجی سکولوں کے لئے رقم نہ تھی۔[89]

سرکاری سکولوں میں تعلیم سے متعلقہ اخراجات

والدین نے کہا کہ ابتدائی سطح پر بھی ایک بچے کو سرکاری سکول میں تعلیم دلوانے کا تقریباً پانچ ہزار (148 امریکی ڈالر) سالانہ خرچہ آتا ہے۔ [90]ظریفہ جو کہ پانچ بچوں کی ماں نے بتایا کہ چاہے سکول میں تعلیم مفت ہو لیکن پھر بھی کسی نہ کسی بہانے سے رقم کا مطالبہ سکول سے کیا جاتا ہے۔ کاپیاں، کتابیں کا خرچہ ہر روز سامنے آتا ہے۔ صرف سکول بیگ کی قیمت ہی پانچ سو روپے (4.76 امریکی ڈالر) ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نیا مطالبہ ہوتا ہے۔ ظریفہ کی بڑی بیٹی نے دوسری جماعت تک پڑھا لیکن محض اخراجات کی بنا پر اسے سکول سے ہٹا لیا  گیا۔ ظریفہ نے کہا کہ وہ اپنے تمام بچوں کو سکول بھیجنا چاہتی ہے لیکن وسائل محدود ہیں اس نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ وہ صرف ایک بچے کو سکول نہیں بھیج سکتی اس سے دوسرے بچوں کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔ انہیں صدمہ ہو گا کہ انہیں کیوں سکول نہیں بھیجا گیا۔ ظریفہ کی سب سے بڑی بیٹی ہمسایوں کے پاس قرآن پڑھتی ہے اور باقی بچے کچھ نہیں پڑھ رہے۔[91]

سرکاری سکولوں میں کچھ کتابیں بچوں کو مہیا کی جاتی ہیں لیکن بچوں کو باقی اخراجات خود ادا کرنا پڑتے ہیں۔ 18 سالہ عقیبہ نے کہا کچھ کتابیں حکومت دیتی ہے لیکن کچھ خود خریدنا پڑتی ہیں۔ یہ بات اس نے دو بچوں کو سرکاری سکول میں پڑھانے کی جدوجہد بیان کرتے ہوئے کہی۔ اس نے مزید کہا ہر پندرہ سے تین دنوں کے بعد وہ نئی کتابیں شامل کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے حال ہی میں رنگ بھرنے والی اک کتاب شامل کی ہے۔ ہم تقریباً تین ہزار روپے (129 امریکی ڈالر) کتابیں خریدنے پر خرچ کرتے ہیں[92]، کچھ خاندانوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں میں پرائمری جماعتوں میں ہر سال پانچ سے چھ سو روپے سالانہ (5یا6 امریکی ڈالر) خرچہ کرنا پڑتا ہے۔[93] دوسروں نے کہا کہ یہ قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ انہیں سال بھر میں متبادل اور نئی کاپیاں خریدنا پڑتی ہیں۔[94]

یونیفارم کا خرچ 1000 روپے (9.52امریکی ڈالر) آتا ہے۔[95] جو لوگ یونیفارم کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے انہیں سکول سے خارج کر دیا جاتا ہے، لڑکیوں کے لئے والدین کو دوپٹہ (سکارف) بھی خریدنا پڑتا ہے، ایک ماں نے کہا اس پر خرچہ 750 روپے (7ڈالر) آتا ہے۔[96] طلبا کو ایک سال میں کئی یونیفارم درکار ہوتی ہیں۔[97] سرکاری سکولوں میں کچھ منتخب طلبا کو مفت یونیفارم فراہم کی جاتی ہے لیکن یہ بہت کم تعداد میں دی جاتی ہے، [98]نئے جوتے خریدنے پر تقریباً 500 روپے خرچ آتا ہے جبکہ استعمال شدہ اس سے نصف قیمت پر مل جاتے ہیں۔[99]

تیرہ سالہ پاوینہ نے کہا کہ اس کے خاندان میں دور دراز رشتہ دار کی اک لڑکی سکول جاتی تھی، میری ایک چھ سالہ کزن نے بھی سکول جانے کی ضد کی جس پر اس کے بڑے بھائی نے اسے سکول میں داخل کروا دیا۔ پاوینہ نے مزید کہا اس کی یہ کزن صرف ایک مہینہ سکول جا سکی کیونکہ وہ صبح سات بجے گھر سے نکلتی تھی اور تقریباً دس بجے پہنچتی تھی، گھر کے کپڑوں میں سکول جاتی تھی۔ یونیفارم پر خرچہ تقریباً 1000 روپے (9.2امریکی ڈالر) آتا ہے۔ اس کا خاندان یہ خرچہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے کہا کہ ہم سکول جانا چاہتے ہیں لیکن ہمارے وسائل نہیں ہیں۔[100]

مسکان لاہور کے ایک نواحی علاقہ میں رہتی ہے۔ نزدیک ترین لڑکیوں کے بیٹے سرکاری مڈل سکول رکشا کے ذریعے پندرہ سے بیس منٹ کے فاصلے پرہے۔ ہر روز رکشا کے ذریعے ماہانہ خرچہ 3500 روپے (33 امریکی ڈالر) بنتا ہے۔[101] عین نے اپنے گھر کے نزدیک سکول سے آٹھویں جماعت تک کی تعلیم مکمل کی لیکن نویں جماعت میں پڑھنے کے لئے اسے رکشا میں سکول جانا پڑتا تھا اور رکشا کا روزانہ کرایہ 40 روپے یعنی (0.38امریکی ڈالر)ہے۔ اس کی ماں کپڑوں کی سلائی کا کام کرتی ہے اور والد ایک راج مستری ہے۔ اس کے تین بھائی ہیں۔ اس نے کہا کہ میں نے ازخود اپنے حالات کا جائزہ لیا اور آنے جانے کے خرچہ کے وسائل کو دیکھا اور میں نے فیصلہ کیا کہ میں تعلیم کو جاری نہیں رکھوں گی۔ میں نے تعلیم کی بجائے گھریلو کام کاج کرنا شروع کر دیا۔[102]

بڑی جماعتوں میں حتیٰ کہ سرکاری کالجوں میں خرچہ چھوٹی جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہ خرچہ ٹیوشن اور منسلک اخراجات دونوں میں زیادہ ہے۔ علیمہ جس کی بیٹی گیارہویں جماعت میں پڑھتی ہے نے کہا کہ دسویں جماعت میں سائنس کے مضامین پڑھنے کے لئے زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں جیسا کہ ٹیسٹ ٹیوب وغیرہ پر پانچ سو روپے تک خرچ ہو جاتے ہیں۔ اس نے مزید کہا کہ آپ کو گیارہویں جماعت میں مینڈک وغیرہ پر تجربات کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پر ہم مینڈک مفت حاصل کرتے ہیں لیکن سال کے کچھ دنوں میں آپ مینڈک نہیں ڈھونڈ سکتے جس پر ان کے لئے 200 روپے ادا کرنا پڑتے ہیں۔ ایک دفعہ میں دو دن مینڈک کی تلاش کرتی رہی لیکن نہ ملا۔ اس کے بعد میں ایک مچھلی فروش کے پاس گئی اس نے کہا کہ وہ سو روپے میں مجھے فروخت کرے گا۔میری بیٹی کو سائنس کے پریکٹیکل کے لئے درکار تھا، علیمہ کی بیٹی کو کلاس میں سائنس سیٹ خریدنے کے لئے اپنے حصے کے طور پر 500 روپے ادا کرنا پڑے۔[103]

مدرسہ اور ٹیوشن سینٹر سکولوں کے متبادل ہیں

والدین کے لئے بچوں کو ٹیوشن پڑھوانا زیادہ سستا طریقہ کار ہے۔ [104]سکولوں کے مقابلے میں جو لڑکیاں سکول نہیں جا سکتیں ان کے لئے مدرسہ ہی عام طور پر ایک متبادل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔[105] کئی بچے باقاعدہ سکول کے ساتھ اضافی طور پر مدرسہ میں شرکت کرتے ہیں۔

مدرسہ اور ٹیوشن سکول سے نزدیک اور سستی دستیاب ہوتی ہیں۔ بارہ سالہ شمائلہ نے کہا کہ وہ اور اس کی بہن اس لئے مدرسہ جاتی تھیں کیونکہ کوئٹہ میں ان کے نزدیک کوئی سرکاری سکول لڑکیوں کے لئے موجود نہ تھا۔ (نزدیک ترین سکول 25 منٹ پیدل فاصلے پر تھا)۔ نجی سکول دس منٹ پیدل فاصلے پر تھا لیکن وہ اس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے لیکن چھ سات مدرسےتھے جن میں ایک دو منٹ کے پیدل فاصلے پر جو کہ مفت تعلیم دیتے تھے۔[106]

ٹیوشن کے لئے فیس عام طور پر کم ہوتی ہے۔ کچھ مدرسے فیس وصول کرتے ہیں لیکن زیادہ تر مفت تعلیم دیتے ہیں۔ ٹیوشن مراکز اور مدرسے عام طو پر منسلک اخراجات سے بھی مبرا ہوتے ہیں جو کہ سرکاری اور نجی سکولوں میں عام ہیں۔ ان میں داخلہ بھی بچوں کے لئے بہت آسان ہوتا ہے، کیونکہ وہ بچوں کے داخلہ کے لئے بغیر انتظامی شرائط شناخت، پیدائش سرٹیفکیٹ قبول کرتے ہیں۔

غیررسمی ٹیوشن اور مدرسہ کے تعلیم کے درمیان فرق بہت دھندلا ہوتا ہے۔ بارہ سالہ اسدہ اپنے خاندان میں چھ بچوں میں سے سب سے بڑی  ہے۔ اس نے دوسری جماعت کے بعد سکول چھوڑ دیا کیونکہ اس کے گھر والے تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اس کی گھر کے کام کاج کرنے میں بھی ضرورت تھی ۔لیکن اس نے دوبارہ تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی۔ ہمسائے کے گھر میں ہر صبح قرآن پڑھنے کے لئے جانا شروع کر دیا۔ گھر والے ہمسائے کو 100 روپے روزانہ (95. امریکی ڈالر) ادا کرتے تھے۔ وہ واحد بچہ ہے جو کبھی کسی قسم کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ اس نے کہا کہ میں واپس گھر آ کر دوسرے بہن بھائیوں کو پڑھاتی ہوں۔[107]مدرسے اور ٹیوشن سنٹر بچوں کو کچھ تعلیم فراہم کرتے ہیںجو دوسری صورت میں بغیر تعلیم کے رہ جاتے ہیں۔ یہ  مدرسے اور ٹیوشن سنٹر سکولوں کا مناسب متبادل تو نہیں کیونکہ وہ مکمل نصاب نہیں پڑھاتے اور عام طور پر طلبا کو رسمی تعلیم کے نظام میں منتقل کرنے یا انہیں رسمی تعلیمی اہلیت حاصل کرنے میں مدد دینے کا راستہ نہیں ہے۔ مدرسوں میں پڑھنے والے طلبا صرف مذہبی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ٹیوشن مراکز میں ٹیچر اپنی مرضی سے پڑھانے کا اختیار رکھتے ہیں۔

12 سالہ نجیبہ اس لئے سکول نہ جا سکی کیونکہ اس علاقے میں کوئی سرکاری سکول نہ تھا۔ اس کے گھر والے نجی سکول میں پڑھانے کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ اس نے مدرسہ جانا شروع کر دیا۔ وہ  ہفتہ میں چھ دن تین گھنٹوں کے لئے مدرسہ جاتی اور صرف قرآن کی تعلیم حاصل کرتی۔ اب اس کا قرآن پاک مکمل ہو چکا

ہے۔[108]

34 سالہ سحر اپنے تین بچوں کو مدرسہ بھیجتی ہے۔ ان میں سے دو بچے باقاعدہ سکول کے بدلے میں اور ایک بچہ ریگولر سکول جاتے ہوئے اضافی طور پر مدرسے بھی جاتا ہے۔ اس خاندان کو غریب ہونے کے ناطے سے رعایت دی جاتی ہے اس لئے وہ صرف چھ سو روپے (6امریکی ڈالر) ماہانہ تینوں بچوں کے لئے ادا کرتے ہیں۔[109]

17 سالہ بشریٰ کراچی کے ماہی گیروں کی غریب بستی میں رہتی ہے۔ وہ ایک نجی سکول میں پانچویں جماعت تک پڑھا ہے۔ جس کی فیس 600 روپے (6 امریکی ڈالر) ماہانہ تھی۔ جب اس کے گھر والے مزید اخراجات ادا نہ کر سکے تو وہ چھٹی جماعت میں سرکاری سکول منتقل ہو گئی۔ اس نے چھٹی جماعت کی تعلیم مکمل نہیں کی تھی کیونکہ اسے نہیں لگا کہ یہ ایک درست جگہ تھی۔ نجی سکولوں میں اساتذہ طلبا پر توجہ دیتے ہیں جبکہ سرکاری سکولوں میں نہیں۔ سرکاری سکول چھوڑنے کے بعد بشریٰ نے ایک مدرسہ میں داخلہ لے لیا ایک سال بعد اس کو چھوڑ دیا۔

سرکاری سکول چھوڑنے کے بعد بشریٰ نے ایک مدرسہ میں داخلہ لے لیا ۔ لیکن ایک سال بعد ہی مدرسہ کی پڑھائی ختم کردی ۔ اس کا کہنا تھا کہ مدرسہ والوں کا پردہ کے بارے میں تصور مکمل پردے کا تھا لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی ۔ کیونکہ اسے پانی بھی بھر کر لانا ہوتا تھا ۔ پردہ کے ساتھ یہ ممکن نہیں تھا ۔ اس نے مزید کہا کہ مدرسہ والے چاہتے تھے کہ لڑکیاں اپنے تمام جسم کو ڈھانپ کر رکھیں حتیٰ کہ جرابیں اور دستانے بھی پہن کر ، اس نے کہا کہ اتنی زیادہ گرمی میں یہ ممکن نہیں ۔[110]

معیارِ تعلیم

’’ اچھے معیار کی تعلیم دینے والے سکولوں کی تعداد بہت کم ہے والدین مایوس ہو جاتے ہیں اور اپنے بچوں کو سکول سے ہٹا لیتے ہیں ۔‘‘
 کراچی جولائی 2017ء

 کیئریر کونسلر کراچی غریب خاندان اشرافیہ کے نجی سکول میں تعلیم دلوانے کی استطاعت نہیں رکھتے ۔اور ان کے پاس اپنے بچوں کو سرکاری یا کم لاگت کے نجی سکولوں میں بھیجنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا ۔والدین ان حالات میں اکثر تعلیم کے معیار کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں ۔ کچھ محسوس کرتے ہیں کہ معیار تعلیم اتنا گرا ہوا ہے بچوں کو سکول بھیجنے کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔ حکومت خود بھی سرکاری سکولوں میں تعلیم کے گرے ہوئے معیار کو تسلیم کرتی ہے ۔[111]مثال کے طور پر بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ تعلیم کا معیار بہتر نہیں ہو سکا اور اس کی وجہ سے نجی سکولوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لوگوں کا سرکاری سکول پر سے اعتماد ختم ہو گیا ہے ۔ سرکاری اور نجی سکولوں کے بارے میں تحفظات مختلف ہیں ، سرکاری سکولوں میں والدین اور طلبا اساتذہ کے ڈیوٹی پر نہ آنے ، طلبا کی زیادہ تعداد اور سہولیات کا نا کافی ہونے کے بارے میں شکایت کرتے ہیںجبکہ کم لاگت کے نجی سکولوں میں زیادہ تر تحفظات اساتذہ کے کم تعلیم یافتہ ہونے کے بارے میں ہیں ۔ طلبا کو جسمانی سزا اور اساتذہ کے ناروا سلوک کی شکایات بڑے پیمانے پر موصول ہوئی ہیں۔

سرکاری سکولوں میں معیار کے بارے میں تحفظات

خاندان سرکاری سکولوں کے بارے میں بہت سی شکایات کرتے ہیں ، اساتذہ کے غیر حاضر ہونے اور طلبا سے بد سلوکی اور جسمانی تشدد طلبا کی زیادہ تعداد ، سکولوں میں عدم تحفظ ، نا کافی سہولیات باتھ روم اور پانی کی عدم دستیابی اور نصاب کے بارے میں مایوسی شامل ہے ۔

اساتذہ کی غیر حاضری اور اہلیت

21سالہ تحریم نے کہا بہت سے خاندان اساتذہ کے سکول سے غیر حاضر ہونے کی شکایت کرتے ہیں ۔ کئی دفعہ طلبا سکول جاتے ہیں وہاں کوئی ٹیچر نہیں ہوتا ، طلبا کو اپنی پڑھائی مس کرنا پڑتی ہے ۔ تحریم ٹیچر بننے سے پہلے سرکاری سکول میں پڑھتی تھی ۔ اس نے کہا کہ یہ میرا اپنا تجربہ ہے کہ اساتذہ سارا سال پڑھاتے نہیں ہیں اور آخری تین مہینوں میں امتحان سے پہلے سارا دبائو ڈالتے ہیں ۔ ایک ہفتے میں ایک یا دو دفعہ سکول آتے ہیں ۔ ایسا عام طور پر پرائمری سکولوں میں ہوتا ہے ۔ یہ بچوں کے لیے اُن کی نشوونما کا اہم وقت ہوتا ہے لیکن اس وقت اساتذہ وہاں موجود نہیں ہوتے ۔مفت ٹیوشن مرکز میں اساتذہ خوشی سے جاتے ہیں اور اس لیے بچے سرکاری سکولوں کی نسبت ٹیوشن مراکز کا رخ کرتے ہیں تاکہ وہ بہتر تعلیم حاصل کر سکیں۔[112]

16سالہ عاطفہ اور اس کی سترہ سالہ بہن کراچی میں رہتے ہیں ۔ ان دونوں نے پانچویں جماعت کے بعد سکول جانا چھوڑ دیا ان کا کہنا تھا کہ اکثر اوقات دیر سے آتے تھے یا بالکل نہیں آتے تھے ۔ حکیمہ نے بیان کیا کہ وہ اپنے پرائمری سکول میں جاتی تھی بیٹھتی تھی اور گھر واپس آجاتی تھی۔ان کی چھوٹی بہن بارہ سالہ ظفرا نے دوسری یا تیسری جماعت کے بعد چھوڑ دیا تھا ۔ اس کے بھی اسی قسم کے مسائل تھے ۔ اساتذہ سکول نہیں آتے تھے اور اس نے اس سال سکول جانا چھوڑ دیا کہ وہ کچھ بھی نہیں سیکھ رہی۔

پانچویں جماعت مکمل کرنے کے بعد عاطفہ اور حکیمہ نے ثانوی سکول میں داخلہ لینے کی کوشش کی ۔ حکیمہ نے کہا کہ ہم نے نزدیک ترین سرکاری ثانوی سکول جو کہ پندرہ منٹ کے پیدل فاصلے پر تھا میں پیر کے لیے داخلہ لینے کی کوشش کی لیکن ہم سکول جاتی تھیں ۔ لیکن ہمیں کہا جاتا تھا کہ ہیڈ مسٹریس سکول میں نہیں ہیں آپ کسی اور وقت آئیں ۔ ہم تین چار دفعہ گئی آخر مایوس ہو کر کوشش چھوڑ دی ۔ اس کے حصہ ہم نے ایک نجی سکول میں کوشش کی وہاں کے اخراجات زیادہ تھا ۔700۔800روپے فی طالب علم (7-8امریکی ڈالر) تھے۔[113]

بہت سے لوگ جن کے انٹرویو کیے گئے بیان کرتے ہیں اساتذہ کی غیر حاضری نجی سکولوں کو ترجیح دنے میں ایک اہم وجہ ہے پچاس سالہ لائلہ جو کہ ایک دادی ہے نے بیان کیا کہ نجی سکول میں اساتذہ عام طور پر حاضر ہوتے ہیں جس کے قریب ترین سرکاری سکول میں اکثر غیر حاضر ہوتے ہیں۔[114]

اگرچہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ پرائیویٹ سکولوں کے مقابلے میں زیادہ پیسہ کماتے ہیں ۔ کچھ ماہرین نے کم تنخواہوں کا حوالہ دیا کہ یہ اساتذہ کے غیر حاضر ہونے کی وجہ کم تنخواہیں بد عنوانی کا معاملہ اوپر زیر بحث ہو چکا ہے ۔پنجاب میں لیبر حقوق کے ایکسپرٹ نے کہا ہے کہ اساتذہ کی تنخواہیں اصل مسئلہ ہے ان کو کم تنخواہیںدی جاتی ہیں ۔ ملازمت کے تحفظ کی کوئی گارنٹی نہیں ۔ انہیں آج کل حکومت کنٹریکٹ پرملازمتیں دیتی ہیں۔اگر اساتذہ کواچھی تنخواہیں دی جاتی تو تعلیم کا معیار بھی بہتر ہوگا ۔ اساتذہ کی تنخواہ میں 15ہزار ( 50امریکی ڈالر) سے شروع ہوتی ہیں ۔ جو کہ کم از کم قومی اجرت کے مقرر کردہ معیار کے مطابق ہے اس رپورٹ کے لیے انٹرویو کیے گئے اساتذہ نے کہا کراچی میں پرائمری سکول کے اساتذہ کو تنخواہ آٹھ ہزار روے ماہوار (76امریکی) دی جاتی ہے ۔ جبکہ پشاور میں ہائی سکول کی ایک ٹیچر نے بتایا اس کی تنخواہ 78ہزار روپے یعنی 743امریکی ڈالر ) ماہانہ کے برابر ہے۔[115]

سندھ کے ایک کمیونٹی تنظیم کے ڈائریکٹر نے کہا سندھ حکومت نے اساتذہ کی حاضری کو بہتر بنانے کے لیے بائیو میٹرک جس میں انگلیوں کے نشان سے حاضری ہوتی ہے ۔ لیکن یہ کبھی لاگو نہیں ہوا ۔ کیونکہ اعلیٰ سطح سے اس بارے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی ۔[116] سندھ میں نظام تعلیم کے لیے پیسے کی کمی نہیں ہے ۔ لیکن اس کو مناسب طریقے سے استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔[117]خیبر پختونخوا میں ایک استاد نے کہا کہ اساتذہ کی حاضری کے لیے ایک بائیو میٹرک نظام رائج کیا گیا ہے ۔اس سے اساتذہ کی حاضری میں نمایاں طور پر بہتری آئی ہے۔[118]

ماہرین اور خاندانوںکو اساتذہ کی اہلیت اورجذبے کے بارے میں بھی تحفظات ہیں ۔ کراچی کے ایک سرکاری سکول کے پرنسپل نے کہا بہت سے چیلنجر درپیش ہیں کئی ان پڑھ اساتذہ صرف میٹرک کی بنیاد پر بطور ٹیچر تقرری حاصل کر لیتے ہیں ۔ وہ سیکھنے اور سکھانے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور ہمیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔قواعد و ضوابط کے مطابق سرکاری سکولوں میںپرائمری اساتذہ مقرر ہونے کے لیے میٹرک کے بعد ایک سال کی تدریسی تربیت لی جائے ۔ لیکن حالیہ سالوں میں اس قابلیت کے بغیر ہی لوگوں کو بطور استاد تعینات کردیا جاتا ہے ۔ اس نے کہا اصل مسئلہ سیاستدان میں وہ اپنے افراد خانہ یا پارٹی کے کارکنوں کو بطور استاد تعینات کروا لیتے ہیں ۔ سیاستدان صرف اپنے ووٹر اور فائدے کے لیے پوچھتے ہیں اوروہ ان لوگوں کو انعام دینا چاہتے ہیں جن لوگوں نے ان کی الیکشن میں مدد کی۔[119]

36سالہ مریم نے کہا کہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ صرف مٹھائیاں کھاتے ہیں اور بچے باہر کھیلتے ہیں ، اساتذہ بچوں پر توجہ نہیں دیتے اسی وجہ سے اس نے اور اس کے خاوند نے اپنے بچوں کو نجی سکول میں داخل کروایا ۔ جب اس کے خاوند کی نوکری بطور الیکٹریشن سعودی عرب میں ختم ہو گئی ۔ وہ نجی سکول کی فیس برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔ اس لیے بچوں کو سکول سے اٹھوالیا۔[120]

طلبا کی بھرمار

سرکاری سکولوں میں اکثر جماعتوں کاحجم اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اسے آسانی سے قابو نہیں کیا جا سکتا ۔ کچھ علاقوں میں سرکاری سکولوں کی کلاسیں محدود ہوتی ہیں مثلاً ایک جماعت میں 35طلبا ہیں ۔[121]لیکن ماہرین اور طلبا کا کہنا ہے اکثر کلاسیں بہت بڑی ہوتی ہیں ۔ ان کی تعداد 50سے 80تک ہوتی ہے ۔ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی تعداد تھوڑی ہوتی ہے ۔[122] کراچی میں یوتھ سنٹر کے ایک کارکن نے کہا ’’ ایک ٹیچر کو عام طور پر دو جماعتیں پڑھانا پڑتی ہیں ، ایک جماعت میں عام طور پر 35طالب علم ہونے چاہیں لیکن یہ 45سے 50تک ہوتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک استاد کو 90سے 100طلبا کو پڑھانا پڑتا ہے۔[123]

پشاور میں ایک ٹیچر نے کہا کہ وہ سکول میں ساٹھ طلبا کی کلاس کو پڑھاتی تھی ایک اور ٹیچر نے پشاور میں ہی کہا کہ اس کے پاس 120طلبا تھے ۔[124] اس نے تھکا دینے والے شیڈول کا بتایا کہ ایک استاد کو لگا تار آٹھ کلاسیں پڑھانا پڑتی تھیں۔[125]

’’ طلبا کی بھر مار کی وجہ سے بچے سرکاری سکولوں کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ سرکاری کالجوں یا سکولوں میں بچوں کی اتنی بھر مار ہوتی ہے کہ آپ ان پر توجہ مرکوز نہیں کر سکتے ۔‘‘ یہ بات مرضیہ نے بیان کی کراچی میں اپنے گھر میں غیر رسمی سکول چلاتی ہے۔[126]

مریم نے ایک پرائیویٹ سکول میں نو سال تک کام کیا اس نے اپنی تعلیم سرکاری سکول میں حاصل کی ۔ اس کا کہنا ہے کہ طلبا کی بڑھتی ہوئی تعداد کا سلسلہ دن بدن خراب ہوتا جا رہا ہے ۔

یہ حال ہی میں ہوا ہے ۔ کیونکہ ماضی میں سن2000میں سرکاری سکولوں کی حالت بہت اچھی تھی لیکن اب سرکاری سکولوں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے کیونکہ کلاس میں طلبا کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ اساتذہ اتنی زیادہ تعاد میں طلبا پر کیسے توجہ دے سکتے ہیں ، اس نے کہا میں سرکاری سکول میں پڑھتی تھی اور خوش تھی ۔ میری بہن  مجھ سے چودہ سال چھوٹی ہے اس نے سرکاری سکول کو مختلف پایا اور وہ خوش نہیں تھی ، جب میں سکول میں پڑھتی تھی میں کوئی سوال چاہے کتنی بار پوچھتی تھی لیکن اب صورتحال مختلف ہے ۔ اب ٹیچر سوال کو دوبارہ سمجھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔[127]

طلبا کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے بچے سکول چھوڑ جاتے ہیں ۔ پنجاب کے ایک نجی سکول کے ہیڈ ماسٹر نے بتایا کہ اس کے علاقے میں سرکاری سکولوں میں بچوں کو داخلہ دینے سے منع کر دیتے ہیں ۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو اسے نجی سکول کھولنے کی ضرورت نہ پڑتی۔[128]

طلبا کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے بہت سے سکولوں میں دن میں کئی شفٹوں میں پڑھایا جاتا ہے ۔ جس سے سکول میں پڑھائی کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے ۔تقریباً 4گھنٹے اس کے نتیجے میں پورا نصاب مکمل کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔[129]

پانی ، صفائی اور سہولیات

اگر وہاں استاد ہیں تو کلاس روم نہیں ۔ اگر کلاس روم ہیں تو استاد نہیں
گورنمنٹ ٹیچر اگست 2017پشاور

سرکاری سکولوں کی حالت عام طور پر خستہ ہوتی ہے اور سیکھنے کا ماحول مہیا کرنے کے قابل نہیں ہوتا ’’ایجوکیشن پالیسی کو لاگو نہیں کیا جاتا ‘‘ ایک NGO کے سربراہ نے جو سکول سے باہر بچوں پر کام کر رہا تھا نے بتایا طلبا اور کلاس روم اور کرسیوںکی تعداد پر خاص اصول و ضوابط ہیں ۔ لیکن ان پر عمل نہیں کیا جاتا ۔قانون اور ضوابط موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمدنہیں ہوتا اور نہ ہی وسائل ہوتے ہیں ، اس نے مزید بتایا کہ ہم ایجوکیشن سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں۔[130]

’’ وہاں سکول کی عمارت ، ٹائلٹ، واش روم اور فرنیچر کے لیے کافی سرمایہ موجود نہیں ہے ۔‘‘ کراچی میں ایک گورنمنٹ سکول کے ہیڈ ماسٹر نے بتایا جس نے 25سال تک سرکاری تعلیمی نظام میں نوکری کی ہے کہا کہ سرکاری سکول کو ان مسائل کا سامنا ہے ۔

اس کو حال ہی میں مختلف سکولوں میں تعینات کیا گیا جہاں صورتحال اس کے پہلے سکول سے بد تر تھی ۔ اس نے کہا اس سکول میں کھڑکیاں اور دروازے نہیں تھے صرف دیواریں اورچھت تھی کرسیاں بھی نہیں تھیں ۔ ہم کرسیوں کا بندو بست کرنے کی کوشش کر رہے تھے ، بچے زمین پر بیٹھتے ہیں سکول میں پانی کا بندو بست بھی نہیں ۔ بچے پانی پینے کے لیے گھروں کو جاتے ہیں ۔ سکول میں واش روم بھی نہیں ہے اگر بچوں کو واش روم استعمال کرنے کی حاجت ہو تو وہ اپنے گھروں کو واپس جاتے ہیں ۔ قدرتی طور پر اس سے اساتذہ کی پڑھانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے ۔[131] ایک ماہر تعلیم نے بنیادی ڈھانچے کی خرابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا خاص طور پر ٹائلٹ کی کمی لڑکیوں کے لیے بہت مسائل پیدا کرتی ہے۔دیہاتی علاقوں میں سکول لڑکیوںکی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے تعمیر نہیں کیے جاتے اس کا کہنا تھا ان کولوں میں کوئی ٹائلٹ نہیں ہوتا اور نہ ہی پانی کا بندو بست ۔ نہ ہی چار دیواری اور نہ ہی تحفظ۔[132]

37فیصد سکولوں میں بنیادی سہولیات صفائی ، ٹائلٹ نہیں ہوتی جن لڑکیوں کو ماہواری آنا شروع ہو جاتی ہے ان کے لیے ٹائلٹ کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ لڑکے اورلڑکیوں کے لیے علیحدہ علیحدہ ٹائلٹ نہ ہونے اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے کافی مسائل ہوتے ہیں ۔[133] وہ ماہواری کے دنوں میںسکول آنا بند کر دیتی ہیں اس سے ان کی پڑھائی اور حاضری دونوں متاثر ہوتے ہیں اور سکول سے اخراج کا خطرہ لاحق ہوتا ہے[134] سرکاری سکول میں 9thکلاس کی طالبہ ظفیرہ نے کہا کہ سکول میں پینے کے پانی کا مسئلہ ہوتا ہے ۔ اس نے مزید کہا کہ اس علاقے میں پانی کی قلت ہے اور کئی دفعہ ہفتہ ہفتہ سکول میں پینے کا پانی دستیاب نہیں ہوتا اس لیے طلبا اپنے گھروں سے پانی لے کر آتے ہیں۔[135]

ناقص سہولیات سے سکول سٹاف متاثر ہوتا ہے

24سالہ شازیہ ایک نجی سکول میں پڑھاتی ہیں ، ان کی دوست سرکاری سکولوں میںپڑھاتی ہیں وہ چاہتی ہے کہ وہ بھی سرکاری سکول میں پڑھائے ۔ لیکن اس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ درخواست نہیں دے گی ۔ کیونکہ سرکاری سکولوں میں سہولیات بجلی جنریٹر فرنیچر وغیرہ میسر نہیں ۔ وہاںتنخواہیں تو زیادہ ہیں لیکن بنیادی ڈھانچہ بہت برا ہے ۔ اس نے یہ بھی کہا بہت سے سکولوں میں ٹائلٹ اور صاف پانی موجود نہیں ہے ۔ انہی وجوہات کی بنا پر میں وہاں کام نہیں کرنا چاہتی اور میرے سسرال والے بھی نہیں چاہتے۔[136]

نجی سکول میں معیار کی بابت تحفظات

ماہرین اور اساتذہ نے کم لاگت نجی سکولوں میں تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ ایک ماہر نے کہا میری اصل تشویش کم لاگت نجی سکولوں کے بارے میں یہ ہے کہ بچے یہاں چھ سے دس سال تک کا عرصہ گزارتے ہیں اور کچھ نہیں سیکھتے۔[137]

اساتذہ کی تربیت ، اہلیت ، اور تنخواہ

نجی سکول اساتذہ جہاں تک ممکن ہو سکے کم تنخواہ ادا کرتے ہیں تاکہ ان کا منافع زیادہ ہو جس کے لیے وہ ایسے اساتذہ کو ملازم رکھتے ہیں جن کی قابلیت کم ہوتی ہے۔

کمیونٹی کی بنیاد پر تنظیم کے سربراہ نے HRWکو بتایا کہ نجی سکولوں میں اساتذہ کو بہت تھوڑی تنخواہ دی جاتی ہے ، اس نے بتایا جہاں اس کی تنظیم کام کرتی ہے نجی سکولوں کے اساتذہ کو 1500سے 5000روپے (18-29امریکی ڈالر)ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے جبکہ حکومت کی طرف کم از کم معاوضہ سرکاری اساتذہ 15000روپے ( 143امریکی ڈالر ) ماہانہ ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ اس تنخواہ کا 1/5یا 1/10حصہ وصول کرتے ہیں ۔ نجی سکولوں میں اساتذہ کو پڑھانے کے لیے میٹرک کرنا ضروری ہے اور زیادہ تر اساتذہ خواتین ہوتی ہیں۔[138]

بلوچستان کی ایک سرکاری ٹیچر نے اپنی شرائط ملازمت کا تقابل کرتے ہوئے بیان کیا اس کی تنخواہ 18000روپے (171امریکی ڈالر ) ماہانہ ہے جس میں سالانہ اضافہ ۔پنشن اور صحت کی مراعات سالانہ اور میٹرنٹی چھٹی اور سالانہ ٹریننگ بھی شامل ہے اس کے مقابلے میں نجی سکولوں کے اساتذہ کی تنخواہیں 4000سے 5000روپے ماہوار جو (38-48امریکی ڈالر ) ہوتی ہیں ۔[139] اس کے بعد کوئی دیگر مراعات شامل نہیں ہیں ۔ ایک سرکاری سکول کے ہیڈ ماسٹر نے بتایا کہ نجی سکولوں میں عمارت اور سہولیات بہتر ہوتی ہیں ۔ لیکن وہ وہاں کم تنخواہ اور مراعات کم ہونے کی وجہ سے کام نہیں کرے گا۔[140]

