’’ سودے بازی کی گنجائش نہیں ‘‘

پاکستان میں مزدوروں کے لیے غیر منصفانہ اور توہین آمیز حالات کار

خلاصہ

     شبانہ (فرضی نام ، جو کہ عرصہ 8 سال سے زائد لاہور کی ایک ملبوسات کی فیکٹری میں دیگر500مزدوروں کے ساتھ کام کر رہی ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ کام کرنے کی شرائط بہت سخت ہیں اور ہمیشہ ملازمت سے نکالے جانے کا خطرہ رہتا ہے۔

کوئی تحریری معاہدہ موجود نہیں اورملازمت کا ثبوت صرف ایک کارڈ ہے ۔ کارخانے کی انتظامیہ خود مزدوروں کی حاضری لگاتی ہے اور 9گھنٹے کے بعد انہیں باہر جانا ظاہر کرتی ہے تاکہ اگر کوئی ریکارڈ کا معائنہ کرے تو یہ ظاہر ہو کہ انتظامیہ قانون کی پاسداری کر رہی ہے ۔ درحقیقت ہم زیادہ گھنٹوں کے لیے کام کرتے ہیں اور بیماری کی چھٹی بھی نہیں دی جاتی ۔ لیکن اگر کوئی ایک دن کے لیے بھی بیمار پڑ جائے تواس کی تنخواہ سے کٹوتی کی جاتی ہے اورزچگی کے لیے بھی کوئی رخصت نہیں دی جاتی ۔ کوئی خاتون حاملہ نظر آئے تو اسے ملازمت چھوڑنے کا کہا جاتا ہے ۔

پاکستان کی ملبوسات کی صنعت میں شبانہ جیسی لاکھوں مزدور ہیں جو استحصال اور قوانین کے غلط استعمال کا شکار ہیں ۔ حالیہ سالوں میں غیر مرئی کارکنان قومی مذاکرات  میں فریق نظر نہیں آتے المناک بات یہ ہے کہ اس کی وجوہات عام طور پر غلط اور افسوسناک ہیں۔

مثال کے طور پر مئی 2017 میں کھاڈی جوکہ پاکستان میں ملبوسات بنانے والوں کا ایک نمایاں برانڈ ہے۔ کے کارکنان نے ملک بھر میں احتجاج کیا جس سے پاکستان میں پار چات کے شعبہ میں وسیع اور سنگین مسائل منظر عام پر آئے یہ احتجاج تب شروع ہوئے جب کھاڈی میں 32 مزدوروں کو ملازمت سے اس لیے برطرف کر دیاگیا  جو پاکستانی قانون کے مطابق اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ مزدوروں کی شکایات میں درجنوں مزدوروں کو بلا وجہ برخاست کرنا ، حفظان صحت کے منافی کام کرنے کے حالات، بہت زیادہ طویل اوقات کار اور کم از کم مقرر کردہ اجرت سے کم تنخواہ شامل ہیں۔ ایک ماہ کے بعد کھاڈی کے یونین رہنماؤں کے ساتھ سمجھوتہ کے نتیجے میں کچھ مزدوروں نے اپنی شکایات واپس لےلیں اگرچہ ایک سال بعد بھی مزدوروں کے ایک سر گرام کارکن کے مطابق ابھی بھی مزدوروں کی بہت سی شکایات کا ازالہ نہیں کیا گیا ۔

پانچ سال قبل 12ستمبر 2012 کو کراچی میں علی انٹر پرائزز گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگنے سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے ہولناک صنعتی سانحہ وقوع پذیر ہوا جس میں 255 مزدور ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے تفتیش کے نتیجہ میں بہت سی بے ضابطگیاں پائی گئیں ۔ جن میں حفاظتی نظام اور آگ بجھانے کا طریقہ کار بالکل موجود نہ تھا ۔ زندہ بچ جانے والے مزدوروں کے مطابق انتظامیہ نے فوری طور پر مزدوروں کو بچانے کی کوئی کوشش نہ کی تھی اور اس کے بجائے انہوں نے پہلے اپنا مال بچانے کی کوشش کی ۔

علی انٹر پرائزز جو کہ بنیادی طور پر ایک جرمن برینڈ(kik textillien) کو مال سپلائی کرتی ہے میں لگنے والی مہلک آگ نے بھی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے طریقہ کار اور جانچ پڑتال کے الزام میں سنگین نقائض کو بے نقاب کیا ۔ اٹلی کی ایک معائنہ کمپنی رینا سروسز (RINA Services S.p.a)نے آگ لگنے کے واقعہ سے صرف 22 دن قبل اس فیکٹری کو سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا کہ فیکٹری میں حفاظت کے نظام اور آگ سے بچاؤ کے ضروری انتظامات موجود ہیں ۔ اور لیبر قوانین کی پابندی کی جا رہی ہے ۔ جانچ پڑتال کی کمپنی رینا نے ملک میں واقعہ سو سے زائد کارخانوں کو اسی قسم کے سرٹیفکیٹ جاری کیے تھے۔

141 لوگوں جن میں 25 ملبوسات کے کارخانوں کے 118 مزدور بھی شامل تھے کے انٹرویوز کی بنیاد پر تیار کی گئی اس رپورٹ میں یونین کے رہنماؤں ، حکومتی نمائندوں اور مزدوروں کے حقوق کی وکالت کرنے والوں کی رائے بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکومت مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے اور کھاڈی کے مرزدوروں کے احتجاج اور علی انٹر پرائزز میں لگنے والی آگ سے جو سبق حکومت کو سیکھنا چاہیے تھا اس پر عمل نہ کیا گیا ، اس کے نتیجہ میں پاکستان میں ملبوسات کے کارخانوں کے مزدور بدوستور بد سلوکی کا شکار ہیں اور ان کی شکایات کاازالہ نہیں کیا گیا۔

پاکستان میں ملبوسات تیار کرنیوالی وسیع صنعت کے مد نظر تحقیق کا دائرہ محدود ہےتاہم یہ بڑے پیمانے پر مزدوروں کے کام کرنے کے برے حالات کی نشاندہی کرتی ہے اور اس سلسلے میں مزدوروں کی شکایات اور ان کے حقوق کی وکالت کرنے والوں ، معائنہ کے نظام کی ناکامی کی تفصیل بیان کرتی ہے کہ کیسے مزدوروں سے متعلق قوانین اور ضابطوں کی تعمیل نہیں کی جاتی ۔

