عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے جولائی میں ہونیوالے پارلیمانی انتخابات میں سب سےزیادہ تعداد میں نشستیں جیتیں اور عمران خان نے اگست میں بطور وزیراعظم عہدہ سنبھالا ۔ یہ مسلسل دوسری دفعہ ایک غیر فوجی حکومت سے دوسری حکومت کو آئینی طور پر انتقالِ اقتدار ہوا ۔ انتخابی مہم کے دوران عمران خان نے معاشی ترقی اورسماجی انصاف کو اپنی ترجیح بنانے کا عہد کیا تھا۔

پاکستان میں 2018ء کے دوران حالیہ سالوں کی نسبت اسلامی عسکریت پسندوں کے حملوں کے نتیجہ میںکم اموات ہوئی ہیں ۔تاہم حملوں میں بنیادی طور پر قانون نافذ کرنیوالے عہدے داران اورمذہبی اقلیتوں کونشانہ بنایا گیا ۔ جس میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے طالبان اوردیگر مسلح عسکریت پسندوں نے انتخابات کو سبوتاژ کرنے میں ناکامی پر سینکڑوں لوگوں کوہلاک کیا۔

ملکی دفاع کوبہانہ بناتے ہوئے حکومت نے مسلسل این جی او (NGO) اورذرائع ابلاغ میں اختلافی آوازوں کودبانے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ عسکریت پسندوں اورمفاد پرست ٹولوں نے آزادی اظہا ر ائے کودھمکیوں اور تشدد کے ذریعے ڈرانے کی کوشش کی ۔

خواتین، مذہبی اقلیتوں اور مختلف حضرات کو پر تشدد حملوں ،تعصب اورحکومتی جبر کا سامنا کرنا پڑا ۔ حکام مناسب حفاظت مہیا کرنے اور ذمہ داران کو قصور وار ٹھہرانے میں ناکام رہے۔

 

آزادی اظہار رائے اور سول سوسائٹی پر حملے

ریاستی تحفظ کے اداروں اور عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے زیادتیوں کو ذرائع ابلاغ میں اشاعت یا نشر کرنے کے راستے میں رکاوٹوں کی فضا قائم رہی ۔ 2018میں صحافیوں نے عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے دھمکیوں اور حملوں کے بعد خود احتسابی کا عمل تیز کر دیا ۔ ذرائع ابلاغ کے شعبوں حکام کی جانب سے دبائو بڑھ گیا کوہ مختلف موضوعات بشمول حکومتی اداروںاور عدلیہ پر تنقید سے گریز کریں ۔ کئی موقعوں پر حکومتی نظم و ضبط کے اداروں نے کیبل آپریٹر ز کو تنقیدی پروگرام نشر کرنے سے روک دیا۔

برائے انسانی حقوق نے اقوام متحدہ کی پہلی رپورٹ برائے انسانی حقوق نے کشمیر میںصورت حال کے بارے میں ظاہر کی ہے ۔ اس رپورٹ میں بیان کیا گیا پاکستان کشمیر میں زیادتی کا حجم بھارتی کشمیر سے مختلف ہے جہاں انسدادِ دہشت گردی ک ےقوانین کا غلط استعمال ہورہا ہے۔ جہاں اختلاف کرنے والے اور آزادی اظہار ِ رائے جلسے ، جلوس اور تنظیم سازی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

جولائی میں یورپین یونین (EU) نے پاکستان میں ہونے والے انتخابات کے لیے مبصرین کا ایک وفد بھیجا جنہوں نے بعد میں ایک رپورٹ جاری کی ۔ اس رپورٹ میں آزادی اظہار رائے پر پابندیوں کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ فوج کی جانب سے الیکشن میں مداخلت کے الزاماتپاکستان نے OIC( اسلامی ممالک کی تنظیم برائے تعاون ) کے کونسل میں ممبران ریاستوں کو میانمر میں فوج کے روہنگیا) کی نسل کشی پر تشویش کے اظہار پر آمادہ کیا۔