ماہرین نے بتایا کہ ملازمت کے حالات NGOسکول میں بھی ایسے ہی ہیں ۔20طلبا کے لیے ایک کمرے میں ایک اساتد ہوتا ہے اس کی تنخواہ تقریباً5000روپے (48ڈالر ) ماہانہ ہوتی ہے سکولوں میں اساتذہ کو ٹریننگ دینا چاہئے اور تنخواہیں زیادہ ہونا چاہئیں۔[141]

نجی تعلیمی اداروں میں سرکاری قواعد و ضوابط کی کمی

NGOکے سربراہ نے بتایا نجی سکولوں کے لیے پابندی ہے کہ وہ اپنے آپ کو رجسٹرڈ کروائیں اور متعلقہ حکومتی ادارے سے سرٹیفیکٹ حاصل کریں ۔ لیکن رجسٹریشن کرانے کے طریقہ کار اور بعد میں کوئی نگرانی نہیں کی جاتی ۔[142]ان کو حکومت رجسٹرڈتو کرتی ہے لیکن ان کا کوئی معیار نہیں ہوتا ۔ایک ماہر تعلیم نے بتایا بعض حکومتی اہلکار خود بھی نجی اداروں کو چلاتے ہیں اور ان کے مالک ہونے کی حیثیت سے سیاستدانوں کے ذریعے حکومتی قواعد وضوابط کے راستے میںرکاوٹ بنتے ہیں تاکہ ان کے منافع میںکمی نہ ہو۔[143]نے بیان کیا معائنہ ٹیم آتی ہے لیکن وہ اپنا کام اچھے طریقے سے نہیں کرتے ۔[144]ایک اور نجی سکول کے پرنسپل نے کہا کہ وہ بغیر بتائے آتے ہیں ۔ وہ آدھے گھنٹے کے لیے آتے ہیں ۔ وہ چائے پیتے ہیں اور خاطر تواضع کرواتے ہیں اگر آپ انہیں خوش نہیں کریں گے تو وہ کہیں گے کہ آپ کا سکول اچھا نہیں ہے ، اس نے مزید کہا کہ ایک دفعہ ایک انسپکٹر کو اس کے سکول میں انتظار کرنا پڑا ۔ جس پر وہ غصے سے پاگل ہو گیا اور یہ کہتے ہوئے سکول سے چلا گیا کہ میں تمہیں بری رپورٹ دوں گا ۔ میرے ساتھی اساتذہ اس کے گھر گئے اور اسے 25000روپے (238امریکی ڈالر ) بننتے ہیں دیئے اور اچھی رپورٹ حاصل کی۔[145]

پرائیویٹ سکول اپنے نصاب کا انتخاب کرنے میں خود مختار میں جبکہ کچھ سرکاری سکولوں کا نصاب لاگو کرتے ہیں ایک پرائیویٹ سکول کے ہیڈ ماسٹر نے کہا ہم اپنا نصاب خود سیٹ کرتے ہیں کوئی ہمیں بتانے والا نہیں ہوتا ۔[146]ایک NGOکے سربراہ نے کہا تنبیہہ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا کہ ہم کون سا نصاب لاگو کررہے ہیں۔[147]چھٹی جماعت کے بعد بچوں نے سرکاری بورڈ کا امتحان دینا ہوتا ہے اس لیے پھر سرکاری نصاب کو استعمال کرتے ہیں۔[148]

اگرچہ پرائیویٹ سکول غیرمنظم ہوتے ہیں ۔ ان کے اندر سکیورٹی اساتذہ کی قابلیت ، اہلیت اور کوالٹی ڈرامائی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور سستے پرائیویٹ سکولوں میںناقص سہولیات میسر ہوتی ہیں۔

وہاں پر پرائیویٹ ٹیوشن سنٹر کی ایک دنیا آباد ہے جو بچوں کو ٹیوشن کی اضافی سہولت مہیا کرتی ہے ۔ لیکن کبھی کبھارسکول نہ جانے والے بچوں کے لیے آخری سہولت ہوتی ہے ۔ ٹیوشن عام طور پر کوئی خاتون یا لڑکی اپنے گھر پر پڑھاتی ہے ۔لیکن کچھ ٹیوٹر کو مخیر حضرات حضرات متحرک کرتے ہیں باقی ٹیوٹر تو اسے صرف کاروبارہی سمجھتے ہیں ایسی پرائیوٹ ٹیوشن کے ادارے مکمل طور پر غیر منظم ہوتے ہیں ۔پرائیویٹ سکول بچوں کو بڑے سکولوں میں جانے اور اچھی کو الیفکیشن حاصل کرنے کے لیے عبوری راستے کا کردار ادا نہیں کرتے ان پڑھ والدین ان اداروں کے اساتذہ کی مبالعہ آمیزی اور بڑے دعویٰ جات سے ضرور پذیر ہوتے ہیں۔

کیونکہ تعلیم ایک ایسا مطالعہ ہے جو اپنا ہدف پورا نہ کر سکا ہے اور شعبے میں اتنی بد نظمی ہے کہ نئے سکول کو قائم پڑھی لکھی خواتین اورلڑکیوں کا کاروبار بن چکا ہے ، گل رخ سے جس نے اپنا سکول آٹھویں جماعت کے بعد چھوڑ دیا تھا ۔ اپنا ٹیوشن سنٹر چلا رہی ہے ۔’ میں ایک بچے سے 50روپے (48امریکی ڈالر) ماہانہ وصول کرتی ہوں اور میرے پاس پانچ یا چھ بچے آتے ہیں ۔‘‘ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ ان کے ہوم ورک میں ان کی مدد کرتی ہے اور اردو  کے حروف تہجی انہیں پڑھاتی ہے۔[149]

12

سالہ بسمہ سرکاری سکول دوسری یا تیسری جماعت میں چھوڑ دیا تھا کیونکہ اساتذہ کا رویہ ناروا اور پر تشدد تھا ۔ پرائیویٹ سکول میں داخل ہو گئی پانچویں جماعت کے بعد وہ بھی چھوڑ دیا کیونک ہاس کے گھر والے فیس دینے کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے ۔ انٹرویو کے وقت پرائیویٹ وہ ایک ٹیوشن سنٹر جا رہی تھی جہاں وہ 500روپے (4.76امریکی ڈالر ) ماہانہ ادا کر رہی تھی اور 8سے 11بجے پڑھ رہی تھی ، بسمہ کی ماں کپڑوں کی سلائی کا کام کرتی تھی اور وہ چاہتی تھی کہ اس کی بیٹی ڈاکٹر بنے۔[150]

30سالہ رخسانہ اور اس کی بڑی 17سالہ  بیٹی نے کبھی نہیں پڑھا تھا او وہ دونوں ماں بیٹی گھروں میں کام کرتی تھیں وہ کام کی تلاشی میںپنجاب سے کراچی منتقل ہو گئی تھیں ۔گائوں میں مقامی سکول 1000(52.9امریکی ڈالر ) ماہانہ وصول کرتے تھے ۔ جو خرچہ وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے اس لیے رخسانہ کے تین بچوں نےسکول نہ پڑھا۔ رخسانہ نے ایک خاتون کے ذریعے ٹیوشن سنٹر والوں سے رابطہ کیا ۔ ہاں کی خاتون نے کہا کہ بچوں کو بھیج دے وہ 11سے1بجے تک پڑھا دے گی ۔ رخسانہ اپنے سات سالہ بٹے کو بھیجنے کا فیصلہ کرلیا پہلی دفعہ اس کے بچوں میں کوئی پڑھنے گیا ماہانہ فیس 500 روپے (76.4ڈالر) تھی لیکن وہ پڑھائی کے معیار کے بارے میں فکر مند ہے ۔ کبھی کبھا ر استانی کلاس کینسل بھی کردیتی ہے۔[151]

جسمانی سزائیں اور اساتذہ کا نارواسلوک

جسمانی سزائوں اور اساتذہ کا ناروا سلوک وسیع پیمانے پر عام ہے ۔ یہ سرکاری سکولوں میں بہت بڑامسئلہ ہے جبکہ یہ پرائیویٹ سکولوں میں بھی ہوتا ہے ۔ 17سالہ حکیمہ نے بتایا کہ اس کے سرکاری پرائمری سکول میں ٹیچر نے ’’ مجھے جس ڈنڈے سے مارا وہ ڈنڈا ہی ٹوٹ گیا ‘‘ اور وہ ہمیں مرغا بننے کے لیے بھی کہتے تھے ۔ اس کی بہن عاطفہ نے بتایا کہ آپ اپنے بازئوں کو گھٹنوں کے نیچے رکھنے اور اپنے ہاتھ گالوں پر اس پوزیشن کو مرغا بننا کہتے ہیں اور آپ اس پوزیشن میںآدھا گھنٹا بیٹھتے حکمیہ نے مزید بتایا کہ ہمیں ہفتے میں تین سے چار بار پیٹا جاتا تھا اگر ہم سکول تھوڑی دیر لیٹ ہو جائیں تو تب بھی پیٹاجاتا تھا۔[152]

جسمانی سزائیں بچوں کو سکول سے بھگا دیتی ہیں ۔ گیارہسالہ صومیہ جب وہ سرکاری سکول میںتیسری جماعت میں تھی ۔ اس کو سکول چھوڑنا پڑا ۔ میرے والدنے مجھے سکول چھوڑنے کا کہہ دیا تھا کیونکہ ٹیچر مجھے لوہے کے راڈ سے دونوں ہاتھوں پر مارتا تھا ۔ اس کی تقریباً ہرروز پٹائی ہوتی تھی جب بھی اس سے اپنے سبق میں کسی قسم کی غلطی ہو جاتی ۔ پہلی جماعت میں ایک اور استاد تھے جو بالکل ناراض نہیں ہوتے تھے ۔ لیکن دوسری جماعت میںاستاد بہت سخت تھے جو مارتے تھے ۔ صومیہ نے بتایا کہ ہر ایک کومار پڑتی تھی ۔ ان کا مزاج ایسا تھا وہ ہر بچے کو مارتے تھے ۔ پرنسپل کو اس بات کی خبر نہ تھی کیونکہ کوئی بھی ان کو نہیں بتاتا تھا ۔ اگر کوئی بتا دیتا تواسے بھی ٹیچر سے مار پڑتی ۔ صومیہ اب ایک مدرسے میں پڑھتی ہے لیکن بہت مایوس کیونکہ اس کے ڈاکٹر بننے کے خواب ختم ہو گئے کیونکہ اس نے سکول چھوڑ دیا ہے ۔[153]

اگرچہ پرائیویٹ سکول ٹیچرز دبائو میں ہوتے ہیں کہ وہ مالی مفاد کے تحت بچوں کو سکول سے نہ نکالیں ۔ لیکن اس کے باوجود وہ جسمانی سزائوں سے باز نہیںآتے ۔10یا 12سالہ عالیہ نے کہا کہ وہ جس سکول میں اس نے دوسری جماعت تک پڑھی تھی اساتذہ جسمانی سزائیں دیتے تھے ۔ وہ ہمیں مرغا بناتے تھے اور بال بھی نو چتے تھے ۔ میری ٹیچر مجھے ہر روز مارتی تھی۔[154]

16 سالہ شاہین نے بتایا کہ میری ٹیچر مجھے چھڑی کے ساتھ مارتی تھی وہ سرکاری اورنجی سکولوں میں پڑھتی رہی ہے ، اور دونوں جگہوں پراس کی پٹائی ہوتی تھی ۔ جب بھی طلبا میں لڑائی ہوتی تھی اسے مار پڑتی تھی جب پرنسپل نے اس کے بال کاٹنے کے لیے کہا تو اس نے احتجاج کیا ۔ اس نے دوسرے بچوں کا کلاس مس کرنے پر مار پٹائی ہوتی تھی ۔ ایک دفعہ اسے اپنی فیملی کے ساتھ کسی تہوار کے لیے جانا پڑا اور سکول مس ہو گیا اس کے بعد ڈر کے مارے وہ واپس نہ گئی۔[155]

NGOکے تحت چلنے والے سکولوںمیں بھی بچوں سے بد سلوکی کی شکایت کرتے ہیں ۔ 17 سالہ عاطفہ نے کہا کہ اس کا نو سالہ بھائی جس سکول کو مالی امداد یونیسف کی طرف سے ملتی تھی سکول چھوڑ گیا کیونکہ وہاں بھی ٹیچر اس کی پٹائی کرتے تھے ۔ وہ سکول جانا چاہتا ہے لیکن جب بھی وہ سکول جاتاہے اس کی پٹائی ہوتی ہے ۔[156]

کچھ اساتذہ بچوں سے اپنے ذاتی کام کاج کرواتے ہیں پندرہ سالہ نورنے اپنے گائوں کے سرکاری سکول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سکول نہیں جانا چاہتا کیونکہ اس کے استاد اس سے باہر کے کام کاج کرواتے ہیں ۔ میں صبح سکول جاتی ہوں میری ٹیچر مجھے گھر کے کام کاج کے لیے بھیج دیتی ہے ۔ حتیٰ کہ سکول کی چھٹیوں میں بھی کام کاج کرواتی ہیں ۔ ہم اپنی ٹیچر کے گھر جاتی ہیںجو کافی دور رہتی ہیں ہم اس کے لیے بازار سے خریداری کرتے ہیں اور پھر سکول جاتے ہیں ۔ نور نے کہا کہ ایک دفعہ اس نے اپنی ٹیچر کا کام کاج کرنے سے انکار کر دیا تو ٹیچر نے اسے تھپڑ مارا۔[157]

20سالہ آصفہ نے کہا کہ وہ اسے وقت 13/14سال کی تھی ۔ جب گائوں کے سرکاری سکول کی ٹیچر نے مجبور کیا کہ وہ ٹیچر کے گھر کی صفائی کرے ۔ طلبا کو مجبورکیا جاتا ہے کہ وہ اساتذہ کے کھیتوں میں بھی زرعی کام کرے ۔ کوئی بھی ان باتوں کی شکایت نہیں کر سکتا ۔ ایک بچے کے طور پر آپ سمجھ نہیں سکتے اور استاد آپ کو دھمکی دیتے ہیں اگر آپ نے گھر جا کر شکایت کی تو وہ اس بچے کو سکول سے نکال دیں گے ۔ گائوں کے لوگسوچتے ہیں بچوںکو سرکاری سکول بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اس بنا پر وہ بچوں کو سکول نہیں بھیجتے۔[158]

بارہ سالہ باسمہ نے سرکاری سکول میں ایک جھگڑے اور پڑھائی چھوڑ دی اساتذہ لڑائی کو نہیں روکتے کیونکہ وہ اپنے موبائل فون پر مصروف رہتے ہیں ۔سکول کے معائنہ کے دوران ٹیچر کا رویہ بہت اچھا ہوتا ہے لیکن جونہی انسپکٹر واپس جاتے ہیں اساتذہ اپنے اصل روپ میں واپس آجاتے ہیں ۔سکول میں کوئی نظم و ضبط نہیں تھا ۔ انکا بچوں کے والدین سے بھی بد تمیزانہ رویہ ہوتا ہے ۔[159] ایک ماں نے کہا کہ تمام بچوں سے ان کا سلوک ایسا ہی ہے ۔ اساتذہ بچوں کی بے عزتی کرتے ہیں مثلاً وہ کہیں گے کہ اس بچے کے ساتھ مت بیٹھو کیونکہ وہ ذہین نہیں ہے ۔[160]

جو بچے تعلیم کے میدان میں جدوجہد کرتے ہیں ۔ کئی دفعہ انہیں بد سلوکی کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اساتذہ ایسے طلبا کے راستے میں روکاوٹیں پیدا کرتے ہیں کیونکہ وہ انہیں پسند نہیں کرتے ہیں 15سالہ تمنا نے کہا جس نے 13 سال کی عمر میں سکول جانا چھوڑ دیا نے کہا کہ میری ٹیچر نے میری ماں کو بلوایا اور کہا کہ مجھے سکول سے اٹھا لیا جائے ۔ جس پر میری ماں نے مجھے سکول سے ہٹا لیا ۔ میری ٹیچر نے کہا کہ میں پڑھائی میں اچھی کار کردگی نہیں دکھا رہی حالانکہ میں 100 میں سے 90 نمبر لیتی تھی ۔ تمنا نے کہا کہ ٹیچر نے اس اور اس کی ایک دوست کو نشانہ بنایا جس پر ان دونوں کو سکول چھوڑنا پڑا ۔ تمنا کی والدہ نے پرنسپل سے شکایت کی لیکن پرنسپل نے بھی ٹیچر کا ساتھ دیا ۔ تمنا کا خیال ہے کہ اسے اس لیے بھی نشانہ بنایا گیا ۔ اس کا قدچھوڑا تھا ۔ ٹیچر ہمیشہ کہتی تھی کہ تمہیں چھوٹی جماعت میں ہونا چاہیے کیونکہ تم قد میں چھوٹی ہو۔[161]

بچے کئی دفعہ اس لیے شکایت نہیں کرتے کیونکہ وہ خوفزدہ ہوتے ہیں کہ ان کے والدین ان کو سکول سے ہٹا لیں گے ۔ 10سالہ عالیہ نے کہا کہ میری والدہ یہ کہتی تھی اگر میرے ٹیچر مجھے مار پیٹ کرتی ہے تو مجھے سکول چھوڑ دینا چاہیے۔[162]

15 سالہ نواز نے کہا کہ اس نے ٹیچر نے اسے محض اس لیے تھپڑ مار دیا کیونکہ اس نے ٹیچر کا کام کرنے سے انکار کر دیا جس میں ٹیچر کے خاندان کے لیے خریداری بھی شامل تھی ۔ اس نے اپنے والدین کوکہا کہ ٹیچر نے تھپڑ اس لیے مارا تھا کہ اس نے سکول کا کام نہیں کیا تھا ۔ اس نے جھوٹ اس لیے بولا تھا ۔ اگروہ والدین کو سچ بتا دیتی کہ سکول کے وقت میں وہ گھر کا کام کرتی ہے تووہ اسے سکول سے ہٹا لیتے ۔[163]

سرکاری سکول میں انتظامی رکاوٹیں

خاندانوں کو کبھی کبھی سکولوں میں بچوں کوداخل کروانے کے لیے انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میںپیدائشی سرٹیفیکٹ ، قومی شناختی کارڈ ، عم کی پابندیاںاور پچھلے سکول سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنا بھی شامل ہے ۔ ان رکاوٹوں کو عبور کرنا کئی دفعہ مشکل ہوتا ہے۔ خاص طور پر غریب خاندانوں کے لیے کیونکہ وہ اکثر ایک جگہ سے دوسری جگہ رہائش تبدیل کرتے رہتے ہیں اور وہاکثر نا خواندہ ہوتے ہیںاور انہیں اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ سکول میں داخلہ کی شرائط مختلف علاقوں میں واقع سکولوں میں مختلف ہوتی ہیں۔

45 سالہ ملائکہ نے کہا کہ کچھ سکولوں میں داخلہ کے لیے بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ کی لازمی شرط ہوتی ہے ۔ اس نے سرکاری سکول میں اپنے بڑے بچوں کو بغیر کسی سرٹیفکیٹ کے داخل کروایا ۔ لیکن جب چھوٹے بچے کو داخل کروانے گئی تو اس پیدائشی سرٹیفکیٹ کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس کے پاس سرٹیفکیٹ نہ تھا لہٰذا اس نے NGOکے ایک سکول جویونیسف کی مدد سے چلتا تھا اس میں داخل کروا دیا۔[164]

فرزانہ جس کی عمر 25 سے 30سال ہے اور وہ چھ بچوں کی ماں تھی ، وہ دوماہ قبل گائوں سے کراچی منتقل ہوئی اس کا پکا ارادہ تھا کہ وہ اپنے بچوں جو گائوں میںسرکاری سکول پڑھتے تھے ان کو کراچی میں سرکاری سکول میں داخل کروائے ۔ اسے بتایا گیا کہ برتھ سرٹیفکیٹ کے بغیر داخل نہیں ہو سکتے ۔ لہٰذا وہاب اس انتظار میں ہے کہ کب بچوں کا باپ پیدائشی سرٹیفکیٹ گائوں سے لے کر آئے ۔[165]دیگر سکولوںمیں قومی شناختی کارڈ پیش کرنے کی شرط ہے بارہ سالہ سلمیٰ کبھی سکول نہ جا سکی کیونکہ اس کے باپ کے پاس قومی شناختی کارڈ CNICنہ تھا ۔ اس کا مطلب تھا کہ اس کی بیٹی کو بھی  CNICنہ مل سکے گا ۔ سکول میںداخلہ کے لیے شناختی کارڈ ایک لازمی شرط ہے۔[166]

کچھ گروہ شناخت حاصل کرنے میں رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں ۔ گیارہ سالہ ثمرہ نے کہا کہ ہمارے علاقے میں قومی شناختی کارڈ نہیں ہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ پڑھ نہیں سکی۔[167]

ان کے ارد گرد میں زیادہ لوگ 1971 میں بنگلہ دیش سے ہجرت کر کے آتے ہیں اور انہیں شناختی کارڈ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ ثابت نہیں کر سکتے کہ وہ پاکستانی ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کے بچے سرکاری سکولوں میں نہیں پڑھ سکتے اور وہ لوگ ماہی گیری کی صنعت جو کہ عام پیشہ ہے میں بھی نہیں کام کر سکتے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خوف کی وجہ سے ان کی آمدورفت ، تعلیم حاصل کرنا اور زیادہ مشکل ہو جاتا ہے ۔ کئی دفعہ ان کے ہمسایہ یا پڑوسی میںرینجرمحض شناخت کے لیے حراست میں لے لیتی ہے ۔ ثمرہ کی والدہ نے بتایا۔[168]

20سالہ گل رخ نے آٹھویں جماعت تک پڑھائی جا ری رکھی لیکن اس کے بعد مزید نہ پڑھ سکی کیونکہ نویں اور دسویں جماعت کا امتحان دینے کے لیے (ب) فارم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے یہ فارم نہیں مل سکتا تھا کیونکہ اس کی والدہ کا قومی شناختی کارڈ  CNICبنا ہوا نہیں تھا ۔ اس کی والدہ1971 میںبنگلہ دیش سے پاکستان ہجرت کر کے آئی لیکناس نے اپنے شناختی کارڈ کے لیے مختلف جگہوں پرمختلف اوقات میںدرخواتیں دیں ۔ جس کی وجہ سے اسے بلیک لسٹ کردیا گیا ۔ اس کا والد بنگلہ دیش قبل ازیں پاکستان آیا تھا اوراس کے والدین نے اسے شناختی کارڈ جنگ سے قبل بنوا دیا تھا۔[169]

کچھ سکول پڑھائی کے لیے عمر کی پابندی لگاتے ہیں ۔ جس سے ان لڑکیوں کے راستے میںرکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں جو سکول جانا بڑی عمر میںشروع کرتی ہیں یا جن کی تعلیم میں خلل پڑتا ہے ۔ بہت سے بچے خاص طور پرلڑکیاں دیر سے سکول شروع کرتی ہیں وہ اس جماعت سے پیچھے رہ جاتی ہیں جہاں ان کو ہونا چاہیے پشاور کے ایک ٹیچرنے کہا کہ پندرہ یا سولہ سال کی لڑکیاں چھٹی جماعت میں داخل ہونا چاہتی ہیں۔[170]

14سالہ خدیجہ نے کہا کہ جب میںداخلہ لینا چاہتی تھی تو میں نے کوشش کی کہ پانچویں جماعت میں داخلہ لوں تو اساتذہ نے کہا اگر تیرہ سال عمر ہوتی تو میں داخلہ ے سکتی تھی۔ اس نے کہا عمر کا پڑھائی کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ اس کا تعلق قابلیت کے ساتھ ہونا چاہیے۔[171]

ایک نوجوان مرکزکے سربراہ نے HRWکے سربراہ کوبتا یا کہ ’’ اگر آپ 16سالہ سے زیادہ عمر کے ہو تو نویں اور دوسویں جماعت کے امتحان میںبیٹھنے کے لیے خاص اجازت لینا۔[172]

اس رپورٹ ے لیے انٹرویو کیے گئے اکثر غریب خاندان روز گار کی تلاش اور غیر محفوظ ریاستوں کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہیں ۔ انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے بھی سکول چھوڑنا پڑتا ہے ۔16سالہ سارہ نے پانچویں جماعت مکمل کرلی تھی جب اس کی فیملی خیبر پختونخوا سے کراچی منتقل ہوئی ۔ یہ خاندان عارضی طورپر ایک ایسے علاقے میں رہائش پذیر ہوا جہاں نزدیکہیایک سکول تھااور سارہ نے داخلے کی کوشش کی لیکن اسے انکار کر دیا اس بنا پر پچھلے سکول کا سرٹیفیکٹ نہیںتھا ۔ دوسرا سکول میں ابھی امتحانات ہورہے تھے ۔ اسے بعد میںداخلے کے لیے آنے کا کہہ دیا۔ اس سے قبل کے وہ سکول داخلے کے لیے دوبارہ جاتی  اس کا خاندان نے اپنی رہائش دوبارہ منتقل کر لی۔ سارہ کاکہنا تھا کہ دوبارہ رہاش منتقل کرنے کے بعد قریب کوئی سرکاری سکول نہیں تھا ۔ اس کاوالد نجی سکول کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔ نجی سکول کے اخراجات 350روپے (13امریکی ڈالر ) ماہانہ تھے ۔ سارہ کا والد کپڑوں کی ایک فیکٹری میں گارڈ کے طور پر کام کرتا تھا۔[173]

 

سکول کے نظام کے باہر لڑکیوں کی تعلیم  میں رکاوٹیں

غربت، گھریلو کام کاج ، پردہ
20سالہ گل رخ نے اپنے ہمسائے میں لڑکیوں کے سکول جانے کی وجوہات بیان کی ہیں ۔
جولائی 2017 کراچی

غربت ۔ چائلڈ لیبر ، جنسی امتیاز اور نقصان دہ سماجی رویے سکول جانے کے راستے میں خطرات لڑکیوں میں رکاوٹیں بنتی ہیں اکثر اخراجات اتنے غریب ہوتے ہیں کہ وہ سرکاری سکولوں کے ساتھ منسلک دیگر اخراجات کوبرداشت نہیں کر سکتے ۔ نجی سکولوں کے اخراجات ادا کرنا تودورکی بات غربت کی وجہ سے اکثر خاندان بچوںکوکام پر لگانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ سکول نہیں جا سکتے۔

دیگرلڑکیوں کو گھروں میں کام کاج کے لیے رکھا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ لڑکیوں کی نقل وحرکت پر پابندیاں جنسی امتیاز کی وجہ سے لگائی جاتی ہیں اس بنا پر وہ سکول نہیں جا پاتی ۔ اسی طرح ایک وجہ کم عمری کی شادی ہے ۔ وہ خاندان جن کے وسائل کم ہوتے ہیں ۔ وہ صرف بیٹیوں کو تعلیم دلواتے ہیں اور بیٹیاں تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔

غیر محفوظ ماحول جہاں لڑکیوں کوجنسی طورپر ہراساں کرنا عام ہے ۔ اغوا اوردیگرجرائم کے خوف سے بھی ، تعلیمی اداروں پر حملوں کے ڈر سے کئی والدین اپنی بچیوں کو سکول نہیں بھیجتے جہاں انہیں پیدل دور افتادہ جانا پڑتا ہے ۔ بلوچستان میں ایک سرکاری سکول کے ٹیچر نے ان چیلنجز کو بیانکرتے ہوئے کہا کہ شروع میں داخل ہونے والی لڑکیوںکی تعداد کافی زیادہ ہوتی ہے ، لیکن آہستہ آہستہ وہ سکول چھوڑ جاتی ہیں ۔ بانچویں جماعت میںصرف چار لڑکیاں رہ گئیں۔[174]

غربت

سالہ ندا نے کہا ہم سکول نہیں جاتے کیونکہ ہم غریب ہیں ‘‘
ندا کراچی 2017ئ

’ ’ہمارے پاس جو بھی رقم ہوتی ہم اس سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں ‘‘28 سالہ عاکفہ جو کہ 3 سکول نہ جانے والے بچوں کی ماں ہے

عاکفہ کراچی2017

اٹھارہ سالہ عقیبہ نے کہا کہ تعلیم کے راستے کی بنیادی رکاوٹ مالی حالات ہیں ہمارے علاقے میں آدھی لڑکیاں سکول جاتی ہیں اور آدھی نہیں ۔ عقیبہ نے خود لاہورمیں بارہ سال کی عمر میں سکول چھوڑ دیا ۔ جو لوگ سکول نہیں جاتے اس کی بڑی وجہ مالی ہے کہ وہ سکول کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے ۔[175]

’’ اگر غربت نہ ہو تو والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں ‘‘ مریم جوکہ کراچی کے ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھاتی تھی اب اپنے گھر میں ایک ٹیوشن مرکز چلا رہی ہے۔[176]

44سالہ پاریزہ جو8بچوں کی ماں ہے ۔ نے کہا کہ وہ گھر کی واحد روزی روٹی کمانےوالی ہے کیونکہ اس کے بچے بڑے بچے دسویں بارہویں جماعت تک پڑھے ہوتے ہیں ۔اسکی چھوٹی بیٹی کوپانچویں جماعت سے سکول چھڑوانا پڑا ۔ کیونکہ میں اکیلی کمانے والی تھی ۔ میں ملبوسات کی ایک فیکٹری میں کام کرتی تھی ۔ میری بیٹی کھانا پکانے کا کام کرتی تھی ۔ ہمارا خاندان گائوں سے لاہور منتقل ہوگیا کیونکہ لاہور میں گائوں کی نسبت انہیں گھر کا کرایہ ادا کرنا پڑتا تھا اور پارلیزہ کو بجلی کا بل تین ہزار روپے(286 امریکی ڈالر ) وصول ہوا پارلیزہ کا کہنا ہے کہ میں کبھی سکول نہیں گئی لیکن تعلیم کی اہمیت کو سمجھتی ہوں ، مزید بتایا کہ اس کی مالی مشکلات بہت زیادہ ہیں اس نے مزید کہا کہ غریب لوگوں کے لیے پاکستان میں بہتری کی کوئی امید نہیں اورنہ ہی اسے کوئی امید کی کوئی کرن نظر آتی ہے۔[177]

38سالہ حلیمہ نے جوپانچ بیٹیوں کی ماںہے نے کہا کہ وہ اپنی بیٹوں کو تعلیم دلوانا چاہتی تھی لیکن غربت کی وجہ سے سدا ایسا نہ کر سکی ان کی عمریں 13سے19 کے درمیان ہے ۔ کوئی بھی پہل یا دوسری جماعت سے آگے نہ پڑھ سکیں ۔ اس کا خاوند ایک چیوگم فیکٹری میں کام کرتا ہے ۔ اس کی تنخواہ بارہ ہزار (1114 امریکی ڈالر) کے برابرہے یہ مہینے پیسے ختم ہوجاتے ہیں اور ہمیں سمجھ نہیں آتی کے کیا کریں ۔ میں ایک ایسا سکول  چاہتی ہوں جو صرف غریب خاندانوں کے لیے ہو۔[178]

بد قسمتی ، فصل کا نہ ہونا ، بیماری اورموت ایسی وجوہات میںجو آسانی سےتعلیم کوآپ کی پہنچ سے دور لے جاتی ہیں ، مسکان ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ اس کا والد ایک راج مزدور تھا ۔ مسجد کی عمارت بناتے ہوئے گرا اورفوت ہوگیا ۔ اس کی والدہ نے تین بیٹیوں اور سات بیٹیوں کو مدد کرنے کے لیے بہت محنت کی خاندان میں ایک رشتے دار جو مالی طورپر مدد کرتے ہیں ۔ لڑکیوں کی پڑھائی میں مدد کرنے سے انکار کر دیا اور کہا لڑکیوں کو صرف کھانا پکانا اور گھریلو کا م کرنا چاہیے۔[179]

بیس سالہ تلوین نے بتایا کہ باپ کے انتقال کے بعد وہ اکلوتی کمانے والی تھی ۔ وہ اور اس کے دو بہن بھائی نجی سکول میںپڑھتے تھے ان کی فیس 1800۔1900 روپے ماہانہ (17-18امریکی ڈالر ) تھی ، باپ کی وفات سے پہلے تلوین کاشمار سکول میںپہلے تین بچوں میں ہوتا تھا ۔ اس کا باپ سرکاری واٹر بورڈ میں ملازمتکرتا تھا۔اس کی وفات کے بعد تلوین کو آٹھویں جماعت میں ہی تعلیم چھوڑنا پڑی۔ اس نے بیوٹیشن کے طور پر تربیت حاصل کی اور خاندان کے واحد کفیل کے طرو پر کام شروع کر دیا ۔ جب تک میرا باپ زندہ تھا وہ ہرچیز کا خیال رکھتا تھا۔لیکن اب کیونکہ وہ اس دنیا میں نہیں ہے تو مجھے تمام چیزوں اور گھریلو اخراجات کاخیال رکھنا پڑتا ہے ۔تلوین کی والدہ معذورہے اورکوئی کام نہیں کر سکتی کہا کہ والدین کے پاس اتنا کچھ ہونا چاہی کہ ان کی بیٹیاں تعلیم حاصل کرسکیں۔[180]

جونہی بچے بڑے ہوتے ہیں تو انہیں اپنی سکول کی فیس خود ادا کرنا پڑتی ہیں ۔ اگر وہ اپنی تعلیم کو جاری رکھنا چاہتے ہیں ، سولہ سالہ عاصمہ کاایک بھائی ہے ۔ جس کی عمر 18 سالہے جو کام کرتا ہے اور اپنی سکول کی فیس بھی ادا کرتا ہے ۔ عاصمہ نے دسویں جماعت مکمل کی ہے اور وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے ۔ اس کے باپ نے کہا وہ جتنا چاہیے پڑھ سکتی ہے لیکن اپنے اخراجات خود اٹھائے ۔ لڑکیوں کے لیے ملازمت کا حصول مشکل ہے اس کی بڑی وجہ ناروا سماجی اقدار ۔ جنسی امتیازات اور ان کے گھومنے پھرنے کی آزادی کے راستے میں رکاوٹیں ہیں ۔ عاصمہ کے والد کا کہنا تھا کہ وہ اسے صرف اس سکول میں رلینٹ کے طور پر کام کرنے کی اجازت دے سکتا ہے ۔ جہاں وہ خود پڑھتی ہے ، عاصمہ نے کہا کہ وہ خود پڑھنا چاہتی ہے لیکن معاشی حالات اس کے راستے کی رکاوٹیں ہیں۔[181]

مستقبل میںروز گار کے مواقع کی کمی بھی لڑکیوں کی تعلیم میں حوصلہ شکنی کرتے ہیں 14سالہ بشریٰ کی والدہ عائشہ نے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کو تعلیم دلوانا چاہتے ہیں ۔ لیکن لڑکوںکو بھی کالج کی تعلیم کے بعد ملازمت نہیں ملتی اور ہم غریب لوگوں میں لہٰذااس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اس نے مزید کہا جب لڑکوں کو ملازمت نہیں ملتی تو لڑکیاں کیسے ملازمت حاصل کر یں گی۔ اس نے کہا کہ اس کے ہمسائے میں دولڑکیاں دسویں جماعت تک پڑھی ہوتی ہیں دونوں کو ابھی تک ملازمت نہیں ملی۔

بہت سے غریب خاندان اپنی بقا کی حکمت عملی کے طورپر دیہاتی علاقوں سے شہری علاقوں کی طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں ۔ دیہاتی علاقوں میں رہنے والے کئی دفعہ شہروں کارخ کرتے ہیںوہاں ملازمتوں کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں ۔ شہروں میں بسنے والے اکثر خاندان اپنےدیہات کی طرف واپس لوٹ جاتے ہیں ۔ وہاں ان کی جڑیں ہیں روایات ہیں شادی اور فوتگی کی رسومات وغیرہ وغیرہ ۔ اس سے واپس جانے والے عمل سے بچوں کی پڑھائی میں خلل پڑتا ہے خاص طور پر لڑکیوں کی۔[182]