ہم نے اس تحقیق میں خاص طور پر ملوسات کےبین الاقوامی برانڈزکومحور نہیں بنایا ۔ لیکن 20فیصد پاکستانی کار خانے بین الاقوامی منڈی کے لیے سلے سلائے ملبوسات تیار کرتے ہیں ان کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ ہر مال کی سپلائی کرنے تک مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کو یقینی بنائے ۔

کچھ اندازوں کے مطابق پاکستان کی ملبوسات کی صنعت میں ڈیڑھ کروڑو لوگ کام کرتے ہیں ۔ جن میں 38 فیصد ملبوسات کو تیار کرنے والے مزدور ہیں ۔ مجموعی طور پر ملازمت کا تحفظ نہ ہونا ان کی ملازمت سے برخاست کرنے اور مزدوروں کو قابو میں رکھنا آسان بناتا ہے ۔ حکومت کی طرف سے معائنہ کے برے نظام اور آزاد مزدور یونین کے خلاف جارحانہ اقدامات کی وجہ سے مزدوروں کے لیے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

اگرچہ زیادہ کارخانے ملکی منڈیوں کے لیے مال تیار کرتے ہیں ، کچھ ریاست ہائے متحدہ اور یورپ کی مشہور کمپنیوں کے لیے مال تیار کرتے ہیں ۔ بڑے کارخانے صنعت کے منظم شعبے کا حصہ ہیں اور بین الاقوامی برانڈ کے ملبوسات تیار کرتے ہیں ۔ مال کی زیادہ تر تیاری غیر رسمی معیشت کے طور پر چھوٹی غیر رجسٹرڈ دکانات اور بغیر نام کی عمارات میں کی جاتی ہے ۔ چھوٹے کارخانے ملکی برانڈ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ دونوں کے لیے مال تیار کرتے ہیں ۔

چھوٹے کارخانوں میں کام کرنے کے حالات بڑے کارخانوں کی نسبت زیادہ برے ہوتے ہیں کیونکہ بڑےکار خانے جو بین الاقوامی برانڈ کے لیے مال تیار کرتے ہیں ان کے معائنہ کیے جانے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں ، چھوٹے کارخانوں کےمالکان مزدوروں کی مقرر کردہ کم از کم تنخواہ سے بھی کم اجرت ادا کرتے ہیں اور ملازمت کے لیے معاہدہ کم مدت کے لیے کرتے ہیں ۔ جو کہ زبانی ہوتا ہے ۔ تاہم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان کے بڑے کارخانوں میں بھی مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیاں بشمول مقرر ہ اوقات کار سے زائد کام کروانا چھٹی نہ دینا اور کم معیاد کے معاہدے کرنا جو تحریر نہ کئے گئے ہوں شامل ہیں ۔

 

مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیاں  

ملبوسات کے کارخانوں میں مزدوروں کے لیے کام کرنے کے برے حالات کا احتساب نہ کرنا صنعتی تنازعات کی اصل وجہ ہے ، مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیاں تمام کارخانوں میں ہوتی ہیں جن میں ملکی قانون پر عمل نہ کرنا اور ضابطہ اخلاق کی پیروی نہ کرنا شامل ہیں۔ ان کے لیے مغربی ممالک کے ملبوسات فروخت کرنے والے مطالبات کرتے ہیں کہ مال کی تیاری کے معاہدے اور مال فراہم کرنے والے ان قوانین کی پابندی کریں ۔ مزدور جن میں کئی خواتین شامل ہیں نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ ان کے ساتھ زبانی اور جسمانی بد سلوکی کی گئی ہے ۔ کئی دفعہ اس کی نوعیت جنسی بھی ہوتی ہے ۔ کئی مرتبہ جبری طور پر زائد وقت کے لیے کام کروانا ۔ زچگی کے دوران رخصت کی تنخواہ نہ دینا ۔ بیماری کی چھٹی سے انکار اور مقرر کردہ کم از کم تنخواہ ادا کرنے میں ناکامی شامل ہے ۔مزدوروں نے یہ بھی کہا کہ ان کو اس بات پر دباؤ میں رکھا جاتا ہے کہ وہ باتھ روم جانے کے لیے وقفہ نہ لیں ، کچھ نے شکایت کی کہ ان کو پینے کے لیے صاف پانی مہیا نہیں کیاجاتا کراچی کے ایک کارخانے کے مزدور نے کہا :

مجھے اس وقت ملازمت سے برخاست کر دیا گیا جب میں بیمار تھااور مجھے تیز بخار تھا ۔ جب میں واپس آیا تو مجھے اندر داخل نہ ہونے دیا گیا اور مجھے بتایا گیا کہ میری ملازمت ختم ہو چکی ہے جو کوئی بھی بیمار ہوتا ہے اسے ملازمت سے نکال دیا جاتا ہے ۔ یہ ایک عام قاعدہ ہے ایک خاتون مزدور جس کو معدہ میں زخم تھا نے اپریشن کے لیے کچھ دنوں کے لیے رخصت مانگی لیکن رخصت دینے کی بجائے اسے ملازمت سے نکال دیا گیا ۔

ہیومن رائٹس واچ کو کراچی میں ایک مزدور خاتون نے بتایا :

زچگی کی رخصت نہیں دی جاتی ہے حاملہ خواتین ملازمت چھوڑ گئی ہیں ( ملازمت سے برخاست کرنے کی بجائے چھوڑ گئی ہے استعمال کیا جاتا ہے) اوراب جب بھی کوئی خاتون حاملہ ہوتی ہے تو وہ ملازمت سے برخاست ہونے کی بے عزتی سے بچنے کے لیے خود ہی ملازمت چھوڑ دیتی ہے ۔