پاکستان کے ریاست ہائے متحدہ کے ساتھ سماجی تعلقات 2018ء میں بے اعتمادی کے باعث خراب ہوئے امریکہ پاکستان کی ترقی اور فوجی امداد دینے والا سب سے بڑا ملک ہے اگست میں امریکہ نے پاکستان میں فوجی اخراجات کے لیے دئیے جانے والے 300ملین امریکی ڈالر امداد اس بنیاد پر روک دی پاکستان طالبان سے تعلق رکھنے والے گروہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف مناسب کارروائی نہ کر رہا ہے ان پر الزام ہے کہ وہ پاکستان سے منصوبہ بندی کرتے ہوئے افغانستان کے سویلین آبادی حکومتی اہلکاروں اور NATOافواج پر حملہ کرتے ہیں ۔

جون میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر ناروے سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی قذافی زمان کو جولائی میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک سیاسی جلوس کی رپورٹنگ کر رہا تھا ۔اُس کو زدو کوب کیا گیا ۔اور تین دن کے بعد رہا کر دیاگیا۔

ہیومن رائٹس واچ کو متعددمعتبر اطلاعات ہیں جن کے مطابق 2018ء میں حکومتی حکام کی جانب سے مختلف این جی اوز کی نگرانی کی گئی ۔ ان کو ہراساں کیا گیا اوردھمکایا گیا ۔ حکومت’’ پاکستان میں بین الاقوامی غیر حکومتی تنظیموں کے قواعد و ضوابط کی پالیسی کو استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی رجسٹریشن اور ان کے کام کرنے میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔

عقیدہ اورمذہب کی آزادی

کم از کم سترہ لوگ پاکستان میں مذہبی بے حرمتی کے خوفناک قانون کے تحت قصور وار ٹھہرانے کے بعد پھانسی کے منتظر ہیں اور سینکڑوں ایسے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں ۔ مذہبی بے حرمتی کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کی اکثریت کاتعلق مذہبی اقلیتوں سے ہے ۔

اکتوبر میں پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے 47سالہ عیسائی خاتون آسیہ بی بی جس کے تعلق صوبہ پنجاب کے ایک گائوں سے تھا اور جوآٹھ سال سے پھانسی کے انتظار میں تھی کو بری کر دیا ۔مذہبی بے حرمتی  کے قانون کی حمایت کرنے والے گروہوں نے آسیہ بی بی کو رہا کرنے کے فیصلے کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا ،سرکاری اور نجی جائیداد کو نقصان پہنچایا ۔ حکومتی اہلکاروں عدالت عظمیٰ کے منصفین (ججوں) اورفوج کی قیادت کوسنگین نتائج کی دھمکیاں دیں ۔

2018ء میں حکومتی اورغیر حکومتی افراد کی جانب سے مذہبی بے حرمتی کے الزامات اور ایسی بیان بازی میں اضافہ ہوا ہے ۔ تاہم حکومت نے قانون میں کسی قسم کی ترمیم نہ کی بلکہ غیر محفوظ گروہوں کے خلاف متعصبانہ مقدمات کی حوصلہ افزائی کیگئی۔

فروری میں 18سالہ پطرس مسیح اور 24سالہ ساجد مسیح کے خلاف لاہور میں مذہبی بے حرمتی کے الزامات میں مقدمات دائر کیے گئے ۔ ساجد مسیح نے الزام لگایا کہ حراست کے دوران اس پر پولیس تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں اس نے تفتیشی کمرہ کی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر خود کشی کی کوشش کی ۔ وہ بری طرح زخمی ہوا لیکن اس کی جان بچ گئی ۔

مئی میں وزیرداخلہ احسن اقبال کوپنجاب کےضلع نارووال میںانتخابی جلوس کے دوران قتل کرنے کی کوشش میں ایک شخص نے گولی چلائی جس کا تعلق مذہبی بے حرمتی کے مخالف گروہ سے تھا۔