پندرہ سالہ نور نے کہا کہ اس آنے جانے کے چکر میںمیرا سکول بھی دیر سے شروع ہوا ۔ اس کا خاندان بھی دو تین سال بعد اس کے آبائی گائوں اور کراچی نقل مکانی کرتا رہا تھا ۔ نور نے کہا کہ اس کا خاندان اکثر نقل مکانی اس لیے کرتا ہے کہ کام کی تلاشی میں بار بار شہر آنا پڑتا ہے ۔ اس والدین شہرمیں گھروں کو رنگ کرتا ہے ۔ اس کی والدہ گھروں کا کام کرتی ہے ۔ نور نے مزید کہا اس نے 3،10،13 سال کی عمر میں سکول جانا شروع کیا وہ صرف دوسری جماعت میں پہنچ پائی کیونکہ اسکی تعلیم میں بار بار خلل پڑتا تھا 14سال کی عمر جب اس کا خاندان دوبارہ کراچی منتقل ہوا تو اس نے تعلیم کو خیر باد کہہ دیا۔[183]

جوخاندان دو مقامات کے درمیان نقل مکانی کرتے رہتے ہیں وہ کسی ایک مقام پر سکول میں داخلہ لے سکتے ہیں ۔ لیکن دوسری جگہ نہیں ۔

15 سالہ شہربانونے پانچویں جماعت ختم کی وہ اپنی عمر کے لحاظ سے پڑھائی میں پیچھے تھی کیونکہ اسے کئی سالوں کے لیے تعلیم چھوڑنا پڑی جب وہ کراچی سے واپس گئے ۔ جب اس کا خاندان دو تین سالوں کے لیے پنجاب گیا تو اس نے بالکل نہیں پڑھا تھا ۔ اس نے مزید کہا کہ انہیں پنجاب میں سکولوں کے متعلق پوری آگاہی نہیں تھی۔[184]

جو بچے بدلتے رہتے ہیں انہیں کئی دفعہ دوبارہ وہی جماعت پڑھنا پڑتی ہے ۔14 سالہ رانیہ اور اس کاخاندان کراچی اور اس کے آبائی گائوں میں کئی دفعہ نقل مکانی کی کیونکہ ان کوکراچی روز گار کے سلسلہ میں آنا پڑتا تھا ۔ خاندانی غم و خوشی کے موقع پر واپس گائوں جانا پڑتا تھا ۔ اس نے اپنی پہلی جماعت کاچی میں مکمل کی ۔ جب اس کا خاندان واپس گائوں گیا تو پھر سے وہی جماعت پڑھنا پڑھی۔ اس کے بعد HRW کے ساتھ رانیہ کے انٹرویو سے ایک سال قبل یہ خاندان کراچی واپس آگیا تھا ۔ لیکن اس بار رانیہ سکول واپس نہ گئی ۔ کیونکہ خاندان سمجھاتا تھا کہ کراچی میں ان کا قیام عارضی ہے اور گھروں کے کرایے بھی کافی زیادہ ہے ۔ جس سے تعلیمی اخراجات کے لیے رقم نہیں بچتی تھی ۔ اسے امید تھی کہ گائوںواپس جا کروہ دوسری جماعت میں شامل ہو جائے گی۔[185]

چائلڈ لیبر

بہت سے بچے ، لڑکیاںاور لڑکے اس لیے سکول نہیں جاتے کیونکہ وہ کام کر رہے ہیں ۔ کئی دفعہانہیں اس کام کا معاوضہ بھی دیا جاتا ہے ۔ لڑکیاں عام طور پر گھریلو صنعتکاری مثلاً سینا پرونا ۔ کڑھائی کرنا یا مختلف چیزوں کو اکٹھا کرکے جوڑنے کا کام کرتے ہیں ۔ دوسرے بچے عام طور پر لڑکیاں گھریلو کام کاج کرتی ہیں۔

کچھ NGOایسے سکول چلاتی ہیں جس میں کام کرنے والے بچوں کی سہولت کو مد نظررکھا جاتا ہے۔انہیں کتابیں مفت مہیا کی جاتی ہیں اور مفت کھانا بھی طلباکودیا جاتا ہے، ایک NGOکے کارکن نے کہا کہ انہوںنے حکومت کوایسی سفارشات کی ہیں کہ کچھ بچوں کے لیے سکول میں شفٹ 5بجے شام سے رات نو بجے تک رکھی جائے تاکہ جو بچے اس سے پہلے نہیںآ سکتے پڑھائی کر سکیں ۔ اس کا کہنا تھا کہ بچوں اوران کے والدین تک یہ پیغام پہنچایا جائے کہ کام اور تعلیم اکٹھے کرنا بھی ممکن ہے۔[186]

گھروں میں کام کرنا

’’ میری ماں کو اس وقت کام پر جانا پڑتا تھا جب میرے بہن بھائی بہت چھوٹے تھے ‘‘ جولائی 2017ء18 سالہ تسلیمہ نے بتایا کہ اس نے دوسری جماعت میں سکول کیوں چھوڑا۔

گھریلو کام کاج کے دبائو کی وجہ سے کئی لڑکیاں سکول چھوڑ دیت ہیں خاص طور پراس وقت جب ان کی مائیں گھر سے باہرکام کرتی ہیں ۔16 سالہ باسومہ نے بتایا کہ میں اکیلی ہی ہوں جو گھروں کا سارا کام کاج کرتی ہیں اس کے والد کی دو بیویاں ہیں جو مختلف گھروں میںملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں اس لیے باسومہ کوگھرکی دیکھ بھال اور کام کرنا پڑتا ہے۔باسومہ کے تین بہن بھائی ہیں جو سب سکول جاتے ہیں وہ خود بھی پڑھنا چاہتی تھی لیکن اس کو بتایا گیا کہ گھر کے کام کاج کے لیے اس کی ضرورت ہے۔[187]

سولہ سالہ ازوا نے کہاکہ اس کی بڑی بہن اٹھارہ سال کی ہے جب وہ چھوٹی تھیں ۔ سکول جاتی تھیں اب ان کی ماں اس لیے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہے ۔ازوا کی بڑی بہن کی شادی گیارہ سال کی عمر میں ہو گئی ازوا نے 10سال کی عمر میں سکول چھوڑ دیا اور گھر کا کام شروع کردیا۔اس کے خاندان میں اس کا باپ اور دو بھائی شامل ہیں ان کی دیکھ بھال والا گھر میں کوئی نہ تھا سوائے اس کے ۔[188]

اکثر خاندان میں ایک لڑکی کو گھریلو کام کاج کے لیے تعلیم کی قربانی دینا پڑتی ہے ۔ نادیہ اور اس کی بہن سحر گل کراچی میں ایک سکول پڑھتی تھیں اور سکول کے بعد گھریلو کام کاج کرتی تھیں ۔ نادیہ سترہ سال کی عمر میںنویں جماعت میں پڑھ رہی تھی ۔ گائوں میں ایک وفات پر انہیںجانا پڑا ۔ اس کی بہن سحر گل کو گائوں کا سکول پسند آیا ۔ اس کے والدین اس بات پر راضیہو گئے کہ وہ اپنے رشتے داروں کے پاس رہ کر گائوں میں پڑھائی کرسکتی تھی کراچی میں گھر کا کام کاج اکیلی نادیہ کے سپرد تھا ۔ نادیہ تعلیم اور گھر یلو کام کاج اکٹھے نہیں کر سکتی تھی۔ سحر گل نے بتایا جب وہ پنجاب میں ٹھہر گئی ۔ اس کی بہن نے سکول سے بہت سی چھٹیاں کی تاکہ گھریلو کام کاج کر سکے ۔ اس پر اسے سکول سے نکال دیا گیا ، ایک سال بعد سحر گل اپنی پڑھائی کوجاری رکھے ہوئے تھے ۔ امید رکھتی تھی کہ انجینئر بن جائے گی ۔ نادیہ کو والدین نے کڑھائی ،سلائی کے سکول بھیج دیا ۔ اس کے ساتھ وہ گھر کا کام بھی کرتی رہی۔[189]

سب سے بڑی بیٹی کو اکثر گھریلو کام کاج کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے ۔[190]16سالہ رابعہ اپنے باپ ، تین بھائی اور دوچھوٹی بہنوں کے ساتھ رہتی ہے ۔ اس کی والدہ کا انتقال گیارہ سال پہلے ہوا تھا ۔ اس کے تمام چھوٹے بہن بھائی سکول جاتے ہیں ، اس کے بڑے بھائی نے دسویں جماعت مکمل کی ہے ۔لیکن رابعہ نے چوتھی جماعتم یں سکول چھوڑ دیا تھا اور اس گھر کی دیکھ بھال کرنا ہوتی ہے ۔ اس کے والد کی صحت اچھی نہ ہے اسے چھوٹے بہن بھائیوں کاخیال رکھنا ہوتا ہے ۔[191]

13 سالہ آئنور پانچ بچوں میں سے سب سے بڑی ہے اس کی آٹھ سالہ بہن سکول جاتی ہے لیکن آئنور نے دوسری جماعت میں سکول چھوڑ دیا تھا ، اس نے مزید کہا کہ میں چھوٹے بہن بھائیوں کو کھانا دیتی ہوں جب میری ماں کام پر جاتی ہے ۔ اس نے کہا اسے یہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ میں سب سے بڑی ہوں۔[192]

جب بڑی بٹیوں کی شادی ہو جاتی ہے تو گھر کے کام کاج کی ذمہ داری چھوٹی بہن پر منتقلوہ جاتی ہے جس کے نتیجے میں اسے سکول چھوڑنا پڑتا ہے ۔ سترہ سالہ پروین نے کہا جب میری بہنوں کی شادی نہیں ہوئی تھی میں سکول جاتی تھی۔ پروین کی والدہ کی بینائی کمزور ہے اور صحت ک ےدیگرمسائل بھی ہیں جس میںزیابیطس وغیرہ شامل ہیں۔ پروین نے دس سال عمر سے تیرہ سال کی عمر تک سکول میںپڑھا ۔ وہ دوسری جماعت میں تھی ۔ جب اسے سکول سے ہٹا لیا گیا تاکہ وہ گھر کے کام کاج کر سکے ۔ اس کی بڑی بہنوں کی شادی 17 سے 18 سال کی عمر میں ہو گئی تھی ۔ اسے سکول چھوڑنااچھا نہیں لگا تھا ۔ اس کے باپ نے اسکا سکول جانا بند کردیا کیونکہگھر کے کام کاج کے لیے کوئی نہ تھا ۔ اس کی بڑی بہنیں بھی کچھ عرصہ کے لیے سکول گئی تھیں پھر چھوڑ دیا تھا ۔ اس کی روزانہ مصروفیات میں گھر کی صفائی کرنا ،کپڑے دھونا اور بھائیوں کے لیے کھانا بنانا شامل ہے۔[193]

معاوضہ والی مزدوری

میں پڑھا کرتی تھیں لیکن مجھے کام کرنا پڑا ۔ جس کے بعد میں گھر اتنا تھکا ہواآتی تھی کہ کچھ کھا کر سوجاتی تھی۔ گھرکی مالی صورتحال ایسی تھی کہ مجھے کام کرنا پڑتا تھا۔

23سالہ عزیزہ جو مصالحا جات کے کار خانے میں کام کرتی تھی جولائی 2017 کراچی

چائلڈ لیبرپاکستان میں وسیع پیمانے پر ہے اگرچہ اس کا اعداد و شمار بہت مشکل ہے ۔ انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق 10سے 14سال کی عمر کی درمیان کے 13 فیصد بچے ملازمت کرتے ہیں جبکہ یہ شرح پندرہ سے سترہ سال کے درمیان کے 13 فیصد بجے ملازمت کرتے ہیں جبکہ یہ شرح پندرہ سے سترہ سال کے درمیان 33 فیصد تک ہوجاتی ہے ۔[194]یو ایس لیبر ڈیپارٹمنٹ کاکہنا ہے کہ پنجاب میں 5سے 14 سال تک عمر کے 4.12فیصد بچے کام کرتے ہیں سندھ میں شرح 31.5 فیصد ہے[195] ایک NGO کے کارکن کا کہنا ہے کہ لاہور میں غریب علاقوں میںتقریباً70 فیصد بچے ملازمت کرتے ہیں ان میں زیادہ تربچے گھروں میں کام کرتے ہیں۔[196]

ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ حکومت کی طرف سے نقصاندہ چائلڈ لیبر کو ختم کرنے کی کوئی کوشش نہ کی گئی ہے ۔ مزدوروں کے حقوق کے ماہر نے کہا ہے کہ غربت تھوڑا کم ہوئی ہے لیکن چائلڈ لیبر میں کمی دیکھنے میں نہ آئی حکومت بچوں سے مشقت لینے کے قوانین پر کوئی عملدرآمد نہ کررہی ہے ۔ مثال کہ طور پر حکومت نے چودہ سال سے کم عمر کے بچوں کے بھٹہ خشت پر کام کرنے پر پابند ی عائد کی ہوئی ہے لیکن حکومت نے والدین کی آمدنی میں اضافے کے لیے کوئی قدم نہ اٹھایا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بچے بھٹوں پر کام کرنے کے بجائے دوسرے شعبوںمیں کام کرنے لگے ۔ جہاں وہ زیادہ غیر محفوظ ہیں کیونکہ وہاپنے والدین سے الگ تھلگ کام کرتے ہیں حکومتی اقدامات کا کوئی فائدہ نہیں ہے مسئلہ کااصل حل یہ ہے کہ غربت کو ختم کیا جائے اور لبر قوانین پر عملدرآمد کرایا جائے خاص طور پر کم از کم اجرت جو کہ پہلے ہی بہت کم ہے ۔ کم از کم اجرت اتنی ہونی چاہیے کہجس میں لوگ گزارا کر سکیں ۔ چائلڈ لیبر پر پابندی حکومت کی ترجیحی نہ ہے اور جب بھی اس طرف کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو وہ بین الاقوامی دبائو کی وجہ سے ۔[197]

اس رپورٹ کے لیے بہت سے بچوں کا انٹرویو کیا گیا ۔ جس میںگھریلو صنعتکاری جسے سلائی ، کڑھائی ،زیور بنانا ، فرنیچر بنانا، موتی پرونا اور گھروں میں گھریلو ملازمین کے طورپر اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنا اور ماہی گیری وغیرہ شامل اور یہ بچے سکول نہیں جاتے ۔ جوبچے سکول نہیں جاتے وہ کسی نہ کسی معاشی سرگرمی میں مصروف ہوتے ہیں ۔ کیونکہ وہ کام کرتے ہیں اسی لیے ان کے پاس پڑھنے کا ٹائم نہیں ہوتا۔[198]

کراچی کے ایک غریب علاقے میں قائم سکول کے ہیڈ ماسٹر نے کہا کہ غریب خاندانوں میں دونوں والدین کام کرتے ہیں اور ان کے چار سے پانچ بچے ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں چائلڈ لیبر عام ہے لیکن غریب علاقوںمیں یہ زیادہ پائی جاتی ہے ۔ بچے عام طور سے آٹھ سے دس سال کی عمر میں کام کر کے اپنے والدین کے حوالے کرتا ہے کیونکہ ان کو اس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگرحکومت غریب خاندانوں کی مدد کرے تو بچے سکول جا سکتے ہیں۔[199]

گھریلو صنعتوں کا زیادہ انحصار چائلڈ لیبر پر ہے خاص طور پر لڑکیوں پر ہے ۔ یہ بہت بڑے پیمانے پر پوشیدہ اورغیر منظم ہے ۔ یہ پرائیویٹ طریقے پر ہوتی ہی اورجگہ جگہ ہوتی ہیں اورکوئی فکس گھنٹے مقرر نہیں ہوتے عام طور پر بچے اپنے ماں باپ کے ساتھ کام کرتے ہیں جب وہ گھروں میںملازمت کر رہے ہوتے ہیں ۔ ایک NGO کے کارکن نے کہا ’’ ایک گھر میں تمام والدین اوربچے کام کرتے ہیں۔‘‘[200]

لیبر حقوق کے ماہر نے HRWکو بتایا ’’ 75 فصد سے زیاہ کارکن غیررسمی معیشت میں کام کرتے ہیں ۔‘‘ گھریلو صنعت کاری پاکستان میں سب سے بڑا شعبہ ہے ۔ فیکٹریوں میں لیبر قوانین کانفاذ کافی کمزورہے اورصنعتی پیدا وار بڑی فیکٹریوں سے چھوٹی فیکٹریوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔ زیادہ سے زیادہ چیزیں گھروں میں بنائی جا رہی ہیں ۔ اس کی بڑی وجہ لاگت کی بچت اور لیبر قوانین سے بچنا بھی ہے ۔ گھریلو کارکنوں پر لیبر قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا اورگھریلو کارکنوں میںزیادہ لڑکیاں اور ان کی مائیں عام طور پر کام کرتی ہیں۔[201]

کچھ علاقوں میں کام کرنے کی وجہ سے لڑکیوں کی نسبت لڑکوں کی تعلیم زیادہ متاثر ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر ماہی گیروں کی برادری میں ایک آدمی نے بتایا کہ لڑکیاں لڑکوں کی نسبت زیادہ تعلیم حاصل کرتی ہیں کیونکہ لڑکے جن کی عمر بارہ یا تیرہ سال ہوتی ہے یا اس سے بھی کم ۔ ماہی گیری کی کشتیوں پر اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتے ہیں اور سمندر میں دن کا زیادہ حصہ گزارنے کی وجہ سے سکول باقاعدگی کے ساتھ نہیں جا سکتے ۔[202]

کچھ بچے کام اور سکول کو بیک وقت منظم کر سکتے ہیں ۔ [203]لیکن اکثر کوتعلیم چھوڑنا پڑتی ہے تاکہ وہ کام کر سکیں ۔ سکول کے داخلہ میںرکاوٹیں اور تعلیم کے معیارکے بارے میں تحفظات غریب والدین کو بچوںکو تعلیم کی بجائے کام پر لگانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ایک ٹیچر نے بتایا کہ والدین اپنے بچوں کو چھوٹی عمرمیں کام پر لگا دیتے ہیں تعلیم کے برے معیار کی وجہ سے سکول بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اس نے یہ بھی بتایا گھروں میں کام کرنے والی ملازمائیں اکثر اپنی بیٹیوںکو بھی اپنے ساتھ کام پر لے جاتی ہیں تاکہ ان کو چھوٹی عمر سے ہی زائد کام کرنے کی مثلاً مہمانداری وغیرہ عادت ہو جائے ۔[204]

13سالہ سمیکا نے بتایا کہ اس گھر کے حالات ایسے نہیں تھی کہ وہ پڑھ سکتی ۔اس نے کہا میرے بھائی کوئی کام نہیں کرتے تھے ۔ میں نے 10سال کی عمر میں کام کرنا شروع کردیا ۔ میں نے اپنی والدہ اور بڑی بہنوں سے سیکھا ایک ٹکڑے پر کڑھائی کرنے سے وہ 100روپیہ (95.امریکی ڈالر ) کماتی تھی ۔ ایک ٹکڑے پر وہ دو دن میں کڑھائی مکمل کر لیتی ۔ اس نے کہا وہ صبح سے د و بجے دوپہر تک کڑھائی کرتی ہے اس کے بعد گھر کے دیگر کام ار پھر 4سے 8 بجے رات تک پھر کڑھائی کرتی ہے اس کے بعد میںتھک جاتی ہوں اورکوشش کرتی ہوں کہ میرے والدین سمجھیں کہ میںپڑھنا چاہتی ہوں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کی مالی حالت ایسی نہیں کہ مجھے سکول بھیج سکیں ۔ سمیکا نے یہ بھی بتایا نزدیک ترین سرکاری سکول 225 روپے ماہوار (38.2 امریکی ڈالر) وصول کرتا ہے اورایک گھنٹے کے پیدل فاصلے پر ہے ۔ میں چاہتی ہوں کہ حکومت ایک سکول قائم کرے جہاںمیں پڑھ سکوں۔[205]

کبھی کبھی خاندان کے تمام بچے کام کرتے ہیں گیارہ سال غریبہ اپنی تین بہنوں جنکی عمریں 9، بارہ اور پندرہ سال ہے ، بچے صبح نو بچے سے دوپہر 2بجے تک کام کرتے ہیں ۔ عزیبہ نے کہا وہ کچھ رقم اپنے ماں باپ کواور کچھ کرایے کے لیے دے دیتی ہے اس نے یہ بھی کہا کہ خاندان کا ماہانہ کرایہ پانچ ہزار روپے (48 امریکی ڈالر ) ہے ۔ اس کے دونوں والدین کو صحت کے مسائل کاسامنا ہے ۔ غریبہ کا والد وقفے وقفے سے دھاتیں پالش کرنے کا کام کرتاہے ۔ اس کی ماں کوئی ایسا کام نہیں کرتی جس سے اسے کوئی آمدنی نہ ہو ۔ غریبہ کا بھائی اور چھوٹی بہن پڑھتے بھی ہیں اورکام بھی کرتے ہیں لیکن خاندان دوسرے بچوں کی پڑھائی کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا۔[206]

بچوں کے لیے پڑھائی کو آسان بنانے کی کوشش بہت کم ہیں اور ان کی مالی معاونت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ تیرہ سالہ مہوش اور اس کے تین بہن بھائیوں نے پہلی دفعہ تین سال قبل اس وقت پڑھنا شروع کیا جب NGO نے ان کے علاقہ میں کام کرنیوالے بچوں کے لیے لاہور میںایک سکول قائم کیا جس میں سکول کی طرف سے تمام اشیا اور لنچ بچوں کو مفت فراہم کیا جاتا تھا ۔خاندان نے بچوں کا کام کرنے سےروک دیا اور ان کو اپنی پڑھائی پر توجہ مرکوز کرنے دی۔NGO حال ہی میں مالی مشکلات کا شکار ہوگئی اور اسے سکول بند کرنا پڑے ۔ مہوش اس کی گیارہ سالہ بہن آٹھ اور پندرہ سالہ بھائیوں نے دوبارہ کام کرنا شروع کردیا ۔ یہ بچے ہار بناتے ہیں اور خاندان کو دس روپے (.10امریکی ڈالرفی درجن) آمدنی ہوتی ہے ۔مہوش نے کہا کہ وہ ایک دن میں6 درجن ہار بناتی ہیںجس سے انہیں 60روپے (57.امریکی ڈالر ) آمدنی ہوتی ہے ان کی ماں بھی ان کے ساتھ ہار بناتی ہے اور کڑھائی کا کام بھی کرتی ہے ۔ جبکہ ان کا باپ لانڈری میں کپڑے استری کرنے کا کام کرتا ہے ۔ حالانکہ ایک سرکاری سکول نزدیک ہی واقع ہے لیکن مہوش کاکہنا ہے کہ وہ وہاںنہیں پڑھ سکتے کیونکہ اس سکول میں پڑھنے کے لیے انہیں خود کتابیں خریدنا پڑیں گی اور کتابیں خریدنے کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں۔[207]

لڑکیاں اکثر مائوںکے ساتھ گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں15 سالہ تمنا جو کہ سب سے بڑی بیٹی ہے تیرہ سال کی عمر میں جب وہ نویں جماعت میں تھی سکول چھوڑ دیا ۔ کیونکہ اسے اپنی ماں کے ساتھ کام کرنا تھا۔کیونکہ وہ اپنی ماں کے ساتھ گھروں میں صفائی کرنے اور برتن دھونے کے لیے جاتی ہے اس کی ماں چاہتی ہے کہ وہ سکول جائے ۔ لیکن تمنا نے ان کار کردیا کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اس کی ماں اکیلی ہے اس کو باپ کو ٹانگ کا مسئلہ ہے اسے مستقل درد رہتا ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ باپ اس تکلیف میں کام کرے۔ تمنا کی چھوٹی بہن پڑھ رہی ہے اور ڈاکٹر بننے کی امید رکھتی ہے ۔[208]

پاکستان میں چائلڈ لیبر کی خاص طور پر بد ترین شکل اینٹیں بنانا ہے۔ حالانکہ حکومت نے حالیہ سالوں میں بچوں کو بھٹہ خشت پر کام کرنے سے روک دیا ہے ۔ لیکن انتہائی غریب خاندان بد ستور اپنے بچوںکو خطرے میں ڈالتے ہوئے بھٹوں پر کام کرواتے ہیں۔[209] باوجوداس کے جبری مزدوری کوختم کرنے کے قوانین بنائے گئے ہیں ۔ خاندان ابھی بھی اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے کے لیے اپنے آپ کو پابند کرتے ہیں ،جوبہت ہی مشکل حالات میں ہوتے ہیں وہ ایک یا دولاکھ روپے (1905۔952امریکی ڈالر ) پیشگی رقم وصول کرلیتے ہیں جس کو انہوں نے مزدوری کے ذریعے ادا کرنا ہوتا ہے ، یہ رقم خاندان کوادا کی جاتی ہے ۔ کسی فرد واحد کو نہیں ۔NGO کے ایک کارکن جو بھٹہ مزدورں کے ساتھ کام کر رہا تھا کہا ان خاندانوں کو ہفتہ وار ادائیگیا ں کی جاتی ہیں جو کہ تقریباً سات یا آٹھ روپے (8.-7.امریکی ڈالر ) بنتی ہے ۔ اس کاکہنا تھا کہ صرف پنجاب میں لاکھوں بچے جن کی عمریں 14 سال سے کم میںاینٹیں بنانے کا کام کرتے ہیں ، اینٹیں بنانے کی صنعت زیادہ تر پنجاب میں واقعہ ہے ۔ جہاں بچے چار پانچ سال کی عمر میں بھٹو پر کام کرنا شروع کردیتے ہیں۔[210]

بچے بھٹو پر پروان چڑھتے ہیں اور وہیںجو ان ہوئے ہیں وہ کوئی اورکام نہیں کرتے کیونکہ انکے پاس پڑھنے یاکوئی اور ہنر سیکھنے کا موقع نہیں ہوتا NGO کے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ نسل در نسل چاہتا ہے۔ سرکاری سکول بھٹوں سے کافی دور واقع ہوتے ہیں اور بھٹہ مزدوروں کے بچوں کو ان سکولوں میں داخلہ نہیں دیا جاتا۔ اساتذہ ان کے ساتھ براسلوک کرتے ہیں ۔ بھٹہ مزدوروں کے بچوں کے لیے مالی امداد حکومت مختص کرتی ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق یہ سو میں سے پانچ حقدار بچوں تک پہنچتی ہے ۔[211]

نہ ہی یاسمین نہ ہی اس کی ماں اور نہ ہیاس کی دادی جو62 سال کی ہوچکی ہے کبھی سکول گئی تھیں ۔ بھٹو پر کام کرنے والی یہ چار نسلیں اورنہ ہی یاسمین کے بچے کبھی سکول گئے ہیں ۔دادی ابھی بھی بھٹے پر کام کرتی ہے ۔ یاسمینہ کا خیال ہے اس کی عمر 32 سال ہے ۔ اس کی شادی چودہ سال کی عمر میں ہوئی تھی وہ اینٹیں بنانے والی کمپنی کی ملکیت ایک کمرے پر مشتمل جھونپڑی جو 15x9فٹ ہے ۔ اپنے خاوند اورنوبچوں کے ساتھ جن کی عمریں پندرہ ، بارہ ، گیارہ ، نو ، آٹھ ، سات پانچ تین اور دوکے ساتھ رہتی ہے ، یاسمینہ کا کہنا ہے سکول کے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں وہ بڑی مشکل سے گزارہ کرتی ہیں اس کی بڑی بیٹیاں جن کی عمریںبارہ ارپندرہ سال میںگھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں ۔ جبکہ چھوٹے بچے بھٹے پر چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں اور بھٹے پرہی رہتے ہیں یاسمینہ کاکہنا ہے کہ وہ پانی پلاتے ہیں اور اینٹوں کو صاف کرتے ہیں ۔ وہ اینٹیں نہیں بناتے کیونکہ وہ بہت کم عمر ہیں البتہ وہ اینٹوںکوصاف کرتے ہیں اور تیار اینٹوں کو ترتیب سے قطاروں میں جوڑتے ہیں ۔ اس کے خاوند کاکہنا ہے کہ وہ بچوں کو اس لیے کام پر لگاتے ہیں تاکہ ان کا کام جلدی ختم ہوجائے ایک خاندان ایک دن میںایک ہزاراینٹیں بناتا ہے جس سے 900 روپے (57.8امریکی ڈالر ) کی آمدنی ہوتی ہے ۔ لیکن اس کی نصف رقم ان کو ادا کی جاتی ہے جبکہ بقیہ نصف بھٹہ مالک کرایے کی اورپیشگی دی ہوئی رقم کی مد میں کاٹ لیتا ہے ۔ یاسمینہ کا ایک بھائی جس کی عمر 10 سال ہے ۔ سکول جاتا ہے اور اس کے لیے اسے دو کلو میٹر کا فاصلہ پیدل طے کر کے سرکاری سکول جانا ہوتا ہے ۔لیکن جب سےسکول فیس40 روپے (38.امریکی ڈالر ) سے بڑھا کر 200-300 روپے (80.2-90.1امریکی ڈالر ) ماہانہ کردی گئی ہے ۔خاندان یہ اخراجات برداشت نہیں کرسکتا اس لیے اس نے سکول جانا چھوڑ دیا۔[212]

صنفی امتیاز اور نقصان دہ سماجی اقدار

پدرانہ نظام اصل مسئلہ ہے ۔((NGO جینڈر ایکسپرٹ لاہور جولائی 2017)
وہ مجھے پڑھنے کیوں نہیںدیتے ؟ وہ لڑکوں کوپڑھنے دیتے ہیں ۔ انہیں چاہے کہ ہمیں بھی پڑھنے دیں۔
15 سالہ بینا جسے پانچویں جماعت میں سکول چھوڑنے پرمجبور کر دیا گیا
کراچی جولائی2017

کچھ خاندان اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ لڑکیوں کو بھی پڑھنا چاہیے یا ان کایقین ہوتا ہے کہ ایک خاص عمر کے بعد لڑکیوں کو تعلیم جاری نہیں رکھنی چاہیے ۔ پندرہ ملک میںمندرجہ ذیل بیان کے رد عمل کے اعدادو شمار اکٹھے کیے گئے ’’ یونیورسٹی کی تعلیم عورتوں کے مقابلے میں مردوں کے لیے زیادہ اہم ہے ۔‘‘ پاکستان ان ممالک میں آتا ہے جہاں سب سے زیادہ لوگوں نے اس بیان کے ساتھ اتفاق کیا ۔جبکہ سال 2001 اور 2012 میںصورتحال مختلف تھی۔[213]

پشاور میں ایک ٹیچرنے کہا کہ غربت کے بعد بچوں کے سکول کی تعلیم چھوڑنے کی سب سے عام وجہ مذہبی اور ثقافتی مسائل ہیں کہ اس سے بچوں کو سکولنہ بھیجنا جاتے۔ اس نے مزید کہاکہ آٹھویں جماعت کے بعد کافی لڑکیوں کی شادیاں کردی جاتی ہیں۔ حالانکہ ان میںکچھ پڑھائی میں بہت اچھی ہوتی ہیں ان کے سکول چھوڑنے کا ہمیں افسوس ہوتا ہے۔[214]

’’ ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ بچیوں کو پڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی شادیاں ہو جاتی ہیں ۔‘‘ ایک NGO کے ماہر نے کہا اب نظریات بدل رہے ہیں لیکن یہ بہت ٹائم لے رہا ہے ۔’’ کہنے کو تو ماںباپ کاخیال ہے کہ لڑکے اولڑکیاں برابرہیں لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہے۔[215]

17 سالہ حمیرہ نے مزید ایک سال تک پڑھا ہے جبکہ اس کی چار بہنیں بھی ان پڑھ ہیں ۔حمیرہ کاکہنا ہے کہ اس کے دادا نے ان کو پڑھنے سے روک دیا تھا ۔وہ کہا کرتے تھے کہ تعلیم لڑکیوں کے لیے نہیں ہے۔لیکن چونکہ میرے دادا ہی گھر چلاتے تھے اس لیے ہمارے والد ہمیں سکول جانے کا نہ کہہ سکے ۔[216]

یہ رویے کہ لڑکیوں کا پڑھنا چاہی قابل قبول نہیں ہے ۔ خاص طور پر جب وہ بڑی ہو جاتی ہیں خاص طور پر پاکستان میں مختلف برادریوں پر نظریہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے ۔ کچھ علاقوں میں خاندان سماجی اقدار جو لڑکیوں کو سکول جانے سے روکتی ہیں کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور دبائو کا سامنا بھی کرتے ہیں ۔ آسیہ جوکہ سات بچوں کی ماں ہے نے کہا کہ لڑکیاں سکول جانے کے لیے روتی ہیں لیکن ان کے باپ کہتے ہیں کہ وہ لوگ کے ساتھ اختلاف نہیں کر سکتے ۔[217]

40سالہ فرخندہ اور اس کاخاوند افغان مہاجر ہیں ان کی چھ بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ان کی برادری میں بیٹوں کو سکول بھیجنا باعث بے عزتی سمجھا جاتا ہے ۔ اس نے مزید کہا اگران کے وسائل اجازت دیتے تو وہ بیٹیوں کو دس سال کی عمر تک پڑھنے کے لیے بھیجتی لیکن مزید نہیں ۔[218]

کچھ خاندانوں میںلڑکیوں کو سکول بھیجنا اس بات پرمنحصر ہے کہ کیا ان کو لڑکوں سے علیحدہ تعلیم دی جائے گی ۔ کئی سکولوںمیںصنعتی بنیاد پرعلیحدگی ہوتی ہے ۔ ان کے لیے علیحدہ علیحدہ سکول موجود ہیں یا عمارت کے اندر الگ الگ موجود ہیں ۔ جونہی طلبا بڑے ہوتے ہیں ان کے الگ سکولوں کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔ [219]

جب خاندانی لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف اپنی برادری کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو لڑکیوں کو بد نامی کاسامنا کرنا پڑتاہے تیس سالہ آمنہ نے کہا جب لڑکی گھر سے باہر نکلتی ہے تو اس کے لیے شادی کے پیغامات نہیںآتے ۔ اس نے مزید کہا لڑکیاں جب سکول جاتی ہیں تو انہیں آس پاس کے لوگ انہیںدیکھیں گے ۔ یہ ان کی شادیوں میں رکاوٹ ہو گی ۔ امینہ کی بیٹی کے پاس گھریلو ملازمہ تھی ۔ لیکن جونہی اسے ماہواری شروع ہوئی اس کے باپ نے فیصلہ کیا کہ اب اسے نوکری نہیں کرنی چاہیے۔[220]

لڑکیوں کو اپنی آزادی کے راستے میں روکاٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ ان کے لیے تعلیم تک رسائی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے ۔ اک NGOکے جینڈر ایکسپرٹ نے کہا لڑکیوں کے لیے نقل و حمل پر پابندی ہے جبکہ لڑکوں کے ساتھ ایسا نہیں ہے ۔[221]