کچھ چھوٹے کارخانے  کئی دفعہ بچوں کو ملازم رکھتے ہیں ، کئی دفعہ ان کی عمر13 سال ہوتی ہے تاکہ انہیں کم از کم مقررہ تنخواہ ادا نہ کرنا پڑے اور نہ ہی زائد وقت کی اجرت ادا کرنا پڑے ۔ ہیومن راٹس واچ نے ملبوسات کے کارخانوں میں کام کرنے والے 9 بچوں سے بات کی گئی جو کہ تمام ملکی مارکیٹ کے لیے کام کر رہے تھے ان میں سے کسی بچے کے ساتھ تحریری معاہدہ نہ کیا گیا تھا ،انتظامیہ اس بنیاد پر ان کے ساتھ ملازمت کا معاہدہ کرنے اور دیگر مراعات دینے سے گریز کرسکتی ہے کیونکہ 18 سال سے کم عمر ہونے کی وجہ سے ان کے پاس قومی شناختی کارڈ (NIC) نہیں ہوتا اور اس کو حکومت کی جانب سے طے شدہ اجرت نہ دینے کا بہانہ بنایا جاتا ہے ۔ بچے اکثر اپنے والدین خاص طور پر ماؤں کے ساتھ کار خانہ میں آتے ہیں اور وہ بغیر کسی رسمی معاہدہ کے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔17سالہ وہاب جو کہ کراچی کا رہنے والا ہے اور 14سال کی عمر سے مزدوری کر رہا ہے نے کہا :

منتظمین ہمارے لیے ناسا ئشتہ زبانی استعمال کرتے ہیں اور وہ بھی اکثر بلاوجہ ہمیں کوئی معاہدہ ملازمت ، سوشل سکیورٹی کارڈ اور بیماری کی بنا پر رخصت نہیں دی جاتی ہے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ تمہیں رخصت اور زیادہ تنخواہ کا حق نہ ہے کیونکہ تمہارے پاس شناختی کارڈ نہ ہے ۔

کار خانوں میں حکومت کی جانب سے دی گئی مراعات کا بھی غلط استعمال کیا جاتا ہے یکم دسمبر 2018 کو لاہور  میں ملبوسات کے کارکنان کی تربیت کے ادارہ جس کو ایک بڑا پاکستانی برانڈ چلاتا ہے میں احتجاج ہوا ۔ مزدوروں کا کہنا تھا کہ کمپنی حکومت کی جانب سے تربیت کے ادارے قائم کرنے کی ترغیب کو غلط استعمال کر رہی ہے ، حکومت ہر تربیت یافتہ مزدور کے لیے دو ہزار روپے (2امریکی ڈالر) مہیا کرتی ہے ، مزدوروں نے الزام لگایا کہ در حقیقت انتظامیہ بغیراجرت ادا کیے کار خانہ چلاتی ہے اس لیے مزدوروں نے کام بند کر دیا اور وہ منتظم کے دفتر کے باہر اکٹھے ہو گئے اور تنخواہ کا مطالبہ کیا تربیت کے ادارہ میں ایک مزدور نے کہا : کمپنی اپنے کار خانہ کو ریکارڈ میں تربیت گاہ ظاہر کرتی ہے ۔ لیکن یہاں کوئی تربیت نہیں دی جاتی ۔ یہ ایک کارخانہ ہے ، حکومتی معائنہ ٹیمیں بھی اس سازش میں شریک ہیں ، جو لوگ زیر تربیت ظاہر کئے جاتے ہیں وہ اصل میں ملبوسات کے ماہر کاریگر ہوتے ہیں۔

 

گھروں میں کام کرنے والے مزدور

پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں خواتین رسمی طور پر کام کرنے والی افرادی قوت کا حصہ نہیں بنتی لیکن وہ گھر میں رہتے ہوئے کام کر کے اپنی آمدنی میں اضافہ کرتی ہیں۔ پاکستانی برانڈ کے لیے ملبوسات تیار کرنے والی بہت سی فیکٹریاں گھروں میں کام کرنے والی مزدور خواتین کو موسم یا  آرڈر کے مطابق استعمال کرتی ہیں ۔ اس قسم کی مزدور خواتین کا سر کاری طور پر اعداد وشمار موجود نہ ہیں ،2014 میں انٹر نیشنل جرنل برائے سوشل ورک اینڈ ہیومن سروسز پریکٹس کے اندازے کے مطابق غیر رسمی معیشت کے لیے پاکستان میں کام کرنے والی 77 تا 83 فیصد مزدور خواتین گھروں میں کام کرتی ہیں ۔

ہیومن رائٹس واچ نے لاہور اور کراچی میں موسم کی بنیاد پر گھروں میں ملبوسات کے کارخانوں کے لیے کام کرنے والی 23 خواتین سے بات کی ۔ بین الاقوامی مزدوروں کی تنظیم (ILO) کے مطابق گھروں میں کام کرنے والی خواتین مزدور بنیادی طور پر ملکی منڈی کے لیے کام کرتی ہیں ۔ جن خواتین کا ہیومن رائٹس واچ نے انٹرویو کیا وہ اس کارخانے کا نام بھی نہیں جانتی تھیں جس کے لیے وہ کام کرتی تھیں اور نہ ہی وہ برانڈ جس کے یے وہ کام کر رہی تھیں ، دلال عام طور پر خواتین کو سلے ہوئے ملبوسات سے فالتو دھاگے کاٹنے کے لیے ملازم رکھتے ہیں اس کے علاوہ ان سے کڑھائی ، کاج بنانے اور پلاسٹک کے تھیلوں میں ملبوسات کو پیک کرنے کا کام لیا جاتا ہے ۔ ایک خاتون جو بیس سال سے گھریلو مزدور کے طور پر کام کر رہی ہے نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا :

ہمیں کام ٹھیکیدارمہیا کرتا ہے اور وہی ہمارا واحد رابطہ ہوتا ہے ، فی جوڑا اجرت دو تا چار روپے (2تا 4امریکی سینٹ)ہوتی ہے کئی مرتبہ ٹھیکیدار مال کی تیاری سے قبل اجرت طے نہیں کرتا اور کہتا ہے  :’’ ایک دفعہ تم مال تیار کر لو تو ہم اجرت طے کر لیں گے ۔‘‘ ہم اس کے ساتھ کسی قسم کا بھاؤ نہیں کر سکتے اگر ہم ایسا کریں تو آئندہ وہ ہمیں آرڈر برائے تیاری مال نہیں دے گا ۔

 