مئی میں مذہبی بے حرمتی کے خلاف جلوس کی قیادت کرتے ہوئے مولویوں نے حملہ کیا اور احمد یہ جماعت کی دو تاریخی مذہبی عمارتوں کوتباہ کر دیا ۔ پاکستان بھرمیں احمد یہ جماعت کے اراکین مذہبی بے حرمتی کے قوانین اور احمدیوں کے خلاف مخصوص قانون کے تحت مقدمات کا بدستورنشانہ رہے ان کے خلاف امتیازی سلوک میں اضافہ ہوا کیونکہ عسکری گروہوں اور اسلامی سیاسی جماعت تحریک لبیک (TLP) نےان کے خلاف الزامات عائد کیے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں تعزرات پاکستان کے تحت احمدیوں کا اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا بدستور ایک فوجداری جرم ہے ۔ انہیں موثر طریقےسے 2018ء کے پارلیمانی انتخابات میں شرکت کرنے سے خارج کردیا کیونکہ ووٹ ڈالنے کے لیے انہیں اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دینا پڑتا ہے ۔ جس کو وہ اپنے عقیدہ کی تنسیخ سمجھتے ہیں۔

ستمبر میں عمران خان کی حکومت نے عاطف میاں جوایک ممتاز ماہر تعلیم ہیں اوراحمدیہ جماعت سے تعلق رکھتے ہیں کہ بطور مشیربرائے معاشیات حکومت میں شامل کیا اوراس کے فوراً  بعد ہی تحریک لبیک پاکستان اور دیگراسلامی گروہوں کے مذہب سے متعلق اعتراض پر اسے کہا کہ وہ عہدہ چھوڑ دے ۔

عاطف میاں نے بیان کیاکہ ملاں اور ان کے حمایتیوں کی جانب سے مخالف دبائو کے بنیاد پر وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہو رہے ہیں۔

 

خواتین اور بچوں کے حقوق

خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد بشمول عصمت دری ، نام نہاد غیرت کی بنیاد پر ہلاکتیں ، تیزاب پھینکنے کے واقعات ، گھریلو تشدد اور جبری شادیاں بدستورسنگین مسئلہ رہے ہیں ۔پاکستانی سر گرم کارکنوں کے اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً ایک ہزار ہلاکتیں غیرت کے نام پر ہوتی ہیں۔

پنجاب کے ضلع فیصل آباد میں انیس سالہ مہوش ارشد کوجون میں شادی کی پیشکش ٹھکرانے پر قتل کرنے کے واقعہ نے قومی توجہ حاصل کی ۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق کم از کم 66خواتین کوفیصل آباد ضلع میں 2018ء کے پہلے چھ مہینوں میں قتل کیا گیا جن میں اکثریت کو ’ غیرت‘‘ کے نام پر قتل کیا گیا ۔

جسٹس طاہر صفدر کوبلوچستان کی عدالت عالیہ کی چیف جسٹس مقرر کیا گیا جوکہ پاکستان کی کسی بھی ہائی کوٹ کی چیف جسٹس مقرر ہونیوالی پہلی خاتون ہے۔

مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین زیادتیوں کے لیے آسان شکار ہوتی ہیں ۔ پاکستان میںتحریک برائے یکجہتی و امن کی رپورٹ کے مطابق کم از ایک ہزا لڑکیاں جن کا تعلق عیسائی ،ہندو برادریوں سے ہوتا ہے کو جبری طور پر ہر سال مسلمان مردوں کے ساتھ بیاہ دیا جاتا ہے لیکن حکومت نے ایسی جبری شادیوں کوروکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

کم عمری کی شادیاں بھی ایک سنگین مسئلہ ہے ۔21فیصد لڑکیوں کی شادیاں 18سال کی عمر سے پہلے کردی جاتی ہیں جبکہ 3فیصد کی 15سال کی عمر سے پہلے۔