15سالہسیما جس نے دسویں جماعت کے بعد تعلیم چھوڑ دی تھی بتایا کہ اسے اپنے والد کے گھر میںخاندان والوں کی طرف سے اجازت نہ تھی ۔ اس کی والدہ نے بتایا میرے سسرال میں یہ کہا جاتا تھا کہ اگر لڑکی زیادہ پڑھ لکھ جائے توتباہ و برباد ہو جاتی ہے ۔ سما نے آٹھویں گریڈ تک سکول میں پڑھا پھر اس کے باپ نے مزید پڑھنے پر منع کر دیا ۔ لیکن اس کی ماں نے اسے نویں او دسویں جماعت کی کتابیں لا کر دے دیں ۔ اس نے میٹرک کا بورڈ امتحان کا میابی سے پاس کرلیا ۔ لیکن اب اس کے باپ نےاس کی پڑھائی روک دی ہے۔[222]

کچھ لڑکیوں کی صرف سخت حدود میں رہ کر پڑھنے کی اجازت ہوتی ہے ۔13 سالہ بتول اپنے خاندان کی پہلی لڑکی تھی جس نے پانچویں جماعت تک پڑھا ۔ جب اس کا چھٹی جماعت کا امتحان دینے کا وقت آیا تو امتحانی مرکز پر ائمری سکول کے مقابلے میں مختلف جگہ پر واقع تھا ۔ میںامتحان نہ دے سکی کیونکہ میرے والد نے دوسرے سنٹر میں جا کر امتحان دینے سے منع کر دیا تھا ۔ اس نے کہا اگرچہ سکولنے وہاںجا کرامتحان دینے کا بندو بست کر دیا تھا ۔ بتول نے کہا کہ اس کی ہیڈ مسٹریس نے اس کے والد سے مل کر ان کو قائل کرنے کی کوشش کرنا چاہی تاکہ وہ امتحان دے سکے ۔ لیکن اس کے والد کبھی بھی ملاقات کے لیے نہ گئے ۔[223]

بلوغت کی عمر تک پہنچنے کے بعد اکثر لڑکیوں کو سکول سے ہٹا لیا جاتا ہے15 سالہ سلمی نے کہا کہ میرے باپ نے کہا کہ میں اب بہت بڑی ہوں اس لیے سکول کوچھوڑ ن کاکہہ دیا اس لیے اس نے تیسری جماعت میں تیرہ سال عمر میں سکول چھوڑ دیا لوگ آپس میں گپ شپ کرتے ہیں کہ لڑکی اب جوان ہوگئی ہے میرے باپ نے کہا نہیں اس نے کہا مت پڑھو ۔لڑکیوںکو نہیں پڑھناچاہیے۔[224]

وہ خاندان جوسکول سے لڑکیوں کوہٹوا لیتے ہیں۔ کبھی کبھارخوفزدہ ہوتے ہیں کہ لڑکیاں کسی رومانوی تعلق میں نہ مشغول ہو جائیں آپ اپنی لڑکیوں کو کیوں پڑھا رہے ہیں ؟ مسکان جس نے ساتویں کلاس میں سکول چھوڑ دیا نے بتایا کہ اس کے چچا نے اس کی ماں سے مطالبہ کیا ’د یہ ان کو خراب کر دے گی اور وہ بری بن جائیں گی ۔ مسکان نے بتایا کہ اس کی سوچ اس طرح کی ہے کہ لڑکیاں معاشقوں میںملوث ہو جاتی ہیں اگر وہ پڑھیں اور اپنی مرضی کی شادیاں کر لیتی ہیں ۔ مسکان نے کہا اس کے چچا مسکان اور بہنوں کے سکول جانےکے بارے میں لڑائی جھگڑا کرتے تھے اور کہتے تھے تم چاہتی ہوکہ تمہاری بیٹیاں مغرب زدہ ہو جائیں ۔[225]

40سالہ عذرا گیارہ بچوں کی ماں ہے جن میں سات بیٹیاں ہیں نے بتایا کہ اس کے خاندانمیں پانچویں جماعت سے زیادہ لڑکیوں کو پڑھنے کی اجازت نہیں ہے  ۔ لیکن وہ لڑکوں سے بات کر سکتی ہیں ۔ اس نے کہا کہ باپ اور بیٹوں میں بحث ومباحثہ جاری رہتا ہے کہ دیکھو تمہاری لڑکیاں کیا کر رہی ہیں ۔ کوئی کہاںتک تمام وقت اس طرح کے جھگڑوں میں پڑسکتا ہے ۔[226]

تکلیف دہ سماجی اقدا ر معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے لڑکوں کی پڑھائی کو ترجیح دیتی ہیں ۔ جن بیٹیوں کی شادی ہوجاتی ہے وہ جو کماتی ہیں اپنے خاوند کے اخراجات میں حصہ بٹاتی ہیں ۔ جبکہ لڑکوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہیں گے اس لیے لڑکوں کو سکول بھیجنا ایک بہتر سرمایہ کاری ہے ۔ اگر والدین وراثت کی بات کرتے ہیںتو صرف لڑکوں کے لیے۔ ایک NGOکے جینڈر ایکسپرٹ نے کہا کہ لڑکیاں اپنے والدین کابوجھنہیں اٹھاتیں وہ جہیز بھی لیتی ہیں اور سسرال چلی جاتی ہیں ۔ اس لیے والدین سمجھتے ہیں کہ لڑکوں کو زمین دینی چاہیے۔[227]

32سالہ زینب نے اپنے بیٹے کے بارے میں بتایا ۔ وہ بیٹا ہے اس لیے پڑھتا ہے اور وہ کام کر سکتا ہے ۔ زینب چار بچوں کی ماں ہے ۔ اس نے وضاحت کرتےہوئےبتایا کہ بڑے بیٹے کی تعلیم اس کے خاوند اور اس کی ترجیح میں شامل ہے ۔ اگر بیٹی کام نہیں کرتی تو اہم نہیں ۔ کیونکہ ہم بے اعتباری کی صورتحال میں رہ رہے ہیں اس لیے بیٹے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ وہ صحیح طرف کی نوکری کر سکے۔[228]

انیسہ نے کہا کہ لڑکیاں اگر  پڑھی لکھی بھی ہوں تو کم ہی نوکری ملتی ہے بہت زیادہ بیٹیوں کا ہونا بذات خود پریشانی ہے کیونکہ وہ آمدنی میں اضافہ نہیں کر سکتیں۔ انیسہ کی سات بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ۔’’ یہ اچھا ہوتا اگر اس کے اور بیٹے ہوتے ۔‘‘[229]

کچھ لڑکیاں غیر معمولی لمبی مسافت طے کر کے خاندان کے اعتراضات کے باوجود سکول جاتی ہیں۔’’ میرے چچا نے مجھے منع کیا تھا لیکن میں اس سے چھپ کر یہاں آئی ہوں ۔ ‘‘ 10-12سالہ عالیہ نے کہا ۔ اس نے دو تین مہینے پہلے ایک فری ٹیوشن سنٹر جانا شروع کیا دوسری جماعت چھوڑنے کے بعد ۔ ’’ میں کہتی ہوں کہ میں کچھ سودا لینے جا رہی ہوں ۔ میں اپنی کاپیاں اٹھاتی ہوں اور یہاں آجاتی ہوں ۔ میری ماں اور بھائی میرے گھر سے باہر جانے کے متعلق کہانیاں گھڑتے ہیں ۔ میرے چچا کہتے ہیں گھر میں کام کرو کپڑے دھوئو۔ ان کاخیال ہے کہ لڑکیوں کو نہیں پڑھنا چاہیے۔[230]

16سالہ افصا کو پہلی دفعہ پڑھنے کا موقع ملا جب اسے گھر کے پاس فری ٹیوشن سنٹر کا پتہ چلا ۔ اس کے والد نے انہیں چھوڑ دیا ہوا ہے ۔ اب اس کا بھائی پڑھائی کے راستے میںرکاوٹ ہے ۔وہ کہتا ہے کہ سکول مت جائو ابھی تک یہ کہتا ہے ۔ لیکن میں کسی نہ کسی طریقے سے آجاتی ہوں ۔ ہمارے گھروںمیں لڑکیاں پڑھنے نہیں جاتی ۔ یہی طور طریقہ ہے ۔[231]

کبھی کبھار گھروں میں فیصلہ کرنے والوں خاندانوں میں لڑکیوں کی تعلیم راستہ بدل جاتا ہے ۔ 20سالہ ممتاز نے HRWکو بتایا جب وہ چھوٹی تھی اس کے چچا سامنے والے گھر میں رہتے تھے نے کہا مجھے نہیں پڑھنا چاہیے لیکن میرے والد نے مجھے پڑھنے کی اجازت دی ۔ میرے کئی بھائی 18سے 19 سالوں کے درمیان ہیں ۔ وہ ناراض ہوتے ہیں اور ماں باپ پر بھی دبائو ڈالتے ہیں کہ اپنی بچیوں کو سکول سے ہٹوا لیں ۔[232]

زرافشاں کی بڑی بہن نے دسویں جماعت تک پڑھا تھا ۔ لیکن زرافشاں بارہ سال کی ہوئی جوکسی اورجگہ کام کرتا تھا اور اب اس نے ان کے گھر کے سامنے سائیکل شاپ کھول لی تھی اور اب وہ دکان پر بیٹھتا تھا اور جس کسی کی بیٹی سکول جاتے دیکھتا تھا وہ غصے میں آجاتا تھا ۔ اٹھارہ سالہ زر افشاں نے کہا کہ میرے چچا نے بھی مجھے سکول جانے سے روکا اور کہہ دیا کہ مجھے گھر کے کام کرنا چاہئیں ۔ میرے باپ کو اس کی بات سننا پڑتی تھی کیونکہ وہ کہتا تھا اگر تمھاری بیٹی سکول جائے گی تو لڑکے اس کا پیچھا کریں گے اور کوئی اس سے شادی نہیں کرے گا ۔ لڑکیوں اور خواتین کی نقل و حرکت پر پابندیاں اتنی سخت ہوتی ہیں کہ جب لڑکیاں سکول چھوڑتی ہیں بالکل گھر میں بند ہوکر رہ جاتی ہیں۔[233]

بارہ سالہ بحیرہ نے HRWکو بتایا کہاس کی بڑی بہن واقعی میں پڑھنا چاہتی تھی لیکن اس کو اس کی اجازت نہ ملی اور اب وہ گھر سے ہی نہیں نکلتی۔[234]

بارہ سالہ عذرا پڑھنے کی بجائے گھر میں ہاتھ بٹاتی اوربازار سے خریدو فروخت کرتی ہے ۔ لیکن HRW کے انٹرویو کرنے سے 4ماہ قبل اس نے یہ کام بھی چھوڑ دیا اس کا کہنا ہے کہ جب لڑکیاں بڑی ہو جاتی ہیں وہ برقعہ کے بغیر بازار نہیں جاسکتی ۔ اس لیے اس نے بازار جانا بند کر دیا ۔ اس نے کہا کہ اب وہ سارا دن گھر بیٹھتی ہے کیونکہ اسے باہر جانے کی اجازت نہیں۔[235]

کچھ لڑکیوں اور ان کے والدین کا مطالبہ ہے کہ خواتین اساتذہ کی تعداد بڑھائی جائے اور صرف لڑکیوں کے سکولوں کو قائم کیا جائے تاکہ لڑکیاں پڑھ سکیں۔

16سالہ زنیرہ نے کہا حکومت کوچاہیے کہ وہ لڑکیوں کے لیے علیحدہ سکول قائم کرے جس میں کوئی مرد نہ ہو حتیٰ کہ سکولوں کے سٹاف اور اساتذہ میں بھی کوئی مرد نہیں ہونا چاہیے ۔ زنیرہ نے گیارہ بارہ سال کی عمر میں سکول چھوڑ دیا تھا ۔ اس نے کہا کہ اسے پڑھائی جاری رکھنے کی اجازت ہو سکتی جب سکول کا تمام عملہ خواتین پر مشتمل ہو اور سکول سے باہرچوکیدار مرد ہوسکتا ہے ۔[236]

13سالہ یاسمینہ نے کہا کہ اس نے تین چار سال قبل سکول چھوڑ دیا تھا ۔ جب وہ ابھی تیسری جماعت میں پڑھتی تھی ۔ اس وقت سکول بند کر دیا گیا تھا ۔ کیونکہ کوئی خاتون ٹیچر دستیاب نہ تھی خاتون اساتذہ کے مہیا ہونے پر سکول میں پڑھائی دوبارہ شروع ہوتی۔ یاسمینہ کے والد نے یہ کہہ کر روک دیا کہ اب وہ بہت بڑی ہوگئی ہے۔[237]

لڑکیوں کی تعلیمی کے بارے منفی رویے وہاں بھی اثر انداز ہوتے ہیں جہاں خواتین کے علیحدہ سکول قائم کئے جاتے ہیں 45سالہ للی لاہور کے ایک غریب علاقہ میں رہتی ہے ۔ انٹرویو کے وقت اس کی بیٹی یونیورسٹی میں دوسرے سال کی طالبہ تھی۔جب وہ چھوٹی تھی وہ روزانہ نجی سکول رکشا میں جاتی تھی ۔ کیونکہ ان کے نزدیک کوئی سرکاری سکول واقعہ نہ تھا ۔ للی نے کہا کہ حکومت نے نزدیک سکول بنانے کا وعدہ کیا اور ایک پلاٹ بھی خرید لیا۔ لیکن اراضی کے مالکان نے کہا سکول قائم کرنے سے غیر ملکی بیرونی منفی اثرات مرتب ہو نگے اور لڑکیوں کے کردار پر برا اثر پڑے گا ۔للی نے کہا اس کے اپنے سسرال والوں نے بھی سکول قائم کرنے کی مخالفت کی اور انہوں نے سکول قائم نہ ہونے دیا ۔ جس پر حکومت نے نواحی علاقے میں سکول قائم کیا۔[238]

کم عمری کی شادی

آج کی تعلیم شدہ بیٹی کل کی ماں ہو گی ۔
(گیارہویں جماعت میں پڑھنے والی 20سالہ ایک لڑکی  کی چاچی مینا ۔ کراچی جولائی 2017)

کم عمری کی شادی بچیوں کے سکول نہ جانے کی وجہ بھی ہے اور نتیجہ بھی ۔ پاکستان میں 21فیصد لڑکیوں کی شادی 18سال کی عمر سے پہلے ہو جاتی ہے اور 3فیصد کی پندرہ سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے ۔

جلدی شادی کرنے سے خاص طور پر 18سال عمر سے پہلے کرنے شدید نقصانات ہو سکتے ہیں ۔ شادی شدہ بچیوں کے سکول چھوڑنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ان کوغربت کا سامنا کرنا اور صحت کے مسائل بھی لاحق ہوتے ہیں ۔ جو لڑکیاں جلدی شادی کرتی ہیں اُن کو ان لڑکیوں کی نسبت جن کی شادی دیر سے ہوتی ہے گھریلو تشدد کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے ۔[239]

جونہی لڑکیاں بلوغوت کی عمر کو پہنچتی ہیں سمجھا جاتا ہے کہ وہ شادی کے قابل ہوگئی ہیں ۔ عائشہ نے اپنی دونوں بیٹیوں جن کی عمر 10نور سترہ سال تھی کی منگنی بیک وقت دو بھائیوں کے ساتھ کر دی ۔ جو ان کے رشتے دار تھے ، عائشہ نے کہا پندرہ اور سولہ سال لڑکیوں کی منگنی کے لیے صحیح عمر ہے ، اس عمر میں لڑکیوں کو ماہواری آجاتی اوروہ سیانی ہوچکی ہوتی ہیں ۔[240] جب لڑکیوں کی شادیاں نہیں کی جاتیں تو لوگ ان کے بارے میں باتیں بناتے ہیں ۔ جس سے خاندان پر دبائو بڑھتا ہے ۔ تیس سالہ سائرہ کبھی سکول نہیں گئی اس کی شادی سترہ سال کی عمر میں ہو گئی تھی ۔ اس کی دو بہنوں کی شادی اس سے بھی کم عمر میں ہوئی تھی۔[241] عائشہ اپنی بارہ سالہ بیٹی بشری کی جلد منگنی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ، عائشہ کی اپنی شادی کم سنی میں ہو گئی تھی ۔ اب اس کی عمر تیس سال ہے ۔ اس کے چھ بچے ہیں جن کی عمر یں دو سے پندرہ سال تک کے درمیان ہیں ۔ اس کے بڑے بیٹے نویں اور ساتویں جماعت میں ہیں بشریٰ کی عمر نو سال تھی ۔ عائشہ نے HRW کو بتایا کہ جس علاقے میں وہ رہتے ہیں وہاں پندرہ سال کی عمر میں بچیوں کی شادی معمول ہے اور اگر لڑکیوں کی شادی میں دیر کردی جائے تو ان کی شادی مشکل ہو جاتی ہے ۔ لڑکیوں کی جلدی شادی کی وجہ سے والدین لڑکوں کی تعلیم کو ترجیحی دیتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ لڑکیاں پرایا دھن ہوتی ہیں اور انہوں نے دوسرے گھر میں جا کر رہنا ہوتا ہے ۔ عائشہ نے کہا لیکن لڑکے آمدنی والدین کے گھر لے کر آتے ہیں ۔[242]

کچھ والدین کم عمر کی شادی کو اپنا بوجھ کم کرنے کے زاویے سے دیکھتے ہیں ۔ ان کا کہنا کہ لڑکی اپنے سسرال کے گھر چلی جاتی ہے یہ بہت اچھا ہے کیونکہ اس سے والدین کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے ۔فائزہ سترہ سالہ بیٹے  اور20سالہ بیٹی کی ماں ہے ۔ اس کی بیٹی نے تیرہ سال کی عمر میں ایک ٹیوشن سنٹر میں پڑھنا شروع کیا ۔ جس کے بعد فائزہ نے اپنی بیٹی کی شادی پندرہ سولہ سال کی عمر میں کردی لیکن اس کے سسرال نے اسے مزید پڑھنے سے روک دیا ۔[243]

مرجان جو اپنی عمر کے بارے میں نہیں جانتی چھ بچوں کی ماں ہے اور چاہتی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی پندرہ سال کی عمر میں کردے اگر ایک بیٹی کی شادی ہونے سے کھانا کھانے والا ایک فرد کم ہوجائے گا ۔[244]

کم عمری کی شادی سے لڑکیوں کے رومانوی یا جنسی تعلقات میں ملوث ہونے کی روک تھام ہو جاتی ہے ۔ تیس سالہ سائرہ کی شادی سترہ سال کی عمر میں ہو گئی تھی ، اس کی بیٹی کی عمر آٹھ سال ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر اس کی بیٹی کا رویہ اچھا ہوا وہ اس کی شادی بیس سال کی عمر میں کرے گی لیکن اگر اس کا رویہ باغیانہ ہوا اور لڑکیوں سے ملے گی تو میں اس کی شادی جلد کردوں گی ۔ اس نے مزید کہا کہ اس کے علاقے میں ایک سرکاری کالج ہے ۔اگر اس کی بیٹی اچھی ہوتی تو اس کو پڑھنے کے لیے کالج بھیج دے گی۔[245]

لڑکیوں کی شادی کے وقت یا شوہر کے انتخاب کے بارے میں رائے نہیں پوچھی جاتی ۔14سالہ تمیمہ کی اس کے کزن سے اس وقت منگنی ہوئی جب اس کی عمر بارہ سال تھی اور اس کی والدہ کا ارادہ ہے کہ وہ پندرہ سال کی عمر میں تمیمہ کی شادی کر دے ۔ جب تمیمہ کی والدہ رابیہ سے پوچھا اس کی بیٹی کی شادی کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ میری بیٹی کی کیا رائے ہوگی ؟ اسے کچھ پتہ نہیں ۔ تمیمہ نے پڑھائی ٹیوشن سنٹر میں تیرہ سال کی عمر میںشروع کی اور یہ پڑھائی اسی کی شادی کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گی ۔ ابھی جو وہ کر رہی ہے وہ ہمارا فیصلہ ہے شادی کے بعد یہ اس کے سسرال کا فیصلہ ہوگا ۔ اس کی والدہ نے مزید کہا کہ اگر لڑکیاں ملازمت کرنا شروع کریں تو گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں اس نے مزید کہا کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی۔[246]

رینا کی منگنی 15 سال کی عمر میں ہو گئی تھی اور شادی 17سال کی عمر میں ہوئی ۔ وہ ایک ایسے احاطے میں پلی بڑھی جہاں سات خاندان اکٹھے رہتے تھے اس احاطے میں کچھ لڑکیاں دس بارہ سال کی عمر تک پڑھتی رہیں لیکن دنیا کے خاندان میںلڑکیوں نے نہیں پڑھا تھا اوران کا والد جوکہ ایک مزدور تھا اسے کبھی کام ملتا تھا اور کبھی نہیں۔اپنی شادی کے بارے میں رینا نے کہا کہ اس فیصلے میں اس کی کوئی رائے نہیں ہے ۔ اس کی ماںاوردادی یہ چاہتی تھیں اس نے مزید کہا لڑکیاں ہوں یا لڑکے شادی کے فیصلے میں ان کی رائے نہیں پوچھی جاتی ۔[247]

سکول میں زیادہ عرصہ پڑھنے سے لڑکیوں کو کم عمر کی شادی سے بچاتا ہے ۔ پچیس سالہ سنبل جو کہ دونو عمر لڑکیوں کی والدہ ہے اورجودونوں سکول میں پڑھ رہی ہیں نے کہا کہ لڑکیاں جونہی سکول سے اپنی تعلیم مکمل کرتی ہیں ان کی شادی کردی جاتی ہے ۔[248]20سالہ زرمینہ کی شادی سولہ سال کی عمر میں ہوئی تھی اوراس کے دوبچے ہیں اس نے کہا وہ دیر سے شادی کرتی اگر اسے تعلیم چھوڑنا نہ پڑتی کیونکہ اس کے باپ کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو گئی تھی اور وہ کام نہیں کر سکتا تھا ۔ اس نے کہا اگر آپ کام کر رہے ہوتے تو پڑھ سکتے ہیں اور شادی نہیں کرتا  اس نے کہا جب میرا باپ معذور ہو گیا میری ماں نے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنا شروع کردیا ۔ لیکن خاندانی دبائو کے تحت اسے اپنے دونوں بیٹیوں کی شادی کرنا پڑی۔

میری ماں نے ہماری شادیاں کردیں کیونکہ لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ ماں ہماری شادیاں کردے ۔ میرے والدین کو افسوس ہوا کہ انہیں میری اتنی جلدی شادی کرنے کا لیکن وہ لوگوں کی باتوں سے مجبور ہو گئے مجھے بہت عجیب لگا کہ میری اتنی جلدی شادی ہورہی ہے ۔ لیکن اس علاقے کے لوگ شک و شہبات کااظہار کرتے ہیں میرے والد نے کہا کیونکہ میں دیکھ نہیں سکتا اور میں اپنی بچوں کی حفاظت نہیں کر سکتا اس لیے میں نے ان کی شادیاں کر دیں ۔ تاکہ لوگ ان کو ہراساں نہ کر سکیں۔[249]

کچھ لڑکے والے اپنے بیٹوں کے لیے چھوٹی عمر کی بیویاں چاہتے ہیں ۔18سالہ عائشہ کی شادی اپنے کزن سے ہوئی نے کہا کہ اس نے شادی کے لیے دبائو ڈالا جب وہ تقریباً 11 سال کی تھی ۔’’ ایک ہفتے میری منگنی ہوئی اور اگلے ہفتے شادی ہو گئی  ‘‘عائشہ کبھی سکول نہ گئی تھی اس کی چھوٹی بہن پڑھ رہی تھی ۔جب عائشہ کی شادی ہو گئی تو اس کی چھوٹی بہن کو سکول سے ہٹا لیا گیا اور گھرکے کاکام کاج پر لگا دیا گیا تین سال بعد عائشہ اپنے والدین کے پاس چلی گئی ۔ کیونکہ سسرال کا ماحول زیادہ اچھا نہیں تھا ۔ ہر وقت لڑائی جھگڑا اور لعن طعن رہتی تھی ۔ مجھے میرا خاوند پسند تھا ۔ وہ ایک محنتی شخص تھا لیکن ساس ہر وقت مسائل پیدا کرتی تھی  عائشہ پڑھنا چاہتی تھی لیکن سسرال میں گھر سے باہرجانے کی اجازت نہ تھی ۔ اپنے خاوند کوچھوڑنے کے بعد عائشہ نے پڑھنے کا ایک طریقہ ڈھونڈ نکالا اس نے ایک مدرسہ میں قرآن اور اردو پڑھنا شروع کردیا ۔’’ میں انے خاوند کےپاس کبھی واپس نہیں جائوں گی ۔’’ عائشہ نے کہا ۔[250]

شادی کے بعد اکثر لڑکیاں سکول چھوڑ دیتی ہیں ۔ کچھ ہونے والے سسرال اس بات پر راضی ہو جاتے ہیں کہ وہ لڑکیوں کو پڑھائی جاری رکھنے کی اجازت دیں۔ لیکن ایسے وعدے اکثر ٹوٹ جاتے ہیں ۔16 سالہ صبانے کہا کہ میں پڑھتی رہتی اگر یہ منگنی بیچ میں نہ آتی ۔ جب اس کی شادی ہوئی وہ دسویں جماعت پاس کر چکی تھی ۔ صبا نے یہ بھی کہا کہ شادی سے پہلے سسرال والے اس بات پر رضا مند تھے کہ وہ تعلیم جاری رکھے گی ۔ وہ جو چاہے کر سکتی ہے لیکن جونہی شادی ہوئی دونوں اس کا شوہر اورگھر والوں نے پڑھنے سے منع کر دیا۔[251]

24سالہ کنول نے جب دسویں جماعت کا امتحان دیا وہ16 سال کی تھی اس کے والدین نے کزن سے اس کی شادی کر دی ۔ وہ اس شادی سے اس لیے رضا مند ہوگئی کیونکہ اس کے والدین اور سسرال نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی پڑھائی شادی کے بعد تک جاری رکھے گی ۔ جب اسے امتحان کا نتیجہ مل گیا ۔ وہ ماسوائے حساب تمام مضامین میں پاس ہو گئی ۔ اس نے ارادہ کیا کہ وہ حساب کاامتحان دوبارہ سے دے گی ۔ اس کے سسرال والے مزیدپڑھنے پررضا مند نہ ہوئے۔ اس نے بحث و مباحثہ کیا لیکن بیکار ۔لیکن پھر وہ امید سے ہو گئی ۔ اس کے بعد کنول نے کہا کہ اب اس کی تین بیٹیاں ہیں ۔ اس کاخاوند جوا کھیلتا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا ، وہ مالی طور پر اپنے والدین کی محتاج ہے ۔ شادی کے بعد اس کے خاوند نے اسے مار پیٹ کر نا شروع کردیا ۔ ایک دفعہ مار پیٹ اتنی شدید تھی کہ اسے دماغی چوٹ کی وجہ سے ہسپتال داخل ہونا پڑا ۔ کنول نے کہا کہ وہ پڑھنا لکھنا چاہتی تھی لیکن اسے یہ سب بہت برا لگا ۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ کوئی کام کر سکے وہ بینک میں کام کرنا چاہتی تھی۔ اس کا کہنا تھاکہ وہ محسوس کرتی ہے کہ سوسائٹی میں خواتین سے اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔[252]

کئی دفعہ لڑکوں کو بھی چھوٹی عمر میں شادی پر مجبورکیا جاتا ہے 50 سالہ لائلہ نے کہا اس کا سب سے بڑا بیٹا  شادی کے چھ ماہ بعد پانی میں ڈوب کر فوت ہوگیا تھا۔

اس وقت وہ اوراس کی بیوی دونوں بیس پچیس سال کے تھے ۔ لائلہ کا دوسرا بیٹا بخار میں مبتلا ہو کر فوت ہوگیا تھا ۔ اس کا تیسرا بیٹا پندرہ سولہ کی عمر کا تھا اور اس نے سکول چھوڑ دیا تھا ۔ خاندان نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بھائی کی بیوہ سے شادی کرے ۔ شادی کے بعد اس کی پانچ بیٹیاں پیدا ہوئیں انٹرویو کے وقت جن کی عمر 14سے 3سال کے درمیان تھیں ۔ان میں کوئی بھی سکول نہیں گئی تھی کیونکہان کا باپ نشے کی وجہ سے کوئی کام نہ کرتا تھا لائلہ نے بتایا کہ اس کا بیٹا اس لیے نشہ کرتا ہے کیونکہ وہ شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔[253]

کئی برادریوں میں یہ رسم عام ہے کہ شادی کے موقع پر ایک خاندان کسی دوسرے خاندان کوادائیگی کرتا ہے ۔ ان میں سامان جہیزاور دلہن کی قیمت کے طور پر ادائیگی بھی شامل ہے ۔[254] اس ادائیگی میں زیورات ۔ ملبوسات ۔ گھریلو اشیا ۔ کار ۔ موٹر سائیکل اورنقد رقم شامل ہے ۔سامان جہیزاور دلہن کی قیمت غریب خاندان کے لیے ایسا خرچہ ہے جسے وہ پورا نہیں کر سکتے ۔[255] مالی دبائو کی وجہ سے یہ خاندان سامان جہیز او ر دلہن کی قیمت ادا کرنے سے بچنے کے لیے شادی کی پیشکش اپنے پسند کے وقت سے پہلے منظورکرلیتے ہیں۔

کچھ مائیں جن کی اپنی شادی کم عمری میں ہوئی تھی ۔ کوشش کرتی ہیں کہ ان کی بیٹیوں کی شادی دیر سے ہو۔35 سالہ زنیشہ جو نو بچوں کی ماں ہے اس کی شادی 12 سال کی عمر میں ہوئی تھی اس کی بڑی بیٹیاں 16-15 سال میں ہوئی۔[256]

HRWکے ساتھ انٹرویو کے وقت زنیشہ کی ان بیٹیوں کی شادی یا منگنی نہیں ہوئی زنیشہ کا خیال کے وہ 20سال کی عمر تک ان کی شادیاں التوا میں رکھے گی وہ چاہتی ہے کہ اس کی بیٹیاںزندگی سے لطف اٹھائیں اور زیادہ سے زیادہ وقت اپنے ماں باپ کے ساتھ گزاریں۔[257]

سکول اور راستے میں عدم تحفظ

والدین کے ذہن اپنی بیٹیوں کو باہر بھیجنے میں بہت سے خوف ہوتے ہیں۔12 سالہ بحیرہ جو کبھی سکول نہیں گئی 30جولائی2017

 کراچی بہت سے خاندان اور لڑکیاں تحفظ کے مسائل کو لڑکیوں کی تعلیم کے راستے میں رکاوٹ

سمجھتے ہیں ۔ اس میں جنسی طور پر ہراساں کرنا اغوا ۔ تعلیمی اداروں پر حملے وغیرہ شامل ہیں۔ عدم تحفظ کا اثر لڑکیوں کے معاملے میں بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ کیونکہ عام طور پر لڑکیوں کو نشانہ بنایا جاتاہے اور والدین لڑکیوں کو گھر چھوڑنے اور لمبے غیر محفوظ راستے طے کر نے کی اجازت نہیں دیتے ۔ [258]خواتین اور لڑکیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر تشدد والدین کے خوف میں اضافہ کرتا ہے ۔

کچھ والدین اور بچوں نے کہا حالیہ برسوں میں ان کی برادریوں میں عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے ۔ جن کے نتیجے میں چھوٹے بہن بھائی کی تعلیم تک رسائی بڑے بہن بھائیوں کی نسبت کم ہوتی ہے۔32 سالہ شائستہ4بیٹیوں اور 3بیٹیوں کی ماں ہے ۔ جن کی عمریں تین سے اٹھارہ سال کے درمیان ہیں ۔ کراچی کے ایک غریب علاقے میں رہتی ہے ۔ اس نے کہا کہ آجکل حالات خراب ہیں اس نے مزید کہا کہ 20سال پہلے حالات بہتر تھے لیکن اب ماحول ایسا ہو گیاہےکہ اب میں اپنی چھوٹی بیٹی کو بھی گھر سے باہر نہیں نکلنے دیتی۔ منشیات اور شراب کا استعمال ہے۔ جب آپ کی بیٹیاں باہر جاتی ہیں تو لڑکے ان پر سیٹیاں بجاتے ہیں ۔ اس لیے آپ اپنی عزت بچانے کے لیے اپنی لڑکیوں کو باہر نہیں بھجیں گے۔[259]

خاندان دہشت گرد حملوں سے خوفزدہ ہیں ۔ لیکن انہیں پرہجوم لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے سکول جانے کے طویل راستوں کی وجہ سے خطرات میں اضافہ کابھی سامنا ہے ۔16 سالہ حفصہ کا کہنا کہ وہ پانچ یا چھ سال عمر کی تھی جب وہ سکول جاتے ہوئے راستے میں گٹر میں گری پڑی۔ سکول گھر سے ایک گھنٹہ پیدل فاصلے پر تھے اور وہ حفصہ کا سکول میں آخری دن تھا گرنے کے بعد وہ سکول نہ جانا چاہتی تھی۔ صرف گرنا ہی اس کی وجہ نہ تھا سکول کا راستہ بھی بہت طویل تھا ۔ کئی سال بعد اسے سکول چھوڑنے کا رنج ہوا لیکن اب وہ دوبارہ سکول جانے کی عمر نہ تھی۔[260]

50سالہ لائلہ کا کہنا ہے کہ چالیس منٹ پیدل فاصلے پر سکول ان کے لیے قابل رسائی نہ ہے ۔ لڑکیاں اکیلے پیدل سکول نہیں جا سکتی کیونکہ راستے میں بہت بڑے ٹرک ہوتے ہیں اورمنشیات فروخت کرنے والے لڑکے بھی۔[261]

تعلیم پرحملے

زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے بے شک لوگ یہاں کچھ خوف محسوس کرتے ہیں ۔ بے شک ہم احتیاطی تدابیر لے سکتے ہیں کہ جو قسمت ہے وہ قسمت ہے ۔
زلیخاں سات بچوں کی ماں ہے اور کوئٹہ کے ایک ایسے علاقے کی رہائش پذیر ہے تو عدم تحفظ کے لیے مشہور ہے ۔ جنوری 2018 کوئٹہ

پاکستان کے بہت سے حصوں کو بغاوت ،تشدد نسلی اور مذہبی تضادات سے متعلق تشدد کی بڑھتی ہوئی سطح کا سامنا ہے ، زیادہ متاثر علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی تباہ کن حد تک ہے ۔ 34سالہ فوزیہ پشاور میں رہتی ہے اس کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ۔ اس کا کہنا ہےکہ بچوں کے سکول جانے کے بعد وہ خوف کا شکار رہتی ہے ۔ اس نے کہا کہ وہ خوف کا شکار کیوں نہ ہو خوف تو 24 گھنٹے رہتا ہے ۔ بچہ جونہی گھر سے قدم باہر نکلتا ہے  تو خوف شروع ہو جاتا ہے اس کے واپس آنے تک اور یہ خوف مستقل  ہے ۔ فوزیہ نے کہا اگر ممکن ہو تو وہ اپنے بچوں کو گھر میں پڑھائے ۔ اس نے خاندانی چرچ پر بم کے حملے کے متعلق بتایا اور اس کے بعد لگا تا ر حملے ۔ بچے اس بم دھماکے میں انتقال کر گئے اور کچھ بھی نہیں بدلا۔[262]

پروین اپنے چار بچوں کو مدرسہ بھیجتی ہے کیونکہ یہ سکول کے مقابلے میں سستی ہے ۔ اس نے کہا 3یا 4سال قبل دو بم دھماکے ہوئے تھے لیکن کوئی زخمی یا ہلاک نہ ہوئے تھے ۔ ہم پریشان رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود بچوں کو مدرسوں میں بھیجتے ہیں۔[263]