مزدور انجمن کو توڑنا

مزدوروں کے حقوق کے سر گرم کارکنوں کو شکایت ہے کہ اکثر بڑے کارخانے دار مزدور انجمن کو توڑ دیتے ہیں ۔ کارخانے کے متنظمین اکثر مزدوروں کو مختصر عرصہ کے معاہدہ پر ملازمت پر رکھتے ہیں تاکہ مزدور یونین کی سر گرمیوں میں ان کی شرکت کی حوصلہ شکنی ہو ۔ کئی سالوں کی ملازمت کے باوجود بھی ان کو ملازمت پر مستقل نہ کرنا ، یونین کے عہدیداران کو ملازمت سے برخاست کرنا اور ہراساں کرنا تاکہ وہ آزاد یونین نہ بنا سکیں اور انتظامیہ کی حمایتی  یونین کی حوصلہ افزائی کرنا شامل ہے ۔

کارخانہ کے مالک لیبر قوانین کے لیے ساز باز کر کے مزدوروں کے لیے رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں تاکہ وہ ٹریڈ یونین رجسٹرڈ نہ کروا سکیں ۔ اس کے لیے بنیادی حربہ کے طور پر وہ جعلی یا  زرد یونین جو کہ ایسے افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو کہ فرضی ملازمین ہوتے ہیں جس سے اصل مزردورں کے لیے یونین کو رجسٹرڈ کروانا نا ممکن ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ قانونی طور پر کارخانہ میں کل مزدوروں کی 5/1تعداد یونین کی ممبر ہونا چاہیے۔

بہت کم مواقع پر کارخانہ کے مزدور کامیابی سے یونین سازی کر سکتے ہیں ۔ کیونکہ کارخانہ کے مالکان رشوت کا استعمال کرتے ہیں ، دھمکیاں دیتے ہیں اور تشددکے ذریعہ ڈرا دھمکا کر انہیں دباتے ہیں۔

مثال کے طور پر 6جولائی2010 نا معلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ممتاز مزدور رہنما مستنصر رندھاوا  اور اس کے بھائی کو پنجاب کے ضلع فیصل آباد میں ہلاک کردیا ۔ رندھاوا نے مزدور قومی تحریک (LQM) کا رہنما تھا ۔ مزدور قومی تحریک کپڑا ملوں اور پاور لومز کے شعبہ میں مزدور ںکو فیصل آباد کے صنعتی ضلع میں منظم کرنا چاہتی تھی ۔اس کو معاوضہ بڑھانے کے لیے ہڑتال کرنے کا اعلان کرنے کے فوراً بعد ہلاک کر دیا گیا ۔ مزدوروں نے اس کی ہلاکت اور معاوضہ بڑھانے کے لیے ہڑتال کی ۔ پولیس نے احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت استعمال کی جس سے کئی مضروب ہوئے اور 100 سے زائد گرفتار ہوئے ۔ بعد میں مزدور قومی تحریک  (LQM) کے چھ لیڈر گرفتار کر لیے گئے ۔ جن کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات چلائے گئے کہ انہوں نے ہڑتال کے دوران فیکٹری میں آگ لگانے کی کوشش کی تھی ۔ نومبر 2011 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان 6 مزدور رہنما کو عمر قید کی سزا سنائی۔

مارچ 2012 میں مزدوروں کے حقوق کے 12 سر گرم کارکنوں کو کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں فرد جرم عائد کی گئی کہ وہ بھتہ طلب / وصول کرتے تھے ، ان میں سے 6 کو گرفتار کیا گیا ان کو حراست کے دوران مار پیٹ کی گئی ۔ مئی2012 میں ان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ۔ آخر کار اگست 2014میں عدالت نے مقدمہ چلانے کے بعد ان کو بری کردیا ، اس مقدمہ میں عدالت میں 100 سے زائد پیشیاں /تاریخیں پڑیں۔دسمبر 2017میں مزدوروں کے حقوق کے سر گرم کارکن نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ انہیں سکیورٹی ایجنسیز کی جانب سے دھمکیاں دی گئی ہیں کیونکہ انہوں نے مزدوروں کے قوانین پر عمل درآمد کے بارے میں یا بد سلوکی کے بارے میں شکایات کیں ۔کئی یونین رہنمائوں کے مطابق کار خانہ مالکان اکثر مزدوروں کو رشوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے  ہٹ جائیں ۔ ایک یونین لیڈر نے ہیومن رائٹس واچ کو بتایا :

ہم نے ہڑتال کو کامیابی سے منتظم کیا اور فیکٹری تقریباً بند ہوگئی تھی ۔ ہم مطالبہ کر رہے تھے کہ ہمارے معاہدے باقاعدہ بنائے جائیں اور مزدوروں کو مستقل ملازمین بنایا جائے ۔ مجھے انتظامیہ نے بات چیت کے لیے بلوایا ۔ ان کا اصرار تھا کہ میں اکیلا آؤں ۔ انہوں نے مجھے ایک کاراور تین لاکھ روپے (3000امریکی ڈالر)کی پیشکش کی تاکہ میں مزدوروں کو ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کروں۔

 

بین الاقوامی ملبوسات کی کمپنیاں

 حالانکہ پاکستان کی ملبو سات کی صنعت زیادہ تر ملکی منڈیوں کے لیے مال کی تیاری کرتی ہے ، لیکن بہت سی فیکٹریاںمشہور بین الاقوامی برانڈ ز کے لیے بھی مال تیار کرتی ہیں اور یہ امریکہ ، برطانیہ ، یورپ اور چائنہ کو بھی برآمد کرتی ہیں ۔

ان میں سے کچھ فیکٹریوں میں کام کرنے والے  مزدوروں کے استحصال والےحالات کار کی شکایات کرتے ہیں ، مثال کے طور پر حافظ آباد ضلع میں بین الاقوامی برانڈ تیار کرنے والی ایک فیکٹری میںمزدوروں نے بتایاکہ آزاد یونین کے ساتھ تعلق رکھنے والے مزدوروںکو انتظامیہ ڈرانے ، دھمکانے کی کوشش کرتی ہے ۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایک خط کے جواب میں فیکٹری انتظامیہ نے کہا کہ وہ مزدوروں کے یونین کے ساتھ شامل ہونے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور کبھی بھی انہوں نے مزدوروں کو ایسا کرنے سے روکنے کے لیے غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال نہ کئے ہیں ۔ فیکٹری انتظامیہ کی جانب سے تین عدد یونین کی تفصیل بھی مہیا کی ۔ جو کہ رجسٹرڈ ہیں ۔ لیکن مزدوروں نے اس دعوی کی تردید کی ہے اور کہا کہ فیکٹری انتظامیہ آزد یونین کے رجسٹرڈ کرنے کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی ہے ۔ اور یونین ممبرز کو دھمکایا کہ وہ اپنی مرضی سے ملازمت چھوڑ دیں ۔