طالبان اور ان سے متعلقہ مسلح گروہوں نے 2018ء میں بدستور سکولوں پر حملے اوربچوں کوخود کش دھماکوں کے لیے استعمال کیا اگست میں عسکریت پسندوں نے پاکستان میں گلگت بلتستان کے واقع دیا  میر ضلع میں کم از کم بار ہ سکولوں پر حملے کیے اور انہیں جلا ڈالا جن میںتقریباً آدھے سکول لڑکیوں کے تھے ۔ پاکستان نے سکولوں کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال پر پابندی عائد نہ کی ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے معاشی ، سماجی ثقافتی حقوق کی سفارشات 2017ء کی بنیاد پر اعلامیہ برائے محفوظ سکول کی توثیق کی ہے۔

پاکستان میں ابتدائی سکول کی عمر والے پچاس لاکھ سے زائد بچے سکول نہیں جاتے اور ان میں زیادہ تر لڑکیاں ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی تحقیق کے مطابق لڑکیوں کی سکول نہ جانے کی وجوہات میں سکولوں کی تعداد کم ہونا ، پڑھائی کے ساتھ متعلقہ اخراجات ،کم عمری کی شادیاں ، بچوں سے نقصانات دہمشقت لینا اور صنفی امتیاز شامل ہیں۔

بچوں سے جنسی زیادتی پاکستان میں پریشان کن حد تک عام ہے ۔ جس میں صرف لاہور ، پنجاب میں 2018ء کے پہلے چھ ماہ میںایسے 141 واقعات رپورٹ ہوئے ۔ کم از کم 77لڑکیوں اور 79لڑکوں سے جنسی زیادتی کی گئی یا ان پر جنسی حملے ہوئے ۔یہ تعداد پولیس رپوٹ کے مطابق ہے لیکن ایک بھی ملزم کو سزا نہیں ہوئی ۔ اس رپورٹ کے تحریر ہونے تک تمام افراد کو ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے۔

جنوری میںسات سالہ زینب انصاری کی قصور ( پنجاب) میں عصمت دری اورقتل کی وجہ سے ملک بھر میں غصے کی لہر پھیل گئی اورجس کے نتیجہ میں حکومت نےراست اقدام کاوعدہ کیا ۔ بارہ جنوری کوعدالتِ عظمیٰ نے عمران علی کی زینب انصاری اور کم از کم آٹھ دوسری لڑکیوں کی عصمتدری اورقتل کے جرم میں سزا کی توثیق کردی۔17اکتوبر کوعمران علی کوپھانسی دے دی گئی ۔ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میںآٹھ اگست کوایک پانچ سالہ لڑکی جس کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا کی لاش ملی ۔ سندھ کے ضلع سکھر میں 6سالہ لڑکی کے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کی گئی ۔ ساحل نامی تنظیم کے مطابق پاکستان میں روزانہ اوسطاً گیارہ بچوں کے ساتھ زیادتی کی اطلاع ملتی ہے۔ پنجاب کے ضلع قصور میں 2018ء میں ایک درجن قتل ہونے والے بچوں میں زینب انصاری بھی شامل تھی ۔2015میںاسی ضلع میں پولیس نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنیوالے ایک گروہ کی نشاندہی کی تھی۔

دہشت گردوںانسداد دہشت گردی اورقانون نافذ کرتے وقت زیادتیاں

خود کش دھماکے، مسلح حملے اورطالبان القاعدہ اور ان سے منسلک گروہوں کی جانب سے مذہبی اقلیتوں کو تحفظ دینے والے اداروںکے ارکان اور سیاستدانوں کونشانہ بنانے کے نتیجے میں سینکڑوں ہلاکتیں ہوئیں ۔