عدم تحفظ کے دورس نتائج ہوتے ہیں ۔ پورا ہفتہ مسلسل فائرنگ ہوتی رہی 35 سالہ فضیلہ نے بتایا اس وجہ سے اپنے سب سے بڑے بیٹے کو سکول سے اٹھا لیا لیکن اس کے چھ بچے ابھی بھی سکول نہیں جاتے ۔ تشدد کا بد ترین واقعہ 10سال قبل ہوا تھا ۔ لیکن اس دوران سکول نہ جانے کے نتیجہ میں بچے کبھی بھی سکول نہیں گئے۔[264]

50سالہ لائلہ نے کہا 2005 میں اس کے پڑوسی میں نسل حملہ کےدرمیان 10سے 12 لاشیں ملی تھیں اور ان کے گھر کے نزدیک واقعہ سر کاری سکول مستقل طور پر بند کردی گئی تھیں لائلہ نے مزید کہا نسلی کشیدگی میں کمی آئی ہے لیکن علاقے میں عدم تحفظ کی فضا قائم ہے اور خاص طور پر خواتین کے لیے ۔ اس نے کہا کہ صورتحال اب بہتر ہے اورنسلی خوف ختم ہوگیا ہے لیکن اب بھی لڑکوں کی طرف سے لڑکیوں کی طرف سے لڑکیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بڑھ گیا بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ پہلے لوگ لڑکیوں کو چھپ چھپا کر ہراساں کرتے تھے لیکن اب یہ کھلے عام ہوتاہے ۔ نسلی کشیدگی کی وجہ سے ہراسگی کے خلاف لڑنا یا مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے ۔ سکول میں پختون اور مہاجر پڑھتے ہیں اسے کوئی بھی اس بات سے خوفزدہ رہتا ہے اگر اس کے خلاف کوئی بات ہوئی تو نسلی فسادات شروع ہوجائیں گے اس لیے بہتر ہے کہ لڑکیوں کو سکول نہ بھیجا جائے کیونکہ ان کے لیے وہاں تعلیم حاصل کرنا کسی طورسے بھی بہتر نہ ہوگا۔[265]

بلوچستان کی ایک ٹیچرنے بتایا کہ اس کے طالبات کسی نہ کسی طریقے ہائی سکول کی تعلیم مکمل کر لیتی  میں لیکن یونیورسٹی میںاس کو جاری رکھنے کے لیے ایسے غیر محفوظ راستے اور لوگوں کے درمیان سے گزرنا پڑتا ہے ۔ جس سے انہیں یہ سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔[266]

نسلی تنازعات سکولوں تک پھیلے ہوئے ہیں ۔ بارہ سالہ باصمہ کو اس کے والدین نے سرکاری سکول سے ہٹا کر ایک نجی سکول میں داخل کروا دیا کیونکہ حالانکہ ان کونجی سکول کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے بہت جدو جہد کرنا پڑتی تھی ۔ اس کی وجہ جزوی طور پر یہ بھی تھی کہ سکول ہندو اور مسلمان طلبا میں جھگڑا رہتا تھا ۔ تشدد کے واقعہ میں باصمہ کے پائوں کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ باصمہ کی ماں نجمہ نے کہا کہ اسے بہت تکلیف ہوتی ہے کہ اس کی بیٹی کو چوٹ پہنچی ہے ۔ [267]

تعلیم پرحملے اورحکومت کاردِ عمل

حکومت کچھ نہیں کرتی اورصرف اپنا پیٹ بھرتے ہیں ۔ تمام وقت میں سکولوں میں بچے بم دھماکوں سے ہلاک ہوتے ہیں  لیکن اگر وہ سکولوں کی حفاظت نہیں رکھیں گے تو کون رکھے گا ؟
50-25سالہ فرزانہ جو پانچ بیٹوں اور ایک بیٹے کی ماں نے کہا۔
29جولائی 2017 کراچی

پاکستان میں عدم تحفظ کا پہلو طلبا ، اساتذہ اور اسکولوں کو حملوں میںنشانہ بنانا ہے ۔[268] حالیہ برسوں میں تعلیم پر سب سے مہلک حملہ 16دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پرعسکریت پسندوں کی طرف سے کہا گیا جس میں 145ہلاکتیں ہیں جوکہ تمام بچے تھے۔[269] یہ حملہ باقی حملوں سے مختلف نہ تھا Gobal coalition to Protect Education from Attack (GCPEA)کے مطابق 2013 سے 2017 کے درمیان غیر ریاستی گروپوں اور نا معلوم جماعتوں نے سکولوں پر سینکڑوں حملے کیے[270]جو کہ ہر صوبے میں کیے گئے اور ان میں دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ۔ جس کے نتیجے کئی سو اساتذہ اور طالب علم شہید ہوئے ۔ عمارتوں کو بھی نقصان ہوا اور کئی تباہ ہو گئیں ۔ [271] ان میں 33 فیصد حملوں میں عورتوں اور لڑکیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا ان کا مقصد لڑکیوں اورعورتوں کی تعلیم کو روکنا تھا۔[272]اگست2018 میں گلگت بلتستان کے دیا میر ضلع میں بارہ سکولوں کو جلا دیا گیا[273] اور ان میں سے کم از کم نصف لڑکیوں کے سکول تھے۔[274]

آرمی پبلک سکول پر حملے کے نتیجہ میں والدین کو سکیورٹی کے بارے میں تحفظات پیدا ہوئے۔25 سالہ عابدہ اپنے خاؤند اورچھ بچوںکے ساتھ رہتی ہیں اس کی دو بہویں اورپانچ پوتے پوتیاں ہیں اور وہ پشاور میں رہتی ہے ۔ اس نے کہا کہ آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد اس کے خاندان کے بچے سکول جانے سے خوفزدہ ہو گئے ۔ اس کاخاوند تمام بچوں کو سکول سے سکیورٹی کی بنا پر ہٹا لینا چاہتا ہے۔ لیکن عابدہ نے اصرار کیا کہ بچوں کی سکول نہ چھڑوا دیا جائے۔[275]

35 سالہ زونیشہ جو کو پشاور میں رہتی ہے اور تو بچوں کی ماں ہے اس نے کہا کہ جب اس نے اپنی بیٹیوں سے سکول جانے کی بات کی ۔ تو انہوں نے کہا کہ وہ بم دھماکوں سے خوفزدہ ہیں ۔ انٹرویو کے وقت تمام بچے سکول چھوڑ چکے تھے اور وہ مدرسہ میں پڑھ رہے تھے ۔[276]

فائرہ اپنی جوان بیٹی کے بارے میں پریشان ہوتی ہے ۔ جوکوئٹہ کے ایک کالج میں پڑھتی ہے ۔فائرہ کو ئٹہ میں اپنی زندگی کوایک قیدی کی طرح بیان کرتی ہے ، اس نے کہا ہزارہ برادری کے افراد پرحملے اتنے متواتر ہیں ، کہ دوسرے نسلی گروہوں کی لڑکیوں ہزارہ لڑکیوں سے درخواست کرتی ہیں کہ وہ ان کے ساتھ سفر نہ کریں اور نہ ہی ان کے ساتھ کھڑی ہوں ۔

بلوچستان سر گرم کارکن نےکہا ہزارہ طلبا و طالبات کو تعلیم سے محروم رکھنا فرقہ وارانہ حملوں کا اصل مقصد ہے ۔ اس نے کہا کہ ہمیں اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ ہم فوج ، کھیلوں اور تعلیم میں ترقی کررہےتھے ۔ ہم بلوچستان کی یونیورسٹیوں میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرتے تھے ۔ اب بلوچستان یونیورسٹی میں مٹھی بھرہزارہ بچے پڑھتے ہیں ۔ یہ ہمیں پیچھے رکھنے کے لیے سوچی سمجھی سکیم ہے۔[277]

مرضیہ نے کہا لڑکیوں کے لیے سکیورٹی کا بندو بست ہونا چاہے تاکہ ماں باپ ان کو بھیجتے ہوئے خون کا شکار نہ ہوں ۔ وہ اپنے خاندان میں ایک غیر رسمی سکول چلاتی ہے ۔ اس نے کہا کہ سکول کے باہر حفاظتی انتظامات ہونے چاہیں وہ خودایک آرمی سکول میں پڑھتی رہی ہے اور وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھی کیونکہ کوئی بھی بغیر NICنیشنل شناختی کارڈ اس سکول میں داخل نہیں ہو سکتا ، لیکن سرکاری سکولوںمیں ایسانہیں ہوتا ۔[278]

آرمی پبلک سکول پرحملے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نےبیس نکاتی قومی ایکشن پلان کاانتظام کیا تاکہ دہشت گردی کے خطرہ سے نپٹا جا سکے ۔[279] لیکن ان بیس نکات میںایک بھی تعلیمی اداروں سے متعلق نہ تھا ۔[280] بلکہ سکیورٹی کو بڑھانے اور اسے برقرار رکھنے کی ذمہ داری سکولوں کی انتظامیہ پر ڈال دی گئی تھی ۔ اس سے اکثر مشکلات میں اضافہ ہوا اور بلکہ انتشار پیدا ہوا کچھ سکولوں میں خوفزدہ کرنے والی سکیورٹی مشقوں کاانتظام کیا جبکہ دوسروں نے طلبا اور اساتذہ کوہتھیار فراہم کیے۔[281]

جنسی ہراسگی

کئی لڑکیوں کو سکول کے راستے میں جنسی ہراسگی کا سامنا کرناپڑا ۔ گیارہ سالہ غریبہ جس نے پہلی دفعہ اس وقت پڑھنا شروع کیا جب ایک NGOنے اس کے گھر کے قریب سکول کھولا ۔ جب دو سال بعد مالی مشکلات کی وجہ سے یہ سکول بند ہو گیا تواسے سکول چھوڑنا پڑا ۔ اس کے گھر کے نزدیک واقعہ سرکاری سکول میں پڑھنے کی اجازت نہ دی گئی ۔ اسی علاقے میں لوگ جوا کھیلتے تھے ۔ اگر کوئی چھوٹی عمر کی لڑکی وہاں سے گزرتی ہے کوئی اس کی طرف دھیان نہیں دیتا ہے لیکن اگر وہ جوان ہے تو لوگ اسے گھورتے ہیں اورلڑکے اسے تنگ کرتے ہیں ، غریبہ نے کہا بہت سی لڑکیوں کو سکول کے راستے میں جنسی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ۔ اس نے یہ ایسی جگہ نہیں ہے جہاں آپ سکول جا سکیں ۔ یہ اچھا علاقہ نہیں جب ہم باہر جاتی ہیں لڑکے گھورتے ہیں اور تنگ کرتے ہیں۔[282]

کچھ لڑکیوں نے کہا کہ مرداور لڑکے سکول سے باہر ہراساں کرتے ہیں ۔ تیرہ سالہ پا دینہ نے کہا بہت ساری لڑکیاں اس علاقے سے سرکاری سکول میں پڑھنے جاتی ہیں لیکن مرد ان کے ارد گرد منڈلاتے رہتے ہیں اور وہ آپ سے ناشانستہ طریقے سے بات کرتے ہیں گالیاں دیتے ہیں اور کئی دفعہ پتھر پھینکتے ہیں ۔ ایک دفعہ میں اپنے کزن کو سکول لے گئی جس پر مجھے برا بھلا کیا گیا۔ کوئٹہ میں ایسا تمام لڑکیوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔پاونیہ نے کہا شائستہ طریقے سے کپڑے پہننا یا چادر لینا یا سر کو ڈھانپنا بھی آپ کی مدد نہیں کرتا۔[283]

20سالہ ممتاز نے نزدیک واقعہ سکول کے لڑکوں کے بارےمیں کہا اور لڑکیوں کا سکول سے گھر کے آدھے راستے تک پیچھا کرتے ہیں اوران کو ہراساں کرتے ہیں۔[284]

بارہ سال سمیکا نے کہا اگر سکول کاراستہ طویل ہو جنسی ہراسگی کا خوف بڑھ جاتا ہے ، قریب ترین سکول پیدا جانے میں ایک گھنٹہ صرف ہوتا ہے اور یہ کوئی اچھا علاقہ نہیں ہے ۔ اس نے یہ بھی کہا آپ کو پتہ ہے لڑکے کیسے ہوسکتے ہیں اور وہ آپ کو کتنا تنگ کر سکتے ہیں ، لڑکیوں کے لیے اکیلا پیدل جانا بہتر نہیں ہے۔[285]

13 سالہ سدرہ اس وقت پانچویں جماعت میں پڑھتی تھی ۔ جب اس کاخاندان کراچی سے واپس کوئٹہ رہائش پذیر ہوا ۔کوئٹہ میں اس نے نزدیک ترین لڑکیوں کے سرکاری سکول میں دوبارہ داخلہ لینے کی کوشش کی جو کہ اس کے گھر سے کافی فاصلے پر تھا ۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ ایک دن وہ لڑکیوں کے گروپ کے ساتھ سکول گئی تو دیکھا کہ لوگ انہیں گھورتے ہیں اور آواز یں کستے ہیں ۔ کئی دفعہ وہ آپ کو گالیاں بھی دیتی ہیں ۔ یہ دو سال پہلے کی بات ہے اور اس نے سکول نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ۔‘‘ پڑھائی کی بجائے اب وہ کام کرتی ہے اسے ایک سوٹ کی سلائی پر 150 روپے (1.43امریکی ڈالر)ملتے ہیں۔[286]

ایک پرائیویٹ سکول کے ہیڈ ماسٹر نے کہاہم نجی سکولوں میں جنسی ہراسگی کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ اس سے ہمارے سکول کا کاروبار متاثر ہوتا ہے ۔ نامزد لڑکوں کے خلاف پولیس میں شکایت کرتا ہوں اور اس کے بعد کوئی ہماری طالبات کو گلی میں تنگ نہیں کرتا ۔ اس سے قبل لڑکے گلی میں منڈلاتے رہتے تھے۔[287]

کچھ لوگوں کاخیال ہے کہ پولیس لڑکیوں کو ہراساں کرنے کے معاملے میں بالکل دخل نہیں دیتی پندرہ سالہ تمنا نے کہا اس کے گھر کے سامنے ایک سٹور کا مالک شراب پیتا ہے اپنی بیوی بیٹی کو پیٹتا ہے اور میری تیرہ سالہ بہن کو ہراساں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اس سے شادی کرے گا ۔ سارا گائوں اس سے تنگ ہے لوگوں نے اس کے خلاف پولیس میں شکایت بھی کی لیکن اس نے پولیس کو دے دلا کرمعاملہ ختم کردیا ۔ تمنا نے تیرہ سال کی عمر سکول چھوڑ دیا تھا ، اب اس کی والدہ چاہتی ہے کہ اس کی چھوٹی بہن ہمسایہ کی ہراسگی کی وجہ سے سکول چھوڑ دے ۔[288] لڑکیوں کو سکول کے راستے میں سکیورٹی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن وہ سکول میں بھی عدم تحفظ کا شکار ہوتی ہیں۔ جن لڑکیوں کے انٹرویو لیے گئے انہوں نے بنیادی طور پر یہ بیان کیا یہ مسئلہ سرکاری سکولوں کا ہے ۔ کیونکہ نجی سکولوں کو ایسے حالات کو درست کرنے میں زیادہ فائدہ ہوتا ہے کہ ان کی طالب علموں کی تعداد کم نہ ہو لڑکیوں کے لیے عدم تحفظ لڑکوں کی جانب سے ان کی جنسی ہراسگی پر منتج ہوتی ہے ۔

23سالہ ربیعہ نے کہا کہ اس نے آٹھویں جماعت تک پڑھاپھر تعلیم چھوڑ دی کیونکہ اس کے بھائی نہیں چاہتے تھے کہ وہ سکول پڑھے ۔ کچھ لڑکیوں کا رویہ نا شائستہ تھا ۔ اس نے سرکاری سکول گیارہ سال کی عمر میں چھوڑ دیا اور کئی سال تعلیم سے محروم ہونے کے بعد اس کی ماں نے اس کا داخلہ ایک نجی سکول میں کروایا ۔ وہ ابھی بھی سرکاری سکول کے نزدیک رہتی ہے اس کا کہنا ہے کہ حالات اب زیادہ خراب ہو گئے ہیں ۔لڑکیاں خوفزدہ رہتی ہیں ۔ کیونکہ سرکاری سکول کی ایک جانب لڑکیاں اور دوسری جانب لڑکے پڑھتے ہیں ۔لیکن سکول کا ایک ہی گیٹ ہے ۔ لڑکے سکول کے باہر بیٹھ جاتے ہیں اور لڑکیوں کو تنگ کرتے ہیں ۔ لڑکے اپنے فون نمبر لکھ کر لڑکیوں کی طرف پھینکتے ہیں ۔سکول کا ایک اورمسئلہ چھوٹی چار دیواری تھی جو لڑکوں کی جانب سے لڑکیوں کو تنگ کرنے میں رکاوٹ نہ بنتی تھی۔ اس نے کہا کہ بعد میں جس نجی سکول میں داخلہ لیا وہاں زیادہ محفوظ محسوس کرتی تھی۔ اس سکول میں والدین کو کہا جاتا تھا کہ وہ خود بچوں کو سکول لینے آئیں ، اور سکول میں داخل ہونے کے لیے شناختی کارڈپیش کرنا پڑتا تھا ،اس کے علاوہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ علیحدہ شفٹیں تھیں۔[289]

والدین کا لڑکیوں کی نسبت ان کو ہراساں کرنے کی بابت برداشت کی استطاعت کم ہوتی ہے ، تیرہ سالہ سلیمہ نے کچھ دیر پہلے سکول چھوڑ دیا تھا ۔ اس نے کہا کہ لڑکے مجھے سکول میں تنگ کرتے تھے ۔میری طرف فٹ اور پنسلیں پھینکتے تھے ۔ میری ماں نے ان لڑکوں کے تنگ کرنے کی وجہ سے کہا کہ سکول چھوڑ دو ۔ میں پڑھنا چاہتی ہوں لیکن میری ماں مجھے پڑھنے نہیں دے گی [290]

کئی دفعہ حفاظتی اقدامات تو کیے جاتے ہیں لیکن وہ زیادہ موثر نہیں ہوتے۔ 23 سالہ ربعیہ نے کہا کہ سرکاری سکول میں سکیورٹی گارڈ تو موجود ،لیکن اتنا بوڑھا تھا کہ اس کا کوئی ڈر خوف نہ تھا ۔ وہ اب اس سکول کو چھوڑ چکی ہے ۔ گارڈ سکول میں ہی رہتا تھا ۔ خود بھی خوفزدہ رہتا تھا ۔ لڑکوں کو کچھ نہیں کہتا تھا کیونکہ وہ اس سے طاقتور تھے ۔[291]

کئی دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ نجی سکول میں حفاظتی اقدامات بہتر ہوتے ہیں ۔34 سالہ فوزیہ جس نے حال ہی میں اپنی 11 سالہ بیٹی کو سرکاری سکول سے ہٹا لیا ہے ۔ اب اس کا ارادہ ہے کہ اب وہ اس کو کسی نجی سکول میں میں داخل کروائے ۔ کیونکہ ان سکولوں میں کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جاتی ہے جو سکول میں داخل ہونے یا باہر جانے والوں پر نظر رکھتے ہیں ۔ یہ سکول بچوں کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں ۔[292]

پاکستان میں نسلی اور مذہبی کشیدگی کئی دفعہ سکول میں بچوں اور بچیوں کے لیے عدم تحفظ کا باعث بنتی ہے۔بارہ سالہ باصمہ نے سرکاری سکول میں پڑھائی اس لیے چھوڑ دی وہاں مسلمان اور ہندو طلبا میں لڑائیاں ہوتی تھیں ۔[293] 17 سالہ پریہ نے آٹھویں جماعت میں سکول چھوڑ دیا ۔ کیونکہ اس کو پچھلے تین سالوں میں لڑکیاں مذاق اڑاتی تھی اور باقی لڑکیاں چاہتی تھیں کہ وہ سکول چھوڑ دے ان کا کہنا تھا کہ وہ سکول میں کیوں ہے ۔ اس کا خیال تھا کہ اسے اس لیے ڈرایا دھمکایا  جاتا ہے کیونکہ وہ اکیلی تھی۔[294]

نقصان دہ سماجی اقدار اکثر بڑی عمر کی لڑکیوں کو لوگوں میں ہراساں کرنے کا باعث بنتی ہیں ۔19 سالہ سما کو اس کے بھائیوں نے دسویں جماعت کے بعد سکول چھوڑنے پر مجبور کیا کیونکہ وہ اسے سرکاری کالج جانے کے لیے سفر کرنے کی اجازت نہ دے سکتے تھے اس نے مزید بتایا کہ میرا کوئی بھائی بھی میرے مزید پڑھنے کے حق میں نہیں تھا ۔ اس نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ کیسا ہے ؟ میرے بھائیوں نے کہا کہ میں ٹیوٹر سے پڑھ سکتی ہوں جو ہمارے گھر آکر مجھے پڑھائے۔ لیکن ایک لڑکی پیدل پڑھنے نہیں جا سکتی کیونکہ حالات اچھے نہیں ہیں اور لوگ مضحکہ خیز انداز میں اسے دیکھتے ہیں اور گھورتے ہیں ۔ میرے بھائی اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ لوگ میرے ساتھ ایسا نہ کریں کہ لوگوں کا میری جانب دیکھنا ہی مسئلہ بن سکتا ہے ۔ اس سے میں بھی تنگ ہوتی ہوں کہ لوگ اس قسم کے ہیں ۔لیکن میں پھر بھی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں ۔ میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔

سما نے کہا اس کے بھائی صرف اس صورت میں اجازت دے سکتے ہیں اگر اس کی ماں اسے سکول چھوڑ کر آئے اور واپس بھی لے کر آئے لیکن کوئی سرکاری کالج ان کے گھر کے قریب واقع نہیں ہے ۔ جو اس بات کو ممکن بنا سکے ۔ اس کو کوئی ایسا ٹیوٹر بھی نہ مل سکا ہے جو ان کے گھر آکر پڑھایا کرے اب وہ اک درزن کے طور پر کام کرتی ہے ۔ وہ اپنی آمدنی سے رکشا یا کار کرایہ ادا نہیں کر سکتی تاکہ وہ سکول جانے کا خرچہ برداشت کر سکے ۔ اس نے مزید کہا حالانکہ میں نقاب پہنتی ہوں پھر بھی میرے بھائیوں کو میرے کار یا رکشا استعمال کرنے میں مسئلہ ہوتا ہے ۔ [295]کیونکہ عدم تحفظ اپنی جگہ قائم ہے ۔ نقصان دہ اقدار کی وجہ سے جب لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے اس کے نتیجے میں ان کی نقل و حرکت محدود کر دی جاتی ہے اور انہیں سکول چھوڑنا پڑتا ہے ۔ تعلیم بر تحقیق کرنے والے ایک محقق نے کہا ہے کہ سکول کے راستے میں اگر کسی لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے تو وہ اپنے والدین کو نہیں بتاتی ۔ کیونکہ وہ اسے سکول سے ہٹا لیں گے مجھے خاص طور پر لڑکیاں اپنے والدین سے خوفزدہ ہوتی ہیں اگر انہیں کچھ ہو گیا جس میں ان کی کوئی غلطی نہ بھی ہوئی پھر بھی ان کے والدین انہیں سکول جانے سے منع کر دیں گے۔[296]

 اگر لڑکیوں کو ہراسگی کا نشانہ بنایا جائے اکثر وہ اور ان کے خاندان موردِ الزام ٹھہرائے جاتے ہیں سترہ سالہ حمیرہ نے کہا اگر میں سکول جاتی ہوں تو مجھے لڑکے ہراساں کرتے ہیں تو میرا والد مجھے سکول نہیں جانے دے گا ۔ کیونکہ لوگ دیکھیں گے اور کہیں گے ہمیں گلی میں ہراساں کیا گیا ہے ۔ حمیرہ سمیت وہ پانچ بہنیں ہیں اس نے کہا یہ ہماری عزت کا معاملہ ہے چاہے ہم عبایہ اور نقاب پہنتی ہیں جس میں ہمارا جسم اور کپڑے بھی چھپ جاتے ہیں ہم اپنی موجودہ رہائش میں کافی سالوں سے رہ رہے ہیں اس لیے لڑکے جانتے ہیں کہ اس گھر میں کافی لڑکیاں رہتی ہیں ۔ حمیرہ نے کہا کہ اس نے مدرسہ سے اپنی تعلیم 3سال پہلے مکمل کی تھی ۔ وہ گھر سے کسی خاص وجہ سے ڈاکٹر کو دکھانا یا کسی رشتے دار کو ملنا وغیرہ شامل ہوتا ہے ۔[297]

لڑکیاں کو ہراساں کیے جانے کا خطرہ ہی کئی خاندانوں کو لڑکیوں کو گھروں میں رکھنا پڑتا ہے ۔ عائشہ جو ایک بیٹی اور پانچ بیٹوں کی ماں ہے کہ ایک خاندان نے اپنی بیٹی کو اس لیے سکول سے ہٹا لیا کہ لوگ کیا کہیں گے اگر ہماری بیٹی کسی ایسی جگہ دیکھی گئی جو کہ عزت کا مقام نہیں ہے جبکہ وہ ابھی تیسری جماعت میں پڑھتی تھی ۔جب اس سے عزت کے مقام کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا ’’ وہ جانتی ہے کیونکہ وہ تو گھر سے باہر ہی نہیں نکلتی یہ بات اس کے خاوند نے کہی تھی ۔عائشہ کے خاوند مبشر نے کہا کہ اس نے سنا تھا کہ ایک لڑکی کو مقامی مدرسہ کے قریب ہراساں کیا گیا تھا ۔ اس نے کہا یہاں نجی سکول میں جہاں لڑکے منڈلاتے رہتے ہیں اور اپنے فون نمبر لکھ کے لڑکیوں کی طرف پھینکتے ہیں۔[298]

ہراساں کرنے والے کئی دفعہ خواتین اساتذہ کو بھی نشانہ بناتے ہیں ۔ بلوچستان میں ایک خاتون ٹیچر نے کہا جب اسی کی تعیناتی ایک نئے سکول میں ہوئی توشروع میں اس کا خاوند موٹر سائیکل پر اسے سکول چھوڑنے جاتا تھا ، لیکن اسے اور اس کے خائوند کو وہاں نوجوان لوگوں نے ہراساں کیا ۔ کیونکہ وہ اپنی بستی میں کسی غیرمرد کا آنا پسند نہیں کرتے تھے ۔ اس پر اس خاتون ٹیچر نے مشترکہ ٹرانسپورٹ استعمال کرنا شروع کی جس سے اسے ہراساں کرنے کا دور ختم ہو گیا ۔ لیکن اس سے مالی بوجھ بڑھ گیا تقریباً 4000روپے (38امریکی ڈالر )ماہانہ جو اس کی تنخواہ کا20فیصد تھا۔[299]

جرم

میں پڑھنے میں دلچسپی رکھتی تھی لیکن یہ دلچسپی ختم ہو گئی 22 سالہ محمودہ جس نے اجتماعی تشدد کی وجہ سے پانچویں جماعت میں سکول چھوڑ دیا تھا ۔ جولائی 2017 ، کراچی

جب سکول یا اس کے نواح میں تشدد  ہوتا ہے تو اس کے لڑکیوں کی تعلیم پر دورس نتائج ہوتے ہیں ۔ بارہ سالہ پری زاد نے کہا کہ اس کے سکول چھوڑنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس کے سکول کے کئی بچے اور جن میں ایک بچی اس کی اپنی کلاس سے تعلق رکھتی تھی اغوا ہوئی اور قتل ہو گئی پری زاد اور اس کے بھائی نے سکول چھوڑ دیا ۔ ایک وجہ تو قتل ہونے کا خوف تھا کیونکہ وہ بہت ڈرے ہوئے تھے۔[300]

HRWکے ساتھ انٹرویو سے ایک سال قبل انیسہ کا سب سے بڑا بیٹا اپنے آبائی گائوں میں مقامی جھگڑے میں قتل ہو گیا ۔ اس ڈر سے اس خاندان کا زندہ رہنے والا بیٹا بھی دشمنی کا نشانہ نہ بن جائے خاندان نے اچانک گائوں چھوڑ دیا ۔ انیسہ کی پانچ چھوٹی بیٹیاں سکول نہیں جاتی اور نزدیک کوئی سکول واقع بھی نہ تھا انیسہ نے مزید بتایا کہ اس کا خاندان غیر محفوظ محسوس کرتا ہے ۔[301]

کراچی میں رہنے والے کئی خاندانوں نے کہا کہ کچھ سال قبل ان کے علاقے میں اجتماعی تشدد کے واقعات جس سے بہت سی لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہوئی اور کئی خاندانوں کووہ علاقہ چھوڑنا پڑا ۔22 سالہ محمودہ نے کہا کہ ہم نے وہ سکول چھوڑ دیا کیونکہ وہاں کا ماحول اچھا نہ تھا ۔ محمود نے پانچویں جماعت میں سکول چھوڑ دیا ان دنوں اجتماعی تشدد عام تھا اور سکول آنا جانا کافی مشکل تھا ۔ سکول جاتے ہوئے ڈر لگتا تھا ۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے ۔ حالات بدل چکے ہیں خوف بھی نہیں لیکن پڑھنے کی عمر جا چکی ہے ۔لیکن اب ہم کیا پڑھیں ! اگر پہلے حالات اچھے ہوتے تو وہ پڑھ سکتی تھی اور اسے مختلف ملازمت بھی مل سکتی تھی ۔ محمود اس کی ماں اور چھوٹی بہن سب گھروں میں کام کرتی ہیں گھریلو ملازمہ کے طور پر۔[302]

23سالہ ربیعہ کی ایک ہم جماعت غائب ہو گئی تھی اور اس کی لاش دو دن بعد سرکاری سکول سے ملی تھی اس نے کہا اس نے لاش کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس کے بازئوں پر خراشیں تھیں ۔ ربیعہ کی عمر اس وقت گیارہ سال تھی ۔ اس کے بھائی کہتے ہیں کہ یہ غیر یقینی وقت ہے اس لیے انہوں نے اسے سکول سے ہٹا لیا ۔10 سال بعد تک خاندان والے بچوں کو سکول نہیں بھیجتے تھے ۔ ربیعہ کے خاندان میں تقریباً دس بچے ہیں جو کچھ نجی سکول میں پڑھتے جو اخراجات برداشت کر سکتے ہیں جبکہ باقی نہیں پڑھتے ۔ سب سے بڑا بچہ 14 سال کا ہے ۔ یہ لڑکی ہے جس نے پانچویں جماعت کے بعد سکوڑ چھوڑ دیا تھا ۔ربیعہ نے کہا اس لڑکی کے اخراجات برداشت کرنے والا کوئی نہیں ۔ اس لڑکی کا باپ ملائشیا چلا گیا تھا اور کبھی واپس نہیں آیا ۔ ہم اسے سرکاری سکول نہیں بھیج سکتے اور نہ ہی نجی سکول کے اخراجات برداشت کرسکتے ہیں۔[303]

50سالہ لائلہ جو قریب ہی رہتی ہے ۔ اس نے بھی اس قتل کا ذکر کیا اور کہا اس کے کئی بچوں نے اس واقعہ کے بعد سکول جانا چھوڑ دیا ۔ جس میں اس کا بڑا بیٹا بھی ہے ۔ بڑے بیٹے نے کہا کہ وہ سکول جانا محفوظ نہیں سمجھتا ۔خاندان نے اس بیٹی کو جو سکول میں پڑھ رہی تھی ۔ اس کو بھی سکول سے ہٹا لیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سکول میں پڑھنے والی بچیاں غائب ہو جاتی ہیں ایک اور بیٹاجو پڑھنا چاہتا تھا ۔ ہم نے اس کو قتل کے واقعے کے بعد تعلیم جاری رکھنے دی کیونکہ وہ لڑکا تھا۔[304]

اغوا کا خوف

’’’ کیونکہ وہ علاقہ اتنا ویران  تھا اگر وہاں کوئی مجھ پر حملہ کرتا یا غوا کر لیتا تو کوئی میری تلاشی نہ کر سکتا۔‘‘ 16 سالہ زنیرہ اپنے سکول کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا جہاں اس نے تعلیم ختم کردی تھی ۔(اگست 2017پشاور)

خاندان خاص طور پر اغوا سے خوفزدہ ہوتے ہیں جبکہ سکول کا فاصلہ لمبا اور طویل ہو۔ ہر سال اغوا ہونے کے صحیح اعداد و شمار کا علم ہونا مشکل ہے کیونکہ ان کو مختلف طریقوں سے اکٹھا کیا گیا ہے لیکن ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے اور خوف میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔[305]

29 سالہ علیشبا جو سات بچوں کی ماں ہے نے کہا کہ وہ اور اس کا خاوند اپنی بڑی بیٹیوں جن کی عمریں سات اور آٹھ سال کی تھیں ۔ سکول سے ہٹوا لیا تھا ، کیونکہ لڑکیوں کو پیدل سکول جاتے ہوئے کھیتوں میں سے گزرنا پڑتا تھا ۔ جہاں منشیات فروش اکٹھے بیٹھتے تھے اور انہیں خوف تھا ان میں کوئی ان کی بیٹیوں کو اٹھا نہ لے جائے ، اگر وہ رکشا کا خرچہ برداشت کر سکتے تو پڑھائی جاری رکھتیں لیکن ان کی جیب اس کی اجازت نہیں دیتی ، اب ان کی بیٹیاں گھر کے نزدیک واقعہ پارٹ ٹائم پڑھائی کے لیے جاتی ہیں۔[306]

یہ خوف اس وقت بہت حد تک بڑھ جاتا جب لڑکیاں جو ان ہوتی اور جنسی حملے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے کاملہ چھ بچوں کی اغوا جن میں چار بچیاں بلوغت کے قریب ہیں ۔ اس نے کہا اس کی بیٹیاں اس لیے سکول نہیں جا سکتی کیونکہ اس خاوند جو لڑکیوں کا باپ ہے اس بات سے خوفزدہ ہے جو نہی وہ گھر سے قدم باہر نکالیں گی کوئی ان کو اڑا لے جائے گا ۔[307]

اغوا اور لڑکیوں کے رومانوی سلسلے میں ملوث فرق بہت غیر واضح ہے عائشہ نے کہا لڑکیاں خوبصورت ہیں اور وہ خووفزدہ ہیں کہ کوئی ان کو لے اڑے گا ۔ عائشہ 8 بچوں کی ماں ہے ۔ اس کا کہنا ہے بچیوں کے اغوا اور ان کے کسی کے ساتھ رومانوی رشتے میں ملوث ہونے کا خطرے کی وجہ سے سکول چھوڑ دیا تھا ۔سکول چھوڑنے کے وقت ان کی عمریں بارہ سے تیرہ سال تھیں ۔ اس نے یہ بھی کہا اگر کوئی اس کی ایک بیٹی کی بے حرمتی کرتا ہے اس کا مطلب باقی بیٹیوں کی بے حرمتی بھی ہے ۔ اس نے کہا کہ اس کی ایک بیٹی نے سولہ سال کی عمر تک پڑھا تھا اور دوسری نے بارہ سال کی عمر تک کیونکہ وہ جلدی بلوغت تک پہنچ گئی تھی ، عائشہ نے کہا باقی دو بیٹیاں 12 اور 13 سال ہے وہ بھی جلد سکول چھوڑ دیں گی۔[308]

 

بین الاقوامی اور ملکی قوانین میں پاکستان کی ذمہ داریاں

مرد اور عورتوں کے درمیان بلا امتیازاور مساوی حقوق پاکستان کے ملکی قانون اور بہت سے انسانی حقوق کے معاہدوں میں شامل ہیں ۔ غیر امتیازی سلوک کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام بچوں بشمول لڑکیوں کو تعلیم تک مکمل رسائی حاصل ہو۔