بین الاقوامی برانڈز کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مال مہیا کرنے کے دوران تمام سطحوں پر مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کو فروغ دیں چاہیے وہ براہ راست مہیا کردہ مال ہو یا ٹھیکیدار کے ذریعے بالواسطہ اگرچہ بہت سے برانڈز اس بات پر زوردیتے ہیں کہ ان کو مال کی سپلائی کے دوران ضابطہ اخلاق کی پابندی کی جائے لیکن پھر بھی اس کے عمل درآمد میں مختلف مرحلوں پر خلا پائے جاتے ہیں جس کی وجہ مال مہیا کرنے کے عمل میں شفافیت کی کمی اور ملبوسات کی خریداری کے عمل کے دوران مناسب محنت کی ضرورت ہیں ۔ اور مزدوروں تک مضبوط رسائی کے ذریعہ ان کے مسائل کا ازالہ ہے ۔

 

احتساب کو یقینی بنانا

بین الاقوامی انسانی حقوق اور لیبر لاز ( مزدوروں کے حقوق کے متعلق قوانین ) پاکستانی حکومت پر یہ ذمہ داری عائد کرتے ہیں کہ وہ مزدوروں کے حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائے اور جب بھی ان کے ساتھ زیادتی ہو ان کو اسکے ازالہ کے لیے رسائی حاصل ہو ۔ محکمہ محنت جو کہ چاروں صوبوں میںموجود ہے کو کہا جائے کہ وہ موثر قوانین کے ساتھ مزدوروں کے کام کرنے کے حالات کا معائنہ کرے اور ان کو قوانین لاگو کرنے کے لیے اختیارات حاصل ہو ں۔لیکن تاحال پاکستان میں محکمہ محنت کا معائنہ نظام بالکل غیر موثر ہے اور رشوت کے الزامات کا باعث ہے ۔

2017 میں ایک تخمینے کے مطابق ملک میں (3,50,000)تین لاکھ پچاس ہزار سے زائد کا رخانوں کے لیے 547 لیبر انسپکٹر ز تھے ۔ ان میں صرف17 خواتین تھیں ۔ جو کہ ایک بہت بڑی بھول ہے کیونکہ ملبوسات کے شعبہ میں کام کرنے والے مزدوروں کا 30فیصد خواتین ہیں ۔ یہ GEO کے میڈیا ہاؤس کے ایک اندازے کے مطابق ہے ۔ ان خواتین کو ملازمت کے ہر مرحلہ بشمول ملازمت دینے ۔ ترقی اورملازمت سے برخاست کرنے پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ کارخانے والے خواتین کے لیے مناسب کام کرنے کے حالات مہیا نہیں کرتے خاص طور پر حاملہ خواتین کے لیے زیادہ خواتین کو کم تنخواہ پر اور کم مہارت کے کاموں پر معاہدہ کے تحت ملازم پررکھا جاتا ہے ۔ مزدوریونین کے ایک راہنما نے کہا :

کراچی میں پورے شہر کے لیے صر ف2 لیبر انسپکٹرز ہیں ( کراچی میں ملک کی 70فیصد صنعت واقع ہے ) جب کہ ملک میں کل 200 تا 225 لیبر انسپکٹرز ہیں ، خواتین مزدور جنسی تشدد کے بارے میں بات کرنے میں انتہائی شش و پنج کا شکار ہوتی ہیں اور اپنے دیگر ذاتی مسائل بھی مرد حکومتی اہلکاروں کے ساتھ بیان کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتی ہیں۔

مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری حکومت پاکستان پر ہے ۔ پاکستانی قوانین بین الاقوامی معیار بشمول آئی ایل او کنونشن پر پورے نہیں اترتے ۔ موجودہ ملکی قوانین کے سختی سے نافذ کرنے سے بھی مزدوروں کے حقوق کی حفاظت میں بڑی پیش قدمی ہو سکتی ہے ۔ انسپکٹرز اوردوسرے حکام پر بوجھ سے یا پھر وہ ساز باز میں شریک ہو کر زیادتیوں کے عمل کو جاری رہنے دیتے ہیں۔

فیکٹری مالکان کو بھی اصلاح کے لیے عزم رکھنا چاہیے ۔ حکومت آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (APTMA)اور پاکستان سلے سلائےملبوسات تیار کرنے والے اور برآمد کرنے والے (PRGMEA)مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کرنے والے ضابطوں کو نافذ کرنے  میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اوراسی طرح ان کمپنیوں کے خلاف انضباطی کارروائی کے لیے بھی جو مزدوروں کے حقوق کو نقصان پہنچاتی ہیں ۔ تاہم پاکستان میں بہت سے فیکٹری مالکان سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں جس وجہ سے فیکٹریوں میں حفاظت اور حفظان صحت کے ضابطوں کی خلاف ورزی پر ان کو مزدوروں کے حقوق کے خلاف ورزی پر قصور وار ٹھہرانے کے کارروائی متاثر ہوتی ہے ۔

بین الاقوامی اور ملکی کمپنیاں جو ملبوستات اور دیگر چیزیں پاکستان سے تیار کرواتی ہیں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مزدوروں کی حفاظت اور ان کے حقوق کو ملبوسات کی تیاری سے لیکر ان کی سپلائی تک یقینی بنائیں ۔ فیکٹریوں میں کام کرنے والے حالات جن کا اس رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے نہ صرف پاکستانی قوانین کے منافی ہیں بلکہ بین الاقوامی برانڈ اور مال فروخت کرنے والوں کے معیار جس کے لیے وہ اصرار کرتے ہیں اس پر بھی پورا نہیں اترتے ۔