 جولائی ہونے والے انتخابات میں طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں نے امیدواروں اوران کے حمایتوں کونشانہ بنایا ۔ پاکستان کی تاریخ میں ہونے والے ایک سب سے زیادہ خوفناک خود کش حملے میں 13جولائی کوبلوچستان کے ضلع مستونگ میں بلوچستان عوامی پارٹی (BAP)کے انتخابی جلوس میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں 128لوگ ہلاک ہوئے  (BAP)بلوچستان عوامی پارٹی کے سیاستدان نوابزادہ سراج رئیسانی اس حملہ میں ہلاک ہوئے ۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان کے ایک گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول کی ۔ اسی روزاکرم خان درانی جو کہ متحدہ مجلس عمل (MMA)کے ایک سینئر سیاسی رہنماہیں کے کارواں پر حملہہوا جس میں چار افراد ہلاک اور32زخمی ہوئے ۔ یہ حملہ ریمورٹ کنٹرول دھماکے کے ذریعے خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں کیا گیا جس کا نشانہ اکرم خان درانی تھے لیکن وہ اس حملے میں زندہ بچ گئے ۔ خیبر پختونخوا میں میں پشاور کے مقام پر ہونے والے انتخابی جلسے میں عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما ہارون بلور کو 10جولائی کو ایک خودکش دھماکہ کے نتیجہ میں ہلاک کردیاگیا اور کم از کم 20دوسرے لوگ بھی ہلاک ہو گئے ۔ تحریک طالبان پاکستان (TTP)جوکہ ایک عسکریت پسند گروہ ہے نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ۔ 25جولائی کوانتخاب والے دن کوئٹہ میں ایک پولنگ سٹیشن کو خود کش حملہ کا نشانہ بنایا گیا جس میں 31 لوگ ہلاک ہوگئے ۔ عسکریت پسند گروہ داعش (isis)نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی۔

23نومبر کو چین کے قونصلیٹ واقع کراچی میں مسلح حملہہوا جس میں چار لوگ بشمول دو پولیس افسران ہلاک ہوگئے ۔ عسکریت پسند گروہ بلوچ لبریشن آرمی (BLA)نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی اسی دن اور کزئی قبائلی ضلع میں (isis)نے خود کش حملہ کیا جس میں 33لوگ ہلاک ہوئے ۔

انسداد دہشت گردی کے آپریشن کے دوران پاکستانی تحفظ دینے والے اداروں کے افراد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیو ں کے مرتکب  ہوتے ہیں ۔ جن میںتشدد ، جبری کم شدگیاں بلا الزام حراست اور غیر عدالتی ہلاکتیں شامل ہیں ۔ بقول پاکستانی انسانی حقوق کے علمبردار اور ملزموں کے وکلاء ۔ انسداد دہشت گردی کے قوانین کو بدستور سیاسی دبائوکے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہاہے ۔حکام فوجی عدالتوں میںمقدمات کی سماعت کی آزاد انہ نگرانی کی اجازت نہیں دیتے اوراس طرح بہت سے ملزمان کومنصفانہ سماعت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

جنسی آگاہی اور صنفی شناخت

پاکستان میں مخنث اور تیسری صنف سے تعلق رکھنے والی خواتین کے خلاف تشدد بدستور جاری ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں ٹرانس ایکشن گروہ کے مطابق ہیجڑہ خواتین پر 479حملے کیے گئے جس میں 2018 میںکم از کم چار ہیجڑہ خواتین ہلاک ہوئیں ۔2015میں یہ ہلاکتیں 57تھیں۔

14مئی کومُنی جوکہ خیبر پختونخوا صوبہ کے مانسہرہ ضلع سے تعلق رکھتی تھی پر مہلک فائرنگ ہوئی جس نے ملک گیر توجہ حاصل کی ۔ مئی میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے ہیجڑ ہ شہریوں کوبنیادی حقوق کی ضمانت دینے کا قانون پاس کیا اور حضرات کی طرف سے امتیازی سلوک کو غیر قانونی قرار دیا ۔ یہ ایک بہت بڑا قدم تھا ۔ قانون کسی بھی شخص کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مرد ، عورت یا ان کے امتزاج کے طورپر اپنی شخصیت کا اظہار کرے ۔ اوراپنی اس شناخت کوسرکاری دستاویزات میں رجسٹرڈ کروائے ان دستاویزات میں قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ ، ڈرائیونگ لائسنس اور تعلیمی اسناد شامل ہیں ، تعزرات پاکستان کے مطابق ایک ہی صنف کے افرادکے درمیان جنسی تعلق جرم ہے جس سے مرد اور مرد کے درمیان اور ہیجڑہ خاتون کے تعلق کوپولیس زیادتی اور دیگر تشد اور تعصب کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔

 

سزائے موت

پاکستان میں آٹھ ہزار سے زیادہ قیدی پھانسی دیئے جانے کے انتظار میں ہیں جوکہ دنیا میں پھانسی پانے والوں میں سب سے زیادہ افراد کی تعداد ہے پاکستانی قانون کے تحت28جرائم میں پھانسی کی سزا دی جا سکتی ہے جن میں قتل،زنا ، غداری ، دہشت گردی کے کچھ اقدامات اورمذہبی بے حرمتی شامل ہیں ۔ پھانسی پانے کے انتظا ر میں زیادہ افراد معاشرے کے پست ترین طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔

اپریل میں پاکستان کی عدالت عظمی نے امداد علی اور کنیز فاطمہ کی سزائے موت کومعطل کر دیا اورحکم دیا کہ ان قیدیوں کی نفسیاتی معذوری کے معاملات کو عدالت عظمیٰ کا ایک بینچ دیکھے عدالت نے حکم دیا کہ نفسیاتی معذوری میں مبتلا کسی شخص کوپھانسی نہیں دی جا سکتی امداد علی اور کنیز فاطمہ تا دم تحریر پھانسی پانے کا انتظار کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی کلیدی کردار ادا کرنے والے

مارچ میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل نے پاکستان کی تیسری عالمی معینہ وقفوںسے جائزہ (UPR)جوکہ نومبر2017منعقد ہوئی کواپنایا پاکستانی حکومت نے یو پی آر (upr) کے دوران ہونیوالی مختلف ملکوں کی کافی سفارشات کومسترد کردیا۔

جب سے پاکستان 2017میںانسانی حقوق کی کونسل میں منتخب ہواہے یہ عمومی طورپر انسانی حقوق کے معاملات میں مضبوط موقف اختیار کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ تاہم ستمبر 2017ء میں پاکستان نے او آئی سی اسلامی ممالک کی تنظیم برائے تعاون کے کونسل میں ممبران ریاستوں کو میانمر میں فوج کے ردہنگا کی نسل کشی پر تشویش کے اظہار پر آمادہ کیا ۔

پاکستان کے ریاست ہائے متحدہ کے ساتھ سماجی تعلقات 2018میں بے اعتمادی کے باعث خراب ہوئے امریکہ پاکستان کی ترقی اور فوجی امداد دینے والا سب سے بڑا ملک ہے اگست میں امریکہ نے پاکستان میں فوجی اخراجات کیلئے بطور امداد دیئے جانے والے 300ملین امریکی ڈالر اس بنیاد پر روک دئیے کہ پاکستانطالبان سے تعلق رکھنے والے گروہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف مناسب کارروائی نہیں کر رہا ہے اس پر الزام ہے کہ وہ پاکستان سے منصوبہ بندی کرتے ہوئے افغانستان کے سویلین آبادی حکومت اہلکاروں اورNatoافواج پر حملہ کرتے ہیں

جون میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق اور عدلیہ کے سیاست میں ملوث ہونے کاذکر ہے

2018ء میں پاکستان اورچین کے بڑے پیمانے پر معاشی او سیاسی تعلقات گہرے ہوئے اور(cpec) چائنہ پاکستان معاشی صوابداری کے منصوبہ پر بھی کام جاری رہا ۔ اس منصوبہ میں سڑکوں ، ریولے اورتوانائی کی پائپ لائنز بنانا شامل ہے ۔

پاکستان اوربھارت کے درمیان تاریخی طور پر کشدہ تعلقات میں کوئی بہتری نظرنہ آگئی ۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پربد امنی اور عسکریت پسندی پھیلانے کا الزام لگاتے ہیں۔