تعلیم کا حق

تعلیم ایک بنیادی حق ہے جو بہت سے بین الاقوامی معاہدوں میں شامل ہے جن کی توثیق پاکستان نے کی ہے ۔  جس میں بچوں کے حقوق CRCاقتصادی سماجی اور ثقافتی حقوقicescrپر بین الاقوامی معاہدے شامل ہیں۔[309]

1973 میں جب پاکستان کا آئین اپنایا گیا تو اس میں ایک آرٹیکل ریاسی پالیسی کے اصولوں کی بابت بھی رکھا گیا ۔ ریاست کو پابند کیا گیا کہ وہ جہالت کو ختم کرے اور مفت ، لازمی پرائمری اور ثانوی تعلیم کم از کم ممکنہ مدت کے اندر مہیا کرے۔[310]

2010 میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 25Aکو متعارف کرایاگیا ۔ جس میں عدالتوں کے ذریعہ نافذ کرنے والے بنیادی حقوق شامل کیے گئے ۔ اس میں یہ بیان کیا گیا کہ ریاست5 سال سے 16 سال تک عمر کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم مہیا کرے گی ۔ اس کے لیے حکومت قانون سازی کرے گی۔[311]

آرٹیکل 25A کو ایک وفاق کے مختلف یونٹس میں مفت اور لازمی تعلیم ایکٹ اسلام آباد 2012

مفت اور لازمی تعلیم ایکٹ سندھ2013

مفت اور لازمی تعلیم ایکٹ پنجاب2014

بلوچستان لازمی تعلیم ایکٹ 2014 کا بھی حصہ بنایا گیا ہے لیکن اس بارے میں ضروری قانون سازی kpk،فاٹا ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ہونا ابھی باقی ہے۔

پاکستان خواتین کے خلاف تعصب یا امتیاز کی تمام صورتوں کو دور کرنے کے کنونیشن میں فریق تھا جس کے مطابق یہ ضروری ہے کہ خواتین کو مردوں کے برابر حقوق حاصل ہوں ۔ جس میں تعلیم بھی شامل ہے ۔[312] حقوقی کے لیے لازم ہے کہ ریاست اپنی فوری اورترقی پسندانہ ذمہ داریوں کو پورا کرے ۔ اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے اقتصادی ، سماجی اور ثقافتی حقوق (icescr) اس کی تشریح کرتی ہے اور ریاستوں کے لیے رہنمائی دیتی ہے کہ ان حقوق کو کیسے نافذ کیا جائے ؟ حکومتوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے (icescr) کی رہنمائی کے مطابق آگے اقدامات اٹھانے چاہیے جو کہ درست سمت میں اور مثبت ہوں ، کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ (icescr) کی جانب سے دی گئی ذمہ داریوں کو تیزی سے اور موثر طریقے سے ممکنہ طور پر مقاصد کا حصول کریں۔[313]

بین الاقوامی قانون کا تقاضا یہ ہے کہ بلا امتیاز ہرفرد کو ثانوی تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔[314] جس میں بنیادی تعلیم کی تکمیل [315]اور اسے مضبوط کرنا انسانی ترقی بھی شامل ہے ۔[316] اس میں ٹیکنیکل ٹریننگ اور پیشہ وارانہ تربیت بھی شامل ہے ۔[317]

HRWسمجھتی ہے کہ حکومتوں کو فوری اقدامات کرنے چاہیں تاکہ ثانوی تعلیم مفت سب کو یکساں طور پر میسر ہو ۔ ان کو چاہیے کہ جن لوگوں کو بنیادی تعلیم حاصل نہیں کی ان کو حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ یہ تعلیم حاصل کریں اور اس بابت کو ششوں کو تیز کیا جائے۔[318]

تعلیم کی بات اپنی ذمہداریوں کو حکومتوں کوچار بنیادی معیار سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے جن میں تعلیم کی دستیابی، رسائی ، قبولیت اور اپنانا شامل ہے ۔[319]

تعلیم کو ملک بھر میں دستیاب ہونا چاہیے ججس کے لیے مناسب اور معیاری تعلیم ڈھانچہ قائم کیا جائے جس تک سب کی رسائی ہو ، تعلیم کا معیار مناسب ہو اور سب کو قابل قبول ہو اور یہ طلبا مختلف سماجی اور ثقافتی ضرورتوں کو پورا کر سکیں ۔ حکومتوں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے دائرہ اختیار میں فعال تعلیمی ادارے اور پروگرام کا فی تعداد میں دستیاب ہیں فعال تعلیم اداروں میں عمارتیں اورلڑکے لڑکیوں کے لیے صاف پانی ، تربیت یافتہ اساتذہ صفائی ستھرائی کا انتظام اور اساتذہ کی معقول تنخواہیں اور پڑھانے کا مناسب مواد اورجہاںکہیں ممکن ہو لائبریری اورکمپیوٹر کی سہولت انفارمیشن ٹیکنالوجی۔[320]

بلا تفریق تعلیم

حکومتوں کو بلا تفریق تعلیم تک رسائی کی ضمانت دینی چاہیے اور اس کے علاوہ مفت تعلیم میں بھی کوئی امتیاز روا نہیں رکھنا چاہیے ۔ اقتصادی ،سماجی، ثقافتی حقوق کی کمیٹی کے مطابق کوئی بھی تفریق ، اخراج ، پابندی ، ترجیح یا کوئی اور مختلف سلوک تعصب پیدا کرتا ہے ۔ جو برائے راست یا براہ راست ہو سکتا ہے ۔ جس سے مساوی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔[321]

طالب علموں کے خلاف براہ راست امتیازی سلوک ختم کرنے کے لعاوہ حکومتوں کو چاہیے کے وہ بالواسطہ تفریق پیدا کرنے والے قوانین پالیسیوں یا طریقوں کو بھی ختم کرنے کی کوشش کریں ۔کیونکہ یہ بچوں کی تعلیم پر اثرانداز ہوتے ہیں ۔ جن کو مزید سہولیات درکار ہونا چاہیے ان بچوں کے مقابلے میں جن کے پاس بہت سہولیات پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔[322]

CEDAWمساوی حقوق کے لیے تمام شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں اس کا آرٹیکل (i)بیان کرتا ہے کہ خواتین کے خلاف تعصب سے مراد جنسی(SEX)کی بنیاد پر کوئی امتیاز اخراج یاپابندی ہے جو خواتین کی شناخت اور مرد اور عورت کے درمیانمساوات کو متاثر کرتی ہے ۔ چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا نہیں[323] حکومتوں کی یہ ذمہ داری بھی ہے وہ سماجی اور ثقافتی طریقوں سے پیدا ہونے والی خرابیوں کی درستگی کریں CEDAWچاہتی ہے کہ ریاستیں خواتین کے خلاف تعصب کو ختم کرنے کے لیے مناسب اقدام کریں جس میں ایسے موجود قوانین کو ختم کرنا یا ترمیم کرنا تو اعداد ضوابط رواج اور رسموں کی بابت قانون سازی کرنا شامل ہے جو خواتین میں تفریق پیدا کرتے ہیں ریاستیں اس چیز کی پابند ہیں کہ وہ خواتین کے خلاف تعصب پیدا کرنے والی کسی کام یا طریقہ کار سے اجتناب کریں[324] اور اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ پبلک ادارے یا حکام اس ذمہ داری کے مطابق کام کریں اور تمام ایسے اقدام کریں کہ خواتین کے خلاف تعصب کو ختم کیا جا سکے ۔CEDAWچاہتی ہے کہ حکومت حکومتیں مردوں اور عورتیں کے سیاسی اور سماجی طریقہ کار میں تبدیلی لائے تاکہ جنسی بنیادوں پر احساس برتری یا کم تری کو ختم کیا جا سکے ۔ رواج کی بنیاد پر تعصب کو ختم کیا جا سکے ۔بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین حکومتوں سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ عورتوں اور لڑکیوں کی قانونی اور سماجی حیثیت کو ان خاندان میں ختم کیا جائے ۔ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کا سکول سے زیادہ تعداد  میں اخراج بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اس تعصب کو برداشت کر رہا ہے۔[325]

معیارِ تعلیم

اس بات کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ حق تعلیم کی سنجیدہ کوشش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معیار تعلیم کو اپنی ترجیح بنائی جائے ۔ اقتصادی سماجی اور ثقافتی حقوق کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ حکومتیں اپنی ذمہ داریاں اسی صورت میں پورا کر سکتی ہیں کہ جب تعلیم نصاب اور تدریس کے طریقے طالب علموں کو قابل قبول ہوں ۔ کمیٹی نے کہا کہ اس چیز کی قبولیت مختلف عناصر پر منحصر ہے ۔ جن میں تعلیم کا اچھا معیار بھی شامل ہے ۔[326] مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی بچہ زندگی میں چیلنجوں چنویتیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوئے بغیر سکول نہ چھوڑے ۔[327] بچوں کے حق تعلیم کی بابت کمیٹی نے کہا کہ اچھی تعلیم کے لیے اچھے ماحول پر بھی توجہ دی جاتی ہے جس میں تدریس کے طریقے نصاب اور نتائج بھی شامل ہوتے ہیں۔[328]

ریاست کو چاہیے کہ یکساں مواقع فراہم کرتے ہیںہوئے بغیر کسی تفریق نسل ، رنگ ، جنس ، مذہب سیاسی و دیگر قومی نسلی یا معاشرتی جائیداد یا پیدائش ، رتبہ ، معذوری کے بچوں کو تعلیم فراہم کرے ۔[329] اس کے علاوہ قانون میں مہیا مساوات اور قانون کا مساوی تحفظ حکومت کو روکتا ہے کہ وہ ان کے درمیان متضاد فیصلے کرے ۔ ریاست تعصب کے خلاف پابندی کی مخالفت برائے راست کر سکتی ہے جب وہ غیر مساوی قوانین کو منسوخ نہیں کرتی یا ان کا انعقاد کرتی ہے اور یاپھر وہ ایسے اقداما ت کرنے میں ناکام رہتی ہے جس میں تعلیم میں امتیازی سلوک کو ختم کرنے میں ناکام رہتی ہے ۔[330] ریاست کو اپنے ملک کے قانونی نظام میں مناسب اقدامات کرنے چاہئیں[331] تاکہ متاثرہ افراد یا گروہ عدالتی داد رسی حاصل کر سکیں ۔ اقتصادی سماجی اور ثقافتی حقوق کی کمیٹی نے کیا ہے آرٹیکل iiسب کلاز iiمیں تعصب کی خلاف پابندی کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔( جو کہ بین الاقوامی معاہدے برائے اقتصادی ، سماجی ،ثقافتی حقوق )(ICESER)کو نہ ہی ترقی پذیر اورنہ ہی رسائل کی دستیابی پر ہے ۔ یہ مکمل اورفوری طور پر تعلیم پر لاگو ہوتی ہے اور بین الاقوامی امتیازی اور مناہی بنیاد پر محیط ہے ۔[332]

چائلڈ میرج اور چائلڈ لیبر سے تحفظ

کم عمری کی شادی پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم میں ایک بڑی رکاوٹ ہے اور جو بین الاقوامی قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ کیونکہ جن بچوں کی کم عمری میں شادیاں ہوتی ہیں ۔ ان کی اکثریت لڑکیاں ہیں اس لیے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ جنسی بنیاد پر تعصب ہے اور یہ انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف ورزی ہے ۔CRCخاصاور نمایاں طور پر کم عمری کی شادی کے مسئلے کو بیان نہیں کرتی لیکن کم عمری کی شادی اس کے کئی آرٹیکل سے متضاد ہے CEDAWواضح طور پر بیان کرتی ہے کم عمری کی شادی یا نکاح کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔[333]بین الاقوامی قانون میں یہ اتفاق ابھر رہا ہے کہ شادی کے لیے کم از کم 18 سال ہونی چاہیے اور HRWنے تمام حکومتوں کو کہا کہ وہ شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سال متعین کرے ۔ کمیٹیوں کی سفارشات کے مطابق CRCاور CEDAWکو شادی کے لیے لڑکوں اور لڑکیوں کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے لیے کہا گیا ہے ۔ چاہے شادی میں والدین کی مرضی شامل ہو یا نہ ہو [334]بچوں کے حقوق کے لیے کمیٹی نے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ شادی کے لیے کم از کم 18 سال ہونی چاہیے والدین کی رضا مندی شامل نہ ہو اور اس بات پرزور دیا کہ مختلف ممالک اپنے قانون کے مطابق بچے کی عمر تعین کریں اور اس عمر کا تعین CRCکی دفعات سے متضاد نہیں ہونا چاہیے ۔[335] ان کمیٹیوں کی سفارشات میں نوجوان لڑکیوں کی شادیوں کو دیر سے کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے ، جس سے ان کو صحت کے منفی اثرات سے تحفظ ملتا ہے ،کم عمری کی شادی میں جلد ماں بننا اور جلد بچے ہونا کے مسائل شامل ہیں جس سے لڑکیوں کی تعلیم میں خلل پڑتا ہے[336] اور وہ تعلیم مکمل نہیں کر سکتیں CEDEWکمیٹ ینے مشاہدہ کیا ہے کہ کم عمری کی شادی اور جلد ماں بننا لڑکیوں کے حقِ تعلیم میں رکاوٹ ڈالتا ہے اور لڑکیوں کے سکول چھوڑنے کی بڑی وجہ ہے ۔[337]

پاکستان میں شادی کی کم از کم عمر ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں مختلف ہوتی ہے ۔ کئی صوبوں میں اصلاحات کر کے قانون سازی کرتے ہوئے کم عمری کی شادی کو روکا ہے لیکن 2017میں سینٹ نے شادی کے لیے کم از کم عمر 16سے18سال کرنے کے بل کو مسترد کر دیا ۔[338]

CRCنے حکومتوں سے کیا ہے کہ وہ بچوں کو معاشی استحصال سے بھی تحفظ دیں اور ایسے کاموں سے بھی جو ان کے لیے خطر ناک ہیں اورتعلیم میں بھی روکاوٹ بنتے ہیں اور پھر ایسے جو بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں ۔ بچوں کی جسمانی ذہنی روحانی اور اخلاقی اور سماجی نشوونما میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں ۔[339] بین الاقوامی مزدوروں کی تنظیم (ILO)نے کم از کم کے کنونشن اور بچوں کے بد ترین مزدوری کے حالات میں بیان کیا کہ کون سے کام بچوں کے لیے مزدوری کی تعریف میں آتے ہیں اور ان کا تعلق بچوں کی عمر سے ہے اس کے علاوہ کام کی نوعیت اور کام کے دورانیہ سے ہے[340]اور اس کا تعلیم پر اثر اور اس کے لیے دوسرے عوام پر ہے ۔ آئین پاکستان کے مطابق کوئی بچہ 14 سال کی عمر سے کم کسی فیکٹری یا کان یا کسی خطر ناک ملازمت کے لیے کام نہیں کر سکتا ۔[341]

تشدد سے بچائو،بشمول جسمانی سزا ظالمانہ اور ہتک آمیز سزا

بین الاقوامی قانون کے مطابق حکومتوں کوچاہیے کہ وہ تمام مناسب اقدام بابت قانون سازی انتظامی سماجی اور تعلیم سے متعلقہ اٹھاتیں تاکہ بچوں کو جسمانی اور ذہنی تشدد ، ناروا سلوک ، ضربات،غفلت اور بے توجہی اور بد سلوکی سے بچا سکیں۔[342]

بچوں کی تعلیم کی تنظیم CRCکا کہنا ہے کہ حکومتوں کو تمام مناسب اقدامات کرنے چاہیے تاکہ سککولوں میں صحیح نظم و ضبط ہو جو بچوں کی انسانی تکریم کے ہم آہنگ ہو[343] بچوں کے حقوق کی کمیٹی نے جسمانی سزا کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بھی سزا جس میں جسمانی طاقت استعمال کی جائے جس سے کسی حد تک درد یابے سکونی پیدا ہو ، جو چاہے کتنی بھی کم کیوں نہ ہو ۔[344]

بین الاقوامی پابندی برائے تشدد و دیگر ظالمانہ سلوک یا سزا کا تعلق صرف جسمانی طور پر درد کرنے والے افعال سے نہیں ہو تاکہ بلکہ ایسے اقدامات جن سے متاثرہ طالب علم کو ذہنی اذیت ہو بھی اس میں شامل ہوتا ہے[345]بچے اور طالب علموں کو تعلیمی درسگاہوں میں جسمانی سزائوں سے تحفظ دینا چاہیے بشمول ڈانٹنا ، پھٹکارنا ،چاہے یہ تعلیمی اور انتظامی مقصد کے لیے ہی ہو ۔[346]

 

سفارشات

وفاقی حکومت پاکستان کے لیے

(۱) تعلیم کے لیے اخراجات اور وسائل میں اضافہ کیا جائے تاکہ تعلیم کے بجٹ کو یونیسیکو کی سفارش کردہ سطح پر لایا جا سکے ۔تاکہ پاکستان تعلیم پر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر سکے۔

(۲) صوبائی سطح پرتعلیمی بجٹ کے خرچ کی نگرانی کی جائے اور اس بات کی یقین دہانی کی جائے کہ پورا بجٹ خرچ ہو۔

(۳) وفاقی حکومت کے تعلیم مہیا کرنے میں صوبائی حکومتوں کی مدد کرنے اور مشورہ دینے کے کردار کو مضبوط کیا جائے تاکہ صوبوں کے درمیان عدم مساوات کو ختم کیا جا سکے ۔ اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ پرائمری اور ثانوی تعلیم تک ملک کے تمام حصوں میں یکساں رسائی ہو سکے اور صوبوں میں جنسی امتیاز ختم ہو سکے۔

(۴) صوبائی حکومتوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے سرکاری سکولوں کے معیارتعلیم بہتر بنایا جائے اور نکی سکولوں میں معیار کو بہتر کرنے کی یقین دہانی کرائے جائے

(۵)ملک کے تمام حصوں میں نصاب کی اصلاحات کو بہتر بنانے میں صوبوں کی مدد کی جائے جس میں بین الاقوامی معیار او رمشاورت کو مد نظر رکھا جائے ۔

(۶) نصاب میں صنفی برابری کا خیال رکھا جائے اور مکمل جنسی تعلیم شامل کی جائے ۔

(۷) جب نصاب کا اعلیٰ معیار حاصل کرلیا جائے تو نجی سکولوں اور مدرسوں میں غیر مذہبی مضامین کو پڑھانے کے لیے سرکاری نصاب لاگو کی پابندی کی جائے ۔

(۸) بین الاقوامی امداد برائے تعلیم کو جاری رکھا جائے ۔ اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ امداد ایسے شعبوں میں خرچ کی جا رہی ہے جہاں اس کی زیادہ ضرورت ہے ۔

(۹)تعلیم میں لڑکیوں کی شمولیت بڑھانے کی کوششوں میں مدد کی جائے اور پائیدار حل تیار کیا جائے۔ جس میں پسماندہ اآبادی کے دور دراز علاقوں میں بچوں کے لیے تعلیم اور کام کو یکجا کرنے کی حکمت عملی تیار کی جائے ۔

(۱۰) انسداد رشوت رستانی کی کوششوں کو شعبہ تعلیم میں یقینی بنایا جائے۔

(۱۱) صوبائی نظام تعلیم کی نگرانی کی مضبوط کیا جائے ۔خاص طور پر اس بات کی طرف دھیان دیا جائے کہ لڑکیاں پرائمری اور ثانوی تعلیم کو مکمل کریں ۔اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام صوبے لڑکیوں کی تعلیم کے درست اعداد وشمار مہیا کریں ۔ ان کے داخلے حاضری پرائمری اور ثانوی تعلیم میں لڑکوں اور لڑکیوں کی مساوات اہداف حاصل کریں۔

(۱۲) صوبائی حکومتوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے چائلڈ لیبر کو روکنے کے قوانین کو نافذ کیا جائے ۔

(۱۳) بغیر کسی استثنیٰ کے شادی کے لیے کم از کم عمر سرکاری طور پر18سال تک بڑھائی جائے اور 2030تک بچوں کی شادی ( کم عمری کی شادی ) کو ختم کرنے کے مقصد کو حاصل کیا جائے۔

(۱۴)اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ بچے جو حملوں اور دھمکیوں کی وجہ سے سکول جانا چھوڑ دیتے ہیں ۔ ان کے سکولوں کو دوبارہ تعمیر کیا جائے ۔ ان کے سکولوں کے فوجی استعمال کی وجہ سے فوری طور پر ان کو متبادل تعلیمی سہولیات اس نواح میں مہیا کی جائیں ۔

(۱۵) محفوظ سکول اعلامیہ کی توثیق کرتے ہوئے تعمیری اقدامات کرتے ہوئے سکولوں کے مسلح قوتوں اور گروپوں کی جانب سے سکولوں کے فوجی استعمال کو روکا جائے اور سکولوں اور یونیورسٹیوں کی حفاظت مسلح حملہ کی صورت میں یقینی بنائی جائے

(۱۶)طلبا، اساتذہ ،سکول اور یونیورسٹیوں پر حملہ کی صورت میں اور فوجی استعمال کی صورت میں ایک جامع پالیسی ان کی حفاظت کے لیے اختیار کیا جائے ۔

(۱۷) حملوں اور سکولوں کے فوجی استعمال سے ہونے والے فوجی نقصان خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کا مداوا کیا جائے ۔ حکومت کو چاہیے کہ لڑکیوں کی مدد کے لیے اقدامات کرے تاکہ ان لڑکیوں کی جن کی سکول تک رسائی ختم ہوگئی ہے ۔ تعلیم حاصل کر سکیں۔

(۱۸)حالت جنگ والے علاقوں میں باغیوں کے ساتھ مذاکرات میں بچوں کی تعلیم اور خاص طور پر لڑکیوں کی سکول تک رسائی کو ترجیح دی جائے۔

صوبائی حکومتوں کے لیے

(۱) صوبائی تعلیمی حکام کو ہدایت دی جائے تعلیمی بجٹ کے اندر لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیح دیں اور خاص طور پر سکولوں کی تعلیم اور بحالی ، خواتین اساتذہ کی بھرتی اور تربیت ، سامان کی فراہمی اور لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم میں شرکت کی بابت عدم توازن کے معاملے کو دور کرنے کے لیے ۔

(۲) تعلیم کے بجٹ کے اخراجات کی نگرانی اور اس بات کی یقینی بنائیں کہ تمام فنڈز کو استعمال کیا جا رہا ہے ۔

(۳)بچوں سے مشقت لینے پر پابندی کے قوانین کو نافذ کیا جائے ۔

(۴) صوبائی اور ضلعی سطح پر پولیس حکام کو ہدایت کی جائے کہ وہ کمیونٹی کی سطح پر سکولوں کے ساتھ کام کریں تاکہ طالب علموں کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی اور ان کو چاہیے سکولوں طلبا ،اساتذہ کو درپیش خطرات کی نگرانی کریں اور طالب علموں خاص طور پر لڑکیوں کو ہراسگی سے بچایا جائے ۔

(۵) تعلیمی حکام کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ حکومتی سکیورٹی ایجنسی اورغیر سرکاری مسلح گروہوں کے جانب سے سکول کے فوجی استعمال کی بات صحیح اعداد و شمار اکٹھے کیے جائیں ۔ ان اعداد و شمار میں تعلیمی اداروں کے نام اور ان کا محل و قوع بھی شامل ہونا چاہیے جو کہ فوجی استعمال میں رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ استعمال کے مقصد اور دورانیہ بھی درج کیا جائے ۔ یہ بھی بتایا جائے کہ فوجی استعمال سے پہلے ان تعلیمی اداروں میں کتنے طلبا زیر تعلیم تھے اور فوجی استعمال کے دوران طلبا کی حاضری کی صورتحال کیا تھی؟ مزید یہ بھی بیان کیا جائے کہ سکول نہ اآنے والے طلبا پر اثرات کیا تھے ؟ اور تعلیمی حکام نے سکولوں کے فوجی استعمال کو ختم کرنے کے لیے کیا اقدامات کئے اور سکول کو فوجی استعمال کے دوران کیا کیا نقصانات ہوئے جہاں اعداد و شمار کو صنفی بنیاد پر علیحدہ کیا جا سکتا ہے وہاں لڑکیوں پر غیر متوازن اثرات کو بھی مرتب کیا جائے ۔

صوبائی تعلیمی حکام کو

سرکاری سکولوں کی دستیابی میں اضافہ کیا جائے ۔

(۱) خاص طور پر لڑکیوں کے لیے نئے سکولوں کو بحال ، تعمیر اور قائم کریں ۔ جب تک کہ سرکاری سکول عام طور پر دستیاب نہیں تو اچھے معیار کے نجی سکولوں میں لڑکیوں کے لیے وظائف کا انتظام کیا جائے ۔

(۲) سکولوں کے حکام ، طلبا، کمیونٹی اور متعلقہ مقامی سرکاری حکام کے ساتھ مشاورت کر کے مفت پالیسی ٹرانپورٹ فراہم کی جائے ۔ خاص طور پر ان طلبا کے لیے جو سرکاری سکول جانے کے لیے لمبے اور غیر محفوظ راستہ طے کرتے ہیں۔

(۳) شہری علاقوں میں طالب علموں کو سرکاری سکولوں کی طرف سفر کرنے پر جزوی یا مکمل طور پر امداد یافتہ ٹرانسپورٹ کا پروگرام متعارف کیا جائے اور تعلیم میں لڑکیوںکی شرکت میں اضافہ کیا جائے ۔

(۴) پائیدار ترقی کے مقصد کے تحت پرائمری اور ثانوی تعلیم تک عام رسائی کو یقینی بنایا جائے۔سرکاری سکولوں میں تمام ٹیوشن ، رجسٹریشن اور امتحان کی فیس کو ختم کریں۔

  •  طلبا کو تمام سامان بشمول نوٹ بکس ، قلم ، پنسلیں اور سکول بیگ مہیا کیے جائیں۔
  •  یونیفارم پہننے کی شرط ختم کردی جائے یا پھر طلبا کو مفت یونیفارم مہیا کیے جائیں۔
  • طلبا کو درسی کتب فراہم کرنے کے نظام کو بہتر بنایا جائے ۔ جس میں تمام طلباکو تمام درسی کتابوں کی مفت اور بر وقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
  •  ہر سکول کے پرنسپل کو ہدایت کی جائے کہ وہ باقی سٹاف کے ساتھ مل کر سکول اآنے والے بچوں کی آبادیوں میں رابطہ کرے اور سکول نہ آنے والے بچوں کے خاندانوں کو قائل کریں کہ وہ اپنے بچوں کو سکول بھیجیں۔
  • اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سکول کی کسی طالب علم کو شناخت اور پیدائش کے
  • سرٹیفیکٹ کے عدم دستیابی کی بنا پر سکول چھوڑنے کے لیے نہ کیں۔
  •  سکولوںکو ہدایت کریں کہ وہ بچوں کو سال کے دوران کسی وقت بھی داخلہ کی اجازت دیں۔
  •  اس بات کو یقینی بنائے کہ سکول میں ایک فعال انتظامی کمیٹی قائم ہو اور سکول کے اساتذہ کو اس کمیٹی کے ساتھ کام کرتے ہوئے سکول نہ آنے والے بچوں کی نشاندہی کرے اور ان تک پہنچے۔
  •  لڑکیوں کے سکولوں میں وظائف ، کھانے کی تقسیم کھانے کے پروگراموں کے ذریعے غریب خاندانوں کی لڑکیوں کی طرف سے حاضری میں اضافے کے امکان کا جائزہ لیں۔
  • بچوں اور بالغوں کے لیے متبادل تعلیم تک رسائی بڑھانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کریں اور ان پر عمل درآمد کریں تاکہ جو بچے یا بالغ سکول جانے کی عمر میں نہیں پڑھ سکے وہ اب تعلیم حاصل کرلیں۔
  • سکولوں میں لڑکیوں کی تعداد بہتر کریں
  • تمام سکول ایک ایسا نظام وضع کریں جس میں سکول نہ جانے والے یا لمبے عرصے تک سکول سے غیرحاضر ہونے والے طالب علموں کا جائزہ لیا جائے۔ ان کی غیرحاضری کی وجوہات کا تعین کیا جائے اور کوشش کریں کہ وہ طالب علم دوبارہ سکول جاسکیں۔
  • لڑکیوں کے سکولوں کے ہر پرنسپل ہدایت کی جائے کہ علاقہ پولیس کے ساتھ کام کرتے ہوئے ایسی جگہوں کی نشاندہی کریں جہاں لڑکیوں کو پیدل سکول جاتے ہوئے ہراساں کیا جاتا ہے اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ مقامی رہنمائوں کو پولیس کو ان دھمکیوں کے بارے میں بتایا جائے تاکہ لڑکیوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدام اٹھائے جائیں۔

لڑکیوں کو ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کے واقعات مجاز حکام بشمول پولیس کے علم میں لائے جائیں ان کی باقاعدہ تفتیش کی جائے اور مناسب سزا کے لیے چارہ جوئی کی جائے۔

  • ہر سکول کو چاہیے کہ ایک طالب علموں اور ان کے والدین کے ساتھ مشاورت سے ایک سکیورٹی پلان تیار کیا جائے جوکہ مخلوط تعلیم اور لڑکیوں، سکولوں کے لیے جنسی  ہراستگی تحفظات کو مدِنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جائے۔
  • اساتذہ اور پرنسپل کے لیے رہنمائی کے نکات تیار کیے تاکہ لڑکیوں کی نگرانی کی جاسکے جن کو کم عمری کی شادی کا خطرہ درپیش ہے۔ جب کم عمری کی شادی کی نشاندہی ہونے کے بعد سکول سٹاف کو چاہیے کہ ان کے خاندان سے بات چیت کریں۔ ان کی کم عمری کی شادی کی حوصلہ شکنی کریں لڑکیوں کو سکول میں رہنے کی ترغیب دیں۔

جب لڑکیوں کی شادی ہو جائے تو سکول سٹاف کو چاہیے کہ وہ لڑکی کے خاندان اور ان کے سسرال والوں سے ملیں اور انہیں قائل کریں کہ وہ لڑکی کو تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دیں، حتیٰ کہ ماں بننے کے عمل کے دوران بھی اور جب بچے ہو جائیں تو تب بھی اور جن سکولوں میں بچوں کی حفاظت کرنے کے لیے عملہ موجود ہو پھر بھی۔

  • سرکاری نظام تعلیم کے ذریعے مڈل اور ہائی سکول تک لڑکیوں کی رسائی کو ممکن بنایا جائے اور اس کے لیے نئے سکول اور کالج قائم کیے جائیں اور جہاں ممکن ہو وہاں موجودہ سکولوں میں بڑی جماعتوں کا اضافہ کیا جائے۔

معیار تعلیم کو بہتر بنایا جائے

  •  سکولوں کی نگرانی اور معیار تعلیم بہتر بنایا جائے نہ صرف سرکاری سکولوں بلکہ نجی سکولوں اور مدرسوں کے نظام کو بھی۔ مزید کوالیفائیڈ اساتذہ کو تعینا ت کیا جائے۔
  • اساتذہ کی اہلیت کو یقینی بنایا جائے اور ان کی اچھی تنخواہیں دی جائیں جو ان کے رتبے کے مطابق ہوں۔ ان کو حوصلہ افزائی کے لیے مالی امداد دی جائے خاص طور پر خواتین اساتذہ کو، ملک کے پسماندہ علاقوں میں کام کرنے کے لیے، اساتذہ کے پڑھانے کا معیار اور حاضری کی نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا جائے۔

سکول اساتذہ کو جسمانی سزائیں دینے سے کھلے عام منع کیا جائے اور جو لوگ اس کی خلاف ورزی کریں ان کے خلاف انتظامی، انضباطی کارروائی کی جائے۔

  • تمام اساتذہ کی تربیت کے لیے کورسز لازمی قرار دیئے جائیں۔ جن میں تدریسی ٹریننگ اور متبادل طریقہ کار بھی شامل ہوں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اساتذہ کو تدریسی مواد اور آلات اور مناسب طور پر بڑے کلاس روم فراہم کیے جائیں۔
  •  اس بات کو یقینی بنایا جائے کے تمام نئے سکولوں کی مناسب چار دیواری ہو اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق محفوظ واش روم موجود ہوں اور پینے کا صاف پانی بھی میسر ہو۔ اسی طرح جو موجودہ سکول ہیںان میں بھی پینے کا صاف پانی، چار دیواری اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق واش روم مہیا کئے جائیں۔

شفافیت اور احتساب میں بہتری

رشوت ستانی اور اقربا پروری کے خلاف نظام کو مضبوط کیا جائے تاکہع جس کسی کو بھی رشوت اور اقربا پروری کی سرکاری تعلیمی حکام سے شکایت ہوںوہ ایک مؤثر نظام تک پہنچ سکیں اور اس کے لیے مقامی ضلعی صوبائی اور قومی سطح پر کارکردگی کا جائزہ لیا جاسکے اور اندرونی نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا جاسکے اور اسی بارے میں رائے کو عام کیا جائے۔

  • تمام اسامیوں کی بھرتی کے وقت یہ بات بیان کردی جائے کہ کسی بھی سطح پر رشوت کا مطالبہ ایک قومی جرم ہے اور اساتذہ کی بھرتی کے دوران یہ بات واضح کی جائے کہ کیسے درخواست دہندہ ایسے کسی مطالبے کو خفیہ طریقے سے رپورٹ کر سکتا ہے۔ کسی بھی سرکاری حکا مکے خلاف رشوت مانگنے پر اس کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی کی جائے۔

لازمی تعلیم کو فروغ دینا

مرحلہ وار پائیدار منصوبہ تیار کیا جائے تاکہ 2030ء تک تمام لڑکیاں اور لڑکے مفت معیاری پرائمری اور ثانوی تعلیم مکمل کریں۔ بتدریج لازمی تعلیم کو پورے ملک میں نفاذ کرے۔ اس میں عوامی آگاہی کا لائحہ عمل کمیونٹی لیڈرز کو شامل کرنا، نظام برائے نشاندہی کو لاگو کرنا اور جو ان بچوں کو واپس لائے جو سکول چھوڑ چکے ہیں۔ ان بچوں اور ان کے خاندان کو شامل کرنا تاکہ وہ دوبارہ پڑھائی جاری کرسکیں۔

لازمی تعلیم کی عمر کے تمام بچوں کی سرکاری سکولوں میں داخلہ اور ان کی مکمل تعلیم آٹھویں جماعت تک کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے۔

پاکستان میں غیرریاستی مسلح گروہ کے لیے

لڑکے اور لڑکیوں کے حق تعلیم کا احترام کیا جائے۔ ان تمام علاقوں جو حکومت مخالف طاقتوں کے زیراثر ہیں۔ تمام کمانڈرز اور جنگجوئوں کو واضح احکامات جاری کئے جائیں جن میں آفس، سکولوں، اساتذہ، طالب علموں اور ان کے خاندانوں پر حملوں اور دھمکیاں دینے سے منع کیا جائے۔