اقوام متحدہ کے کاروبار اور انسانی حقوق کے رہنما اصولوں ، مالکان اوران کمپنیوں ( جو مال خریدتی ہیں ) کی بھی ذمہ داری ہے کہ فیکٹریوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکیں اور ایسی خلاف ورزیاں ہونے کی صورت میں ان کی اصلاح کریں ۔ تمام کاروباری اداروں کو اپنے حجم اور اس بات کے کہ وہ کہاں واقع ہیں کے قطع نظر انسانی حقوق کے مخالف کسی کارروائی  میں نہ تو شریک ہونا چاہیے نہ ہی اس میں معاون ہونا چاہیے اورایسی خلاف ورزیاں وقو ع پذیر ہونے کی صورت میں ان کی تلافی کرنی چاہیے ۔ انہیں چاہیے کہ وہ انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کو روکیں اور ان کے اثر کو کم کریں خاص طور پر جب ان کا تعلق ان کے کام کرنے ۔ پیداوار یا کاروباری تعلقات کے ساتھ ہو چاہے وہ اس میں کسی طور پر معاون بھی نہ رہے ہوں ۔بہت سی ملکی اور بین الاقوامی کمپنیاں جو پاکستان میں کاروباری سر گرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اپنی ان ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر رہی ہیں۔

 

کلیدی سفارشات

  • پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو متعلقہ لیبر قوانین پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں ۔ پاکستان انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2012 اورصوبائی قوانین بین الاقوامی لیبر تنظیم (آئی ایل او)بشمول کنونشن نمبر 87 برائے آزادی انجمن سازی ۔ کنونشن نمبر 98 حقوق برائے اجتماعی سودا کاری و تنظیم جن کی پاکستان نے توثیق کی ہوئی ہے کہ معیار پر پورے نہیں اترتے ۔
  • پاکستان کی وفاقی حکومت کوچاہیے کہ وہ مزدوروں کی شکایات بابت بد سلوکی ، مارپیٹ دھمکیاں ، ہتک آمیز رویوں کے بارے میں موثر اور غیرجانبدار تفتیش کروائے اور ذمہ داران کے خلاف مقدمات چلائے ۔
  • پاکستان کی صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ لیبر انسپکٹر وں کی تعداد میں اضافہ کرے ان کی تربیت کو بہتر بنائے اور آزاد اور معتبرمعائنہ کے نظام کو قائم کرے اور اپنے وسائل کے مطابق موثر معائنوں کی تعداد میں اضافہ کرے۔
  • ملکی اور بین الاقوامی کمپنیاں جو پاکستان میں مال تیار کرواتی ہیں کو چاہیے کہ وہ مال فراہم کرنے والی فیکٹریوں کی فہرست کو عام لوگوں کے علم میں لائے ۔ اس سلسلے میں انہیں چاہیے کہ وہ اکٹھے ہو کے قدم اٹھائیں اور مزدوروں کی شکایات کے ازالہ کے لیے اقدامات اٹھائیں اور ایک ایسا نظام مرتب کریں جس میں مزدوروں کو انجمن سازی کی آزادی ہو۔

 

سفارشات

پاکستان کی وفاقی حکومت کے لیے

  • ملکی لیبر قوانین پر نظر ثانی کی جائے تاکہ وہ بین الاقوامی لیبر قوانین کے معیار کے مطابق لائے جا سکیں۔انڈسٹریل ریلشن ایکٹ 2012 اور صوبائی مزدوروں کے قوانین بین الاقوامی ، مزدور تنظیم ( آئی ایل او ) جس کی پاکستان نے توثیق کی ہوئی ہے بشمول کنونشن 87 برائے انجمن سازی اور کنونشن 98 برائے حقوق تنظیم سازی و اجتماعی سودا کاری ، کے معیار پر پورا نہیں اترتے ۔
  • مزدوروں کے حقوق برائے انجمن سازی و اجتماعی سودا کاری کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔ پولیس کو ہدایات کی جائے کہ وہ جسمانی حملوں کی شکایات کی درست تفتیش کریں اورذمہ داران کی نشاندہی کریں۔ فیکٹری مالکان جن کے خلاف معتبر شکایات موصول ہوں کہ وہ یونین کے مخالف سر گرمیوں میں ملوث ہیں کے خلاف تحقیق کی جائے اور قصور وار پائے جانے والے مالکان کو سزا دی جائے ۔
  • صوبوں سے وقفے وقفے سے عملدرآمد رپورٹیں منگوائی جائیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ مزدوروں کے حقوق کو تحفظ دینے والے قوانین پر درست طور پر عمل ہورہا ہے اور کام کرنیوالی جگہوں پر جنسی ہراسگی کو ختم کردیا گیا ہے۔
  • لیبر قوانین کوہم آہنگ بنانے کو تیز کیا جائے ۔ تاکہ ملازمت کے لیے کم از کم عمر کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لایا جا سکے ۔ خاص طور پر ( آئی ایل او) کنونشن نمبر 138 بابت برائے کم از کم عمر برائے ملازمت 1973 کے مطابق کم از کم عمر کے اصول پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور مالکان حضرات کو پابند کیا جائے کہ وہ جب بھی مطالبہ ہوتو وہ بچوں کی عمر کی دستاویزات کوپیش کریں۔
  • حکومتی لیبر ، فائر اور بلڈنگ انسپکٹروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے ۔ ان کی تربیت کو بہتر بنایا جائے ۔ آزاد اور معتبر معائنوں کے نظام کو قائم کیا جائے اور اس سلسلہ میں وسائل کے مطابق موثر معائنے کیے جائیں ،
  • صوبائی محکمہ محنت کو مضبوط بنانے کے لیے قانون سازی کی جائے تاکہ ان کو فیکٹری مالکان کے غلط اور غیر منصفانہ سر گرمیوں پر سزا دینے کے زیادہ اختیارات حاصل ہوں جس میں جرمانے اور دیگر سزائیں جو مستقبل کی خلاف ورزیوں کو روک سکیں ۔
  • فیکٹریوں میں حادثات میں زخمی ہونے والے مزدوروں کو دی جانے والی مراعات کے سلسلہ میں ( آئی ایل او ) کنونشن نمبر 121 کی توثیق کی جائے ۔
  • مالک کی جانب سے ملازمت سے برخاست کرنے کے سلسلہ میں (آئی ایل او ) کنونشن نمبر 158 زچگی کی حفاظت کی بابت کنونشن نمبر 183(2000) اور کم از کم اجرت کنونشن نمبر 131(1983)کی توثیق  کی جائے  اُن ٹھیکیداروں جو گھروں میں کام کرنے والے مزدوروں کے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں ان کی نگرانی کا نظام مضبوط کیا جائے ۔ فیکٹریوں اور مال فراہم کرنے والوں کو پابند کیا جائے وہ گھروں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت کریں۔

 

قومی صنعتی تعلقات کمیشن کے لیے

  • مزدوروں کی جانب سے بد سلوکی کے الزامات بشمول مار پیٹ ، دھمکیوں ہتک آمیز رویوں ، کی شکایات پر آزادانہ اور موثر تفتیش کی جائے اور ذمہ داران کے خلاف مقدمات چلائے جائیں ۔
  • لیبر انسپکٹرز کے خلاف معتبر الزامات پر تفتیش کی جائے اور قصور واروں کے خلاف سزا کے لیے کارروائی کی جائے ۔
  • مزدوروں کی شکایات کے لیے ایک موثر طریقہ کار قائم کیا جائے تاکہ مزدورضابطوں اور حفاظت کی خلاف ورزیوں کی بابت بلا خوف جوابی کارروائی  اپنی آواز اٹھا سکیں۔
  • ایسے تمام واقعات جن میں منیجر یا مالکان مزدوروں کے خلاف اور انجمن سازی کرنے والوں کےخلاف من گھڑت فوجداری شکایات درج کرواتے ہیں کی تحقیقات کی جائیں اور ان تمام کو بلا جواز ہوں کو ختم کر دیا جائے ۔

 

صوبائی محکمہ محنت کے لیے

  • انجمن سازی کے طریقہ کار پر بعد از مشاورت آزاد یونین اور (آئی ایل او ) نظر ثانی کی جائے اور اور غیر ضروری شرائط جو (آئی ایل او) کنونشن نمبر87 بابت آزاد ی انجمن سازی کی خلاف ورزی کرتی ہیں کو خلاف کردیا جائے ۔ محکمہ محنت کو دی جانے والی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے اور اس بابت کو یقینی بنایا جائے کہ مزدور اپنی شکایات کا اظہار بغیر کسی ڈر اور خوف آزاں منیجرز اور سپر وائزر کر سکیں ۔
  • لیبر معائنہ کے نظام کو بہتربنایا جائے بشمول وقفے وقفے سے کی جانے والی نگرانی ۔ مندردہ ذیل چیزوں پر توجہ مرکوز کی جائے ۔
  • زبانی معاہدوں اور تیسرے فریق یعنی ٹھیکیداروں کے ذریعے ملازمت کا معاہدہ
  • جبری زائد وقت کے لیے کام کروانا اور انتقام کے طور پر زائد وقت کے لیے کام کرنے سے روک دینا
  • حاملہ خواتین مزدوروں کے کام کرنے کے حالات بشمول ملازمت دیتے وقت امتیازی سلوک ۔ معاہدہ کی تجدید ، ترقی اور کام کرنے کے کار خانے میں مناسب رہائش کی فراہمی۔
  • بیماری کی بنیاد پر رخصت دینے سے انکار
  • بچوں شے مشقت لینا
  • یونین کے خلاف سر گرمیوں کی شکایات بشمول جعلی ملازمین کی بنیاد پر بنائی گئی ’’ زرد ‘‘ یونین

باقاعدگی کے ساتھ ( مثال کے طور پر ہر چار ماہ بعد ) معائنہ کی گئی ، فیکٹریوں کی تعداد عوام الناس کے لیے ظاہر کرنا ۔ مزدوروں کے حقوق کی بڑی خلاف ورزیاں اور ان پر عمل درآمد کے لیے کئے گئے اقدمات ظاہر کی جانے والی تفصیلات کو کئی کرداروں کے ساتھ مشورہ کے بعد حتمی شکل دی جائے جن میں مزدوروں کے حقوق کے علمبردار اور آزاد مزدور یونین شامل ہوں۔

  • ہر صوبے میں لیبر انسپکٹر ز کے لیے ضرورت کے مطابق وسائل یقینی بنائے جائیں اور وقفہ وقفہ سے وسائل کی فراہمی اور اخراجات کی فہرست جاری کی جائے ۔ فیکٹری انسپکٹرز کے لیے ان کی جانب سے کئے گئے اخراجات کی ادائیگی کی جائے تاکہ وہ فیکٹری سے عوضانہ وصول نہ کریں ۔

 

وفاقی وزرات تجارت و کاروبار کے لیے

  • باقاعدگی کے ساتھ ملبوسات اور جوتے بنانے والی فیکٹریوں جو وزرات کے پاس رجسٹرڈ ہیں کے نام ( مثال کے طور پر ہر 6ماہ بعد ) عوام الناس کے لیے ظاہر کیا جائے تاکہ مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہ اس کی تصدیق کر سکیں اور محکمہ محنت معائنوں کے لیے اس کو استعمال کر سکیں ۔
  • صوبائی محکموں برائے محنت سے معلومات اکٹھی کی جائیں اور وقفہ وقفہ سے وزرات کی جانب سے ان فیٹکریوں کے خلاف جو کہ لیبر قوانین کی پابندی نہ کر رہی ہیں ، کارروائی کو باقاعدگی سے عام کیا جائے ۔
  • پاکستان سے ملبوسات اور جوتے بنوانے والے تمام بین الاقوامی برانڈز کے نام باقاعدگی کے ساتھ مشتہر کئے جائیں۔

 

 

آل پاکستان ٹیکسٹائل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن(APTM)  کے لیے

  • مزدوروں کے حقوق برائے یونین سازی کی عوامی سطح پر حمایت کی جائے اور یونین اور فیکٹری مالکان کے ساتھ کام کریں تاکہ مزدوروں کے حق برائے انجمن سازی کو یقینی بنایا جا سکے ۔
  • ایسوسی ایشن کے ممبران کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ آزاد یونین قائم کرنے کی حمایت کریں اور یونین کے ممبران ( اراکین ) اور رہنمائوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں ۔ مزدوروں کے خلاف تعصب اور امتیازی سلوک کو روکنے کے لیے تحریری پایسی پر عمل کیا جائے اور اس کو مشتہر کیا جائے ۔ اس پالیسی کے مطابق مزدوروں کے خلاف انھیں ملازمت سے یونین کا ممبر ہونے یا خواتین مزدوروں کا حاملہ ہونے کی بنا پر برخاست کو روکنا ہے ۔
  • ایسوسی ایشن کے تمام ممبران کی مخصوص تربیت کی جائے تاکہ کام کرنے کی جگہوں پر جنسی ہراسگی کے قونین پر عمل درآمد کو بہتر بنایا جا سکے ۔
  • ایسوسی ایشن کے ممبران کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ یونین بنانے والے مزدوروں اور سر گرم کارکنوں کے خلاف ناجائز مقدمات کو ختم کریں ۔