  • فوری طور پر سکولوں کے خلاف ان تمام حملوں کو روک دیا جائے جو قانونی طورپر فوجی مقاصد نہیں ہیں۔ ان افراد کے خلاف مناسب انضباطی کاروائی کی جائے جو سکولوں پر غیرقانونی حملوں کے ذمہ دار ہیں۔
  • لڑکیوں کی تعلیم پر دھمکیوں اور حملوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف ڈسپلن کی خلاف ورزی کے ضمن میں مناسب کاروائی کی جائے۔ کمانڈر اور جنگجوئوں کو حکم جاری کیا جائے کہ وہ سکولوں کی کاروائی میں مداخلت نہ کرے۔
  • کمانڈرز کو حکم دیا جائے کہ وہ سکول اور سکولوں کی جائیداد کو اپنے کیمپ، بیرکس دیگر تنصیبات اسلحہ جمع کرنے کے ڈپو کے لیے استعمال سے اجتناب کریں۔
  • سکولوں اور یونیورسٹیوں کے فوجی کے استعمال کے دوران جنگ ان رہنما اصولوں کو مدِنظر رکھیں۔ سکولوں اور آبادی قریب والے علاقوں میں دھماکہ خیز مواد اور دوسرے خودکار ہتھیاروں کا استعمال فوری طور پر بند کردیا جائے۔
  • پاکستان کی حمایت کرنے والے بین الاقوامی اداروں کو
  •  پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ بین الاقوامی اورملکی قوانین جو لڑکیوں کے حق تعلیم کی حمایت کرتے ہیں پر عمل درآمد کریں بشمول مندرجہ بالا سفارشات کے ۔
  • لڑکیوں کی تعلیم  کے لیے موجودہ یا اعلیٰ سطح پر مالی مدد جاری رکھیں تاوقتیکہ حکومت مناسب سرکاری بجٹ موجودہ نظام تعلیم کو چلانے کے لیے نہیں دیتی اور اس کو بڑھانے اور عالمی مقاصد برائے رسائی پرائمری اور ثانوی تعلیم حاصل نہیں ہو جاتی۔
  • سکولوں کی نئی تعمیرات کے لیے مدد کو یقینی بنایا جائے ۔ جس میں صاف پانی اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق واش روم مہیا کیے گئے ہوں اس کے علاوہ پہلے سے تعمیر شدہ سکولوں میں بھی پانی اور واش روم کی سہولت کے لیے امداد دی جائے۔
  •  امداد دینے والوں اور مقامی سطح پر خرچ کرنے والوں کے درمیان ہم آہنگی یا تعاون کو بہتر بنایا جائے ۔ تاکہ مدد کی بنیاد پر تعلیم کی سہولت پورے ملک میں مناسب طریقے سے ہو سکے۔
  • پاکستان حکومت کے ساتھ کام کرتے ہوئے سکولوں کے فوجی استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے اورسکیورٹی فورسز نے جن سکولوں پر قبضہ کیا ہے ۔ ان کو خالی کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے اور سکیورٹی فورسز کی پالیسیاں اور طریقہ کار جس سے سکولوں کی بہتر حفاظت ہوتی ہے کو فروغ دیا جائے۔
 

اظہار تشکر

یہ رپورٹ HRWکے محقق کی طرف سے لکھی گئی تھی ۔ اس تحقیق کی بنیاد HRW کے ریسرچر اور آزاد مشیر کی تحقیق ہے۔ ایلن مارٹز Elin Martinezجو کہ ایک بچوں کے حقوق کی محقق نے اضافی تحقیق کی ہے۔

اس رپورٹ لیزل جنتھولز Liesl Gerntholtzنے ڈائریکٹر ویمن رائٹسTom Porteousٹام پروٹس ڈپٹی پروگرام ڈائریکٹر،سروپ اعجاز پاکستان ریسرچر، Zama Neff،زیم نیف  بچوں کے حقوق کے ڈائریکٹرAisling Reidy ایزلنگ  ریڈی سنیئر لیگل ایڈوائزر نے مرتب اور نظر ثانی کی ۔

Agnieszka Bieleckaویمن رائٹس ڈویژن کی ایسوسی ایٹ نے معاونت کی Fran Fitzroy Hepkinsنے منتظمJose Martinezنے سینئر منتظم کے طور پر کام کیا۔

HRW اپنے تمام ماہرین سر گرم ارکان ، اساتذہ ، پرنسپل کمیونٹی لیڈرز کا شکریہ ادا کرتا ہے ۔جو بات چیت پر رضا مند ہوئے۔ ہمیں افسوس ہے ہم پاکستان کے حالات کے مطابق ہم ان NGOکا نام نہیں دے سکتے ہم ان تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو تعلیمی اصلاحات، بچوں کی تعلیم ، موجودہ نظام میں جو بچے تعلیم سے محروم ہورہے تھے ان میں سے چند کو تعلیم دلوانے میں کامیاب ہورہے ہیں ۔ ہم سب سے زیادہ ان خواتین اور بچوں کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمیں اپنے گھروں کے اندر آنے دیا اور اپنے مسائل کے بارے میں ہم سے بات کی۔

 

 

۱ ربعیہ ملک اور پالین روز ،‘‘پاکستان میں تعلیمی بجٹ :عمل درآمد کے مواقع ’’ ترقی کیلئے تعلیم پر اوسلو میں سیمینار2015

https://reliefweb.int/sites/reliefweb.int/files/resources/pakista.pdf ((رسائی12ستمبر2018،صفحہ نمبر3)

۲۔ پاکستان تحریک انصاف‘‘ روڈ ٹو نیا پاکستان ’’ پی ٹی آئی منشور 2018

http://insaf.pk/public/insafpk/content/manifesto  (رسائی12 ستمبر 2018، صفحہ نمبر 44)

۳ ۔ اقوام متحدہ کا بچوں کافنڈ(یونیسف) دنیا بھر کے بچوں کے اعدادو شمار دسمبر2017

https://data.unicef.org/resources/state-worlds-children-2017-statistical-tables/ (رسائی12ستمبر2018)

۴ ۔اقوام متحدہ کی تعلیمی سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسیکو) کے مطابق 2016 میں 4901479بچے سکول سے باہر تھے جن میں سے 3040280لڑکیاں تھیں اور 1861199لڑکے تھےیونسیکو کے شماریات کے ادارہ کے مطابق ’پاکستان

’’ http://uis.unesco.org/country/PK  (رسائی12ستمبر2018)

۵ایضاً

۶بیلہ رضاجمیل،پاکستان:12 سال کے تمام لڑکے اورلڑکیاں ۔ترقی کے لیے نازک راستہ ’’ ورلڈ ایجوکیشن بلاگ کی پوسٹ(بلاگ)گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ

, https://gemreportunesco.wordpress.com/2016/02/15/pakistan-all-girls-and-boys-in-school-for-12-years-a-critical-pathway-to-progress/ (  (رسائی12ستمبر2018)

۷ یونیسیکو ، تعلیم میں احتساب:وعدوںکی تکمیل ، گلوبل ایجوکیشن کمیٹی مانیٹرنگ رپورٹ2017/2018

http://unesdoc.unesco.org/images/0025/002593/259338e.pdf ((رسائی 12ستمبر2018،صفحہ 362.)

۸ ایضاً

۹ ایضاً

۱۰ کئی تعلیمی ماہرین جن کا انٹرویو اس رپورٹ کے لیے کیا گیا نے اپنے تحفظات کااظہا کیا کہ سرکاری سکولوں میں پڑھایا جانے والا نصاب معاشرے کی کچھ کشیدگیوں کی عکاسی کرتا ہے ۔صوبائی سطح پر پڑھائے جانے والے نصاب ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ یونسیکو بین الاقوامی بیورو آف ایجوکیشن‘‘ پاکستان :نصاب کا ڈیزائن اورترقی’’ تاریخ نہ دی گئی

www.ibe.unesco.org/curriculum/Asia%20Networkpdf/ndreppk.pdf ((رسائی12ستمبر2018)

ماہرین کی جانب سے مسلسل اظہار کردہ تحفظات کی باز گشت کو بیان کرتے ہوئے ایک انٹرویو دینے والی نے کہا کہ صوبائی سطح پر نصاب برین واشنگ کاایک طریقہ ہے جس کو پڑھانے سے کوئی تنقیدی سوچ پروان نہیں چڑھتی یہ مذہبی تعصب اور نقصان دہ سوچ کی غمازی کرتا ہے جو کہ دوسرے صوبوں اور نسلی گروہوں کی نمائندہ ہے اور یہ انتہا پسندی اور تشدد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ بنیاد پرستی تعلیم نہ ہونے کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ غلط تعلیم دینے کا ہے اُس نے یہ باتیں  ٹیلفونک انٹرویومیں میں کہیں ۔ ماہر تعلیم کا نام ظاہر نہیں کیا گیا 15ستمبر 2018۔یونیسیکو نے بھی ایسے ہی خیالات کااظہار کیا ہے تعلیم میں احتساب: اپنے وعدوں کی تکمیل ، گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ2017/2018

http://unesdoc.unesco.org/images/0025/002593/259338e.pdf (رسائی12 ستمبر2018،صفحہ 220-221. )

 

 

 

۱۱۔حکومت پاکستان کا شعبہ شماریات،‘‘ پاکستان کے سماجی اور رہائشی معیار کا جائزہ 2014-2015’’ مارچ 2016

http://www.pbs.gov.pk/sites/default/files//pslm/publications/PSLM_2014-15_National-Provincial-District_report.pdf (accessed September 12, 2018), pp. 17-24.

۱۲۔زچگی کے دوران اموات کی شرح (ایک لاکھ زندہ پیدا ہونے والے بچوں کی بنیاد پر تخمینہ) ورلڈ بینک

, https://data.worldbank.org/indicator/SH.STA.MMRT (accessed September 12, 2018).

 

۱۳۔اکتوبر 2016 میں پاکستان کی ایک ماڈل قندیل بلوچ کے بھائی نے اسے قتل کردیا تھا اس کے بعد عوامی احتجاج کے نتیجہ میں پارلیمنٹ نے اینٹی آنر کلنگ (عزت کے نام پر ہلاکتیں ) قانون منظور کیا ۔ اس نئے قانون میں سخت سزائیں شامل کی گئیں اور وارثوں کی طرف سے مجرموں کو معاف کرنے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا ایسے مجرم عام طور پر مقتولہ کے رشتہ دار ہی ہوتے ہیں ۔ یہ قانون منظور ہونے کے بعد بھی بہت بڑی تعداد میں نام نہاد عزت کے نام پر ہلاکتیں جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں تفتیش کرنے والوں اور مقدمہ چلانے والوں کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے ۔ عورتیں اور لڑکیاں ابھی بھی خطرے کی زد میں ہیں ۔سروپ اعجاز ،عزت کے نام پر ہلاکتیں نئے قانون کے باوجود بھی جاری ہیں ۔ ہیومن رائٹس واچ کا مراسلہ 25 ستمبر 2017

https://www.hrw.org/news/2017/09/25/honor-killings-continue-pakistan-despite-new-law.

۱۴۔مثال کے طور پر ہیومن رائٹس واچ کے انٹرویو کے ساتھ بسیلہ کراچی-31 جولائی 2017

۱۵۔انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز،(پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹر میں تعلیم :میپنگ اور میوزنگ)2010

i-saps.org/upload/report_publications/docs/1401025704.pdf (accessed September 12, 2018).

۱۶۔ایضاً

۱۷۔ آل پاکستان پرائیویٹ سکول فیڈریشن .

http://www.pakistanprivateschools.com/ (accessed September 12, 2018).

۱۸۔مثال کے طور پرسبرینا Sabrina tavernise  ‘‘پاکستان کے مذہبی سکول خلا کو پر کرتے ہیں لیکن عسکریت پسندی کو بھی فروغ دیتے ہیں نیو یارک ٹائمز 3مئی 2009

https://www.nytimes.com/2009/05/04/world/asia/04schools.html (accessed September 12, 2018).

۱۹۔ ہمارے لیے سیٹزن فائونڈیشن ،تاریخ ندارت

http://www.tcf.org.pk/#about (accessed September 12, 2018).

۲۰۔ہیومن رائٹس واچ کا کمیونٹی کی بنیاد پر قائم تظنیم کے ڈائریکٹر کے ساتھ انٹرویو(نام ظاہر نہ کیا گیا کراچی27جولائی2017)

۲۱۔ہیومن رائٹس واچ کا این جی او NGO

۲۲۔ ہیومن رائٹس واچ کا فرخندہ کے ساتھ پشاور میں انٹرویو 6اگست 2017کئی دفعہ تعلیم کی دستیابی امتیازی سلوک ہوتا ہے ۔ مثلاً ایک ماں نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ پشاور میں ایک سکول جو افغان بچوں لڑکوں کے لیے پرائمری اورسکینڈری تعلیم دیتا ہے جبکہ لڑکیوں کو صرف پرائمری تعلیم

۲۳۔ہیومن ائٹس واچ کا ثنا کے ساتھ انٹرویو کراچی 30جولائی 2017

۲۴۔ہیومن رائٹس واچ کا مریم اور تحریم کے ساتھ انٹرویو کراچی31جولائی 2017

۲۵۔ ہیومن رائٹس واچ کا سرکاری پرائمری سکول کی ٹیچر کےساتھ انٹرویو (نام ظاہر نہ کیا گیا )کراچی 26جولائی 2017

۲۶۔ہیومن رائٹس واچ کا فضیلہ کے ساتھ انٹرویو کراچی27جولائی 2017

۲۷۔نادیہ صدیقی اور سٹیفن گو رارڈ ‘‘ پاکستان میں سرکاری اور نجی سکولوں کا موازنہ سب کے لیے تعلیم کی فراہمی کا بہترین طریقہ ’’ انٹر نیشنل جنرل آف ال جنرل آف ایجوکیشن ریسرچ 82،

https://doi.org/10.1016/j.ijer.2017.01.007 (accessed September 12, 2018).

۲۸۔ ایضاً

۲۹۔ دیکھیں مثال کے طورپر : محکمہ تعلیم و خواندگی حکومت سندھ ،‘‘ سندھ تعلیم سیکٹر پلان2014-218’’

https://www.globalpartnership.org/content/education-sector-plan-2014-2018-sindh-province-pakistan (accessed September 12,

 2018); School Education Department, Government of Punjab, “Punjab School Education Sector Plan 2013-2017,” June 2013,

http://aserpakistan.org/document/learning_resources/2014/Sector_Plans/Punjab%20Sector%20Plan%202013-2017.pdf (accessed September 12, 2018); Department of Elementary and Secondary Education, Government of Khyber Pakhtunkhwa, “Education Sector Plan 2010-2015,” April 2012, http://www.aserpakistan.org/document/learning_resources/2014/Sector_Plans/KP%20Sector%20Plan%202010-2015.pdf (accessed September 12, 2018); Policy Planning and Implementation Unit (PPIU), Education Department, Government of Balochistan, “Balochistan Education Sector Plan 2013-2018,” 2014, http://planipolis.iiep.unesco.org/sites/planipolis/files/ressources/pakistan_balochistan_education_sector_plan.pdf (accessed September 12, 2018).

۳۰۔ہیومن رائٹس واچ کا انٹروی عزیزہ کے ساتھ26 جولائی 2018

۳۱۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایک چھوٹے قصبہ کے نجی سکول یا پرائیویٹ سکول کے ہیڈ ماسٹر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) پنجاب 19 جولائی2017

۳۲۔ پاکستان میں گیارہویں اور بارہویں جماعت انٹر میڈیٹ کالجز میں پڑھائی جاتی ہے جنہیں اکثر کالج ہی کہا جاتا ہے

۳۳۔ہیومن رائٹس واچ کا علیمہ کے ساتھ انٹرویو کراچی 27جولائی2017

۳۴ ۔ہیومن رائٹس واچ کا ایک کمیونٹی کی بنیاد پر قائم تنظیم کے کارکن کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) کراچی 27جولائی2017

۳۵۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایک چھوٹے قصبہ کے نجی سکول کے ہیڈ ماسٹر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) پنجاب 19جولائی 2017

۳۶۔ ہیومن رائٹس واچ کا رضیہ کے ساتھ انٹرویو کراچی 29جولائی 2017

۳۷۔‘‘ نچلے اور متوسط آمدنی والے ملکوں میں تعلیمی ہداف 2030تک پہنچا : اخراجات اوربجٹ میں فرق (ایفا) گلوبل مانیٹرنگ رپورٹ 2015،تعلیم سب کے لیے ۔200-2015:کامیابیاں اور مشکلات ۔Annababette Wils2015

http://unesdoc.unesco.org/images/0023/002325/232560e.pdf (accessed September 12, 2018), p. 12.

۳۸۔یونیسیکو باشمول‘‘ تعلیم2030لائحہ عمل : دسمبر 2015آرٹیکل105

http://unesdoc.unesco.org/images/0024/002456/245656e.pdf (accessed September 12, 2018).

۳۹۔یونیسیکو تعلیم میں احتساب: اپنے وعدوں کو پورا کرنا گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ 2017- 2018

http://unesdoc.unesco.org/images/0025/002593/259338e.pdf (accessed September 12, 2018), p. 265

تعلیم پر حکومتی اخراجات کل(جی ڈی پی ) کی شرح : پاکستان ، ورلڈ بینک

http://unesdoc.unesco.org/images/0023/002322/232205e.pdf(accessed September 12, 2018), p. 243

۴۰۔تعلیم پر اخراجات کی شرح کل بجٹ میں سے پاکستان: ورلڈ بینک

https://data.worldbank.org/indicator/SE.XPD.TOTL.GB.ZS?locations=PK

 (accessed September 12, 2018); “Government expenditure on education, total (% of GDP): Pakistan,” World Bank, https://data.worldbank.org/indicator/SE.XPD.TOTL.GD.ZS?locations=PK (accessed September 12, 2018).

۴۱۔۔ Andreas Benz ‘‘ پاکستان میں سکولوں کی تعلیم کا بحران : حکومت کی نا کامی اور بڑھتے ہوئے نجی تعلیمی سیکٹر میں نئی امیدیں’’ بین الاقوامی ایشین فورم 

Education Sector,” Internationales Asienforum, 43 (2012), No.3–4, http://crossasia-journals.ub.uni-heidelberg.de/index.php/iaf/article/viewFile/186/181 (accessed September 12, 2018), pp. 225-226

۴۲۔ منسٹری آف فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ حکومت پاکستان نیشنل قومی ایجوکیشن پالیسی 2017،2017

http://www.moent.gov.pk/userfiles1/file/National%20Educaiton%20Policy%202017.pdf (accessed September 12, 2018), p. 160

۴۳۔ہیومن رائٹس واچ کا بذریعہ فون ایک ماہر تعلیم کے ساتھ انٹرویو (نام ظاہر نہ کیا گیا )15ستمبر2018

۴۴۔۔ہیومن رائٹس واچ کا ایک این جی او کے سربراہ کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) پنجاب20جولائی2017

۴۵۔ہیومن رائٹس واچ نے ایک ماہر تعلیم سے بذریعہ فون انٹرویو کیا ( نام ظاہر نہ کیا گیا )15 ستمبر  2018ہیومن رائٹس واچ نے ایک ماہر تعلیم سے انٹرویو کیا ( نام ظاہر نہ کیا گیا )8ستمبر 2018

۴۶۔ ہیومن رائٹس واچ نے کمیونٹی تنظیم کے ڈائریکٹر  کے ساتھ انٹرویو کیا ( نام ظاہر نہ کیا گیا )27جولائی 2017کراچی

                A۴۷۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کا 1973 کا آئین آرٹیکل 25-

http://na.gov.pk/uploads/documents/1431341153_169.pdf (accessed September 13, 2018), article 25A.

۴۸ ۔ہیومن رائٹس واچ کا حفصہ اور زنیشہ کے ساتھ انٹرویو پشاور 8 اگست 2017

۴۹۔ہیومن رائٹس واچ کا صفینہ کے ساتھ انٹرویو کراچی 26 جولائی2017

۵۰۔ہیومن رائٹس واچ کا تحریمہ کے ساتھ انٹرویو کراچی25 جولائی2017

۵۱۔ ہیومن رائٹس واچ کا سحر کے ساتھ انٹرویو کراچی25 جولائی2017

۵۲۔ ہیومن رائٹس واچ کا سائرہ کے ساتھ انٹرویو کراچی26 جولائی2017

۵۳۔ ہیومن رائٹس واچ کا پلوشہ کے ساتھ انٹرویو پشاور 5 اگست 2017

۵۴۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایک این جی او کے سربراہ سے انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) پنجاب20 جولائی2017

۵۵۔ ہیومن رائٹس واچ کاایک لوکل کونسلر سے انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) پشاور 7اگست 2017

۵۶۔ مثال کے طور پر ہیومن رائٹس واچ کا متاز کے ساتھ انٹرویو پشاور 7 اگست2017

۵۷۔ مثال کے طور پر ہیومن رائٹس واچ کا ایک سرکاری سکول کے ٹیچر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) پشاور 8 اگست 2017

۵۸۔حکومت پاکستان کے شماریات کے بیورو 2016 میں سماجی معیار کی نشاندہی کا پیمانہ http://www.pbs.gov.pk/sites/default/files//SOCIAL%20INDICATORS%202016%20%20(FINAL)%20%20COLOUR%201.pdf (accessed September 12, 2018), pp. 56-57.

 ۵۹۔ ایضاًپیج نمبر 58

۶۰۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایک ماہر تعلیم کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا)15ستمبر2018

۶۱-ہیومن رائٹس واچ کا ایک ماہر تعلیم کے ساتھ انٹریو ( نام ظاہر نہ کیا گیا )15 ستمبر 2018

 ۶۲۔ ہیومن رائٹس واچ کا ماہر تعلیم کے ساتھ انٹرویو( یو کے ) 2018

۶۴۔ ہیومن رائٹس واچ کا عائشہ کے ساتھ انٹرویو( پشاور )6 اگست 2017

 

۶۵۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان ‘‘ بلوچستان ایجوکیشن سیکٹر منصوبہ 2013-2018’’2014 صفحہ نمبر 53

 ۶۶۔ ہیومن رائٹس واچ کا بینش کے ساتھ انٹرویو 18جنوری 2018بلوچستان

۶۷۔ ہیومن رائٹس واچ کا غزال کے ساتھ انٹرویو کراچی30جولائی2017

۶۸۔ ہیومن رائٹس واچ نے ایک پرائیویٹ سکول کے پرنسپل کا انٹرویو کیا ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) لاہور19 جولائی2017

 ۶۹ ہیومن رائٹس واچ کا عاصمہ اور اس کے والدین سے انٹرویو ۔لاہور18 جولائی2017

۷۰۔ مثال کے طور پر ہیومن رائٹس واچ نے بینا کا انٹرویو کیا ۔کراچی30جولائی2017

۷۱۔ہیومن رائٹس واچ نے ایک قصبے میں پرائیویٹ سکول کے ہیڈ ماسٹر سے انٹرویو کیا ۔ پنجاب19 جولائی2017

۷۲۔ ہیومن رائٹس واچ  نے عاصمہ کا انٹرویو کیا ۔پنجاب19 جولائی 2017

۷۳۔ ہیومن رائٹس واچ کا منیٰ کا انٹرویو ۔ پنجاب19 جولائی 2017

۷۴۔ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل

[74] Transparency International, “Corruption Perception Index 2017,” https://www.transparency.org/news/feature/corruption_perceptions_index_2017 (accessed September 12, 2018).

۷۵۔ہیومن رائٹس واچ کا ایک کمیونٹی تنظیم کے ڈائریکٹر سے انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) کراچی 27جولائی 2017

۷۶۔ ہیومن رائٹس واچ کاسرکاری پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر سے انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) کراچی26 جولائی2017

۷۷۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایک ماہر تعلیم کے ساتھ انٹریو ( یو کے )2018

http://unesdoc.unesco.org/images/0025/002593/259338e.pdf (accessed September 12, 2018), p. 269.

۷۸۔ ہیومن رائٹس واچ کا کمیونٹی تنظیم کے ڈائریکٹر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) کراچی 27 جولائی2018

 ۷۹۔یونیسیکو تعلیم میں احتساب : ہمارے وعدوں کا پورا کرنا (گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ 2017-218)

۸۰۔ہومین رائٹس واچ کا ایک نجی سٹاف ممبر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) لاہور18 جولائی2017

۸۱۔ ہیومن رائٹس واچ کا کمیونٹی تنظیم کے ڈائریکٹر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) کراچی27 جولائی2017

۸۲۔ ہیومن رائٹس واچ کے ساتھ بینا اور علینا کا انٹرویو کراچی 27 جولائی 2017       

  ۸۳۔ ایضاً

۸۴۔ایضاً

۸۵۔ ہیومن رائٹس واچ کافضیلہ کے ساتھ انٹرویو لاہور 18جولائی2017

 ۸۶۔ ہیومن رائٹس واچ کا سرکاری مڈل سکول کے ٹیچر کے ساتھ انٹرویو ( نام نہ ظاہر کیا گیا ) بلوچستان جنوری2018

 ۸۷۔ایضاً                   

۸۸۔مبارک زیب خان ‘‘نئے خطے غربت سے پاکستان کا 3/1 آبادی کا حصہ ‘‘ غربت میں چلا گیا ‘‘ ڈان 8 اپریل 2016

https://www.dawn.com/news/1250694 (accessed September 12, 2018)              

 ۸۹۔ ہیومن رائٹس واچ کاپرزا کے ساتھ انٹرویو لاہور17 جولائی217

 ۹۰۔مثال کے طور پر ہیومن رائٹس واچ کا بے نظیر کے ساتھ انٹرویو ۔ پشاور 7 اگست 2017

 ۹۱۔ ہیومن رائٹس واچ کاضریفہ کے ساتھ انٹرویو بلوچستان 18 جنوری2018.

 ۹۲۔ ہیومن رائٹس واچ کا عقیبہ کے ساتھ انٹرویو ۔ لاہور21 جولائی 2017

 ۹۳۔ ہیومن رائٹس واچ کا ازوا ، عائشہ اور سدرہ کے ساتھ انٹرویو ۔ کراچی31 جولائی2017

۹۴۔ ہیومن رائٹس واچ کا عقیبہ سے انٹرویو ۔21 جولائی2017 لاہور

۹۵۔ ہیومن رائٹس واچ کا پرزا سے انٹرویو ۔فضیلہ ۔لاہور19 جولائی2017اور عقیبہ 21 جولائی 2017لاہور

 ۹۶۔ ہیومن رائٹس واچ کا بصرہ کے ساتھ انٹرویو ۔لاہور18 جولائی 2017اور عقیبہ لاہور21 جولائی2017

 ۹۷۔ مثال کے طور پر ہیومن رائٹس واچ نے بے نظیر کا انٹرویو 7اگست 2017 پشاور

۹۸۔ ہیومن رائٹس واچ نے ایک چھوٹے قصبے کے نجی سکول کے ہیڈ ماسٹر سے انٹرویو کیا ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) 19 جولائی2017پنجاب

۹۹۔ ہیومن رائٹس واچ نے عقیبہ کا انٹرویوکیا ۔ لاہور21 جولائی2017

 ۱۰۰۔ ہیومن رائٹس واچ سے پاوینا کا انٹرویو ۔ کوئٹہ 17 جولائی2018

 ۱۰۱۔ہیومن رائٹس واچ سے مسکان کے ساتھ انٹرویو 18جولائی2018 لاہور

۱۰۲۔ ہیومن رائٹس واچ کا این کے ساتھ انٹرویو 18 جولائی2017لاہور

۱۰۳۔ ہیومن رائٹس واچ علیما کے ساتھ انٹرویو 27 جولائی2017 کراچی

۱۰۴۔ ہیومن رائٹس واچ کا ناظمین کے ساتھ انٹرویو 29 جولائی2017 کراچی

۱۰۵۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایوا کے ساتھ انٹرویو 7اگست 2017 پشاور

۱۰۶۔ ہیومن رائٹس واچ کا شمائلہ کے ساتھ انٹرویو 17 جنوری 2018 کوئٹہ

۱۰۷۔ ہیومن رائٹس واچ کا اسدا کے ساتھ انٹرویو 18جنوری 2018 بلوچستان

۱۰۸۔ ہیومن رائٹس واچ کا نجیبہ کے ساتھ انٹرویو 17جنوری 2018 کوئٹہ

۱۰۹۔ ہیومن رائٹس واچ کا سحر کے ساتھ انٹرویو 25 جولائی2017 کراچی

 ۱۱۰۔ ہیومن رائٹس واچ کا بشریٰ کے ساتھ انٹرویو 26جولائی2017 کراچی

۱۱۱۔ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف بلوچستان،‘‘ بلوچستان ایجوکیشن سیکٹر منصوبہ 2013-2018’’،صفحہ 10

۱۱۲۔ ہیومن رائٹس واچ کا مریم اور تحریم کے ساتھ انٹرویو 31جولائی 2017 کراچی

۱۱۳۔ ہیومن رائٹس واچ کا عاطفہ اور ظفرا کے ساتھ انٹرویو 26 جولائی2017 کراچی

۱۱۴۔ ہیومن رائٹس واچ کا لائلہ کے ساتھ انٹرویو 27 جولائی2017 کراچی

۱۱۵۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایک این جی اوز کے سربراہ کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) پنجاب20 جولائی2017

۱۱۶۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایک سرکاری پرائمری سکول کے ٹیچر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) کراچی26 جولائی2017اس انٹرویو میں سرکاری ہائی سکول پشاور کے ٹیچر بھی شامل تھے8 اگست 2017 پشاور

۱۱۷۔ ہیومن رائٹس واچ کا کمیونٹی کی بنیاد پر قائم تنظیم کے ڈائریکٹر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) کراچی27 جولائی2017

۱۱۸۔ ہیومن رائٹس واچ کا سرکاری ہائی سکول کے ٹیچر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) پشاور 8 اگست 2017

۱۱۹۔ ہیومن رائٹس واچ کا پرنسپل سرکاری سکول کا انٹرویو ( نام ظاہرنہ کیا گیا ) کراچی 30جولائی 2017

۱۲۰۔ ہیومن رائٹس واچ کا مریان کے ساتھ انٹرویو پشاور 6 اگست 2017

۱۲۱۔ ہیومن رائٹس واچ کا یوتھ ورکرز کے سربراہ کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) کراچی 30 جولائی 2017

۱۲۲۔ ہیومن رائٹس واچ کا پرائیویٹ سکول کے ٹیچر کے ساتھ انٹرویو لاہور 19 جولائی 2017اور ایک چھوٹے قصبہ کے نجی سکول کے ہیڈ ماسٹر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) پنجاب19 جولائی2017

۱۲۳۔ ہیومن رائٹس واچ کایوتھ سنٹر کے عملہ سے انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) 30جولائی2017 کراچی

۱۲۴۔ ہیومن رائٹس واچ کا گورنمنٹ ہائی سکول کے ٹیچر سے انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) 8 اگست 2017 پشاور

 ۱۲۵۔ ہیومن رائٹس واچ کا گورنمنٹ ہائی سکول کے ٹیچر سے انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) 8 اگست 2017 پشاور

۱۲۶۔ ہیومن رائٹس واچ کا مرضیہ کے ساتھ انٹرویو 30 جولائی 2017 کراچی

۱۲۷۔ ہیومن رائٹس واچ کا نجی سکول کے سٹاف ممبر کے ساتھ انٹرویو (19 جولائی 2017لاہور)

۱۲۸۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایک چھوٹے قصبہ کے نجی سکول کے ہیڈ ماسٹر کے ساتھ انٹرویو (نام ظاہر نہ کیا گیا )19 جولائی2017 پنجاب

۱۲۹۔ ہیومن رائٹس واچ کا انوشہ اور ظفیرہ کے ساتھ انٹرویو (کراچی 31 جولائی 2017)

۱۳۰۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایک این جی اوز کے ڈائریکٹر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) 20جولائی 2017 پنجاب

۱۳۱۔ ہیومن رائٹس واچ گورنمنٹ پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا )26 جولائی2017 کراچی

۱۳۲۔ ہیومن رائٹس واچ کا ماہرتعلیم کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) یو کے 2017

۱۳۳۔ یونیسیکو تعلیم میں احتساب : اپنے وعدوں کو پورا کرنا ۔ گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ 2017-2018صفحہ356

۱۳۴۔’’ہیض کے معاملات : یہ آخری حد ہے ’’ گلوبل پارٹنر شپ آف ایجوکیشن 9 مارچ 2017Catilin Gruer, ۔

https://www.globalpartnership.org/blog/menstruation-matters-thats-bottom-line (accessed September 13, 2018).

۱۳۵۔ ہیومن رائٹس واچ کا انوشہ اور ظفیرہ کے ساتھ انٹرویو (کراچی 31 جولائی20147)

 

۱۳۶۔ ہیومن رائٹس واچ کا شازیہ کے ساتھ انٹرویو ( 19 جولائی2017لاہور)

۱۳۷۔ ہیومن رائٹس واچ کا ماہر تعلیم کے ساتھ انٹریو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) یو کے 2017

۱۳۸۔ ہیومن رائٹس واچ کا کمیونٹی کی بنیاد پر قائم تنظیم کے ڈائریکٹر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا)کراچی27 جولائی2017

۱۳۹۔ ہیومن رائٹس واچ کا گورنمنٹ پرائمری سکول کے ٹیچر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا )بلوچستان 18 جنوری2017

۱۴۰۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایک گورنمنٹ پرائمری سکو ل کے ہیڈ ماسٹر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا )کراچی26 جوائی2017

۱۴۱۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایک این جی اوز کے کارکن   کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا )21 جولائی 2017 لاہور

۱۴۲۔ ہیومن رائٹس واچ کا این جی اوز کے سربراہ کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) 20 جولائی2017 پنجاب

۱۴۳۔ ہیومن رائٹس واچ کا ماہر تعلیم کے ساتھ فون پر انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) 15 ستمبر 2018

۱۴۴۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایک چھوٹے قصبے کے نجی سکول کے سربراہ کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا )19 جولائی2017 پنجاب

۱۴۵۔ ہیومن رائٹس واچ کا نجی سکول کے پرنسپل کے ساتھ انٹرویو (نام اور جگہ کا نام ظاہر نہ کیا گیا )جولائی 2017

۱۴۶۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایک چھوٹے قبصہ کے نجی سکول کے ہیڈ ماسٹر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) پنجاب19 جولائی2017

۱۴۷۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایک این جی اوز کے سربراہ کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) 20 جولائی 2017 پنجاب

۱۴۸۔ ہیومن رائٹس واچ کا ایک نجی سکول کے پرنسپل کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) لاہور19 جولائی2017

۱۴۹۔ ہیومن رائٹس واچ کا گل رخ کے ساتھ انٹرویو (31 جولائی 2017 کراچی)

۱۵۰۔ ہیومن رائٹس واچ کا باسمہ  اور نجمہ کے ساتھ انٹرویو (5 اگست 2017 پشاور)

۱۵۱ ۔ہیومن رائٹس واچ کارخسانہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 29 جولائی 2017)

۱۵۲۔ ہیومن رائٹس واچ کا عاطفہ،حکیمہ اور ظفرہ  کے ساتھ انٹرویو (کراچی 26 جولائی2017)

۱۵۳۔ ہیومن رائٹس واچ کا صومیہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی30 جولائی 2017)

۱۵۴۔ ہیومن رائٹس واچ کا عالیہ کے ساتھ انٹرویو ( 31 جولائی2017کراچی)

۱۵۵۔ ہیومن رائٹس واچ کا شاہین کے ساتھ انٹرویو ( 21 جولائی2017 لاہور)

۱۵۶۔ ہیومن رائٹس واچ کا عاطفہ ، حکیمہ اورظفرہ کے ساتھ انٹرویو( کراچی 26 جولائی2017)

۱۵۷۔ ہیومن رائٹس واچ کا نور کے ساتھ انٹرویو(کراچی جولائی2017)

۱۵۸۔ ہیومن رائٹس واچ کا آصفہ کے ساتھ انٹرویو (19 جولائی2017 پنجاب)

۱۵۹۔ ہیومن رائٹس واچ کا باسمہ کے ساتھ انٹرویو( پشاور 5 اگست2017)

۱۶۰۔ ہیومن رائٹس واچ کا نجمہ کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 5 اگست2017)

۱۶۱۔ ہیومن رائٹس واچ کا تمنا کے ساتھ انٹرویو ( لاہور 17 جولائی2017)

۱۶۲۔ ہیومن رائٹس واچ کا عالیہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی31 جولائی 2017)

۱۶۳۔ ہیومن رائٹس واچ کا نور کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 31 جولائی2017)

۱۶۴۔ ہیومن رائٹس واچ کا ملائیکہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 26 جولائی2017)

۱۶۵۔ ہیومن رائٹس واچ کا فرزانہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 29 جولائی2017)

۱۶۶۔ ہیومن رائٹس واچ کا سلمیٰ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی31 جولائی2017)

۱۶۷۔’’ سی این آئی سی ایک کمیپوٹرپر تیار کردہ قومی شناختی کارڈ’’حکومت پاکستان کی جانب سے بالغ پاکستانی شہریوں کو جاری کیا جاتا ہے جو شہری پاکستان میں رہ رہے ہوتے ہیں ان کو اس کے اجرا  لیے رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے ۔ سی این آئی سی کئی کاموں کے لیے درکار ہوتا ہے  جیسا کہ ووٹ ڈالنے کے لیے ،پاسپورٹ ، ڈرائیونگ لائسنس یا ہوائی جہاز کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے  یہ اکثر والدین کی جانب سے بچے کو سرکاری سکول میں داخلہ کے لیے بھی درکار ہوتاہے حالانکہ یہ قائدہ ہمیشہ موجود نہیں ہوتا اورنہ ہی اس کی ہمیشہ پابندی کی جاتی ہے۔ سرکاری سکولوں کے علاوہ اس کی ایسی ضرورت نہیں ہوتی ۔کچھ والدین سی این آئی سی (قومی شناختی کارڈ ) گم کردیتے ہیں اور کئی اسے حاصل ہی نہیں کرتے کیونکہ انہیںیہ کارڈ بنوانے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جیسا کہ اپنی شناخت کو ثابت کرنا ۔

۱۶۸۔ ہیومن رائٹس واچ کا سمرا اوراس کی ماں کے ساتھ انٹرویو (31 جولائی2017 کراچی)

۱۶۹۔ ہیومن رائٹس واچ کا گل رخ کے ساتھ انٹرویو ( 31 جولائی2017 کراچی )

۱۷۰۔ ہیومن رائٹس واچ کا گورنمنٹ سکول کے ٹیچر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) 8 اگست 2018 پشاور

۱۷۱۔ ہیومن رائٹس واچ کا خدیجہ کے ساتھ انٹرویو(30 جولائی2017کراچی)

۱۷۲۔ ہیومن رائٹس واچ کا یوتھ مرکز کے سربراہ کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) 30 جولائی 2017 کراچی

۱۷۳۔ ہیومن رائٹس واچ کا عائشہ ، پروین اور سارہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی25 جولائی2017)

۱۷۴۔ ہیومن رائٹس واچ کاگورنمنٹ پرائمری سکول کی ٹیچر کے ساتھ انٹرویو (نام ظاہر نہ کیا گیا )بلوچستان 18 جنوری 2018

۱۷۵۔ ہیومن رائٹس واچ کاعقیبہ کے ساتھ انٹرویو (لاہور21 جولائی2017)

۱۷۶۔ ہیومن رائٹس واچ کا مریم اور تحریم کے ساتھ انٹرویو ( کراچی31 جولائی2017)

۱۷۷۔ ہیومن رائٹس واچ کا پرزا کے ساتھ انٹرویو ( لاہور 17 جولائی2017)

۱۷۸۔ ہیومن رائٹس واچ کا حلیمہ کے ساتھ انٹرویو ( 25 جولائی2017 کراچی)

۱۷۹۔ ہیومن رائٹس واچ کا مسکان کے ساتھ انٹرویو ( 18 جولائی2017 لاہور)

۱۸۰۔ ہیومن رائٹس واچ کا تلوین کے ساتھ انٹرویو (26 جولائی 2017 کراچی)

۱۸۱۔ ہیومن رائٹس واچ کا شکیلہ، عاصمہ اور عاصمہ کے والد کے ساتھ انٹرویو (18 جولائی2017 لاہور)

۱۸۲۔ ہیومن رائٹس واچ کا عائشہ کے ساتھ انٹرویو ( 6 اگست 2017 پشاور)

۱۸۳۔ ہیومن رائٹس واچ کا نور کے ساتھ انٹرویو ( 31 جولائی 2017 کراچی)

۱۸۴۔ ہیومن رائٹس واچ کا شہربانو کے ساتھ انٹرویو ( 26 جولائی 2017 کراچی )

۱۸۵۔ ہیومن رائٹس واچ کا رانیہ کے ساتھ انٹرویو ( 30 جولائی 2017 کراچی)

۱۸۶۔ ہیومن رائٹس واچ کا این جی او کے کارکن کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) 21 جولائی 2017لاہور

۱۸۷۔ ہیومن رائٹس واچ کا باسمہ کے ساتھ انٹرویو (27 جولائی2017 کراچی)

۱۸۸۔ ہیومن رائٹس واچ کا ازوا، عائشہ اور سدرہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 31 جولائی 2017)

۱۸۹۔ ہیومن رائٹس واچ کا نادیہ اور گل رخ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 26 جولائی 2017)

۱۹۰۔ ہیومن رائٹس واچ کے ساتھ مسکان نے بات کرتے ہوئے کہا کہ خاندان سب سے چھوٹے بچے کو تعلیم دلوانے کے لیے خاص کوشش کرتے ہیں خاندان میں بچے اپنے بڑے بہن بھائیوں کی آمدنی سے مدد حاصل کرتے ہیں۔(18 جولائی 2017 لاہور)

۱۹۱۔ ہیومن رائٹس واچ کا رابعہ کے ساتھ انٹرویو ( 31جولائی 2017 کراچی )

۱۹۲۔ ہیومن رائٹس واچ کا آئنور کے ساتھ انٹرویو ( 31 جولائی 2017 کراچی )

۱۹۳۔ ہیومن رائٹس واچ کا پروین کے ساتھ انٹرویو ( 26 جولائی 2017 کراچی)

۱۹۴۔  ‘‘) میں چائلڈ لیبر کا خاتمہ اور صاف ستھرے کام کا فروغ  پاکستان پر خاص توجہ کے ساتھ ’’ انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن (ilo)تاریخ ندارت پراجیکٹ کا دورانیہ 2015-2017 ہے , http://www.ilo.org/islamabad/whatwedo/projects/WCMS_427005/lang--en/index.htm (accessed September 13, 2018).

۱۹۵۔امریکی لیبر  ڈیپارٹمنٹ آف انٹر نیشنل افیئرز ‘‘،چائلڈ لیبر اور  جبری مزدوری رپورٹس۔ پاکستان 2016’’

https://www.dol.gov/agencies/ilab/resources/reports/child-labor/pakistan#_ENREF_5 (accessed September 13, 2018).

۱۹۶۔ہیومن رائٹس واچ کا ایک این جی او کے کارکن کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) 21 جولائی 2017 لاہور

۱۹۷۔۔ہیومن رائٹس واچ کا لیبر حقوق کے ماہر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا )20 جولائی2017 پنجاب

۱۹۸۔۔ہیومن رائٹس واچ کا کمیونٹی کی بنیاد پر قائم تنظیم کے ڈائریکٹر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) 27 جولائی 2017 کراچی 

۱۹۹۔۔ہیومن رائٹس واچ کا گورنمنٹ پرائمری سکول کے ہیڈماسٹر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) 26 جولائی 2017 کراچی

۲۰۰۔۔ہیومن رائٹس واچ کا این جی او کے کارکن کےساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا )21 جولائی2017 لاہور

 ۲۰۱۔ہیومن رائٹس واچ کا مزدوروں کے حقوق کے ماہر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا )20 جولائی 2017 پنجاب

۲۰۲۔۔ہیومن رائٹس واچ کا مقامی سر گرم رکن  کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا )26 جولائی2017کراچی اور بصرہ کے ساتھ انٹرویو

 ۲۰۳۔۔ہیومن رائٹس واچ کا این جی او کے کارکن کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) لاہور21 جولائی2017

۲۰۴۔۔ہیومن رائٹس واچ کا مریم اورتحریم کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 31 جولائی2017)

۲۰۵۔۔ہیومن رائٹس واچ کا سمیکاکے ساتھ انٹرویو ( لاہور21 جولائی 2017)

۲۰۶۔۔ہیومن رائٹس واچ کا ازیبا کے ساتھ انٹرویو ( لاہور21 جولائی2017)

۲۰۷۔۔ہیومن رائٹس واچ کا مہوش کے ساتھ انٹرویو ( لاہور 21 جولائی 2017)

۲۰۸۔۔ہیومن رائٹس واچ کا تمنا کے ساتھ انٹرویو ( لاہور17 جولائی2017)

۲۰۹۔افتخار خان ، چائلڈ لیبر : پاکستان  میں اصلاحات میں ہم آہنگی کی کمی نیوز ٹربیون یکم جولائی2017

, https://tribune.com.pk/story/1447383/child-labour-lack-coherent-reforms-pakistan/ (accessed September 13, 2018).

۲۱۰۔۔ہیومن رائٹس واچ کا  این جی او کے کارکن کے ساتھ انٹرویو جوبھٹہ ورکرز کے لیے کام کرتا تھا (نام ظاہر نہ کیا گیا ) پنجاب20 جولائی2017

۲۱۱۔ایضاً  

۲۱۲۔۔ہیومن رائٹس واچ کا یاسمینہ اور اس کے گھر والوں کے ساتھ انٹرویو (پنجاب 20 جولائی 2017 پنجاب)

۲۱۳۔یونیسیکو : تعلیم سب کے لیے ، کامیابیاں اور مشکلات : صفحہ124

۲۱۴۔۔ہیومن رائٹس واچ کا سرکاری سکول کے استاد کے ساتھ انٹرویو (نام ظاہر نہ کیا گیا ) پشاور 8 اگست 2017

۲۱۵۔۔ہیومن رائٹس واچ کا این جی او کے صنفی ماہر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) لاہور 20جولائی2017

۲۱۶۔۔ہیومن رائٹس واچ کاحمیرہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 25 جولائی2017)

۲۱۷۔۔ہیومن رائٹس واچ کا آسیہ کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 7اگست 2017)

۲۱۸۔۔ہیومن رائٹس واچ کا فرخندہ کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 6 اگست 2017)

۲۱۹۔۔ہیومن رائٹس واچ کا سرکاری سکول کی ٹیچر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) پشاور 8 اگست 2017

۲۲۰۔۔ہیومن رائٹس واچ کاآمینا اورفاطمہ کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 6 اگست2017)

۲۲۱۔۔ہیومن رائٹس واچ کااین جی او کے صنفی ماہر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) پنجاب 20جولائی2017

۲۲۲۔۔ہیومن رائٹس واچ کاسیما کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 30جولائی 2017)

۲۲۳۔۔ہیومن رائٹس واچ کا بتول کے ساتھ انٹرویو ( بلوچستان 18 جنوری2018)

۲۲۴۔۔ہیومن رائٹس واچ کا سلمیٰ کے ساتھ انٹرویو( کراچی30 جولائی 2017)

۲۲۵۔۔ہیومن رائٹس واچ کا مسکان کے ساتھ انٹرویو( لاہور 18 جولائی 2017)

 ۲۲۶۔۔ہیومن رائٹس واچ کا عذرا کے ساتھ انٹرویو (پشاور 6 اگست 2017)

۲۲۷۔۔ہیومن رائٹس واچ کااین جی او کے صنفی ماہر کے ساتھ انٹرویو( نام ظاہر نہ کیا گیا ) لاہور 20 جولائی 2017

 ۲۲۸۔۔ہیومن رائٹس واچ کا زینب کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 29 جولائی2017)

۲۲۹۔۔ہیومن رائٹس واچ کاانیسہ کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 6 اگست 2017)

۲۳۰۔۔ہیومن رائٹس واچ کا عالیہ کے ساتھ انٹرویو( کراچی 31 جولائی 2017)

۲۳۱۔۔ہیومن رائٹس واچ کاافشاں کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 31 جولائی 2017)

۲۳۲۔۔ہیومن رائٹس واچ کاممتاز کے ساتھ انٹرویو (پشاور 7 اگست 2017)

۲۳۳۔۔ہیومن رائٹس واچ کا زر افشاں کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 30جولائی 2017)

۲۳۴۔۔ہیومن رائٹس واچ کا بحیرہ کے ساتھ  انٹرویو ( کراچی 30 جولائی 2017)

۲۳۵۔۔ہیومن رائٹس واچ کا عذرا کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 31 جولائی2017)

۲۳۶۔۔ہیومن رائٹس واچ کا زنیرہ کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 7 اگست 2017)

۲۳۷۔ہیومن رائٹس واچ کا یاسمینا کے ساتھ انٹرویو ( بلوچستان 18 جنوری2018)

۲۳۸۔۔ہیومن رائٹس واچ کا للی کے ساتھ انٹرویو ( لاہور17 جولائی2017)

 ۲۳۹۔(اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ)‘‘ بہت جلد شادی کرنا : کم عمری کی شادی ختم کرو’’ 2002UNFPA239۔

http://aidsdatahub.org/sites/default/files/publication/UNFPA_2012_Marrying_too_young.pdf (accessed September 13, 2018).

۲۴۰۔۔ہیومن رائٹس واچ کاعائشہ، پروین اور سارہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 25 جولائی2017)

۲۴۱۔ہیومن رائٹس واچ کا سائرہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 26 جولائی2017)

 ۲۴۲۔۔ہیومن رائٹس واچ کا عائشہ کے ساتھ انٹرویو (پشاور 6 اگست2017)

۲۴۳۔۔ہیومن رائٹس واچ کافائزہ کے ساتھ انٹرویو( کراچی 31 جولائی2017)

۲۴۴۔۔ہیومن رائٹس واچ کا مرجان کے ساتھ انٹرویو ( لاہور17 جولائی2017)

۲۴۵۔۔ہیومن رائٹس واچ کا سائرہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 26 جولائی 2017)

۲۴۶۔۔ہیومن رائٹس واچ کارحیبا اور تمیمہ کے ساتھ انٹرویو( کراچی 31 جولائی2017)

۲۴۷۔۔ہیومن رائٹس واچ کادینا کے ساتھ انٹرویو ( کراچی30 جولائی2017)

۲۴۸۔۔ہیومن رائٹس واچ کا سنبل اورعزیزہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 31 جولائی2017)

۲۴۹۔۔ہیومن رائٹس واچ کا زرمینہ کے ساتھ انٹرویو (لاہور 18 جولائی2017)

۲۵۰۔۔ہیومن رائٹس واچ کا ازوا ،عائشہ اور سدرہ کے ساتھ انٹرویو( کراچی 31 جولائی 2017)

۲۵۱۔۔ہیومن رائٹس واچ کا صبا کے ساتھ انٹرویو (لاہور 18 جولائی 2017)

۲۵۲۔۔ہیومن رائٹس واچ کا کنول کے ساتھ انٹرویو ( لاہور18 جولائی 2017)

۲۵۳۔۔ہیومن رائٹس واچ کا لائلہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 27 جولائی2017)

۲۵۴۔۔ہیومن رائٹس واچ کا ممتاز کے ساتھ انٹرویو ( پشاور7 اگست 2017)

 ۲۵۵۔۔ہیومن رائٹس واچ کا رخسانہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 29 جولائی2017)

۲۵۶۔۔ہیومن رائٹس واچ کا زنیشہ کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 8 اگست2017)

 ۲۵۷ ۔۔ہیومن رائٹس واچ کا شائستہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 30 جولائی2017)

۲۵۸۔۔ہیومن رائٹس واچ کا ماہر تعلیم کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) یو کے 2017

۲۵۹۔۔ہیومن رائٹس واچ کا شائستہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی30 جولائی2017)

۲۶۰۔۔ہیومن رائٹس واچ کاحفصہ کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 8 اگست 2017)

۲۶۱۔۔ہیومن رائٹس واچ کا لائلہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 27 جولائی2017)

۲۶۲۔۔ہیومن رائٹس واچ کافاویزا کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 5 اگست 2017)

۲۶۳۔۔ہیومن رائٹس واچ کاپروین کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 7 اگست 2017)

۲۶۴۔۔ہیومن رائٹس واچ کا فضیلہ کے ساتھ انٹرویو( کراچی 27 جولائی2017)

۲۶۵۔۔ہیومن رائٹس واچ کا لائلہ کے ساتھ انٹرویو( کراچی 27 جولائی 2017)

۲۶۶۔۔ہیومن رائٹس واچ کاگورنمنٹ مڈل سکول کے ٹیچر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا )بلوچستان جنوری 2018

۲۶۷۔۔ہیومن رائٹس واچ کاباسمہ اور نجمہ کے ساتھ انٹرویو(پشاور5 اگست2017)

۲۶۸۔۔ہیومن رائٹس واچ ، خواب جو ڈروانے خواب  بن گئے : پاکستان میں  طالب علموں ، اساتذہ اورسکولوں پر حملے ،مارچ2017۔

https://www.hrw.org/report/2017/03/27/dreams-turned-nightmares/attacks-students-teachers-and-schools-pakistan.

۲۶۹۔ایضاً

)تعلیم حملوں کی زد میں 2018:کنٹری پروفائلز : پاکستان مئی 2018GCPEA۲۷۰۔سکولوں پر حملوں سے بچائو کے لیے گلوبل اتحاد(

http://protectingeducation.org/sites/default/files/documents/eua2018_pakistan.pdf (accessed September 13, 2018), p. 1.

،تعلیم حملوں کی زد میں 2018: مئی 2018GCPEA۲۷۱۔

http://eua2018.protectingeducation.org/ (accessed September 13, 2018), p. 33.

۲۷۲۔ایضاً

[273] ۲۷۳۔پاکستان :سکولوں پر عسکری حملوں میں اضافہ ہیومن رائٹس واچ نیوز پریس ریلز 3 اگست 2018

https://www.hrw.org/news/2018/08/03/pakistan-surge-militant-attacks-schools.

 ۲۷۴-ایضاً

۲۷۵۔۔ہیومن رائٹس واچ کا عابدہ اور زرگونہ کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 6 اگست 2017)

۲۷۶۔۔ہیومن رائٹس واچ کازونیشہ کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 8 اگست2017)

 

۲۷۷۔۔ہیومن رائٹس واچ کانائرہ کے ساتھ انٹرویو( کوئٹہ جنوری 2018)

۲۷۸۔۔ہیومن رائٹس واچ کاسر گرم رکن کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) کوئٹہ جنوری2018

۲۷۹۔ہیومن رائٹس واچ کا مرضیہ کے ساتھ انٹرویو( کراچی30 جولائی2017)

۲۸۰۔۔قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی پاکستان:قومی ایکشن پلان کے 20نکات 13 ستمبر 2018

http://www.satp.org/satporgtp/countries/pakistan/document/papers/National_Action_Plan_20_Points.htm (accessed September 13, 2018).

۲۸۱۔۔ہیومن رائٹس واچ ،خواب جوڈروانے خواب بن گئے : پاکستان میں طلبہ، اساتذہ اور سکولوں پرحملے مارچ2017

https://www.hrw.org/report/2017/03/27/dreams-turned-nightmares/attacks-students-teachers-and-schools-pakistan.

۲۸۲۔ہیومن رائٹس واچ کاعذیبہ کے ساتھ انٹرویو ( لاہور21 جولائی2017)

 

۲۸۳۔۔ہیومن رائٹس واچ کا پاوینہ کے ساتھ انٹرویو ( کوئٹہ 17 جنوری2018)

۲۸۴۔۔ہیومن رائٹس واچ کا ممتاز کے ساتھ انٹرویو(پشاور 7 اگست 2017)

۲۸۵۔۔ہیومن رائٹس واچ کا سمیکا کے ساتھ انٹرویو ( لاہور 21 جولائی2017)

۲۸۶۔۔ہیومن رائٹس واچ کاسدرہ کے ساتھ انٹرویو ( کوئٹہ 17 جنوری2018)

۲۸۷۔۔ہیومن رائٹس واچ کا ایک چھوٹے قصبے کے ایک نجی سکول کے ہیڈ ماسٹر سے انٹرویو( نام ظاہر نہ کیا گیا ) پنجاب19 جولائی2017

۲۸۸۔۔ہیومن رائٹس واچ کاتمنا کے ساتھ انٹرویو ( لاہور17 جولائی2017)

۲۸۹۔۔ہیومن رائٹس واچ کارابیعہ اور زاہدہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 27 جولائی2017)

۲۹۰۔ہیومن رائٹس واچ کاسلیمہ کے ساتھ انٹرویو ( پنجاب19 جولائی2017)

۲۹۱۔۔ہیومن رائٹس واچ کا ربیعہ اور زاہدہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 27 جولائی2017)

۲۹۲۔۔ہیومن رائٹس واچ کافوزیہ کے ساتھ انٹرویو( پشاور 5 اگست 2017)

۲۹۳۔۔ہیومن رائٹس واچ کا باسمہ کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 5 اگست2017)

۲۹۴۔۔ہیومن رائٹس واچ کاپریا کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 5 اگست2017)

۲۹۵۔۔ہیومن رائٹس واچ کا سما کے ساتھ انٹرویو ( لاہور18 جولائی2017)

۲۹۶۔۔ہیومن رائٹس واچ کاتعلیم کے ایک محقق کے ساتھ انٹرویو (نام ظاہر نہ کیا گیا ) لاہور19 جولائی2017

۲۹۷۔۔ہیومن رائٹس واچ کا حمیرہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی25 جولائی2017)

۲۹۸۔۔ہیومن رائٹس واچ کا عائشہ ،بشریٰ اورمبشر کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 6 اگست2017)

 

۲۹۹۔۔ہیومن رائٹس واچ کا گورنمنٹ پرائمری سکول کی ٹیچر کے ساتھ انٹرویو ( نام ظاہر نہ کیا گیا ) بلوچستان 18 جنوری2018

۳۰۰۔۔ہیومن رائٹس واچ کا پری زاد کے ساتھ انٹرویو( کراچی 31 جولائی 2017)

۳۰۱۔۔ہیومن رائٹس واچ کا انیسہ کے ساتھ انٹرویو( پشاور 6 اگست 2017)

۳۰۲۔۔ہیومن رائٹس واچ کا تسلیمہ ،ثمینہ اور محمودہ کے ساتھ انٹرویو (کراچی 31 جولائی2017)

۳۰۳۔۔ہیومن رائٹس واچ کا ربیعہ اور زاہدہ کے ساتھ انٹرویو( کراچی 27 جولائی2017)

۳۰۴۔۔ہیومن رائٹس واچ کالائلہ کے ساتھ انٹرویو ( کراچی 27 جولائی2017)  

۳۰۵۔آصف چودھری اور فہد نوید ‘‘ ہمارے سکول جانے والے بچے اتنی تعداد میں کیوں غائب ہورہے ہیں (ڈان 15 اگست 2016)

https://www.dawn.com/news/1276916 (accessed September 13, 2018).

۳۰۶۔۔ہیومن رائٹس واچ کاعلیشبا کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 6 اگست 2017)

۳۰۷۔۔ہیومن رائٹس واچ کا کامیلہ کے ساتھ انٹرویو ( بلوچستان 18 جنوری2018)

۳۰۸۔۔ہیومن رائٹس واچ کا آسیہ اورزنیرہ کے ساتھ انٹرویو ( پشاور 7 اگست 2017)

 

۳۰۹۔۔بچوں کے حقوق پر کنونشن(سی آر سی )20نومبر 1989 کو اپنایا گیا ۔

[309] Convention on the Rights of the Child (CRC), adopted November 20, 1989, G.A. Res. 44/25, annex, 44 U.N. GAOR Supp. (No. 49) at 167, U.N. Doc. A/44/49 (1989), entered into force September 2, 1990., art. 6. Pakistan ratified the CRC in November 1990. International Covenant on Economic, Social and Cultural Rights (ICESCR), adopted December 16, 1966, G.A.Res. 2200A (XXI), 21 U.N. GAOR Supp. (No. 16) at 49, U.N. Doc A/6316 (1966), 993 U.N.T.S. 3, entered into force January 3, 1976. Pakistan ratified the ICESCR in April 2008.

۳۱۰۔۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین 1973 آرٹیکل 37-B

۳۱۱۔ایضاً  

۳۱۲ ۔ عورتوں کے خلاف ہر قسم کے تعصب کے خاتمے کا کنونشن 18دسمبر 1979 کو لاگوکیا گیا(CEDAW) ۔

Convention on the Elimination of All Forms of Discrimination against Women (CEDAW), adopted December 18, 1979, G.A. res. 34/180, 34 U.N. GAOR Supp. (No. 46) at 193, U.N. Doc. A/34/46, entered into force September 3, 1981. Pakistan acceded to CEDAW in March 1996.

 (CESCR) ۳۱۲۔۔ریاستی جماعتوں کے حقوق کی نوعیت (پانچواں اجلاس 1990)۔اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے معاشی سماجی و معاشرتی حقوق

U.N. Doc. E/1991/23, paras. 2 and 9.

داخل کردہ 1999MS.Katarina Tomasevskiآرٹیکل 13 اور2: اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی معاشی اور سماجی کونسل کی ابتدائی رپورٹ برائے حق تعلیم کو بھی دیکھیں ۔(ICESCR)314۔

http://repository.un.org/bitstream/handle/11176/223172/E_CN.4_1999_49-EN.pdf?sequence=3&isAllowed=y (accessed September 13, 2018).

[315] ۳۱۵۔سی ای ایس سی آر ۔ جنرل تبصرہ نمبر 13 حق تعلیم (معاہدہ کا آرٹیکل13)

U.N. Doc. E/C.12/1999/10 (1999), para. 23.

۳۱۶ایضاً

۳۱۷۔۔۔۔انسانی حقوق کا عالمی اعلان (یو ڈی ایچ آر)جس کو 10 دسمبر 1948 کواپنایا گیا۔Res. 217A(III), U.N. Doc. A/810 at 71 (1948), art. 26; ICESCR, art. 13(2)(b); CRC, art. 28فنی او ر پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت کو تعلیم کی تمام سطوں پر شامل کیا گیا ،جنرل نالج کے علاوہ ٹیکنالوجی اور سائنس سے متعلقہ عملی مہارت کو بھی اپنایا جائے  اور مختلف شعبوں  کو سمجھنے معاشی اور سماجی زندگی میں ان کا اطلاق ۔فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم پر معاہدہ 1989 کو 10نومبر 1989 میں اپنایا گیا  مزید معلومات کے لیے (آرٹیکل ون(اے)سریل نمبر 28352مزید معلومات کے لیے دیکھیں معاہدہ برائے فنی و پیشہ ورانہ تعلیم 10نومبر 1989 آرٹیکل 3

.. http://portal.unesco.org/en/ev.php-URL_ID=13059&URL_DO=DO_TOPIC&URL_SECTION=201.html (accessed September 13. 2018).

۳۱۸۔آرٹیکل 13ڈی1990 کے عالمی اعلان  برائے تعلیم سب کے لیے ‘‘مضبوط بنیادی تعلیم اعلیٰ تعلیم کے لیے ضروری ہے سائنسی اور فنی تعلیم اورصلاحیت کے لیے اور اپنی ترقی کے لیے بھی بنیادی تعلیم تمام بچوں اور جوانوں کو مہیا کی جانی چاہئے (ICESCR) تاکے تعصب کاخاتمہ ہو سکے ۔ تعلیم سب کے لیے پر عالمی اجلاس۔عالمی اعلان برائے تعلیم سب کے لیے تعلیمی ضروریات کوپورا کرنے کے لیے JOMTIEN THAILANDمارچ 1990

, http://unesdoc.unesco.org/images/0012/001275/127583e.pdf (accessed September 13, 2018), art. 3(1)-(2).

۳۱۹۔(سی ای ایس سی آرنمبر13) حق تعلیم (آرٹیکل 13پیرا گراف نمبر6(اے-3)

۳۲۰۔ایضاً

 ۳۲۱۔معاشی ،سماجی اورمعاشرتی حقوق میں بلا امتیاز ‘‘ آرٹیکل نمبر 2پیرا گراف نمبر2بین الاقوامی معاہدہ برائے معاشی ،معاشرتی اورسماجی حقوق ’’جنرل نالج نمبر20CESCR E/C-12/GC/20(2019)

.http://www.refworld.org/docid/4a60961f2.html (accessed September 13, 2018), para. 10 (b).

۳۲۲۔ایضاً

۳۲۳CEDAW, art. 1.-

۳۲۴ CEDAW, art. 2.- 

۳۲۵ 5CEDAW, art..- 

 

۳۲۶۔جنرل تبصرہ نمبر 13حق تعلیم آرٹیکل 13 پیرا گراف6(سی)CESCR

۳۲۷۔بچوں کے حقوق پر بین الاقوامی کمیٹی ‘‘ تعلیم کے مقاصد آرٹیکل 29 جنرل تبصرہ نمبر1سی آر سی /جی سی/201/1/(2001)

http://www2.ohchr.org/english/bodies/crc/docs/GC1_en.doc (accessed September 13, 2018).

۳۲۸۔ایضا پیرا نمبر 22

CRC, arts. 28(1) and 2(1۳۲۹۔(

۳۳۰۔جنرل تبصرہ نمبر13 حق تعلیم آرٹیکل 13 پیرا نمبر59CESCR

۳۳۱-EC12-1998-24جنرل تبصرہ نمبر 9 معاہدہ پر ملکی عمل درآمد،CESCR

http://www.refworld.org/docid/47a7079d6.html (accessed September 13, 2018), paras. 2, 9. See also, CESCR, General Comment 3, The Nature of States Parties Obligations, E/1991/23, http://www.refworld.org/docid/4538838e10.html (accessed September 13, 2018), para. 5.

۳۳۲۔جنرل تبصرہ نمبر 11ابتدائی تعلیم پر عملدرآمد کامنصوبہ  CESCRجنرل تبصرہ نمبر 13 تعلیم کے حصول کا حق آرٹیکل نمبر 13 پیرا گراف نمبر 31 اس کے علاوہ دیکھیں CESCR

CESCR, General Comment No. 13, “The Right to Education (Art. 13),”, para. 31. See also, CESCR, General Comment 11, Plans of Action for Primary Education, , U.N. Doc. E/C.12/1999/4 (May 10, 1999), para. 10; and CESCR, General Comment 3,, para. 2

بین الاقوامی معاہدہ کے تحت معاشی، سماجی ، معاشرتی حقوق بلا امتیاز گارنٹی فوری طور پر

(stating that the obligation to guarantee the exercise of rights in the International Covenant on Economic, Social and Cultural Rights without discrimination is "of immediate effect").

۳۳۳۔سی ای ڈی اے ڈبلیو ( آرٹیکل ۔16(2)

۳۳۴۔CEDAWکمیٹی عام سفارشات نمبر 21شادی اور خاندانی رشتوں میںبرابری 13 واں اجلاس1994 پیرا گراف نمبر36:بین الاقوامی کمیٹی برائے بچوں کے حقوق عام تبصرہ نمبر4بچوں کے حقوق پر معاہدہ کے ثیاق و سباق میں نوجوانوں کی صحت اور ترقی (33 واں اجلاس2013 پیرا گراف20)

۳۳۵۔بچوں کے حقوق پر کمیٹی جنرل تبصرہ نمبر 4نو عمر جوانوں کی صحت اور ترقی بچوں کے حقوق کے معاہدہ کے ثیاق و سباق میں ۔

, CRC/GC/2003/4, (2003), http://www.ohchr.org/Documents/Issues/Women/WRGS/Health/GC4.pdf (accessed September 13, 2018), paras. 16, 20, and 35 (g).

۳۳۶۔ CEDAWکمیٹی عام سفارش نمبر 21شادی اور خاندانی رشتوں میں برابری 13واں اجلاس 1994پیرا نمبر 36بچوں کے حقوق پر بین الاقوامی کمیٹی جنرل تبصرہ نمبر 4بچوں کے حقوق کے معاہدہ کے ثیاق و سباق میں نوجوانوں کی صحت اور ترقی 33 واں اجلاس 2003 پیرا گراف نمبر20

۳۳۷۔مثال کے طور پر دیکھیں cedawکمیٹی‘‘ خواتین کے خلاف ہر قسم کے تعصب کاخاتمہ کمیٹی کے اختتامی اجلاس میں جائزہ(uganda)’’ 22 اکتوبر 2010پیرا گراف نمبر 31

, http://www2.ohchr.org/english/bodies/cedaw/docs/co/CEDAW-C-UGA-CO-7.pdf (accessed September 13, 2018).

338۔سروپ اعجاز کا ہیومن رائٹس واچ پر تبصرہ کرتے ہوئے مراسلہ ‘‘ پاکستان میں کم عمری کی شادی ختم ہونی چاہیے ’’12 اکتوبر2017 ۔۔۔https://www.hrw.org/news/2017/10/12/pakistan-should-end-child-marriage

،آرٹیکل 32۔crc   ۳۳۹۔۔۔

۳۴۰ ۔ سی 138 کم ازکم عمر کے متعلق معاہدہ :19 جون 1976 پاکستان نے اس معاہدہ کی توثیق کرتے ہوئے کم از کم عمر 14 سال رکھی ۔6جولائی 2006سی، (No138 1973(چائلڈ لیبر کی بد ترین حالتوں پر اجلاس 1999 (نمبر 182)چائلڈ لیبر کی بد ترین حالتوں کو فوری طور پر ختم کرنا اور ان پر پابندی لگانے کی بابت اجلاس19 نومبر2000پاکستان نے اس کی توثیق11 اکتوبر 2001 کوکی

      ۳۴۱۔۔۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین 1973آرٹیکل 11(3) ۔

آرٹیکل 19(1)دیکھیں بچوں کودی جانے والی تمام جسمانی سزائوں کا خاتمہ اور بچوں کو بچانا اس بابت گلوبل پہل کاری ‘‘سزائیں نہ دینے والے سکولوں کی طرف ایک قدم :جسمانی سزائوں کی ممانت گلوبل رپورٹ

2015’’مئی2015crc342۔

https://endcorporalpunishment.org/resources/thematic-publications/schools-report-2015/ (accessed September 13, 2018), pp. 4–5.

CRC, art. 28(2).۳۴۳۔

۳۴۴۔بچوں کے حقوق پر اقوام متحدہ کی کمیٹی ‘‘ جنرل تبصرہ نمبر 8(2006)بچوں کا حق ہے کہ انہیں جسمانی سزا نہ دی جائے اور دوسرے اذیت ناک طریقوں کی سزا سے بھی محفوظ رکھا جائے

 (arts.19; 28, para. 2; and 37, inter alia),” CRC/C/GC/8 (2007), http://tbinternet.ohchr.org/_layouts/treatybodyexternal/Download.aspx?symbolno=CRC%2fC%2fGC%2f8&Lang=en (accessed September 13, 2018), para. 11.

A/44/40,(1992)۳۴۵۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی’’ جنرل تبصرہ نمبر 20آرٹیکل 7تشدد اور دوسری ظالمانہ غیر انسانی اور ہتک آمیز سلوک اور سزائیں’’(

http://tbinternet.ohchr.org/_layouts/treatybodyexternal/Download.aspx?symbolno=INT%2fCCPR%2fGEC%2f6621&Lang=en (accessed September 13, 2018), para. 5.

۳۴۶۔ایضاً پیرا نمبر 5

Region / Country

Topic