(آئی ایل او )بین الاقوامی مزدور تنظیم ) کے ساتھ مشاورت کر کے فیکٹری مالکان کو آزاد یونین اورمزدوروں کے ساتھ بہتر تعلقات کے فوائد کی بابت سکھایا جائے ۔

 

ملبوسات کی ملکی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے

مزدوروں کی شکایات کی داد رسی کے لیے مختلف طریقوں تک ان کی رسائی کو بہتر بنایا جائے ۔ جس میں درج ذیل شامل ہیں :

  • باقاعدگی کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر ملبوسات مہیا کرنے والے کارخانوں کی تازہ ترین فہرست جو آسان طریقے سے پڑھی جا سکے کو مشتہر کریں ۔
  • وہ برانڈ جن کے پاس مسائل کی داد رسی کا نظام موجود ہے کو اجتماعی پہل کاری کے لیے شامل کیا جائے
  • مزدوروں کے حق برائے انجمن سازی چاہے وہ شخصی معاہدہ کی بنیاد پر ہو یا اجتماعی کا حصہ بنایا جائے ۔
  • بنگلہ دیش معاہدہ برائے حفاظت عمارت و آگ کے نمونہ پر تمام برانڈوں موثر طریقہ سے وقفوں وقفوں سے موصول شدہ بیروانی اطلاعات اور شفافیت پر مبنی حکمت عملی جس کی بنیاد بنگلہ دیش میں ہونے والے معاہدہ برائے حفظات ،عمارات و آگ سے تمام برانڈز کے لیے شخصی یا اجتماعی معاہدے ہیں انسانی حقوق پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے ۔
  • تمام برانڈ کی خرید کے نظام کو اعلیٰ سطح پر وقفوں سے جائزہ لیا جائے اور طریقہ مزید بہتر بنایا جائے ۔
  • ملبوسات کمپنی میں مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی کی نشاندہی کرنے کا نظام قائم کیا جائے جو فیکٹری میں ملبوسات تیار کرنے اور مہیا کرنے کے نظام میں مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی کو کمپنی کے علم میں لائے ۔ نظام ایسا ہونا چاہیے جو تمام مزدوروں اور کارکنان کی مناسب حفاظت کو یقینی بنایا جائے اس میں ان کو چھوٹے دعوی جات اور فوجداری شکایات کے دفاع کے لیے مناسب قانونی امداد بھی شامل ہیں جو کہ فیکٹری والوں کی بابت سے دائر ہوں ۔ ماہانہ اجرت بشمول کم از کم اجرت ، مناسب الائونس ، زائد اوقات میں کام کرنے کا معاوضہ بھی شامل ہیں جب مزدوروں کو ان کے حق کی خلاف ورزی کی شکایت کرنے کے فوراً بعد ملازمت سے برخاست کر دیا جائے تو ان کے راستہ میں نزدیک ترین جگہ پر متبادل ملازمت حاصل کرنے میں رکاوٹیں پیش نہ ہو۔

 

یورپین یونین برطانیہ اور دوسرے ممالک جن کی کمپنیاں پاکستان سے ملبوسات تیار کرواتی ہیں کے لیے

  • قانونی اقدام کیے جائیں جن کے تحت ایسی کمپنیاں جو ملک سے باہر دیگر ملکوں سے ملبوسات خریدتی ہیں ان کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے ملبوسات تیار کرنے اور مہیا کرنے والے ٹھیکیدار وں کی تازہ ترین فہرست کو وقفے وقفے سے مشتہر کریں ۔
  • وفاقی وزارت تجارت و کاروبار اور صوبائی محکمہ محنت کو شفافیت ، احتساب اور صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لیے مالی امداد فراہم کریں ۔
  • ملبوسات کی قیمتوں ۔ ان کو مہیا کرنے والوں کی تفصیل ، تیار کرنے کی اجرت، صحت اور حفاظت کے اقدمات کو لیبر ایکسپرٹ اور یونین کے ساتھ صلاح مشورہ کے ساتھ یقینی بنائیں ۔ اس میں کم از کم اجرت زائد اوقات میں کام کروانے اور قانونی منافع کو بھی درج کریں۔
  • خواتین کی یونین میں شرکت ۔ ان کی تربیت اور آ گا ہی ، فیکٹری کی سطح پر جنسی ہراسگی کی شکایات کے نظام کو بہتر بنائیں ۔

 

بین الاقوامی مزدور تنظیم ILOکے لیے

  • پاکستانی حکومت مزدوروں کے لیے اپنے قوانین کو ( آئی ایل او ) کے کنونشن کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے اس کی توثیق کرے ۔ اور مزدوروں کے لیے ( آئی ایل او ) کی قرار داد برائے انسانی حقوق اوراصولوں کے معیار پر لانے کے لیے کام کریں۔
  • صوبائی محکمہ محنت کو درکار فنی امداد مہیا کریں تاکہ محکمہ محنت کی جانب سے معائنوں کو تفصیل، شفاف اور موثر بنایا جاسکے اور اس کے نتیجہ میں قانون کے مطابق موثر کارروائی کی جا سکے ۔
  • صوبائی محکموں کے ساتھ مشاورت سے ان کی مدد کریں تاکہ ایسی پالیسیاں بنائی جا ئیں اور ان پر عمل کیا جائے جس سے مزدوروں کی حفاظت کے لیے (آئی ایل او ) کنونشن کو گھروں میں کام کرنے والے مزدوروں تک پھیلایا جاسکے۔
  • یونین میں خواتین مزدوروں کی شرکت ان کی تربیت اور آگاہی کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ کام کرنے والی جگہوں پر خواتین کے ساتھ جنسی ہراسگی کے خلاف شکایات کا نظام ترتیب دیا جائے ۔

 

Region / Country

Topic